فان ۔۔مختار پارس

کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک باغ میں کھڑا ہوں۔ مالٹے کے ایک درخت پر ایک مکڑی نے مکھی کو اپنے جال میں پھنسا کر دبوچ رکھا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مکھی مکڑی کے منہ میں اس کی غذا بن کر غائب ہو گئی۔ اچانک شاخ کی اوٹ سے ایک چھپکلی نکلی اور جھپٹ کراس مکڑی کو کھا گئی۔ میں اس پلک جھپکنے میں ہونے والے قدرت کے مکافاتِ عمل کو دیکھ کر سکتے میں آ گیا۔ جیسے زندگی کو سمجھنے میں دیر کر دی اور اس ایک لمحے میں بات سمجھ میں آ گئی۔ واہ رے اللہ تیری شان! ہم کتنے جاہل ہیں کہ تیری عطا کو بس اپنی غذا ہی سمجھتے ہیں۔ اس سے زیادہ کی ہماری اوقات ہی نہیں۔ ہمیں یہ کون سمجھاۓ کہ ہم میں سے ہر کوئی کسی دوسرے کا رزق ہے۔ کوئی میری روٹی ہے اور میں کسی کا پانی ہوں۔ آخر کو میں فانی ہوں۔

کوئی حقدار حق مانگنے آ جاۓ تو خود کو قربان کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ اگر کوئی دروازہ کھٹکھٹا دے تو یہ مقامِ شکر ہے، کیونکہ وہ تکلیف زیادہ ہے جب آپ اپنے فرض کی گٹھڑی بنا کر سر پر رکھ کر سارے شہر میں اس حقدار کو ڈھونڈتے پھریں اور پھر بھی نہ مل سکے۔ یہ بات حساب داں شاید نہ سمجھ سکیں کہ فقیر کی مملکت میں وسائل سے زیادہ اخراجات ایک بہترین حکمتِ عملی ہے۔ کیا کبھی کوئی دیکھا ہے جو تول تول کر خیرات کرتا ہو؟ نہ خدا ایسے دیتا ہے اور نہ خدا ایسے دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب کچھ نہیں رہتا تو اور آ جاتا ہے اور تمانیت کے ساتھ آتا ہے۔ جب راہِ حق میں سب چلا جاتا ہے تو پھر وہ مقام عطا ہوتا ہے جب یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں۔

پیسے اور اختیار سے بڑا سراب کوئی نہیں۔ جس چیز کا وجود ہی مشکوک ہو، اسے کسی دوسرے کو مستعار دینے میں کیا رکاوٹ؟ اس نظامِ معیشت کو کیا نام دیا جاۓ جس میں اپنا سب کچھ دوسروں کو بلا سود دے کر اس سرمایہ کاری کا معاوضہ کسی اور ذات سے لیا جاتا ہے۔ وہ چاہے تو اس منافع کو اچھی اولاد کی صورت میں لوٹا دے یا کسی کی آنکھ میں روشنی بھر دے یا کسی کو بے وجہ اچانک مالامال کر دے۔ کسی کے پاس پیسے ہوں تو یہ ضروری نہیں کہ یہ اسباب اس نے کمایا ہو، یہ اس سے پہلے والوں کا ثمر بھی ہو سکتا ہے۔ کسی کی جھولی خالی ہو تو یوں نہ کہو کہ اس نے محنت نہیں کی۔ رزق محنت سے نہیں ملتا۔ ہو سکتا ہے اس نے زندگی میں کچھ بھی نہ کیا ہو۔ عین ممکن ہے کہ وہ نسلوں کا بوجھ اٹھاۓ پھرتا ہو۔ کوئی ایسا نظر آ جاۓ تو اسکا سہارا بننا ضروری ہے۔ خدا کا نظام یہی ہے کہ مفلس، غربت کا سامان اٹھاۓ خوشحالی بیچتے پھرتے ہیں۔ جس نے ان سے کچھ لے لیا، مراد پا گیا۔

اس کاروبارِ حیات میں جو بھی منافع ملتا ہے، فتنہ ہے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک کو آشوبِ چشم بنتے دیر نہیں لگتی۔ موسم کا ویسے ہی اعتبار مشکل ہے۔ اچھی بھلی فصلیں ثمربار ہونے سے انکار کر دیتی ہیں۔ گھر کے تہہ خانوں میں چھپے خزینوں کو آگ لگ سکتی ہے۔ قدرت ذرا سی انگڑائی لے تو دنیا تہس نہس ہو جاۓ اور کچھ نہ رہے۔ زمین کے اوپر صرف خواہش کا بازار گرم ہے۔ زمین کے اندر ابتدا سے ایک آگ جل رہی ہے جسے ٹھنڈا ہونے کا حکم نہیں۔ اس حرارت میں ہر خواہش نے راکھ ہونا ہے۔ سب گلابوں نے سوکھ جانا ہے۔ آگ کے الاؤ میں چٹختی لکڑیوں سے اڑتے ہوۓ شراروں سے کچھ زیادہ نہیں ہے یہ زندگی۔ دھواں تحلیل ہو کر ہر حرف تحریر کر دیتا ہے۔

خواہش اور ضرورت دو الگ الگ معاملات ہیں۔ ضرورت پڑنے پر انسان حلال اور حرام کی تمیز مٹا بیٹھتا ہے۔ خواہش کرنے والوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہوتی۔ خواہشیں صرف نیک ہو سکتی ہیں۔ ناپاک کی کوشش خواہش نہیں، سازش ہے۔ اس دنیا میں کسی بھی انسان کی آمد خود اس کی ذات کےلیے  نہیں ہے۔ اسے دوسروں کےلیے  بھیجا گیا ہے۔ اگر اس نے اپنی حیاتِ مختصر اپنی ضرورتیں شمار کرنے میں گزار دی تو سمجھو کہ اس کا کچھ نہ رہا۔ اگر اس نے اپنی خواہشات کے محل میں دوسرے مسافروں کو پناہ دے دی تو تشکیلِ انسانیت کا مرحلہ اس نے کامیابی سے طے کرلیا۔ انسان اس مختصر سی دنیا میں صرف کچھ لفظ بولنے، کچھ لفظ سننے اور دوسروں کے ساتھ کچھ گفتگو کرنے آتا ہے۔ ایک دن سب ضرورتیں اور ساری خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں تو ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے اور کوئی کسی کو یاد نہیں رہتا۔

امیر ہو یا اسیر، فنا سب نے ہو جانا ہے۔ انسان آفاقی سازشوں کا شکار ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے  کہ اسکی آنکھوں کے سامنے جو ہو رہا ہے، اس کے پیچھے ایک داستانِ کرب ہے۔ کوئی بنانے والا اپنی تخلیق کو بےوجہ ساتویں منزل سے نیچے دھکا دے سکتا ہے؟ ایک مصور کی توقع اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ تصویر کچھ ایسے مکمل ہو جاۓ کہ رنگ و مو کے ہر پہلو سے سب حکایتیں، سب شکایتیں نمایاں ہو جائیں۔ ہم سب اس وسیع و عریض کینوس پر اپنا اپنا رنگ پھینک رہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس تصویر کا حصہ ہیں اور اس بڑے کینوس پر خود کس شکل میں اور کیسے نظر آتے ہیں۔ جس نے یہ پینٹنگ بنائی ہے، اسے معلوم ہے کہ میں دھوپ ہوں یا چھاؤں۔ وہ جانتا ہے کہ میں کس کے قدموں کی آہٹ ہوں اور کون میری ذات کا سایہ ہے۔ اس پراسرار دنیا میں یہ پتہ چلانا مشکل ہے کہ مانگنے والا دینے آیا ہے یا لینے۔ بندے کے پاس بقا کا صرف ایک راستہ ہے،دیتا جاۓ اور کہتا جاۓ،”کل من علیھا فان” !

Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *