کرونا:آئیے مل کر کچھ کریں

دوستو کرونا کی شکل میں آنے والی اس آفت میں ہم سب فکرمند ہیں، اک دوجے کی ڈھارس بندھاتے ہیں مشورے دیتے ہیں ڈراتے ہیں احتیاطی تدابیر بتاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ اہم کام ہے۔ لیکن اب جبکہ جزوی سہی لاک ڈاؤن ہے تو عملی کام کرنے کا وقت ہے۔ آپ میں سے کئی شاید پہلے ہی کر بھی رہے ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ وہ طبقہ متاثر ہوا ہے جو سفید پوش ہے۔ جو روز کنواں کھود کر پانی نکالتا ہے۔ وہ سڑک پہ آ کر بھیک بھی نہیں مانگتا، بیرون ملک رہنے والوں کو انباکس بھی نہیں ٹھگتا مگر چودہ دن کے ضروری لاک ڈاؤن کی بیروزگاری اسے مار جائے گی۔

اس سلسلے میں مکالمہ اور دیگر کچھ قابل اعتماد دوستوں نے مل کر ایک ایمرجنسی فنڈ قائم کیا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک دو لاکھ کے قریب رقم اکٹھی کر کے اسکو متعلقہ گھرانوں تک پہنچانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایک گھر کا ماہانہ راشن بائیس سو سے پینتیس سو تک ہے اور اسی حساب سے فنڈز کو مختلف علاقوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

یقیناً یہ وقت ایسا غیر یقینی  کا ہےکہ پیسہ ادھر اُدھر دیتے ڈر لگتا ہے کہ جانے خود اپنا کیا بننا ہے۔ مگر اللہ کو قرض دینے کا یہ ہی وقت ہے۔ آئیے مل کر اللہ کو قرض دیں اور یقین کیجیے وہ کبھی کسی کا قرض رکھتا نہیں ہے۔

اگر آپ مکالمہ پر یقین رکھتے ہوئے سو روپے سے لے کر جتنا بھی چاہیں ڈونیٹ کر سکیں تو مہربانی ہو گی۔ ایک ڈونر وٹس ایپ گروپ بنا دیا گیا ہے جہاں کارکردگی شیئر کی جائے گی۔ انشااللہ  آپکے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچے گی۔

آئیے مل کر وبا کے ان دنوں میں محبت کریں، انسان سے محبت جو درحقیقت خالق سے محبت ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *