• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • بُلبُل نے آشیانہ اُٹھا لیا(اَفطار حسین حسرت)۔۔۔۔۔ (دوسرا ،آخری حصہ)جاویدخان

بُلبُل نے آشیانہ اُٹھا لیا(اَفطار حسین حسرت)۔۔۔۔۔ (دوسرا ،آخری حصہ)جاویدخان

SHOPPING
SHOPPING

ہائی سکول سون ٹوپہ کے عقب میں اَکثر اَدبی مجلسیں ہوا کرتی تھیں۔حسرت صاحب ا س کے روح ِرواں تھے۔ایک مرتبہ یہاں مشاعرہ ہوا۔مہمان خصوصی محمد کبیر خان (مزاح نگار)تھے۔ساقی صاحب نے غزل پڑھی اَور حسرت صاحب نے نظم۔کبیر صاحب نے سب کی حوصلہ اَفزائی کی مگر ساقی صاحب کی غزل کو بہت سراہا گیا۔بعد میں کبیر صاحب خود نثر کے شہ سوار ہوئے۔اَورحسرت صاحب نے شاعری ترک کردی۔اَلبتہ ساقی صاحب کاقدم شاعری میں خوب جما۔حسرت صاحب مجادلے کے نہیں مکالمے کے آدمی تھے اَور خوب تھے۔ٹوپہ اُس وقت اَگرچہ ایک قصباتی بازار تھا۔مگر مرکزی شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے یہاں خوب رونق رہتی تھی۔ڈھیروں چائے خانے اَور ہوٹل تھے۔سستا زمانہ تھا۔دُودھ کی ریل پیل تھی۔ہوٹل کے مالک اَپنے گھر کے علاوہ دُوسرے گھروں سے بھی دُودھ لاتے تھے۔بیکرز کاایک کارخانہ بھی یہاں تھا۔تازہ مال کی مہک پورے بازار میں پھیلی ہوتی تھی۔چائے،بن،باقرخانیاں،کریم رول،کوکونٹ،نمکین بسکٹ اَورتازہ تازہ کیک دن بھر کھائے اَور کھلائے جاتے،محفلیں جمی رہتیں،گپیں اَور مکالمے ہوتے۔اُس عرصے میں سُرخ انقلاب کاچرچا تھا۔ روس اَور اَمریکہ کشتی کے لیے میدان منتخب کرچکے تھے۔نظریہ اِرتقاء،سوشل اِزم،اشتراکیت اَور متبادل اسلام ازم پر دن دو بجے سے عشاتک روز ہی مکالمے ہوتے رہتے۔مگر کبھی بھی مجادلے کی نوبت نہ آئی۔صرف ایک بار لطیفہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : بُلبل نے آشیانہ اُٹھا لیا(اَفطار حسین حسرت)خاکہ۔۔۔۔۔ (پہلا حصہ)جاویدخان

ہائی سکول سون ٹوپہ کے پیچھے پہاڑوں میں نشیب وفراز سے سجی ایک چھوٹی سی بیابانی ہے۔یہاں سے ایک طرف پیر پنجال ہے تو دوسری طرف مری۔یہاں طالب علمی اَورملازمت کے زمانے میں یہ دوستوں کے ساتھ یہاں مطالعاتی مجلسیں سجایا کرتے تھے۔سوشل ازم کا جادُو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔رمضان کامہینہ تھا۔سن 80 یا اس سے بھی پہلے کازمانہ ہوا ہوگا۔یہ اس جگہ بیٹھ کر مطالعہ کررہے تھے۔عصر سے پہلے بازار آئے تو جمعیت والوں نے چند معززین کے ہمراہ انھیں گھیر لیا۔جرم یہ تھا کہ یہ روزے نہیں رکھتے اُس جگہ بیٹھ کر کچھ کھاتے پیتے ہیں۔مقدمہ اُس وقت کے امام مسجد سیدہدایت شاہ صاحب کے پاس پیش ہوا۔اِن سے پوچھا۔
کیا آپ نے روزہ کھایا۔؟
یہ،جی ہاں کھایا۔
سوال،کیسے کھایا۔؟
یہ،جی کچھ پکوڑے اَورکچھ جلیبیاں تھیں۔بس کھالیا۔
اِقرار پر پر جمعیت والوں نے مزید تیل ڈالا ”دیکھیے یہ  تو سرعام اِقرار بھی کرگئے۔توبہ توبہ۔“

اَب سب جج صاحب (ہدایت شاہ صاحب) کی طرف دیکھ  رہے تھے کہ فیصلہ سنائیں۔شاہ صاحب سادہ مزاج آدمی تھے۔بناؤ بگاڑو نہیں،جوڑو،توڑو نہیں اَور سوئی رکھو قینچی نہیں،کے فلسفے پر عمل پیرا تھے۔ کچھ دیر گم صم رہے پھر سرا ٹھا کر بولے ”یہ ہمارے اَپنے ہی گناہ ہیں،جو پھر رہے ہیں۔“ لوگ شاہ صاحب کا حد درجہ اَحترام کرتے تھے۔وہ بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملا کر ہنستے ہوئے چل دیے۔جمعیت والے جز بز ہوئے۔یہ سینہ تان کر نکل آئے۔

پائیوٹا ایک منفرد کردار تھے۔زیادہ تر محفلیں انہی کے ہوٹل پر سجتی تھیں َ۔اُن کا اصل نا م تو ابراہیم تھا۔بعض اَوقات ایک فرد پچیس پچیس پیالیاں چائے پی لیتا۔مگر جب مجلس برخاست ہوتی تو جو بھی دام پائیوٹا کو دیے جاتے وہ قبول کرلیتے۔بقول حسر ت صاحب کے’ہمارے پیسے شاید ہی کبھی پائیوٹا نے گنے ہوں۔“دائیں اَور بائیں گروہ کے یہ سپاہی جہاں سے مکالمہ ختم کرتے دوسرے دن وہی سے شروع کرتے۔ایسے میں دونوں طرف جم کر مطالعہ ہوتا۔مکالمے کے اختتام پر اگر رات زیادہ ہوچکی ہوتی تو دُور والے کسی بھی نزدیک والے دوست کے گھر چلے جاتے۔تب دائیں بائیں کی نظریاتی تخصیص ختم ہوجاتی۔پھر رات کی لنگوٹیائی محفل الگ سے ہوتی۔نہ کوئی دائیاں ہوتا نہ بائیاں۔منیر صاحب (معلم) قریبی گاؤں متیال میرہ سے تھے یہ اَور حسرت صاحب ہم جماعت تھے۔منیر صاحب کٹر ”مودودسٹ“تھے اَور یہ کٹر ”مارکسسٹ“۔مگر بحث ختم ہونے کے بعد اکثر منیر صاحب ِحسرت صاحب کو اپنے گھر لے آتے۔کبھی کبھار یہ جوڑی حسرت صاحب کے ہاں بھی چلی جاتی۔مگر زیادہ تر منیر صاحب کے گھر کارخ ہوتا۔

حسرت صاحب لطیفہ گو آدمی تھے،1999 کی بات ہے۔ہم دونوں میرے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔مَیں نے انھیں ایک لطیفہ سُنایا کہ پنجاب کے کوئی نامی گرامی پہلوان اچانک فوت ہوگئے۔جنازے میں ایک اجنبی نے پاس زارو قطار روتے شخص سے پوچھا۔پہلوان جی کی کتنی اَولادیں تھیں۔؟ جواب ملا دوچار بیٹے تو ہیں مگر کوئی وارث نہیں چھوڑا۔“ مراد تھی کہ کوئی جانشین ِ فن نہیں چھوڑا۔حسرت صاحب ہنستے ہنستے دہرے ہوگئے۔تھوڑی دیر بعد زرداد صاحب آگئے۔تو انھیں بھی لطیفہ سنا سنا کر ہنستے رہے۔گزشتہ کسی سال (2018؁)ء ہم میرے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔مَیں نے ”کلیات ساحر“ نکالی کچھ نظمیں سادہ اَنداز میں پڑھنے کے بعد جب اِس نظم پر آیا جس میں تکرار کا یہ مصرعہ ہے۔
؎”برسو رام دھڑاکے سے۔بڑھیا مر گئی فاقے سے۔“
تو حسرت صاحب جو پہلے صرف واہ۔۔۔واہ۔۔کرتے رہے تھے۔فوراً نعرہ زنی پر آگئے اَور یوں ہم نے یہ نظم بھرپور نعرہ زنی کے اَنداز میں ختم کی۔انھوں نے بے حد نرم دل پایا تھا۔اُن کے گھر کے پاس ایک کھو ہ میں سُرخ لومڑیوں نے بچے دے رکھے تھے۔صبح فجر کے بعد اَور سورج نکلنے سے کچھ پہلے،بچے اَور لومڑیوں کا چوڑا کھو ہ سے نکل کر کھیلتے کودتے۔جنگل کے ان باسیوں کا یہ روز کامعمول تھا۔سُرخ بدن پر سفید دھاریاں لُومڑیوں کے جوڑے اَور اُن کے بچوں پر بے حد بھلی لگتی  تھیں۔اُنھیں خبرہوئی کہ کوئی نوجوان انھیں مارنے کے درپے ہے تو بہت رنجیدہ ہوئے۔اُسے بُلایااَور سمجھایا کہ یہ بے زبان ہیں اَور بے ضرر ہیں۔اِن کا گناہ اَپنے سر کیوں لیتے ہو۔لُومڑیوں کے بچے بڑے ہوگئے تو یہ خاندان بحفاظت یہاں سے ہجرت کر گیا۔

ایک مرتبہ مَیں نے شہزادہ ہردیو کی لکھی ہوئی کتاب ”چہل روزہ“ جس کاترجمہ خواجہ حسن نظامی ؒ نے کیا ہے۔انھیں پڑھنے کو دی۔یہ حضرت بابانظام کی سوانح عمری ہے۔(بابانظام نے راج کمار ہردیو کو پناہ دی تھی۔پھر تربیت کے لیے انھیں حضرت اَمیر خسرو ؒ کے سپرد کیاتھا۔) ایک ہفتے بعد ملنے گیا تو بولے ”یار۔۔! تمھاری یہ کتاب مَیں نے پڑھی ہے۔ بعض جگہوں پر مَیں پڑھتے ہوئے بہت رویا ہوں۔“

وہ معروف دست شناس تھے۔اس نسبت سے آزادکشمیر اَور پاکستان کی سیاسی دُنیا اَور اشرافیہ اُن سے راز و نیاز میں رہتی تھی۔مگر وہ درویش کے درویش ہی رہے۔کہا کرتے تھے کہ کشمیر میں بڑے پامسٹ پیدا ہوئے ہیں۔اَگرچہ وہ خود پیشہ وَر دست شناس جانے جاتے تھے۔مگر اس علم سے شدید نفرت کرتے تھے۔وہ خود بحران کاشکار رہے خصوصاً شادی کے بعد،لیکن مستقبل کے لیے پریشان حال نوجوانوں کی ہمیشہ حوصلہ اَفزائی کرتے رہتے تھے۔بے روزگاروں کے علاوہ،عادی بے روزگاروں کی ٹولیاں اُن کے دفتر کے پھیرے لگاتی رہتی تھیں۔ایک مرتبہ رُومان کی دُنیا میں اُڑتا ایک جوڑا اُن کے پاس آیا۔دونوں نے اپنے اپنے دست اِن کے آگے پھیلائے۔تولڑکی نے روہانسے لہجے میں پوچھا ”کیاہم کبھی ایک ہوسکیں گے۔“اِس فقرے اَور رویے پر بہت بد دل ہوئے۔کہتے تھے آخر یہ لوگ حقیقت کی دُنیامیں رہنے کے بجائے فلموں کی خیالی دُنیامیں رہنے پر کیوں آمادہ ہیں۔؟اُن کی کتاب بھارت اَورترکی میں ترجمہ ہوئی۔مگر کوئی رائیلیٹی نام کی چیز ان تک نہیں پہنچی۔یہ مہذب،جمہوری اَور کتاب دوست سماج کی ایک مثال ہے۔اس کتاب کولکھنے میں اُن کے میرپور کے دوستوں نے تعاون کیا۔

وہ سردار رشید حسرت کے دست راست تھے۔اَور ماہانامہ جہاد کشمیر کے چیف ایڈیٹر صغیر قمر صاحب سے بھی ان کی گہری دوستی تھی۔یوں ہمالیہ اَور پیر پنجال کی برف پوش چوٹیوں کو پار کرکے آنے والے حریت پسندوں سے وہ اَکثر ملتے رہتے تھے۔اِن حریت پسندوں میں سے،سینکڑوں آج قبرستان ِشہدا میں سوئے ہوئے ہیں۔کہا کرتے تھے وادی والے ٹوٹا ہوا موٹا چاول زیادہ پسند کرتے ہیں۔انھیں پنجاب کاباسمتی اچھا نہیں لگتا۔ ایک وقت میں حز ب اَور جے۔کے۔ایل۔ایف کے گوریلوں سے اُن کابرابر سابقہ رہا۔

سن 80  کے کسی مہینے کا ذکر ہے۔اِن کے کسی دوست نے جو تراڑکھل سے تھے،اَخبار میں ان کی وفات کی خبرچھپوا دی۔ یہ ایک طرح کی شرارت تھی۔ اِن کے والدین زندہ تھے۔بھائی اَور رشتے دار چارپائی لے کر سڑک پر بیٹھے رہے کہ شاید جنازہ آرہا ہے۔اُن دنوں ٹیلی فون کی سہولت براے نام تھی۔بڑی دیر سے ان کو خبر ہوئی تو گھر خریت کی اطلاع دی۔اس دن مسلم کانفرنس کے موجودہ سربراہ اَورسابق وزیراعظم سردار عتیق صاحب کی نظروں سے بھی وہ خبر گزری۔انھوں نے محفل میں افسو س کا اظہار کیا اَور فاتحہ خوانی کی۔یہ واقعہ مجھ سے بیان کرکے خوب ہنسے اَور دونوں ہاتھوں کی تالی بجا ئی۔پھر ایک ہاتھ سے مجھے جتاتے ہوئے بولے دیکھو اَگرمَیں گُزر گیا تو بہر حال یاد رکھا جاؤں گا۔اپنے اپنے طورپر فاتحہ خوانی تو ضرور ہو گی۔ فاتحہ خوانی کاذکر کرتے ہوئے ا یک طرف کو جھول کردونوں ہاتھو ں کو دعا کا انداز دیا۔کالج دَور میں وہ سرگرم سیاسی کارکن اَور لائق طالب علم تھے۔اَپنے اساتذہ میں اُردو کے لیکچرر کوئی شاہ صاحب تھے۔ان کو بہت یاد کیا کرتے تھے۔اُن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ فارسی اَور اُردو کے اشعار اُن کے منہ  سے جھڑتے تھے۔

راول پنڈی میں آغاصاحب ان کے دوست تھے۔وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تھے،بے نظیر بھٹو کے خاص آدمی تھے۔راول پنڈی سے شیخ رشید کے مقابلے میں ایک دو بار الیکشن بھی جیت چکے تھے۔بے نظیر کی شہادت کے بعد وہ غیر فعال ہو گئے۔اُن کے مالٹو ں کے باغات تھے۔یہ سردیوں میں پنڈی چلے جاتے۔دُھوپ میں اُن کے باغات میں جابیٹھتے۔ملازم تازہ مالٹے ٹوکری میں چن کر رکھ دیتا آغاصاحب کے باقی دوست بھی آ جاتے یوں محفل جمی رہتی۔آغاصاحب علمی اَدبی آدمی تھے۔راول پنڈی میں ان کے دوسرے دوست ڈاکٹر خالد محمود شیخ تھے۔ڈاکٹر شیخ عربی اَدب میں پی۔ایچ۔ڈی تھے۔اَندرون اَور بیرون ملک یونی ورسٹیوں میں پڑھا چکے تھے۔ملازمت سے سبکدوش ہوئے انھیں کافی عرصہ ہوچکا تھا۔پھر بھی درس گاہیں اپنے ایم۔فل اَور پی۔ایچ۔ڈی کے طلباء کے مقالات اُن سے پڑتال کروایا کرتی تھیں۔یہ تینوں دوست یکے بعد دیگرے فوت ہوئے۔ایک دن مَیں ان کے ہاں پہنچا تو اُونچی آواز میں کچھ پڑھ رہے تھے۔دستک دی تو بولے اندر آ  جاؤ۔سلام کے فور اً بعد بولے یار۔۔ڈاکٹر صاحب فوت ہوگئے ہیں۔(ڈاکٹر خالد محمودشیخ کو ڈاکٹر صاحب کہتے تھے۔) پھر جو مضمون ڈاکٹر صاحب پر لکھا تھا پڑھ کر سنانے لگے۔مضمون کے الفاظ دُکھ اَور اُداسی میں ڈُوبے ہوئے تھے۔ایک اَفسردگی سی سارے کمرے میں چھا گئی۔کہنے لگے اس بار ڈاکٹر صاحب سے ملنے گیاتو یہ شعر بار بار گنگناتے رہے۔

؎ بلبل نے اَپنا آشیانہ چمن سے اُٹھا لیا
اَپنی بلاسے بُوم بسے یا ہُما رہے۔

SHOPPING

پھر خود اِس شعر کی کچھ دیر تکرار کرتے رہے۔ڈاکٹر خالد شیخ نے انھیں اَپنی کتاب پر نظر ثانی کے لیے بلایا تھا۔ڈاکٹر صاحب کی وفات سے ایک ہفتہ قبل اِنھیں ایک خوا ب آیا کہ رسو ل پاک ﷺ آئے ہیں اَور ڈاکٹر خالد شیخ کو لے جا رہے ہیں۔اُن کے ساتھ کچھ اَور لوگ بھی ہیں۔انھوں نے ڈاکٹر صاحب کو فون کر کے خواب سُنایا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا”بَس۔۔!ہمیں رسول پاک ﷺ ہی کافی ہیں“۔ اُس کے چند دنوں بعد ڈاکٹر صاحب نے اِنھیں فون کیا۔”یار کتاب میں کچھ خامیاں رہ گئی ہیں اَور مجھے کینسر ہو گیا ہے۔“ پھر فون بند ہو گیا۔دراصل انھیں فوراً ہسپتال میں داخل کردیا گیاتھا۔اور مزید بولنے کی ممانعت تھی۔21جنوری کو مَیں ایک دوست کے گھر سے واپس آتے ہوئے،شام کو اِن کے دروازے پر پہنچا اَور آواز دی۔بولے اَندر آ جاؤ۔سر پر مفلر باندھ رکھاتھا۔اَور وُول کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔اِک بیزاری سی طبعیت میں دیکھ کر،مَیں نے پوچھا خیریت تو ہے۔؟بولے مجھے تکلیف ہے۔ کل تمہارے پاس آؤں گا تو گپ ہو گی۔مَیں نے کہا کوئی مسئلہ ہوا تو فون کردیجیے گا۔بولے ٹھیک ہے۔صبح اُن کی بھاوج نے آکر اطلاع دی۔مَیں نے فون کیا تو کمزور آواز میں بولے۔ڈاکٹر کہتے ہیں مجھے اٹیک ہوا ہے۔تم اَور ماجد(چھوٹابھائی) جلدی آ جاؤ۔شب پانچ بجے تک خیریت رہی۔ پھر مَیں اجازت لے کر آ گیا۔ماجد اُن کے پاس ہی رہا۔یہ آخری ملاقات تھی۔رات 11:30 بجے  بیماری پھر قلب پر حملہ آور ہوئی اَور دھڑکنیں خاموش کر گئی۔
بلبل نے اپناآشیانہ چمن سے اُٹھا لیا
اَپنی بلا سے بُو م بسے یا ہُمارہے۔۔

SHOPPING

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *