زندگی ۔ بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس۔۔وہاراامباکر

خلیے اپنی زندگی کے لئے کیمیائی ری ایکشنز پر منحصر ہیں۔ مثال کے طور پر تنفس کے دوران، شوگر کیمیائی طور پر آکسیجن سے ملتی ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور توانائی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ری ایکشن اچانک نہیں ہو جاتا۔ (اگر ایسا ہوتا تو ہمارا جسم جلتی شوگر کی بو اور آگ کی لیپٹ میں ہوتا)۔ پروٹین جسم میں ہونے والے بنیادی ری ایکشنز کو کنٹرول کرتی ہیں۔ کسی کی رفتار تیز کر کے، کسی کی رفتار سست کر کے۔ یہ سب ایک لے میں ہوتا رہے تا کہ زندگی چلتی رہے۔

زندگی کیمسٹری ہے۔ لیکن یہ کیمسٹری کی ایک خاص صورت ہے۔ جاندار اس لئے موجود نہیں کہ یہ کیمیائی ری ایکشن ہو سکتے ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ ری ایکشن بمشکل ہو سکتے ہیں اور بمشکل یہاں پر بہت ہی اہم لفظ ہے۔ زیادہ ری ایکٹیویٹی ہو تو کچھ بھی قابو نہیں کیا جا سکے گا (اور ہم جل کر راکھ ہو جائیں گے)۔ بہت کم ری ایکٹیویٹی ہو تو ہم سرد ہو کر فوت ہو جائیں گے۔ پروٹینز ان بمشکل ممکن ری ایکشنز کو ہونے میں سہولت دیتی ہیں اور یوں ۔۔۔ ہم کیمیکل انٹروپی کی سرحد پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ جیسے بہت ہی پتلی برف کی تہہ پر سکیٹنگ کر رہے ہوں۔ پرخطر لگنے والی لیکن رواں دواں۔

پروٹین خلیوں کے سٹرکچرل اجزاء بناتی ہیں۔ بالوں کے تار، ناخن، نرم ہڈی۔ یا پھر وہ جال جو خلیوں کو باندھتے ہیں۔ خلیے کا کوئی فکنشن ۔۔۔ میٹابولزم، خلیاتی تقسیم، دفاع، فضلے کا اخراج، بڑھنا، رطوبت نکلنا، پیغام دینا، تنفس، حتیٰ کہ خلیے کی موت ۔۔۔ پروٹین کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ بائیوکیمیکل دنیا میں پروٹین کام کرنے والے گھوڑے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ال ارلچ نے کہا تھا کہ “زندگی کیمسٹری ہے”۔ کیمیادانوں نے خلیوں کو کھولنا شروع کر دیا تھا۔ شوگر سے توانائی، فیٹ سے اس کا ذخیرہ، پروٹین سے کیمیکل ری ایکشن کا فعال ہونا، رفتار کنٹرول ہونا اور بائیومکینیکل پراسس کنٹرول ہونا۔ پروٹین بائیولوجیکل دنیا کے سوئچ بورڈ ہیں۔

لیکن یہ پروٹین کام کرتے کیسے ہیں؟ اس کی مثال ہیموگلوبن سے دیکھ لیتے ہیں۔ ہموگلوبن خون میں آکسیجن کو لے کر جاتا ہے۔ یہ فزیولوجی کا آسان ترین اور اہم ترین فنکشن ہے۔ جب آکسیجن کی سطح زیادہ ہو تو ہیموگلوبن آکسیجن کے ساتھ جُڑ جاتا ہے۔ جب کسی ایسی جگہ پر جاتا ہے جہاں پر آکسیجن کم ہو تو یہ آکسیجن کو جدا کر دیتا ہے۔ ہیموگلوبن کی یہ خاصیت ہے جس کی وجہ سے آکسیجن کی منتقلی پھیپھڑوں سے دل اور دماغ تک ہوتی ہے۔ لیکن ہیموگلوبن میں ایسا کیا ہے جو اس کو آکسیجن کے لئے سواری بنا دیتا ہے؟

اس کا جواب ہے مالیکیول کا سٹرکچر۔ ہیموگلوبن کی شکل چار پھول والی پتیوں جیسی ہے۔ اس کی دو “پتیاں” ایک پروٹین سے بنی ہیں جو الفاگلوبن ہے۔ باقی دو ایک اور پروٹین سے جو بیٹاگلوبن ہے۔ ان کے مرکز میں ایک کیمیکل ہے جس میں آئرن موجود ہے۔ یہ کیمیکل ہیم ہے اور آکسیجن اس کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔ گویا اس کو زنگ لگ جاتا ہے۔ ایک بار آکسیجن اس پر لد جاتی ہے تو یہ پتیاں شکنجے کی طرح بند ہو کر اسے جکڑ لیتی ہیں۔

جب اس کے اترنے کی باری آتی ہے (یعنی کہ وہ جگہ آتی ہے جہاں آکسیجن کم ہے) تو آکسیجن کا ایک مالیکیول ہیم سے الگ ہو جاتا ہے۔ مالیکیول کا الگ ہونا اس شکنجے کو کھول دیتا ہے۔ چاروں پتیاں کھل جاتی ہیں اور ہیموگلوبن اپنا سامان اتار دیتا ہے۔ لوہے اور آکسیجن کا کنٹرولڈ طریقے سے ملنا اور الگ ہونا۔ زنگ لگنے اور اترنے کا یہ سائیکل۔ جسم کے ٹشوز کو آکسیجن کی فراہمی کا سائیکل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیموگلوبن کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے کہ خون کے ذریعے آکسیجن کی کیپیسیٹی ستر گنا ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جسم میں دور دراز کے مقامات پر آکسیجن پہنچانے کا نظام نہ ہوتا تو جسم سرد اور چھوٹا ہوتا۔ جیسا کہ کیڑوں میں ہیموگلوبن نہیں تو ان کا جسم بڑا نہیں ہو سکتا۔ ان کے لئے آکسیجن لینے کا عمل مرکزی جگہ پر نہیں ہو سکتا۔

ہیموگلوبن کی فارم اس کے فنکنشن کی اجازت دیتی ہے۔ فزیکل سٹرکچر اس کی کیمیکل نیچر کو فعال کرتا ہے۔ کیمیکل نیچر اس کا فکنشن ممکن بناتی ہے اور اس فزیولوجی سے بائیولوجیکل ایکٹویٹی ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاندار اشیاء کے پیچیدہ تعاملات کی ان تہوں میں فزکس کیمسٹری کو ممکن کرتی ہے۔ کیمسٹری فزیولوجی کو۔

فزیولوجی میں اس فورم اور فنکشن کی اس خوبصورت میچنگ کا خیال بہت پرانا ہے۔ ارسطو جتنا پرانا۔ ارسطو کا کہنا تھا کہ زندہ چیزیں شاندار مشینیں ہیں جن کی اساس میکانیکی ہے۔ قرونِ وسطیٰ کی بائیولوجی اس روایت سے ہٹ گئی اور پرسرار سیال یا وائٹل فورس جیسے خیالات کی سمت نکل گئے۔ لیکن بائیوفزسٹ بائیولوجی کی میکانیکی وضاحت کو بحال کر رہے ہیں۔ فورس، موشن، ایکشن، موٹر، انجن، لیور، پُلی، شکنجے ۔۔۔ جو قوانین سیب کو زمین پر گراتے ہیں، وہی اس سیب کے درخت کے بڑھنے میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

انیسویں صدی میں بائیوکیمسٹری اور بیسویں صدی میں بائیوفزکس ۔۔۔ ان دو شعبوں کی سائنس میں آمد بدلتے وقتوں کا نشان تھا۔ اس لئے نہیں کہ بائیولوجی کو فزکس اور کیمسٹری کی نظر سے سمجھنے کا مطلب بائیولوجی کو بے رنگ کرتا ہے، بلکہ یہ فزکس اور کیمسٹری کو کہیں زیادہ دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *