ستیہ پال آنند اورکتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر فاطمہ حسن

میری ستیہ پال آنند جی سے اس وقت ملاقات ہوئی، جب وہ کتھا چار جنموں کی لکھ چکے تھے اور یہ کتاب اشاعت کے مرحلے میں تھی۔ اس حساب سے میں ان سے ان کے پانچویں جنم میں ملی اور انہوں نے مجھے پہچاننے سے انکار کردیا۔ میں ناروے میں شاعرہ صدف مرزا کی دعوت پر فینمزم پر گفتگو کرنے کے لئے مدعو تھی۔ ستیہ پال آنند جی وہاں صدارت کے لئے پہنچے تھے۔ سحر خیزستیہ پال آنند اور میں ناشتے کی میز پر ملے۔ میں نے کہا میں فاطمہ حسن ہوں۔ انہوں نے کہا میں آپ کو نہیں جانتا۔ میں نے کہا، میں آپ کو پہچانتی ہوں۔ میں نے آپ کو پڑھا ہے۔ کہنے لگے آپ کیا لکھتی ہیں؟ میں نے کہاوہی سب کچھ جو آپ لکھتے ہیں۔ شاعری اور نثر۔ فرمانے لگے میں غزل نہیں لکھتا۔ میں نے کہا، میں یہ بھی جانتی ہوں۔ پھر کہا، میں غزل کے خلاف ہوں۔ میں نے کہا، مجھے معلوم ہے اور جو باتیں آپ اس کی مخالفت میں کرتے ہیں وہ سنتے ہوئے پلی بڑھی ہوں۔ میں آپ ہی جیسے فکری مباحث کو پروان چڑھانے والوں کے سائے میں رہی ہوں۔ آپ قمر جمیل، ضمیر علی بدایونی، محبوب خزاں سے تو واقف ہیں۔ انہوں نے ہی میری ادبی پرورش کی ہے۔ فرمایا، اپنی نظم سناؤ۔میں نے کہاپرانی نظم ہے تین لائنوں میں۔
گہری ہوتی شام
لان کی خالی کرسیاں
اور ادھوری لڑکیاں
ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔پھر کہا، غزل کا کوئی شعر سناؤ۔میں نے کہا، یہ بھی پرانا شعر ہے۔
ہوا چلے گی تو خوشبو میری پھیلے گی
میں چھوڑ آئی ہوں پیڑوں پہ اپنے ہاتھ کے رنگ

فرمانے لگے، میں شاعری میں’’میں‘‘ نہیں لکھتا۔میں نے کہا کہ میں لکھتی ہوں کیوں کہ میں اپنے ہی تجربات اور احساسات لکھتی ہوں۔ داخل اور خارج کی بحث میں مرکز میری اپنی ہی ذات ہوتی ہے۔ داخل نہ ہوتو خارج کس پر اثرانداز ہوگا۔ آپ مجھے پہچانے یا نہیں میں آپ کو پہچانتی ہوں میں نے آپ کو پڑھا ہے۔ آپ کی تمام تر ادبی معرکوں سے واقف ہوں۔ وہ ہنسے اور کہا، نارنگ نے کہا تھا تم مجھے یہاں ملو گی۔
یہ ہے اس جنم میں ملاقات کا احوال تیرہ اردو اور نو انگریزی شعری مجموعوں کے خالق جناب ستیہ پال آنند سے۔

صاحبو یہ جنم کا سلسلہ بھی عجیب ہے۔ اسے عقیدے کے مطابق لیجیے، علامتی سمجھیے یا وراثتی۔ اس کے حصار سے آپ نکل نہیں سکتے۔ ستیہ پال آنند کا موروثی سلسلہ 25سو سال پہلے جنم لینے والے گوتم بدھ کے دو اہم ترین شاگردوں کشب اور آنندمیں سے آنند سے ملتا ہے۔ اس لیے آنند ان کا تخلص نہیں خاندانی نام ہے۔ میرا خیال ہے ،یہ جو اتنے حلیم الطباع، انسان دوست، شریف النفس، وضع دار آنند جی ہیں ،یہ اسی وراثت کی دَین ہے۔ صاحب کتاب کے اس مختصر ذکر کے بعد نظرڈالتی ہوں ان کی خود نوشت پر’’کتھا چار جنموں کی‘‘ میں نے اس کتاب کو چار جہتی پایا۔ اسے  پڑھتے ہوئے آپ چار سمتوں میں سفر کرتے ہیں،ہر سمت ہماری ملاقات آنند جی کے ہمسفروں سے ہوتی ہے۔ یہ ہمسفر جانے پہچانے ہیں۔ ادیب، شاعر، نقاد، محققین، مصنفین، ناشرین ایک پورے عہد کی تاریخ اس کتاب میں ان اہم لوگوں کے حوالے سے رقم کردی گئی ہے۔ انہوں نے خونی رشتوں کو بہت مختصر لکھا ہے۔ والد، والدہ، پھوپھی جو والد کی منہ بولی بہن تھیں ،مختلف مذہبوں کی پیرو کار۔ والدہ سکھ خاندان سے، والد ہندو مت سے اور پھوپھی مسلمان۔ محبت کے رشتے میں پروئے ہوئے ان پر اپنی شفقتیں نچھاور کرتے ہوئے اساتذہ کے ذکر میں خصوصاً منشی تلوک چند محروم کا حوالہ دوں گی۔ جو آنند جی کے شعری رویوں پر اثرانداز ہوئے۔ منشی تلوک چند محروم نے انہیں ہدایت کی
’’غزل حسن و عشق کا قصہ ہے اور حسن وعشق زندگی کا ایک حصہ ہے مکمل زندگی نہیں ہے۔
مکمل زندگی صرف نظم میں پیش کی جاسکتی ہے۔ ‘‘

آنند جی نے یہ ہدایت پلے سے باندھ لی۔ یہ خود بھی تلوک چند محروم کی نظموں کے مداح تھے۔ آج بھی انہیں ان کی نظم ’’نورجہاں کے مزار پر‘‘ یاد ہے جس کا پہلا بند انہوں نے کتاب میں نقل کیا ہے۔
دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے
کہتے ہیں یہ آرام گہہ نورِ جہاں ہے
ایسی کسی جوگن کی بھی کٹیا نہیں ہوتی
ہوتی ہے مگر یوں سرِ صحرا نہیں ہوتی
(واضح رہے یہ نظم ملکہ نور جہاں کے مقبرے کا نوحہ ہے۔)

تلوک چند محروم کے ساتھ ہی یہ ہمیں ان کے لائق فائق صاحبزادے نوجوان جگن ناتھ سے بھی ملواتے ہیں۔ سِن رسیدہ جگن ناتھ آزاد کو آپ نے کراچی کے مشاعروں میں دیکھا ہوگا۔ مجھے وہ بیٹی کہتے تھے۔ مگر جس جُگّن ناتھ سے آنند جی کے پہلے جنم میں ملاقات ہوتی ہے۔ وہ ایک نوجوان تھا۔ سرائیکی لہجے میں اردو بولتا ہوا۔ آپ ان کا خاکہ سنیے۔معروف طنز نگار کنہیہ کپور کے حوالے سے آنند جی لکھتے ہیں۔
’’جگن ناتھ آزاد اپنے مخصوص سرائیکی لہجے میں اردو کا حلیہ بگاڑتے ہوئے کچھ اس طرح کے جملے کہا کرتے تھے۔ والد صاحب نے آکھا جُگّن تو رباعی لکھ۔ میں رباعی لکھا۔ والد صاحب نے آکھا جُگّن تو غزُل لکھ۔ میں غزُ ل لکھا۔ ‘‘

آنند جی بہت ماہر خاکہ نگار ہیں ،جب تخلیقی ادب جنم دینے والے خصوصاً شاعر نثر لکھتے ہیں تو خواہ وہ محمد حسین آزاد ہوں، حالی ہوں یا آنند جی۔ ان کی نثر میں وہ حلاوت اور شیرینی ہوتی ہے جو معنی کے ساتھ روانی کا بہاؤ  بھی پیدا کرتی ہے۔ تبھی قاری اسے دلچسپی سے پڑھتا ہے اور اس سرشاری کی کیفیت کو بھی محسوس کرتا ہے جو تخلیقی تحریر کو پڑھتے ہوئے پیدا ہوتی ہے۔ آنند جی کی اس کتاب میں یہ کیفیت آپ کو مسحور کردے گی۔ اس کتاب میں آپ کو آنند جی کی نظمیں بھی ملیں گی جو نثری متن سے پیوستہ ہیں۔ صرف ایک نظم کا حوالہ یہاں دوں گی۔ضلع چکوال میں کور ٹ سارنگ کے اس مکان پر جہاں آنند جی پیدا ہوئے تھے۔لکھی ہوئی یہ نظم اس کتاب کے صفحہ 66پر موجود ہے۔ اس کی ابتدائی لائنیں یہ ہیں۔

کورٹ سارنگ کا مکان
دھوپ سے جھلسی ہوئی ویراں گلی میں
دائیں بائیں دیکھتی بوڑھی ہوا
گرمی سے بے دم ہانپتی ہے
گھر کے دروازے پہ رک کرایک لمحہ سوچتی ہے
استخوانی انگلیاں اٹھتی ہیں
لیکن گھر کے دروازے پہ دستک نہیں دے پاتیں

نظم ہو یا نثر گفتگو کریں یا تقریر،آنند جی علم، فکر اور تجربے کا ایسا امتزاج قاری کے ذہن پر چھوڑتے ہیں جو اس کے علم میں اضافہ بھی کرے اور فکر کو مہمیز بھی۔۔ آنند جی کا تخلیقی سفر جاری ہے کئی بار ملاح سفر کے دوران تھک کر کشتی کو دھارے پر ڈال دیتے ہیں۔ لیکن آنند جی بالکل تھکے نہیں ہیں ،باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ قاری سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ای میل اور فیس بک پر لکھنے پڑھنے والوں کو فیضیاب کرتے رہتے ہیں۔ دوستوں ہم عصروں اور نئے لکھنے والوں سے ملنے کیلئے دور دراز سفر کرتے رہتے ہیں۔ نئی زمینوں، نئی نسل سے رشتے بناتے ہیں، نبھاتے ہیں۔ اس شجر سایہ دار کی شاخیں چاروں سمت پھیلی ہوئی ہیں لیکن یہ زمانوی سمت ہے۔ انسان کی ایک پانچویں سمت بھی ہوتی ہے اس کی باطن کی اور وہ اس کی تحریر میں نظر آتی ہے۔ آنند جی کی کتاب پڑھیے۔ ان سے اسی پانچویں سمت میں ملاقات ہوگی اور آپ بھی میری طرح پانچویں جنم کی کتھا لکھنے کا انتظار کریں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *