شکاری خود شکار ہو گیا۔۔عزیز خان/قسط8

ہمارے خاندان میں شکار بہت شوق سے کھیلا جاتا تھا۔ملازمت میں آ نے سے قبل جب بھی ہم عزیز، رشتے دار کسی خاص موقع پر اکٹھے ہوتے تو چولستان میں شکار کھیلنے ضرور جاتے۔یہ شکار اکثر موٹرسائیکلوں پردن کو کھیلتے تھے۔موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھتے ہوئے بھاگتے ہوئے ہرن کو نشانہ لے کر فائر مارنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اس میں میرے پھوپھی زاد بھائی ڈاکٹر اقبال بلوچ(مرحوم)، جنہیں ہم سب لالہ کہتے تھے میرے سُسر الطاف بلوچ مرحوم اور ریاض چوہان مرحوم خاص طور پہ قابل ذکرہیں۔
لالہ اقبال بلوچ (مرحوم)سول ہسپتال احمد پور شرقیہ میں ملازم تھے۔ہمارے گھر میں ہی رہتے تھے۔والد صاحب کی وفات کے بعد انھوں نے ہمارا بہت خیال کیا تھا۔لالہ اقبال خان شکار کے دلدادہ تھے۔ان کے تعلقات کا دائرہ بہت وسیع تھا جس میں فوج کے افسران ، بڑے بڑے زمیندار شامل تھے۔آئے دن شکار کرنے جایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :بے گناہ کی خودکشی کا ملال۔۔۔عزیز خان/قسط7

رحیم یارخان سے تبادلہ کے بعد میں نے رخصت لے لی تھی یہ 1994کی بات ہے۔عیدالفطر قریب تھی میں اپنی فیملی کے ساتھ ملتان آیا ہوا تھا۔29ویں روزے کو میں شام کو ملتان سے احمد پور شرقیہ اپنے آبائی گھر پہنچا گیا معلوم ہوا کہ بھائی اقبال خان اپنے دوستوں کے ساتھ شکار پر چولستان گئے ہوئے ہیں۔میں دیگر کاموں میں مصروف ہوگیا اس شام عید کا چاند نظر نہ آیا اگلے دن پھرروزہ تھا۔بھائی اقبال خان اگلے دن بھی شکار سے واپس نہ آئے۔میرے بڑے بھائی حفیظ خان، چھوٹے بھائی حبیب خان اور باقی سب رشتے دار بھی عید کر نے اکٹھے ہوگئے۔دوپہر تک اقبال خان واپس نہ آئے تو تشویش ہوئی۔اسی طرح شام ہوگئی تو میں نے معلوم کیا کہ ان کے ساتھ شکار پرکون گیا تھا تو معلوم ہوا معین عباسی، رمضان گائیڈ، بلال، ڈاکٹر امیر حسین لغاری بھائی اقبال کے ساتھ گئے ہوئے ہیں۔ بلال کے چچا حاجی محمد اسلم عرف اکری جو خود بھی شکاری تھے سے بھی پوچھا لیکن کچھ معلوم نہ ہوا۔

شام کومیں اور بھائی حفیظ وغیرہ روزہ افطار کرکے بیٹھے ہی تھے کہ میاں فیض الرشید عباسی ہمارے گھر آئے ان کے ساتھ رمضان گائیڈ تھاجوکہ شکل سے بہت پریشان لگ رہا تھا۔جس نے بتایا کہ گذشتہ شب تقریباََ دو بجے ہم سب معین عباسی کی جیپ پر شکار کھیلتے ہوئے جب شادی والا ڈاہر پہچنے تو سامنے رینجرز والوں نےناکہ لگایا ہوا تھا۔جیسے ہی ہم ان کے قریب پہنچے تو رینجرز اہلکاروں نے بغیر کچھ کہے فائرنگ شروع کردی۔معین عباسی جیپ چلا رہا تھا اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر ڈاکٹر لغاری اور ڈاکٹر اقبا ل جبکہ پچھلی طرف میں اور بلا ل بیٹھے ہوئے تھے۔فائر نگ کی آواز پر میں نے ڈاکٹر لغاری اور بلال کی چیخ سنی میں نے گھبرا کر چلتی جیپ سے چھلا نگ لگا دی۔ا ندھیری رات تھی مجھے کچھ سمجھ نہ آیا میں بھاگتا رہا بھاگتے بھاگتے قلعہ ڈراور کے پاس پہنچا وہاں سے میں کسی نہ کسی طریقہ سے شہزادہ فیض الرشید عباسی عرف فیضی میاں کے گھر پہنچا۔میں اور فیضی میاں دوبارہ شادی والا ڈاہر گئے جہاں پر رینجرز والوں نے ہم پر فائرنگ کی تھی لیکن وہاں کوئی بھی نہ تھا اور نہ ہی موقع  پر کوئی نشانات تھے
اب ہم آپکے پاس آگئے ہیں۔ہم سب بیٹھک میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بھائی حفیظ بھی آگئے انھوں نے بھی ساری کہا نی سنی۔ڈاکٹر امیرحسین لغاری کے رینجرزہیڈ کواٹرز بہاولپور میں بہت اچھے تعلقات تھے وہ جب بھی شکار پہ جاتے کرنل رینجرز سے وائرلیس کروالیا کرتے تھے۔تاکہ اگر کہیں شکار کے دوران رینجرز والوں سے سامناہوجائے تو کوئی مسئلہ نہ ہو۔لیکن اس طرح رینجرز کے اہلکاروں کا بغیر وارنگ جیپ دیکھتے ہی فائرنگ کردینا کچھ سمجھ میں نہ آیا۔اس بات کی تصدیق رمضان گائیڈ نے بھی کی کہ شکار پر روانہ ہوتے وقت ڈاکٹر لغاری نے اس کے سامنے رینجرز کے کرنل کو ٹیلی فون کر کے شکار کھیلنے کی اجازت لی تھی۔رینجرز ہیڈ کواٹر بہاولپور سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رینجرزبہاولپور کے اہلکار وں نے اس واقعہ کے بارے میں لاعلمی کااظہار کیا۔شادی والاڈاہر رینجرز بہاولپور کا علاقہ بنتا تھا اب ایک ہی طریقہ تھا کہ رحیم یار خان رینجرز والوں سے پوچھا جائے کہ بھائی اقبال وغیرہ کا کیا ہوا؟

ابھی ہم پریشان بیٹھے ہوئے تھے کہ حاجی محمد اکرم عرف اکری بھی ہمارے گھر آگئے اس نے ایک نئی کہانی سنادی بتایا کہ اس کا بھتیجا جو اقبال خان وغیرہ کے ساتھ شکار پر گیا ہوا تھا زخمی حالت میں چولستانیوں کو ملا اس کی بائیں ٹانگ میں فائر لگا ہوا ہے۔شدید زخمی ہے اسے علاج کے لیے بہاولپور ہسپتال روانہ کرکے آرہا ہوں۔بلال نے بتایا ہے کہ رینجرز والوں کی فائرنگ سے ایک گولی اسکی ٹانگ میں لگی جیسے رمضان گائیڈ نے بھی جیپ سے چھلا نگ لگائی اسنے بھی چھلانگ لگا دی اور بھاگتا رہا گولی کیونکہ گوشت پھاڑتے ہوئے نکل گئی تھی لیکن ہڈی بچ گئی۔کافی دور پہنچ کر جھاڑیوں میں چھپا رہا اپنے رومال سے ٹانگ کو باندھ دیا تاکہ خون زیادہ نہ بہہ جائے۔رینجرز اہلکار ٹارچ اور گاڑیوں کی روشنی میں اسے ڈھونڈتے رہے بڑی مشکل سے جان بچا کر ایک چولستانی کے ڈیرہ پر پہنچا۔جنھوں نے اسے موٹر سائیکل پر احمد پور شرقیہ پہنچایا۔حاجی اکری کہ اس بیان سے ہم سب اور بھی پریشان ہوگئے میں نے رحیم یار خان ضلع میں بذریعہ ٹیلی فون اپنے تمام دوستوں سے رابطہ کیا تاکہ رینجرز والوں سے ڈاکٹر لغاری بھائی اقبال اور معین عباسی کے بارے میں پوچھا جاسکے مگر کوئی اطلاع نہ مل سکی

رات کو فضل حسین بخاری سب انسپکٹر اسلام گڑھ ضلع رحیم یارخان جو میرا بیج میٹ تھا نے ٹیلی فون پرصرف اتنا بتایا کہ رینجرز رحیم یارخان والوں نے ایس ایس پی رحیم یارخان بات کی تھی جکی مجھے کال آئی کہ روزنامچہ آگئے نہیں چلانا رینجرز والے کچھ کاروائی کررہے ہیں لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی تحریر ایف۔آئی۔آر کے لیے نہیں آئی۔
اب اس بات کا تو مجھے یقین ہوچکا تھا کہ بھائی اقبال، معین عباسی اور ڈاکٹر لغاری رینجرز والوں کے پاس ہیں۔
میں اور بھائی حفیظ فوری طور پر رحیم یار خان کے لیے روانہ ہوگئے تاکہ صحیح صورت حال معلوم ہوسکے۔ لطیف نیازی ڈرائیور بھی ہمراہ تھا

کیونکہ صبح عید الفطر تھی یہی ذہن میں تھا کہ اگر وہ لوگ گرفتار بھی ہیں تو ان کی ضمانت کا بندوبست کیا جاسکے۔ ان دنوں ابھی تک موبائل فون نہیں آیا تھا۔ الصبح ہم رحیم یار خان پہنچ گئے لوگ عید نماز کے لیے تیار ہوکر جارہے تھے۔جبکہ میں اور بھائی حفیظ رینجرز ہیڈ کواٹرز رحیم یار خان کے باہر موجود تھے مگر کوئی بھی اہلکار یا افسر ہم سے بات کرنے کو تیار نہ تھا۔کیونکہ رحیم یار خان میں میری مختلف تھانوں میں پوسٹنگ رہی اور سارے پولیس ملازمین بھی میری عزت کرتے تھے۔تھانہ اے ڈویژن میں تعینات ایک کانسٹیبل مجھے ملا جس سے میں نے دریافت کیا کہ اسے رینجرز کے اہلکاروں کی طرف سے کوئی اطلاع تو نہیں ہے تو اس نے مجھے بتایا کہ رینجرز اہلکار رات کو دولاشیں لے کر مردہ خانہ شیخ زیدہسپتال رحیم یارخان آئے تھے۔آپ معلوم کریں ہوسکتا ہے وہ آپکے رشتہ داروں کی لاشیں ہوں۔کیونکہ شیخ زید ہسپتال تھانہ اے ڈویژن کے علاقہ میں ہے۔میں اور بھائی حفیظ شیخ زید ہسپتال کے مردہ خانہ پہنچے۔

ان دنوں مردہ خانہ رحیم یارخان اسٹیڈیم کے ساتھ تھا ہرطرف گندگی اور بدبو پھیلی ہوئی تھی۔مردہ خانہ کے دروازے کو تالا لگا ہوا تھا میں اور بھائی حفیظ جوں ہی دروازہ کے قریب پہنچے اسٹیڈیم کی طرف سے رینجرز کے دو مسلح اہلکار ہماری طرف آگئے اور ہمیں دروازہ کی طرف جانے سے منع کیا جب ہم نے ان سے بھائی اقبال اور ڈاکٹر لغاری کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کچھ بھی بتانے سے انکارکردیا۔ وہ دن میری زندگی کا سب سے اذیت ناک دن تھا جب میں اور بھائی حفیظ مردہ خانے کے ساتھ ایک پلی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عیدکا دن تھا لوگ عیدنماز پڑھنے کے بعد واپس جارہے تھے اور ہم دونوں بھائی پریشانی کے عالم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ہمارے گھر والے کس کرب سے گزر رہے ہوں گے اس کا بھی ہمیں شدت سے احساس تھا۔
اب ہمیں یقین ہوچکا تھا کہ مردہ خانے میں رکھی ہوئی لاشیں بھائی اقبال وغیرہ میں سے کسی کی تھی لیکن اس بات کا پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ دو لاشیں کس کی ہیں۔میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ اللہ کرے بھائی اقبال خیریت سے ہوں۔یہ خود غرضی انسانی فطرت ہے کہ جب اپنے قریبی عزیز اور غیر میں سے کسی کاانتخاب کرنا ہو تو ہمیشہ ترجیح اپنوں کو دی جاتی ہے۔

میں نے SSPملک اعجازسے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا مجھے یہی بتایا جاتا رہا کہ صاحب سوئے ہوئے ہیں ان کی طبعیت ناساز ہے حالا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ ملک اعجاز صاحب مجھ پہ بہت مہربانی کرتے ہیں قبل ازیں بھی میں اپنی ایک تحریرمیں لکھ چکا ہوں کہ ان افسران کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں کیونکہ اب نہ تو میں ان کا ماتحت تھا اور نہ ہی وہ میرے رشتہ دار۔

دوپہر تقریبا 12بجے رینجرز کے کچھ اور ملازم مردہ خانہ کے پاس آگئے جنھوں نے ہمیں لاشوں تک رسائی کی اجازت دے دی دروازے کا تالا کھولا۔چھوٹے سے صحن کے بعد اندر ایک کمرہ تھا جس میں زمین پر دوانسانی لاشیں پڑی ہوئیں تھیں جن میں بدبو آرہی تھی۔یہ لاشیں بھائی اقبال اور ڈاکٹر لغاری کی تھیں۔اتنی بری حالت میں اپنے قریبی عزیزوں کو پڑا دیکھ کر میں اور بھائی حفیظ اپنے آنسو نہ روک سکے۔لطیف نیازی ڈرائیور مجھے اور بھائی حفیظ کو مردہ خانہ کے کمرہ سے باہر لے کر آیا۔ڈاکٹر لغاری اور بھائی اقبال انتہائی نفیس طبعیت کے مالک تھے۔ہمیشہ خوش لباس رہا کرتے تھے۔ڈاکٹرلغاری تھانہ بھو گ ضلع رحیم یارخان کا رہائشی تھا اور احمد پور شرقیہ سول ہسپتال میں تعینات تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس کے بڑے بھائی بھی بھونگ سے آگئے۔
جوہونا تھا وہ ہوچکا تھا اب سب سے پہلا کام ان لاشوں کا پوسٹ مارٹم اور انھیں لے کر واپس جاناتھا۔ڈاکٹر صاحبان بغیر نقشہ صورت حال کہ پوسٹ مارٹم کرنے کو تیا رنہ تھے پولیس ملازمین نقشہ صورت حال کی اہمیت جانتے ہیں۔یہ وہ کاغذات ہیں جو مرگ اتفاقیہ، زہر خورانی اور مرگ بذریعہ تشددمیں علیحدہ علیحدہ پُر کر کے ڈاکٹرز کو دیئے جاتے ہیں۔لاش پر جتنے بھی زخم ہوتے ہیں وہ بھی اس میں درج کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ لاش کی ظاہری صورت حال اور مختصر حالات مقدمہ اسی فارم پر درج کیے جاتے ہیں۔

میں نے کئی دفعہSHOاسلام گڑھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی وہ وعدہ بھی کرتا رہا کہ نقشہ صورت حال بھجوایا جارہا ہے مگر پھر بھی شام کے پانچ بج گئے گرمیوں کے دن تھے۔اس دن مجھے احساس ہوا کہ قتل یا خودکشی جس میں پوسٹ مارٹم کروانا ہو اگر لیٹ ہو جائے تو لواحقین کی کیا حالت ہوتی ہے۔باقی ساری ملازمت اور تعیناتی میں جہاں بھی قتل ہوا یا مرگ اتفاقیہ میری بطور SHOہمیشہ کوشش رہی کہ فوری طور پر نقشہ صورت حال مکمل کر کے ڈاکٹرز کے حوالے کیا جائے اور بطور DSP بھی ہمیشہ اپنے SHOصاحبان کو سختی سے کہتا تھا کہ نقشہ صورت حال مکمل کریں تاکہ فوری طور پر پوسٹ مارٹم ہو اور لاشیں ورثاء کے حوالے کی جاسکیں۔
پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کو تابوت میں ڈال کر ایک بھونگ بجھوانی تھی جبکہ بھائی اقبال کی لاش احمد پور شرقیہ لے جانی تھی۔لطیف نیازی ڈرائیور کا احسان میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا لاشوں کی برُی حالت تھی36 گھنٹے گزر چکے تھے ایسی حالت میں جہاں اپنے بھی ایسی لاشوں پر ناک پہ کپڑا رکھ کر کھڑے ہوتے ہیں مگر لطیف نیازی نے میرے ساتھ مل کر بھائی اقبال کی لاش کوتابوت میں رکھا۔میں اور بھائی حفیظ ایمبولنس میں لاش لے کر احمد پورشرقیہ روانہ ہوگئے۔احمد پورشرقیہ پہنچ کر جنازہ کے بعد لاش کو تابوت کے ساتھ ہی دفن کر دیا۔مرنا تو سب نے ہے مگر جن حالات میں داکٹر لغاری اور بھائی اقبال کی موت ہوئی اور خاص طور پہ جس حالت میں لاشیں ہمارے حوالے کی گئیں اس سے تمام عزیز و اقارب اور احمد پور کے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔

ختم ِقُل پر شہزادہ عثمان عباسی جو اس وقت ڈیپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی تھے بھی آئے ہوئے تھے۔معین عباسی کو بھی رینجرز والوں نے عدالت میں پیش کردیا تھا۔اس کے اور بھائی اقبال وغیرہ کے خلاف تھانہ اسلام گڑھ میں ایک FIR درج کروائی گئی جس میں ان تمام کے خلاف اسمگلنگ، کار پسرکار میں مزاحمت اور اقدام قتل کے جرائم شامل تھے۔FIRمیں وقوعہ(ککی والہ ٹوبہ)کا بنایا گیا جو پاکستان انڈیا بارڈر سے دوفرلانگ دور ہے۔حالانکہ رینجرز والوں نے بھائی اقبال اور ڈاکٹر لغاری کو شادی والہ ڈاہر میں فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔معین عباسی کی ضمانت کے بعد اصل کہانی سامنے آئی۔معین عباسی نے بتایا کہ وقوعہ کے روز فائرنگ کے بعد اس کی جیپ رُک گئی تھی رینجرز والوں نے اسے ہینڈز اپ کروالیا۔کیوجکہ بلال اور رمضان گائیڈ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اگر وہ نہ بھاگتے تو شاید رینجرز والے اسے بھی فائرنگ کر کے قتل کردیتے۔فائر گ کے بعد ڈاکٹر اقبال کی فوری موت واقعہ ہوگئی تھی جبکہ ڈاکٹر لغاری بہت دیر تک تکلیف سے کراہتا رہا۔چیختا رہا کہ میری مددکر مگر ریججرز والوں نے اس کی کوئی مدد نہ کی بلکہ جیپ پر ترپال ڈال دیا۔مجھے رحیم یار خان رینجرز ہیڈکواٹرز بجھوادیا جبکہ جیپ اور دونوں لاشیں کو کہا لے گئے مجھے معلوم ہیں۔
اب آہستہ آہستہ تمام باتیں کھُلنا شروع ہوگئیں تھیں کہ ڈاکٹر لغاری وغیرہ کو کیوں قتل کیا گیا حالا کہ کسی بھی فورس میں فائرنگ کرنے سے پہلے سامنے والے کو وارنگ دی جاتی ہے مگر اس واقعہ میں رینجرز والوں نے بغیر کسی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کرکے دونوں ڈاکٹرز کو ہلاک کردیا۔پوسٹمارٹم رپورٹ بھی ہمیں موصول ہوچکی تھی جس کے مطابق ڈاکٹر اقبال بلوچ کی موت فوری واقعہ ہوگئی تھی۔گولی اس کا دل چیرتے ہوئے ساتھ بیٹھے ڈاکٹر لغاری کے کوہلے میں لگی جس سے اسکی مین آرٹری کٹ گئی اور تیزی سے خون بہنے لگا۔ڈاکٹر لغاری کی انجری اورموت میں چودہ گھنٹوں کا وقفہ تھا کتنی اذیت ناک موت تھی کہ ایک ڈاکٹر جسے معلوم تھا کہ اگر خون کہ اس بہاؤ کو نہ روکا جائے تو موت واقع ہوسکتی ہے مگر وہ اپنی موت کونہ روک سکا چیختا رہا مگر رینجرز کے اہلکاروں نے اس کی مدد نہ کی اگر اسکی مدد کی جاتی تو شاید وہ زندہ بچ جاتا۔

ان دنوں رحم یارخان رینجرز کی کمان میجر مرتضیٰ کے پاس تھی۔میجر مرتضیٰ کی اس سے قبل یزمان میں بھی تعیناتی رہی اور ان کی شہرت وہاں بھی اچھی نہ تھی۔رینجرز والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے لیے ہم نے اپنی کوششیں شروع کردئیں۔شہزادہ عثمان عباسی اور احمد پور شرقیہ کے معزیزین نے اس سلسلہ میں ہماری بہت مدد کی۔ہماری کوششیں رنگ لائیں اور انکوائری کے لیےاسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ ڈاکٹر توقیر شاہ جو بعد میں وزیراعلی شہباز شریف کے پرسنل سیکریڑی بھی رہے اور ماڈل ٹاؤن لاہور کیس کی وجہ سے اپنے عہدہ سے ہٹادیے گئے۔

ڈاکٹر توقیر شاہ نے بڑی ایمانداری سے انکوائری کی جس میں یہ ثابت ہو گیا کہ ریمجرز اہلکاروں نے بھائی اقبال وغیرہ پر بلاجواز فائرنگ کی۔ڈاکٹر لغاری زخمی حالت میں چیختا رہا مگر اسکو طبی امداد میسرنہ کی۔رینجرز اہلکاروں کے خلاف عدالت عالیہ بہاولپور میں بھی رٹ دائر کی گئی جہاں انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ رینجرز اہلکاروں سے غلطی ہوئی ہے۔ا نھوں نے جواب میں یہ لکھا کہ بھائی اقبال وغیرہ نے بھی پہلے رینجرز والوں پر فائرنگ کی جواباََ فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئے لیکن ان کے پاس اس بات کا جواب نہ تھا کہ وہ لاشوں کو شادی والہ ڈاہر سے لے کر ککی والہ ٹوبہ ہندوستان بارڈر کے نزدیک کیوں لے گئے اور ایف آئی آر میں ڈاکٹرز کو اسمگلرثابت کرنے کی کوشش کیوں کی؟؟؟لیکن پھر وہی ہوارینجرز ایک ادارہ ہے اورادارے اداروں کی حمایت کرتے ہیں باوجود سب کچھ ثابت ہونے کہ نہ تو پولیس نے رینجرز اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا اور نہ ہی اسسٹنٹ کمشمر احمد پور شرقیہ کی کو انکوائری کام آئی۔ہم سب نے بہت کوششیں کئیں۔آخر تھک ہار کر معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔
بلال جسکو ٹانگ میں فائر لگا تھا کچھ عرصہ کے بعد صحت یاب ہوگیا۔ہم سب نے اس دن کے بعد شکار نہ کھیلنے کا عہد کیا۔
میں جب بھی رحیم یار خان شیخ زیدہسپتال کے پاس سے گزرتا ہوں تو مجھ عید والے دن بے بسی سے بھائی حفیظ کے ساتھ پلی پر بیٹھنا یاد آتا ہے۔مردہ خانہ اب وہاں سے ہسپتال کے اندر منتقل کردیا گیا ہے۔اب لاشیں زمین پر نہیں پڑی ہوتیں میری اس واقعہ کے بعد ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ جب بھی قتل کی کوئی اطلاع ملے فوری طور پر لاش کا پوسٹمارٹم کرواکر اس کے ورثاء کے حوالے کیا جائے۔

اُمید ہے محکمہ پولیس میں آنے والے اور ملازمت کرنے والے ملازمین اور افسران اس بات کو مدنظر رکھیں گے ؟؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *