• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(آٹھواں دن)۔۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(آٹھواں دن)۔۔۔گوتم حیات

SHOPPING

کرونا کے سبب لاک ڈاؤن میں گزارے ہوئے سات دن اور سات راتیں یوں گزر گئیں، احساس ہی نہیں ہوا۔۔۔ ہر روز لکھنے کے لیے غوروفکر کرنا اور پھر ماضی کی حَسیِن وادیوں میں جا کر لفظوں کو کشید کرنا میرے لیے ایک انوکھا تجربہ تھا۔
کل میری کرونا ڈائری کی سات قسطیں شائع ہو کر ہر طرف بکھر گئیں اور سچّے لفظوں سے محبت کرنے والے ان ساتوں قسطوں کو پڑھ کر مجھے داد و تحسین سے نواز رہے ہیں۔
میں اُن تمام دوستوں اور اپنے اساتذہ خصوصی طور پر میڈم زاہدہ حنا اور محترمہ شہناز شورو کا مشکور ہوں جن کی بدولت میں نے سچّے لفظوں سے محبت کرنا اور انہیں کاغذ پر رقم کرنا سیکھا۔
صائمہ میں تمہارا بھی ممنون ہوں کہ مجھ سے پوچھے بنا تم نے میری فیس بُک وال پر لکھی گئی ایک عام سی تحریر کو “مکالمہ” کے چیف ایڈیٹر  انعام رانا صاحب تک پہنچایا، انہیں میرا اندازِ تحریر پسند آیا اور یوں ایک کے بعد ایک میری ساتوں قسطیں شائع ہوتی چلی گئیں۔
آج تیس مارچ ہے اس وقت میں کمرے میں تنہا بیٹھا اپنی ڈائری کی آٹھویں قسط تحریر کر رہا ہوں۔ باہر تیز دھوپ نکلی ہوئی ہے کچھ دیر پہلے ہی میں نہا کر تھوڑی دیر کے لیے دھوپ میں بیٹھا تھا۔ گرمی ہو یا سردی مجھے دھوپ میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دھوپ مجھے توانائی فراہم کر رہی ہے اور اس توانائی کو دھوپ سے کشید کرنا میں اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہوں۔ دھوپ سے حاصل کی ہوئی توانائی میں اس لیے بھی خوشی خوشی حاصل کرتا ہوں کہ یہ مجھے فطرت کی طرف سے ہر روز مفت میں ملتی ہے کیونکہ میرے پاس مہنگے مہنگے بیش قیمت اچھی کوالٹی کے ڈرائی فروٹ خریدنے کی سکت نہیں ہے کہ جن کو کھا کر میں توانارہوں۔ ایک میں ہی کیا یہاں تو لاکھوں غریب لوگ ٹھیک سے دو وقت کی مناسب خوراک بھی نہیں کھا پاتے تو وہ ڈرائی فروٹ کیونکر خریدیں گے۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام انسانوں سے ضروریاتِ زندگی کی بہت سی چیزیں یکسر چھین لی ہیں اور پھر بیچارے غریب انسان کی تو قوتِ خرید پہلے ہی کم تھی۔ میرے شہر کے مضافاتی علاقوں کے گلی کوچوں میں چھوٹے چھوٹے غریب بچّے روزانہ کی معمولی اُجرت پر کام کر کے اپنے سے کئی گُنا توانا کندھوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہیں۔ آلودہ ہوا، تنگ جھونپڑی نما گھروں اور کوڑے کرکٹ کے انبار تلے یہ غریب لوگ جانے کیسے ان لاک ڈاؤن کے دنوں کو گزار رہے ہوں گے۔ پینے کے صاف پانی سے محروم ان لوگوں کو کرونا کی وبا سے بچانے کے لیے حاکمِ شہر نے ہاتھ دھونے کے لیے کیا صاف پانی فراہم کیا ہو گا؟ ٹی وی اور ریڈیو پر تو صبح شام یہی پیغام دیا جارہا ہے کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور گھڑی گھڑی اپنے ہاتھ دھوئیں۔ میرے خیال میں ان غریب لوگوں کو جن کے پاس پینے کا صاف پانی مئیسر نہیں تو وہ کیسے دن میں کئی بار ہاتھ دھونے کی عیاشی کریں گے۔
گزشتہ رات میرے ایک صحافی دوست بلال ظفر سولنگی نے اپنے اخبار ڈیلی سٹی نیوز کی ایک مختصر نیوز رپورٹ مجھے وٹس ایپ پر بھیجی۔ خبر کا عنوان تھا “کرونا کا خوف اور بیروزگاری”، وبا کے ان کٹھن دنوں میں میرے اندر اتنی سکت نہیں کہ میں بلال کی بھیجی ہوئی اس رپورٹ کو اپنے الفاظ کا جامہ پہناؤں۔ اس لیے میں اس کی نیوز رپورٹ کا متن نقل کر رہا ہوں جس میں لکھا تھا کہ؛
“کراچی کے علاقے کشمیر کالونی کے شہری سرفراز نے خودکشی کرلی. سرفراز کی بدنصیب بیوی کے مطابق کسی نے میرے شوہر کو کرونا کا وہم ڈال دیا تھا۔ لاک ڈاؤن کے بعد سے میرا شوہر بیروزگار تھا۔ ہم لوگ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور ہمارے دو بچے ہیں۔ میرا شوہر پانچ سو روپے دیہاڑی پر کام کیا کرتا تھا۔ اس کو کرونا کی بیماری نہیں تھی، بالکل صحت مند تھا، لیکن پریشانی و خوف کی حالت میں گرفتار ہو کر سرفراز نے گلے میں پھندا لگا کر خودکشی کرلی۔ سرفراز ایک پیٹرول پمپ پر کام کرتا تھا۔ لاک ڈاون کی وجہ سے ملازمت پر جانے سے قاصر تھا۔ ہمارا گزر بسر انتہائی مشکل سے ہو رہا تھا۔ جبکہ ایس ایچ او محمود آباد، اعجاز خان نے بتایا کہ مذکورہ شخص تندرست تھا اور اس کی عمر چوتیس سے پینتیس سال تھی۔ پولیس نے لاش کا کرونا وائرس ٹیسٹ بھی کروایا جو کہ منفی آیا۔”
تو یہ سنگین حالات ہیں کراچی کے جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ بھوک اور بیروزگاری کے شکار لوگوں کو اب کرونا کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔ کاش شہر کی روشنیاں یہاں بسنے والے لاکھوں کروڑوں غریب لوگوں کی زندگیوں کے آنگنوں کو بھی مُنّور کر سکتیں۔
اس وقت مجھے لتا جی کی آواز میں ایک بھولا بسرا گانا یاد آرہا ہے۔ یہ گانا پہلی بار میں نے صدف کے”آئی پاڈ ایم پی تھری پلیئر” پر سنا تھا۔ گانے کے بول تھے”گمنام ہے کوئی، بدنام ہے کوئی”، اس گانے کو یونیورسٹی میں ہم تینوں بہت سنا کرتے تھے۔ صدف چونکہ کراچی یونیورسٹی میں کیمیکل انجنیئرنگ کی پڑھائی سے اُکتا کر، ہمیشہ کے لیے اس ڈیپارٹمنٹ کو خیرباد کہہ کر سرسید یونیورسٹی میں لیکچرر بھرتی ہو گئی تھی، مگر وہ دن کے اوقات میں کراچی یونیورسٹی کی حدود میں ہی پائی جاتی تھی۔ وہ ہر روز تقریباً ڈیڑھ بجے کے فوراً بعد سر سید یونیورسٹی سے نکل کر کراچی یونیورسٹی میں آجایا کرتی تھی۔ ایک بُرا وقت وہ بھی آیا جب سر سید یونیورسٹی میں اساتذہ کی حاضری کے لیے “بائیو میٹرک ٹیکنالوجی” کا نظام متعارف کرایا گیا۔ سارے  سٹاف کو ایک سخت قسم کے نوٹیفیکیشن کے تحت پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی حاضری کو ان نئے احکامات کے تحت یقینی بنائیں اور اس کے ساتھ ہی صبح نو بجے سے شام تین، چار بجے تک کسی بھی ٹیچر کا یونیورسٹی سے نکلنا ایک جُرم قرار دے دیا گیا۔ فیکلٹی کے تمام ممبرز اپنے کسی اہم کام کے سلسلے میں اگر یونیورسٹی سے باہر جاتے تو انہیں کڑے امتحان سے گزرنا پڑتا، تمام ٹِیچِنگ  سٹاف کو اس قانون پر عملدرآمد کروانے کے لیے انتہائی سختی برتی گئی۔ صدف کی زندگی کا یہ مشکل ترین وقت تھا۔ اس نئے قانون نے صدف جیسی آزاد و روشن خیال لڑکی کی آزادی کو سلب کر لیا۔ آخر کیوں وہ سارا دن سرسید یونیورسٹی کے اندر گزارے کیونکہ صبح معمول کی اپنی دو، تین کلاسز لینے کے بعد سارا دن وہ فارغ ہی ہوتی تھی۔ اس لیے وہ اپنا بیشتر وقت صائمہ کے ساتھ کراچی یونیورسٹی میں ہی آکر گزارا کرتی تھی۔ صائمہ، صدف کے ساتھ مل کر سرسید یونیورسٹی کے اس ہٹلر نما جابرانہ قانون کو فوری طور پر ختم کروانے کے حق میں تھی۔ لیکن اس قانون کے سامنے ہم سب بے بس تھے۔ مجھے آج بھی صدف کے وہ الفاظ یاد ہیں جب اس نے رنج اور پریشانی کے عالم میں ہمیں بتایا کہ “بہت سختی کر دی گئی ہے، ہم ٹیچرز کو اب غلاموں کی طرح ٹریٹ کیا جا رہا ہے، اگر کوئی چار بجے سے پہلے یونیورسٹی سے نکلنا چاہے گا تو اس کی حاضری ایبسنٹ مارک ہو گی، آزادی نام کو نہیں، یہ تو ہمارے لیے قید جیسا ماحول بنا دیا گیا ہے۔”
ان گزرے سالوں کو یاد کرتے ہوئے میں اچانک بےچین ہونے لگتا ہوں۔ یونیورسٹی میں کتنے دلفریب، خوبصورت اور رومانویت پر مبنی دن گزارے ہم لوگوں نے، جبکہ ٹھیک اُن ہی دنوں لیاری، کٹی پہاڑی اور شہر کے بیشتر علاقوں کی فضا بندوقوں سے نکلی ہوئی گولیوں کی زد میں ہوا کرتی تھی۔
کرونا کے ان وبا زدہ دنوں میں ہر طرف سے بُری بُری خبریں آرہی ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انسان آزادی سے گھوم پھر بھی نہیں سکتا۔ پرسوں صائمہ نے مجھے وٹس ایپ پر بیحد افسردہ میسج کیا۔ اُس نے مجھے لکھا تھا کہ؛
“ستائیس دنوں سے گھر میں رہنے کے  بعداب ڈپریشن بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر روز سینکڑوں اموات کا سن کر دل میں انجانا سا خوف رہنے لگا ہے اور اس کی وجہ سے میری یاداشت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔۔۔ شاید مجھے کسی تھراپی کی ضرورت ہے۔ میرادل نہیں لگتا اب کسی چیز میں۔”
یہ میسج پڑھنے کے بعد میرے اندر حوصلہ نہیں ہوتا کہ میں اس سے امید پرستی کی باتیں کروں۔
اس وقت سہ پہر کے چار بج چکے ہیں۔ باہر سے چڑیوں کے چہچہانے کی مدہم سی آوازیں رہی ہیں۔ میں یُوٹیوب آن کر کے یونیورسٹی کے زمانے میں سنا گیا لتا کا لافانی گیت “گمنام ہے کوئی” اداسی سے سُننے لگتا ہوں۔ اس گھڑی یہ گیت سنتے ہوئے مجھے اپنے آپ پر اور پیدا ہونے والے ہر انسان پر ترس آتا ہے کہ آخر ہم کیوں پیدا ہوئے۔ ان دکھوں کو لمحہ بہ لمحہ تنہا جھیلنے اور اپنے سے قریب لوگوں کو دور جاتا ہوا دیکھنے کے لیے؟۔۔ کہ جنہیں ہم دوبارہ کبھی نہ پا سکیں گے!
گمنام ہے کوئی، بدنام ہے کوئی۔۔۔
کس کو خبر۔۔۔ کون ہے وہ۔۔۔؟؟ انجان ہے کوئی!
پل دو پل کی مَستی ہے، بس دو دن کی بستی
چین یہاں پر مہنگا ہے اور موت یہاں پر سستی ہے
آئے صدا ویرانوں سے، جو پیدا ہُوا وہ فانی ہے۔

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(آٹھواں دن)۔۔۔گوتم حیات

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *