موت کی آخری قسط۔۔احمد نعیم

جنگل میں صدیوں سے ڈٹا ہوا یہ پتلا گزشتہ صدی تک تو خاکی رنگ سے میٹ میلا ہوا تھا،
مگر ان دس دہائیوں کے درمیان یہ مسلسل سیاہ ہوتے ہوتے اِس قدر منحوس سیاہ ہوگیا ہے،
اِس کی سیاہی اور آلودگی سے عجیب طرح کے ہوش لیوا زندگی میں موت دینے والے اور پل بھر کی لپیٹ میں لاتعداد جانیں لے رہے ہیں،
نجانے کدھر سے!
نجانے کہاں سے!

یہ جراثیمے مبینہ  طور سے بڑھتے ہی جارہے تھے ،
درختوں میں  خود کو خود سے دور رہنے کی  احتیاط ہو رہی  ہے،
ملنے پر ___
چھونے پر ___

جنگل کی جڑوں، تنوں، شاخوں، پتوں، کو ایک دوسرے سے ملنے کا احتیاط “موت” خوف  و ہراس سانس لینے میں احتیاط ،
ساری بات اُس منحوس سیاہ پتلے کے کالے وجود کی وجہ سے ہے اِس پتلے میں کئی  کردار ہیں، یہ سارے بھی آج منحوس سیاہ ہوگئے ہیں،
سات الگ الگ ستَ رنگوں، روشینوں کے آگے جھکنے والے یہ پتّے روشنی سے بھی احتیاط کررہے ہیں ،
دنیا میں واحد شخص ہونے جیسی تنہائی ہزارہا احتیاط نجانے کیا کیا ،
اب یہ جنگل روشینوں سے احتیاط کی وجہ سے سیاہی پکڑ رہا ہے ،کئی  کرداروں والا یہ پتلا موجود تو ہے مگر جنگل میں پھلتی احتیاط کی بڑھتی سیاہی کی وجہ سے معدوم ہوتا جارہا ہے ۔۔

مگر وہ پتلا آج بھی جنگل میں موجود ہے۔۔
جس کی وجہ سے جنگل میں نراجیت بڑھ رہی ہے۔
کہانی میں چلتے چلتے یہ گمراہ کن مرحلہ کہاں سے آگیا ،

جنگل، پتلا، سیاہی ، نراجیت ،”آخر” یہ کئی کرداروں والا سیاہ پتلا توڑ کیوں نہیں دیا جاتا؟
آخر ۔۔۔یہ پتلا سفید کیوں نہیں ہوتا؟؟؟
اِس پتلے کے کردار سیاہی چھوڑ کر جنگل کی طرح دھنک رنگ روشنی میں کیوں نہیں آجاتے ؟؟
تاکہ مرنے کے لئے جیا جاسکے ۔۔
تند سیاہی بڑھنے سے پہلے اِس پتلے کا روشن ہونا ضروری ہے
کیا یہ صرف موت کا ڈر ہے ،
یا ۔۔۔۔بفیلو میں جلے الاؤ سے گزرتی کہانی کا۔۔۔۔۔سیاہ باب
18 – 3-2020 شب تین بجے بمقام بس اسٹینڈ!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *