قومی سیاست اور نیا فضل الرحمن۔۔۔آصف محمود

آزادی مارچ کے بعد مولانافضل الرحمن کا تعارف کیا ہے؟ ان کی شناخت ایک محدود علاقے یا ایک فرقہ بند مذہبی سوچ کے نمائندے کی ہے یا قومی سطح کے ایک سیا سی رہنما کی؟ مولانا فضل الرحمن کی تازہ مہم جوئی ، کیا ان کے لیے قومی دھارے کی سیاست میں کچھ امکانات پیدا کر سکے گی یا وہ اب بھی چند علاقوں میں ایک مخصوص مکتب فکر تک محدود رہیں گے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہم یہ بات جان لیں کہ مولانا آج جہاں کھڑے ہیں اس کا فکری اور سیاسی پس منظر کیا ہے۔ مولانا اپنی وضع میں جتنے مولانا ہے ، اپنی فکر میں وہ اس سے کہیں بڑھ کر مسٹر ہیں۔ ان کے وابستگان اور ان کے مخاطبین کی غالب ترین اکثریت اہل مذہب میںسے ہے اس لیے اس لیے ان کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے مولانا مذہبی بیانیے کا سہارا لیتے ہیںلیکن وابستگان کو ایک محورپر اکٹھا کر کے جب وہ عملی سیاست کا رخ کرتے ہیں تو ان کی سیاست کسی بھی دوسری جماعت کی طرح سیکولر بنیادوں پر کھڑی نظر آتی ہے۔مولانا بھلے اسلام کے علماء کی جمعیت کے سربراہ ہیں ، اپنی طرز سیاست کے اعتبار سے جے یو آئی ایک سیکولر جماعت ہے۔یہ بات بادی النظر میں عجیب لگتی ہے لیکن اگر ان کے فکری پس منظر کو تھوڑا مزید گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ مولانا کی فکری وابستگی دیوبند سے ہے اور دیوبند کے بارے میں خود مولانا کی روایت یہ ہے کہ وہ ایک مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تحریک ہے۔یہ محض ایک فقرہ نہیں ، اس میں جہانِ معنی پنہاں ہے۔دیوبند کی فکر ی شناخت کے تین بڑے حوالے ہیں۔ علم و دعوت، مزاحمت اور سیاست۔ علم و فکر کے حوالے سے یہ محتاج تعارف نہیں۔ مزاحمت کا ایک دور تھا اور بہت بھر پور لیکن ریشمی رومال تحریک کے بعد یہ دور بھی تمام ہوا اور سیاست کے میدان میں طبع آزمائی کا فیصلہ کیا گیا۔جمعیت علمائے ہند اسی تیسری شناخت کا ایک عملی اظہار تھا۔ مولانا دیوبند کی تیسری شناخت یعنی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں ۔دیوبند کی سیاست ، جمعیت علمائے ہند کی شکل میں سامنے آئے یا جمعیت علمائے اسلام کی صورت ، یہ سیکولر سیاست ہی ہے۔یہ سیکولر بنیاد ہی تھی جس کی بنیاد پر حسین احمد مدنی نے کہا قومیں اوطان سے بنتی ہیں اور علامہ اقبال نے اس پر نقد کیا کہ زدیو بند حسین احمد ایں چہ بو العجبی است۔اقبال کے ہاں سیاست کے حوالے مذہبی تھے اور قومیں اوطان سے نہیں مذہب سے بنتی تھیں۔ یہی مسلم لیگ کی فکر تھی۔ دیوبند کی جمعیت علمائے ہند نے مذہب کی بجائے وطن کی بنیاد پر قومیت کا انتخاب کیا اور اپنا وزن کانگریس کے پلڑے میں ڈالا۔ شبیر احمد عثمانی ایک استثناء تھے اور امر واقع یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن عثمانی صاحب کی فکر پر نہیں کھڑے۔ تفصیل میں جانے کا یہ محل نہیں مگر حقیقت یہی ہے۔ آزادی مارچ ہی کو دیکھ لیجیے ، اپنی جماعتی سطح پر مولانا کا بیانیہ مذہبی تھا، چندہ اکٹھا کیا گیا تو پرچی کے اوپر جو تحریر لکھی تھی وہ مذہبی جذبات کو اپیل کر رہی تھی ، ساری صف بندی مذہبی بنیاد پر کی گئی ، حکومت کے خلاف جو چارج شیٹ تیار کر کے کارکنان کو تھمائی گئی اس کے غالب حوالے مذہبی تھے ۔لیکن جب مولانا قومی سیاسی بیانیے میں اپنی بات کرنے آئے تو آزادی مارچ میں ان کا ایک مطالبہ بھی مذہبی نہیں تھا۔ یہ عملی سیاست کے وہ مطالبات تھے جس میں سیکولر جماعتیں ، کم از کم ، زبان قال سے ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔مولانا کی سیاسی میراث کا ایک پہلو مولانا عبید اللہ سندھی کی فکر بھی ہے۔عملاً بھلے اس کا اظہار کم ہوا ہو لیکن مولانا عبید اللہ سندھی کی فکر بھی اسی دیوبند سے جڑی ہے اور آج اگر سندھ سے مولانا کو کارکنان کی بڑی تعداد میسر ہے تو اس میں ایک عامل مولانا عبید اللہ سندھی کی فکر بھی ہے۔ اس فکری پس منظر کے ساتھ اب مولانا کی عملی سیاست کی طرف آئیے۔صف اقتدار ہو یا حزب اختلاف ، کبھی بھی صف بندی کرتے وقت مذہب مولانا کی ترجیح نہیں بنے۔وہ سیاسی بیانیے میں بات کرتے ہیں اور اسی میں صف بندی کرتے ہیں۔سیاسی ضرورت ہو تو ایم ایم اے بھی بن جاتی ہے اور سیاسست تقاضا کرے تو مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، اے این پی سے لے کر ایسے سیکولر عناصر کے ساتھ بھی کھڑی ہو جاتی ہے جنہیں مذہبی سیاسی بیانیہ لادین کہتا ہے۔بریلوی مکتب فکر کے انس نورانی اور اہل حدیث مکتب فکر کے ابتسام الہی بھی ان کے ساتھ سٹیج پر ہوتے ہیں۔ گویا اس جماعت کی فکر ی شناخت میں بھلے ایک مکتب فکر کا رنگ غالب ہو عمل کی دنیا میں یہ فرقہ وارانہ عصبیت سے بے نیاز ہو کر سب کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اندرون سندھ میں دوسری بڑی جماعت یہی ہے۔ بلوچستان میں یہ کشمکش اقتدار کی ایک بنیادی حریف ہے۔ کے پی کے میں بھی دوسری بڑی سیاسی جماعت یہی ہے۔مسئلہ صرف پنجاب میںہے۔یہاں اس کی گرہ کھل جائے تو یہ ایک قومی سیاسی جماعت بن سکتی ہے۔پنجاب میں بھی اس کے وابستگان کی بھاری تعداد موجود ہے لیکن یہ تعداد کسی انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکی۔ پہلی دفعہ مولانا نے اس بھر پور طریقے سے پنجاب میں اپنی جماعت کو متعارف کرایا ہے اور لوگ خوشگوار حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کے کارکنان اتنے پر امن بھی رہ سکتے ہیں۔ایک حکمت عملی سے مولانا پنجاب میں کام کریں تو یہ گرہ کم از کم اس حد تک ضرور کھل سکتی ہے کہ انتخابات میں کسی بڑی جماعت سے با معنی اشتراک کی صورت میں پنجاب سے اس کے لوگ اسمبلی تک پہنچ سکیں۔ لیکن اس کے لیے ایک کام کرنا ہو گا۔ مولانا کو جمعیت علمائے ہند سے سیاسی وابستگی کی معنویت کو سمجھنا ہو گا۔فیصلہ اب مولانا نے کرنا ہے کیا وہ جمعیت علمائے ہند کی سیاسی میراث کو پاکستان کے معروضی حالات سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں؟ کیامولانا حسین احمد مدنی کی سیاست کا وارث۔ کیا قائد اعظم اور اقبال کے ملک میں سیاست کے فکری تقاضے سمجھ پائے گا؟

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *