جنگل میں جمہوری بیٹھک۔۔محمد عثمان کھوکھر

مسلسل جلتے کٹتے جنگلات اور غیر فطری طریقے سے مرتے  ہوئے  جنگلی جاندار کی اموات سے پریشان جنگل کی جمہوری بیٹھک میں بیٹھا اُلو کہنے لگا ،کہ فاطر السموات نے فطرت کے اعتدال کو فطرت اللہ کے قوانین پر قائم رکھا ہوا ہے، مگر آج کا انسان اصول فطرت اللہ سے آزاد ہونا چاہتا ہے  اور اس چاہ کی ناکام کوشش میں ہمارا جنگل جل کٹ اور جنگلی حیات بے موت مرے جا رہی ہے۔۔
میں سمجھا نہیں بات محترم اُلو، کیا مطلب ؟
مطلب کچھ اور نہیں بادشاہ جنگل ۔۔

خالق کی تخلیق جب خالق سے بغاوت پر اتر آئے تو حیات بشر کا اصول بقاء ٹوٹنے لگتا ہے اور عذاب در عذاب اُترتے ہیں ،ایسے عذاب ہر اس قوم ،تہذیب تمدن پر اُترے جو خود کو لازوال سمجھتے ہوئے عقیدہ خواہش پرستی میں محو فطرت اللہ کے باغی ہونے لگے تھے ،کیا عمود ،ثمود قبیلہ نمرود فرعون کی قوم سب کے سب ملیا میٹ  نہیں ہو گئے ۔۔۔

خاموش محترم الو ۔۔۔
ہم واقف ہیں آپکے جد آباء سقراط و بقراط کے محفل نشیں تھے ،مگر بات سیدھی اور صاف کہوں  قوانینِ  فطرت اللہ کی خلاف ورزی سے جنگل جلنے کٹنے اور جنگلی حیات کے مرنے کا کیا تعلق ؟
جان کی امان ہو تو فلسفہ فطرت اللہ بہتر طریقے سے بیان کر سکتا ہوں بادشاہ جنگل ۔۔

کون۔۔؟اچھا تم ہو ہاں کہو ابو الجن کہو

بادشاہ سلامت ۔۔!
دراصل فطرت اللہ وہ قوانین و اصول ہیں جن کو دین قیم کہتے ہیں، یعنی فاطر کی طرف سے مخلوقات کو وہ حکم احکام ہیں، جو فطرت کو اعتدال میں رکھتے ہیں، اور جب ان سے کوئی منحرف ہوتا ہے، تو پھر فطرتی اعتدال کا توازن بگڑتا ہے ۔
فطرت اللہ شروع دن سے وہیں  ہیں مگر مکمل ضابطہ حیات کی صورت میں بنی نوع انسان اور ہمارے اجداد کو وادی عرب سے گزرتے ہوئے پیغمبر ذیشان نبی محترم ساقی کونین سرور کائنات حضرت محمد کی بیعت سے ملے آپ نبی محترم نے فرمایا کہ،
فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ‌ؕ لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَـلۡقِ اللّٰهِ‌ ؕ ذٰ لِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ
“دین فطرت کی پیروی کرو جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”
مطلب صاف ظاہر اور بہتی ہوئی شفاف ندی کے پانی جیسا ہے، کہ حق تعالیٰ نے بیشمار قسم کی مخلوقات مختلف طبائع اور مزاج کی بنائی ہیں،ہر مخلوق کی فطرت اور جبلت میں ایک خاص مادہ رکھ دیا ہے،
جس سے وہ مخلوق اپنی تخلیق کے منشاء کو پورا کرسکے ،قرآن کریم میں ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى
“جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی”سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ جس مخلوق کو خالق کائنات نے کسی خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس کو اس مقصد کے لئے ہدایت بھی دے دی ہے۔
وہ ہدایت یہی مادہ اور استعداد ہے۔
شہد کی مکھی میں یہ مادہ رکھ دیا کہ وہ درختوں اور پھولوں کو پہچانے اور انتخاب کرے ،پھر اس کے رس کو اپنے پیٹ میں محفوظ کر کے اپنے چھتے میں لا کر جمع کرے۔
اسی طرح انسان کی فطرت وجبلت میں ایسا مادہ اور استعداد رکھ دی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے، اس کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرے، اس کا نام اسلام ہے اور یہی فاطر کی طرف سے فطرت کو اعتدال میں رکھنے کا اصول ہے۔مگر بادشاہ سلامت قدیم انسان جدت پسندی کی راہ پر یوں بھٹکا کہ فطرت مخالف ہوتا گیا ۔ایک اللہ واحد لا شریک کی اطاعت کی بجائے شرک میں بھٹکتا گیا کہیں الحاد و کفر کی محفل سجانے لگا اور کہیں مادر پدر آزاد معاشرے کے نعرے لگاتے ہوئے میرا جسم میری مرضی جیسی بغاوتوں میں الجھ بیٹھا، فطرت اللہ کے قوانین کا مذاق اڑاتے ہوئے سماجی طبقاتی اونچ نیچ ذات پات ،گورے کالے عجمی عربی اور وطن پرستی میں شدت اختیار کرتے ہوئے جوہر انسانیت کا قاتل بن گیا۔۔۔۔

بہت خوب وضاحت ابو الجن ۔۔
فطرت اللہ کا فہم تو ملا مگر محترم الو نے کہا کہ ‘انسان اصول فطرت اللہ سے آزاد ہونا چاہتا اور اس چاہ کی ناکام کوشش میں ہمارا جنگل جل کٹ اور جنگلی حیات بے موت مر رہی ہے ، سوال یہ ہے کہ اسکا اثر جنگلی حیات پر کیسے ہو رہا ہے؟

بادشاہ سلامت جدت مارے نفس پسند اشخاص چاہتے ہیں کہ ان جنگلات سے کیا حاصل ،ان کو کاٹ کر اس لکڑی سے لگژری عمارتیں اور ان جگہوں پر بلند بانگ ٹاور ،پلازے ہوٹلز قائم کرتے ہوئے عیش پرستوں کےلیے ڈانس کلب بنائے جائیں، جن میں یہ ہوس مارے کچھ دیر کے لیے ضمیر کے بوجھ سے آزاد ہو سکیں اور یہی نہیں فطرتی قوانین سے دوری کی وجہ سے یہ حلال و حرام کی تمیز بھی بھول بیٹھیں ،جو ملا کھایا اور ہڑپ کیا ،حقیقت یہ ہے، کہ انسانیات کی صورت میں حیوانیات کا مزاج پیدا ہو چکا ہے، تعجب اور حیرت اس بات پہ ہے کہ ،عقل ِ کُل کا دعویٰ رکھنے والے جدید ٹیکانالوجی اور علوم کی دسترس سے مالا مال جدت پسند سماجی معاشرے ہر وہ شے کھا رہے ہیں ،جو فاطر کی طرف سے حرام کردہ ہیں تاکہ فطرتی توازن قائم رہے جیساکہ اپنا پینگولین ہے، یہ کم بخت کیا جانیں فاطر کی طرف سے پینگو لین کیا امور سر انجام دے رہا ہے، یہ اسے مسلسل کھا اور مختلف اشیاء میں استعمال کر رہے ہیں، یہی نہیں ہاتھی سے لیکر سور سانپ اور چمگادڑ تک جبکہ فاطر کا قانون فطرت یہ ہے ،
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُ بِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ ؕ ۔
تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا گیا جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جس کو کسی درندے نے کھایا ہو بجز اس کے جس کو تم نے ذبح کرلیا ہو اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کرو تیروں کے ذریعے سے، یہ سب باتیں فسق ہیں”
توبہ توبہ یہ انسان کتنے سر کش ہیں۔۔

کوئی شک نہیں ابو الجن مگر ان فطرت دشمن درندوں سے حیوانات اور جنگلات کو کیسے بچایا جائے ؟
جان کی امان پاؤں تو بادشاہ سلامت میرے پاس اس کا حل موجود ہے۔
کون؟ ہاں، بی لومڑی کہو کیا حل ہے۔۔
بادشاہ سلامت۔
اس لمبی جمہوری بیٹھک کی ساری باتوں سے نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ خالق کی تخلیق اشرف المخلوقات حضرت انسان فطرت اللہ سے بغاوت کرتے ہوئے فطرتی قوانین کی قانون شکن بن گئی  ہے اور ہر قانون شکن فطرتی سماج کے لیے موذی ہوتا ہے ،بادشاہ سلامت عربی کہاوت ہے کہ
“قتل الموذی قبل الا ایذا”موذی کو ایذا پہنچانے سے قبل قتل کر دینا چاہیے۔
ہوں کیا کہا ،کیا مطلب بی لومڑی .۔۔۔
مطلب صاف ہے جدت مارا انسان فطرتی حیات کے لیے موذی بن چکا ہے، حکمت اسی میں ہے کہ موذی کو ختم کر دیا جائے ۔
ناممکن ،ایسا ہو نہیں سکتا ،کیسے ممکن ہے کہ ہم انسان کو مار دیں۔
ممکن ہے بادشاہ سلامت بالکل آسان ہے ،
وہ کیسے ؟
ابو الجن نے کہا کہ انسان حلال و حرام کی تمیز بھول چکا ہے بس یہی فطرت اللہ کی خلاف ورزی ہمارے کام آئے گی بادشاہ سلامت آپ جانتے ہیں، پینگولین اور چمگادڑ کے وائرئسی خلیات انسانی خلیات سے مختلف ہیں بس یہی اختلافی خلیات کے وائرس جب ملیں گے تو کرونا وائرس کو تشکیل دیں گے جو موذی کو ختم کرنے کے لیے  کافی ہیں ترکیب یہ ہے ایک کیلا لیا جائے اسے پینگو لین چاٹے اور چمگادڑ اپنی لعاب میں تر اس کیلے کو چمپیزی کے حوالے کرے جو کسی موذی کو کھلا دے ۔
بس دیکھتے ہی دیکھتے یہ فطرت اللہ کے باغی مرتے جائیں گے اور اسکا حل بھی ناممکن ہے، کرونا کا واحد حل کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے تسلسل کو توڑنا ہے، جو یہ سمجھ نہیں سکیں گے اور گھروں میں نہیں رہیں گے رابطے اور ملن سے یہ تسلسل بڑھتا جائے گا اور موذی مرتے جائیں گے۔

نہیں نہیں بادشاہ سلامت یہ تخریب کاری ,فساد ہے ایسا نہیں ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

خاموش ابو الجن ہم جنگل کی جمہوری بیٹھک میں بیٹھے ہیں، سب سے رائے ووٹ لیے جائیں گے

ہاں تو کون ابو الجن کی رائے سے اتفاق کرتا ہے ،
کوئی نہیں تو بی لومڑی کی رائے پر اتفاق ہوا ۔۔

نہیں بادشاہ سلامت گو میں تنہا ہوں لیکن حق پر ہوں غور کریں ۔۔

ہرگز نہیں جمہوریت کی روایت ہے، کہ کثرت رائے کو گنا جاتا ہے ناکہ علم و دلیل حق کو تولا جاتا ہے۔۔

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بُندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے!

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *