• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ ۔۔۔ سلمان جاوید

بھارتی جنون کے آگے کون بند باندھے گا؟ ۔۔۔ سلمان جاوید

SHOPPING

ایک معاملہ ختم نہیں ہوتا اور دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔

نہ پالیسی سازوں کو سمجھ آرہی ہے کہ کس سمت میں چلیں۔ نہ ان لوگوں کو جو ان پالیسی سازوں کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ میڈیا ویسے ہی بریکنگ نیوز syndrome سے باہر نہیں نکلتا اور عوام کو تو ہر وقت کوئی نہ کوئی واقعہ اور خبر چاہئیے اپنی آنکھوں اور کانوں کا “چسکا” پورا کرنے کے لئیے۔

بھارت نے Citizen amendment Bill کو پاس کرنے کے لئیے آخری سٹیج کی تیاری بھی کر لی ہے۔ امیت شاہ نے اپنے پارلیمانی خطاب میں کھل کر اس بات کا اعادہ اور اظہار کیا کہ ان کا مسلمانوں اور بالخصوص “برصغیر” کے مسلمانوں کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ اور جی جناب، برصغیر میں پاک و ہند دونوں ہی آتے ہیں۔ کشمیر کے کرفیو کے بعد اب آسام کی باری آئی ہے۔ وہاں پر پیراملٹری فورسز کو بھیج دیا گیا ہے۔ آخری خبریں آنے تک وہاں عوام الناس اور بالخصوص مسلمانوں پر کچھ حربے انھوں نے آزمایا شروع کر دئیے ہیں۔ انھوں نے اس بات کو نہیں دیکھا کہ دنیا ان کے بارے میں کیا رائے بنا رہی ہے۔ انھوں نے اس بات کو بھی خاطر میں نہیں لایا کہ ہندو راشڑیہ کا خواب پورا کرنے کے چکر میں شاید ان کی معیشت مسلسل نیچے جارہی ہے۔ انھوں نے چین و عرب کی پرواہ نہیں کی۔

یا شاید ان کو پتہ ہے، کہ دنیا میں انسانوں کی منڈی کی اہمیت تو ہے، انسانوں کی نہیں۔

بھارت کو مسلسل اگر کوئی ملک اس مسئلے پر ایکسپوز کر سکتا تھا تو وہ پاکستان تھا۔ میں “تھا” اس لئیے استعمال کر رہا ہوں کیوں کہ جو کچھ پاکستان میں اس وقت ہورہا ہے وہ کسی طور پر بھی بحثیت ملک اس قابل نہیں رہا کہ بھارت کو کسی بھی بات پر کھل کر چیلنج کر سکے۔ جب آپ قلم اور تلوار دونوں ہی نیچے رکھ دیں اور ملکوں کے معاملے صرف زبانی جمع خرچ سے چلانے کی کوشش کریں تو وہی ہوتا ہے جو اس وقت ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ شاید کسی عالی دماغ کو یہ بات پڑھائی گئی ہے کہ defence is the best strategy۔ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

پاکستان کو پہلے معاشی طور پر دیوالیہ پن کے قریب پہنچایا گیا۔ اب آپ اس میں پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹھرائیں یا اس حکومت کی ناقص حکمت عملی کو، ہر دو صورت میں پاکستان کی طاقت کو زک پہنچائی گئی۔ پھر معاشی حالات کو درست کرنے کے لئیے پاکستان پر شرائط لاگو کی گئیں۔ چاہے وہ IMF ہو یا FATF۔ دونوں ہی پاکستان کے بازو کو مڑوڑنے کے بہانے ہیں۔ پاکستان اس بات پر ہی اکتفا کر کے بھیٹا ہوا ہے کہ کشمیر پر صرف تقریر ہی کرسکے اور کشمیر کے حل کے لئیے کچھ بھی عملی میدان میں کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دلوا کر کشمیر کے معاملے کو ہمیشہ کے لئیے پیچھے چھوڑ دے۔ اس وقت عملی طور پر peace doctrine کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے ان لوگوں کو ضائع کر رہا ہے جو اس کے لئیے دفاع کی پہلی لکیر بنتے رہے ہیں۔جو کسمیر کی تحریک کو کسی نہ کسی صورت میں گرم رکھتے تھے۔ ہم ایک کرتار پور کھولا جس کا شاید ٹورزم سے زیادہ اور کوئی فائدہ ہمیں نہ ملے۔ اور اس پر سب سے بڑھ کر یہ بات کہ ہم اس بات پر خوشیوں کے شادیاں بجا رہے تھے کہ بین الااقوامی میڈیا نے کشمیر کو بہت اٹھایا ہے۔ سو سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ خود پاکستان میں کشمیر اور مسلمانان ہند کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس پر وزیر اعظم صاحب کے ٹویٹس کے علاوہ کیا حکمت عملی نظر آرہی ہے؟

مگر اس سب کے دوران پاکستان کے اندر جو کچھ پچھلے دو ماہ میں ہوا اس ہر ایک طائرانہ نظر ڈالیں۔ مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد آنا، فوج کے سربراہ کے بارے میں سیاست کا ہونا، لاہور کے دنگل اور اس سے پہلے سٹوڈنٹ مارچ کے نام پر انارکسٹس کا اکھٹا ہونا، اسلامی یونیورسٹی میں انھی انارکسٹس کا دوبارہ سے تعلیمی اداروں میں اسلحے کا استعمال کرنا، پی ٹی ایم کا مسلسل پاکستان کو عالمی اداروں کے سامنے گندا کرنے کی کوشش کرنا، محسن داوڑ کا پاکستان کو الجزیرہ میں لکھے کالم میں مقبوضہ کہنا اور الجزیرہ کے ہی سب سے بڑے ڈرامہ باز اینکر مہدی حسن کا شیری مزاری کو بے عزت کر کے بلوچستان اور کشمیر کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا۔

یہ سب کیا محض چند واقعات ہیں؟ یا یہ انارکی کا ایک بھیانک چہرہ ہے؟

یاد رکھئے انارکی کے اندر شاید واقعات کا ایک دوسرے سے ربط نظر نہ آئے مگر انارکی بات خود کسی بھی معاشرے میں آپ کے دشمنوں کی ایک حکمت عملی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔

پاکستان کو ضرورت ہے ان آوازوں کی جو اس کے معاشرے میں دوبارہ سے اصلاح اور امن کا کام کر سکیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اپنی پیٹھ ننگی کر کے ہر وار سہہ سکیں اور پاکستان کو بیرونی قوتوں سے جیتنے نہ دیں۔ ضرورت ہے ان لوگوں کی جو اس کا کیس عالمی عدالتوں اور فورمز پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے لڑ سکیں۔

SHOPPING

یہ جنگ جس کی آگ بھارت مسلسل لگا رہا ہے، اس سے صرف سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے نہیں لڑا جاسکتا۔ محاذ بہت ہیں۔ دماغ بھی سب کے چاہئیں اور جسم بھی۔ اس پر جتنا جلدی ہم سوچ کر آگے بڑھیں گے اتنا ہی ہم اپنے آپ کو افغانستان،عراق اور لیبیا بننے سے روک پائیں گے۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *