• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • بُلبل نے آشیانہ اُٹھا لیا(اَفطار حسین حسرت)خاکہ۔۔۔۔۔ (پہلا حصہ)جاویدخان

بُلبل نے آشیانہ اُٹھا لیا(اَفطار حسین حسرت)خاکہ۔۔۔۔۔ (پہلا حصہ)جاویدخان

گھنی بھنویں،کُشادہ پیشانی،بھرے بھرے گال،گول ناک اَور اُس کے دونوں طرف سیاہ،چمکتی جمی ہوئی مونچھیں،گندمی رنگ کاقدرے گول چہرہ۔اَگر سر پر تُرکی ٹوپی پہن رکھی ہو تو علامہ اقبال کی کوئی دُھندلی (بلیک اینڈ وائٹ)تصویر لگیں۔یہ تھے اَفطار حسین حسرت۔

میرے گھر اَور اُن کے گھر کے درمیان سدا بہار درختوں سے لدا اِک ٹیلہ حائل ہے۔اس خوب صورت جنگل کے دُوسری طرف اُن کاکچا گھر تھا۔کبھی اُس کے سامنے خوبانیوں کے بڑے بڑے درخت ہُواکرتے تھے۔ایک وسیع سیبوں کا باغ آج بھی اُس گھر کے سامنے ہے۔

حسرت صاحب سے میری پہلی ملاقات 1998کی ایک شام اُن کے گھر میں ہوئی۔تب مَیں سال اَوّل کاطالب علم تھا۔کمرے میں داخل ہوا تو وہ اَپنے پلنگ پر تکیے سے ٹیک لگائے،اک اوڑھنی  لیے لیٹے ہوئے تھے۔ایک سگریٹ اُن کے دائیں ہاتھ کی اُنگلیوں میں سلگ رہا تھا۔خورشید جو اُن کاچھوٹا بھائی تھا،نے میرا تعارف کروایا۔وہ کھڑے ہوئے اَور تپاک سے ملے۔حال اَحوال پوچھا۔وہ ہمیشہ سائنس اَور اَدب کے طلباء سے مل کر خوش ہوتے تھے۔بات طلبا سیاست سے شروع ہوکر کشمیر کی تحریک آزادی تک پہنچی اَور پھر رات تک تحریک آزادی پر گفتگو ہوتی رہی۔اُنھیں ہر مکتب فکر اَور ہر عمر کے فرد سے مجلس کرنے کا فن آتاتھا۔مَیں چیدہ چیدہ سوال کرتا جاتا۔حسرت صاحب اُس پر سیر حاصل تبصرہ کرتے جاتے۔پھر اُن سے اَکثر نشستیں رہنے لگیں۔

وہ راول پنڈی،میرپوریا پھر مظفرآباد ہوتے تھے۔اُن کاحلقہ ِاَحباب وسیع تر تھا۔اُسی عرصے میں تجسس کے زیر اَثر مَیں نے اَپنے ہاتھ کاپرنٹ انھیں بھیجا۔جس پر ایک تفصیلی تبصرہ اُنھوں نے  لکھ کر واپس بھیج دیا۔اُن کی دوسری کتاب ”ہاتھ لکیریں اَورزندگی“جب چھپ کر آئی تو اُنھوں نے اَپنے گھر میں،مجھے پیش کی۔اُن کی والدہ محترمہ فالج کی مریضہ تھیں۔طویل عرصہ بیماررہ کر فوت ہوئیں۔اُن کے سارے بھتیجے مجھ سے پڑھتے تھے۔علاوہ ہم پڑوسی تھے۔پھر تعلق داریاں تھیں۔سرما کی لمبی راتوں میں خورشید اَور مَیں اُن کے گھر آگ کے اَلاؤ کے پاس ساری رات بیٹھے رہتے اَور قہوہ پیتے رہتے۔باہر برف گرتی رہتی اَور ہماری مجلس جاری رہتی۔خورشید ایک اَچھے باورچی بھی تھے۔دیسی سبزیوں اَور چپاتی کے ماہر تھے۔خاص کر اُن کی پھواڑی (جنگلی اِنجیر کے پتے) بہت ہی لذیذ ہوتی۔ٹریکٹر حادثے میں وہ جان بحق ہوگئے۔

حسرت صاحب کو والدین کی اتنی چوٹ نہیں لگی،جتنی بھائی کی لگی تھی۔خورشید کی وفات کے بعد ایک بڑا خلا اُن کی زندگی میں آگیا تھا۔اَگر دَوران گفتگو خورشید کا ذکر آ جاتا تو، وہ خاموش ہوجاتے یا پھر موضوع ہی بدل دیتے۔ایک ایسے ہی موقعے پر مجھے کہا ”دیکھو خورشید کاذکر نہ کیا کرو۔مَیں بہت دُکھی ہو جاتا ہوں۔“اُس کے بعد مَیں نے کبھی خورشید کاذکر نہیں چھیڑا۔خورشید اُن کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔وہ اُن کے کپڑے اِستری کرتے،بعض اَوقات دھو تے بھی۔شمیم کاشمیری مرحوم (پامسٹ،سری نگر)کے فوت ہوجانے کے بعد روز نامہ پاکستان کے ہفتہ وار رسالے میں پامسڑی پر یہ لکھنے لگے تھے۔اسی عرصے میں کشمیری حُریت پسند قائدین اَور پاکستان کی سرکردہ شخصیات کے ہاتھوں پر اُن کے تبصرے شائع ہوئے۔خورشید اُن ہفتہ وار تبصروں کو کاٹ کر فائل میں لگادیتا۔وہ ان کا پرسنل سیکرٹری بھی تھا۔حسرت صاحب کی خواہش تھی کہ کبھی ان تبصروں پر مشتمل الگ سے ایک کتاب شائع کروائیں گے۔اَگرچہ دست شناسی نے اُنھیں حادثاتی طور پر جکڑ لیا تھا۔ورنہ اَصلاً وہ ایک سماجی شعور رکھنے والے ترقی پسند دانشور تھے۔اُن کی تحریروں میں رُومانوی رنگ نمایاں ہے۔

سردار ابراہیم خاں صاحب کے پرنٹ پر جو تبصرہ اُنھوں نے لکھا ہے۔اُس سے ایک دست شناس کے بجائے ایک فطرت پرست لکھاری کاتاثر زیادہ ملتاہے۔اَگرچہ وہ آزادکشمیر میں ایک ترقی پسند مکتبہ فکر کے بڑے مبلغ رہے۔لیکن اُن کے تعلقات دائیں مکتبہ فکر کے دانشوروں اَور راہ نماؤں سے بھی برابر رہے۔اُن کی کتاب ”ہاتھ لکیریں اَور زندگی“ کی اِشاعت اُن کے دائیں بازو ں سے تعلق رکھنے والے دوستوں ہی کی مرہون منت ہے۔1998؁ کے عشرے میں وہ صُوفیاء،مجذوبوں کے پاس اَور خانقاؤں پر جانے لگے تھے۔1999؁ ء میں اُس وقت کے مشہور مجذوب ”پیر آف دھناکا“ کے پاس ایک طویل اَور مشکل سفر کر کے پہنچے۔پیر صاحب کے ڈنڈے کھانے کے بعد،اُن کے باقی دوست اِسے اَپنے لیے فیض سمجھ رہے تھے جب کہ حسرت صاحب سراپا سوال تھے۔اس سفر کی رُوداد وہ بہت چٹکلے لے لے کر سُنایا کرتے تھے۔اَگرچہ جب وہ بائیں بازو اَورقومی آزادی کی بھرپور تحریک چلائے ہوئے تھے۔تو تب بھی ایک مجذوب بزرگ اِن پر نظر شفقت رکھتے تھے۔منگ آزادکشمیر کے ”سائیں ثانی“ حسرت اَور اُن کے چند ترقی پسند دوستوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔سائیں یوسف ثانی ؒ کی ایسی شفقت چند ہی لوگوں کو حاصل تھی۔وہ اکثر لوگوں کے دیے ہوئے پیسے تندور میں پھینک دیتے تھے۔جب کہ حسرت صاحب کے پیسے وہ ہوٹل والے کو دے دیتے۔بری امام اَور گولڑہ شریف جاکر اِنھیں خاص کیف ملتا تھا۔

پھر اَیسا ہونے لگا کہ جب وہ کسی شہر میں داخل ہوتے تو پہلے وہاں کی مشہور درگاہ پر حاضری دیتے۔میرپور میں کھڑی شریف،کوٹلی میں خانقاہ گلہار شریف اَور مظفرآباد میں سائیں سہلی سرکار پر پہلے حاضری ہوتی پھر شہر میں قیام ہوتا۔ممتاز مفتی صاحب نے اپنی کسی تحریر (افسانہ یا ناول) میں راول پنڈی کی کسی زیارت کا ذکر کیا ہے۔وہ بڑی تلاش کے بعد ایک دوست کے ہم راہ وہاں پہنچے۔اس مزاج کے ادیبوں میں انھیں صرف واصف علی واصف پسند تھے۔وہ عالمی کلاسیکی اَدب کے شناور تھے۔اُن کے کتب خانے میں،جو چند صندوقوں پر مشتمل تھا۔چیخوف،ٹالسٹائی،پُشکن،موپساں اَور خلیل جبران کے علاوہ برصغیر کاسارا ترقی پسند اَدب تھا۔خلیل جبران کو وہ خاص طور پر پسند کرتے تھے۔ اُن صندوقوں تک ہرکسی کی رسائی پر سخت پابندی تھی۔مگر مَیں نے خورشید کی مدد سے نقب لگانی شروع کی۔لینن کے مضامین،کرشن چندر،بیدی اَوروہ ترقی پسند جو اَب بازار کے کُتب خانوں سے غائب ہیں۔اُسی عرصے میں پڑھے۔ اَگر و ہ کسی یونی ورسٹی میں اَدب عالیہ کے پروفیسر ہوتے تو اَدب کے طلبا کو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا۔ دوستوں کی مجلس میں وہ سنجیدہ سے سنجیدہ بات کو بھی ذوق مزاح سے لطیفے میں بدل دیتے تھے۔ایسا وہ دانستہ نہیں کرتے تھے بلکہ یہ اُن کی طبیعت کی خاص خوبی تھی۔ایسا جوہر ہر کسی کے نصیب میں کہاں۔؟

وہ سادہ مزاج تھے۔کھانے میں جوملتا کھالیتے۔چائے اُن کا پسندیدہ مشروب تھا۔میرے گھر کے علاوہ زرداد حسرت صاحب اَور ساقی صاحب کے ہاں وہ بلاتکلف جاتے اَور چائے کی فرمائش کرتے۔دہی کی لسی کے ساتھ ساگ،روٹی اَور چٹنی اُن کی مرغوب غذا تھی۔کڑی کے ساتھ مکئی کی روٹی بھی بہت پسند کرتے تھے۔کلاسیکل اَور کلچرل کھانے ہمیشہ اُن کے پسندیدہ رہے۔

جب اُن کاتبادلہ ملو ٹ کیا گیا،تو یہ وہاں کرائے کے ایک کچے کمرے میں رہتے تھے۔پاس ہی ایک کچا گھر تھا۔گھر میں صرف بوڑھے میاں اَور اُن کی زوجہ رہتی تھی۔یہ گاہے گاہے اُن کی معاونت بھی کرلیتے تھے۔جنوری میں ایک دن برف گرنے لگی۔دفتر میں چھٹی تھی۔یہ کمرہ بند ہوکر،موم بتی کی روشنی میں مطالعہ کرنے لگے۔مطالعے میں اس قدر مستغرق ہوئے کہ رات ہُونے کاپتا ہی نہ چلا۔بوڑھے میاں ان کی خبر لینے کو آئے۔دستک پر انھوں نے دروازہ کھولا تو گھپ اندھیرا تھا اَور بوڑھے میاں گھٹنوں برف میں ڈوبے،دیا لیے کھڑے تھے۔وہ انھیں گھر لے گئے۔چولھے میں آگ کا اَلاؤ جل رہا تھا۔بوڑھے میزبانوں نے سِلور کے تھال میں اُبلے ہوئے چاولوں پر گرم گھی اَور پنیر رکھ کر پیش کیا۔یہ دن بھر کے بھوکے تھے۔خُوب سیر ہو کر کھایا۔پھر وہیں  بیٹھ کر دُودھ پتی کامگ چڑھا یا۔رات گئے تک اَلاؤ کے پاس بیٹھ کر بوڑھے جوڑے سے بیتے زمانوں کی کہانیاں سُنتے رہے۔وہ سرد رات اَور وہ میزبانی انھیں زندگی کے آخری ایام تک یادرہی۔اُن لمحوں کو یاد کرکے اُداس ہو جایا کرتے تھے۔اَور اک آہ بھر کر کہتے تھے نہ جانے اُس بوڑھے جوڑے کا کیاہوا۔؟

جاری ہے

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *