• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • حلقہ این اے 120میں سیاسی جماعتوں کی کارکردگی؛ ایک تجزیہ۔ ہارون الرشید

حلقہ این اے 120میں سیاسی جماعتوں کی کارکردگی؛ ایک تجزیہ۔ ہارون الرشید

حلقہ این اے 120 کا انتخابی حلقہ بڑے میاں صاحب کی عدالت سے نااہلی کے باعث خالی ہوا۔ بڑے میاں صاحب نے پہلے جی ٹی روڈ پر ریلی کے ذریعے اور بعد میں اُن کی صاحبزادی نے الیکشن مہم کے دوران ایک بیانیہ ترتیب دیا کہ عوام اِس الیکشن کے ذریعے عدالت کے فیصلے پر اپنا فیصلہ دیں گے۔ شریف خاندان کو تو یہ الیکشن ہر صورت جیتنا ہی تھا کہ وہ اس حلقے سے شکست افورڈ ہی نہیں کر سکتا تھا اور ظاہر ہے کہ اسے اِس الیکشن کو عدالتی فیصلے کے خلاف ریفرنڈم کے نعرے پر ہی الیکشن میں آنا تھا۔ حیرت لیکن خان صاحب پر ہوئی جنہوں نے اِس الیکشن کو سپریم کورٹ کی حمایت اور مخالفت میں اِس حد تک بنا دیا کہ ملک کے سیاسی مستقبل کو بھی اَس ایک حلقے کے ضمنی الیکشن کے نتیجے سے منسلک کر دیا۔ وہ نعرے جو عام انتخابات کے موقع پر شاید زیادہ کام آ سکتے، انہیں وقت سے پہلے ہی استعمال کر دیا۔

ضمنی انتخاب کا نتیجہ کئی پہلوؤں سے پہلے سے ہی معلوم تھا جبکہ کچھ نئے پہلو بھی سامنے آئے لیکن یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ضمنی الیکشن کے dynamics عام انتخابات سے مختلف ہوتے ہیں۔ ٹرن آؤٹ عام انتخابات کے مقابلے میں ہمیشہ کم رہتا ہے۔ حکومتی جماعت کو سیٹ جیتنے کے لیے جہاں کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں کچھ دشواریاں بھی ہوتی ہیں۔ حکومتی و سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام (جو عام طور پر ایسا غلط بھی نہیں ہوتا) لگنا معمول کی بات ہے لیکن الیکشن کے بعد جن ووٹرز کی توقعات پوری نہیں ہو پاتیں وہ عموماً ضمنی الیکشن میں گھر بیٹھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ ٹرن آؤٹ کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اِن انتخابات کا براہِ راست اثر حکومت سازی پر نہیں پڑنا ہوتا۔

لہٰذا کئی ووٹر اس وجہ سے بھی ووٹ ڈالنے کی بجائے چھٹی منانے کو ترجیح دیتے ہیں، ایسے ووٹرز کو منانا اور پھر پولنگ سٹیشن تک لانا یقیناً ایک مشکل کام ہے۔ لیکن یہ الیکشن اس حوالے سے تھوڑا مختلف تھا کہ دونوں بڑی جماعتوں نے اَس کو پانامہ فیصلے کے تناظر میں عدالت کی حمایت اور مخالفت میں ریفرنڈم قرار دے رکھا تھا اور اِس حوالے سے الیکشن کا نتیجہ دونوں کے لیے ہی کچھ زیادہ خوش آئند نہیں رہا البتہ ن لیگ کے لیے کچھ زیادہ اور تحریک انصاف کے لیے کچھ کم اور وہ اس لیے کہ تحریک انصاف نے کم وبیش عام انتخابات میں حاصل کردہ ووٹوں کی شرح کو کسی حد تک برقرار رکھا لیکن ن لیگ وہ شرح برقرار نہیں رکھ پائی۔ اِس میں جہاں کم ٹرن آؤٹ ایک وجہ ہے وہیں پانامہ فیصلہ کا کچھ اثر بھی ہے لیکن اِس میں کچھ دیگر عوامل کا بھی ہاتھ ہے۔ تحریکِ انصاف کے باب میں البتہ ایک بات اور بھی ثابت ہوئی کہ سیاسی کزنز نے ساتھ دینے کا وعدہ تو کیا لیکن اُسے ایفا نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے بارے میں البتہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ 2013 کے انتخابات میں کم ازکم پنجاب کی حد تک جو جھاڑو پھرا تھا وہ وقتی یا حادثاتی نہیں تھا بلکہ دائمی اور ووٹر کا سوچا سمجھا فیصلہ تھا اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کم ازکم پنجاب کی حد تک تحریکِ انصاف پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر replace کر چکی ہے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کا revival اب کسی معجزے کے نتیجے میں ہی ہو سکتا ہے، ووٹر تو اس کی قبر بنا کر فاتحہ بھی پڑھ چکے ہیں۔

ن لیگ کی کم مارجن سے فتح میں جہاں کم ٹرن آؤٹ، کسی نہ کسی سطح پر ووٹر کی ناراضگی اور پانامہ فیصلے کا اثر ہے وہیں تحریک لبیک یارسول اللہ اور ملی مسلم لیگ کے امیدواروں کے considerable ووٹوں کا بھی ہاتھ ہے۔ اِن دونوں امیدواروں کو ملنے والا کم ازکم 80-90 فیصد ووٹ روایتی طور پر ن لیگ کا ووٹ تھا جو تحریک لبیک یارسول اللہ کی حد تک تو ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے پر ن لیگ نے کھو دیا۔ ممتاز قادری کی پھانسی پر عملدرآمد نواز حکومت کو خاصا مہنگا پڑ گیا۔ ملک میں جہاں ہزاروں سزائے موت کے قیدی برسوں سے انتظار میں بیٹھے ہیں وہاں ایک اور قیدی کچھ برس رہ لیتا تو کون سی قیامت آ جاتی لیکن میاں صاحب کا دنیا کو سیکولر اور روشن خیال بن کے دکھانے کا شوق انہیں لے ڈوبا۔ ملی مسلم لیگ کے حوالے سے بہت سے دیگر حلقوں کی طرح میرا تاثر بھی یہی ہے کہ اسے ووٹ توڑنے کے لیے کھڑا کیا گیا تھا اور عام انتخابات میں بھی اس سے یہی کام لیا جائے گا۔ ایک دن قبل ووٹ کو حرام قرار دینے والے جب بغیر کسی فکری عمل اور اندرونی بحث مباحثے سے گزرے اگلے ہی دن ایک سیاسی جماعت بنا کر الیکشن میں کودنے کا اعلان کر دیں تو ایسے شکوک وشبہات کا جنم لینا فطری بات ہے۔ ایجنسیاں بھی ایک عجیب گورکھ دھندہ ہیں، نہ سمجھنے کی نہ سمجھانے کی۔ ہر وہ کام جس کے پیچھے چھپے عوامل منظر پر نہ آ سکیں، اُس کا الزام ایجنسیوں پر لگ جاتا ہے حالانکہ الزام لگانے والوں میں سے کم ازکم 95٪ اکثریت ایجنسیوں کے مفہوم، کردار اور کام سے قطعی ناواقف ہوتی ہے۔

اب آخر میں رہ گئی جماعتِ اسلامی تو وہ تو اب فی الحال کسی شمار قطار میں ہی نظر نہیں آتی، جماعتِ اسلامی کے ساتھ نظریاتی وابستگی کی وجہ سے اِس بات کا دکھ بھی محسوس ہوتا ہے۔ 1970 کے انتخابات کے بعد 2013 کا الیکشن جماعت نے اپنے نشان اور جھنڈے کے ساتھ لڑا۔ گو کہ 1970 کے انتخابات میں بھی جماعت اسلامی چار نشستیں ہی حاصل کر پائی تھی لیکن پاپولر ووٹوں کے اعتبار سے عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعد تیسرا نمبر جماعتِ اسلامی کا تھا، اُس وقت کی مسلم لیگ، جس کے ساتھ قیوم کا لاحقہ جُڑا تھا، بھی ووٹوں کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر تھی۔ جماعتِ اسلامی کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اُس نے پاپولر ووٹوں کو کیسے اور کب کھویا؟ میرے خیال میں 1977 کے انتخابات میں پی این اے، 80 کے اواخر اور 90 کے آغاز میں آئی جے آئی، پھر الیکشن بائیکاٹ، پھر ایم ایم اے اور پھر بائیکاٹ نے عام ووٹر کو جماعتِ اسلامی سے دور کر دیا۔ اتحادوں اور بائیکاٹ کی سیاست میں جماعت نے اپنی شناخت اور ووٹر دونوں کھو دیے۔ اتحادوں کا حصہ بن کر اپنا عام ووٹر بڑی بے نیازی سے جماعت اپنے اتحادیوں میں بانٹتی رہی، جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ بائیکاٹ کی سیاست نے پوری کر دی۔

اِیسے بے یقینی کے حالات میں عام ووٹر آپ کی طرف کیوں متوجہ ہو گا؟ 2015 میں این اے 246 کراچی کے ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد بھی عرض کیا تھا کہ دھاندلی، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کا جماعت کی طرف توجہ نہ کرنا عوام میں عدم مقبولیت کے حوالے سے جماعت کی جائز شکایات ہو سکتی ہیں لیکن میری دانست میں جماعت کو ایک بڑے grand introspection کی سخت ضرورت ہے۔ کھوئی ہوئی شناخت، ووٹر اور مقام حاصل کرنے کیلیے ایک طویل خود احتسابی۔ جناب سراج الحق کا عوامی پن اور سادگی اپنی جگہ لائقِ تحسین لیکن ووٹر کو پروگرام اور بیانیے سے متاثر کرنا ہو گا۔ اُسے سوشل میڈیا پر سراج الحق کی زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے یا کھیتوں میں گندم کاٹنے کی تصویریں دکھانے کی بجائے جماعت کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی اور آئندہ کے عوامی پروگرام پر مبنی بیانیے سے اپنی طرف لانا ہو گا۔ سوشل میڈیا پر سراج الحق کی سادگی کو پروموٹ کرنے والے ( جو حقیقت میں اُن کی سادگی کا تماشہ بناتے ہیں) ہی جماعت کی خوداحتسابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ملک سے پہلے جماعت کے اندر ایک بڑے انقلاب اور احتساب سب کا کی ضرورت بہرحال ناگزیر ہے۔

اور آخر میں وہ لوگ جو تحریکِ انصاف کی شکست پر یاسیت بھرے تبصرے کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ 35-40 سالہ اقتدار، سرمایہ کاری اور محنت ایک ہی ضمنی الیکشن میں بہہ جائے، اُن کی سیاسی بصیرت کو سلام ہے۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *