• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مشکلات اور حکومتی اقدامات۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مشکلات اور حکومتی اقدامات۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

یہ بات عجیب ہے کہ پاکستان میں وائرس بذریعہ تفتان آیا، یا یہ کہ اس وائرس کو تبلیغی جماعت والوں نے پھیلایا۔یہ الزام بھی قابل فہم نہیں کہ تفتان بارڈر کے قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کو زلفی بخاری نے مداخلت کر کے ان کے گھروں کو روانہ کیا۔یہ بات بھی بعید از عقل ہے کہ تبلیغی جماعت والوں نے اپنےبیمار ساتھیوں کو ہسپتال بھجوانے کے بجائے اپنے سا تھ تبلیغی دوروں پر رکھا۔کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اب تک اس وائرس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی لیکن اس حوالے سے تھیوریز بہت سی زیر گردش ہیں۔کرونا وائرس کے علاج کے نسخے اور اس کے پھیلائو کے اسباب پر وہ لوگ بھی بڑے اعتماد سے باتیں کر رہے ہیں جنھیں کرونا کے درست ” ہجے” لکھنا بھی نہیں آتے۔دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کا جب ہم موازنہ کرتے ہیں تو ،انصاف کا دامن چھوڑدیتے ہیں۔ ہم موازنہ کرتے ہوئے ،یورپی،برطانوی اور امریکی سفارت خانوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جب ان ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ پاکستانی سفارت خانوں یا سفارتی عملے کا موازنہ کیا جائے گا تو تکلیف دہ ندامت کے سوائے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔جن میں سے بنیادی وجہ سماجی رحجان ہے۔ بارہا لکھا کہ ہر سماج کا ایک معاشرتی رحجان ہوتا ہے۔ہمارا سماجی رحجان جارحانہ،اور ہر مرحلے میں چیزوں سے سازشوں کی بو سونگھنے کا ہے۔
اس میں کلام نہیں کہ ہمارے سفارت خانوں سے پاکستانی کمیونٹی کو ہمیشہ ہی شکایت رہی۔یورپ اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک میں جو پاکستانی ہیں ان میں کثیر تعداد مزدور طبقہ کی ہے۔یہ لوگ سفارتی تقریبات، یا دیگر سماجی رنگا رنگیوں کے بجائے اپنے کفیل کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، یا اگر یورپ میں ہیں تو وہاں کفیل نہ سہی مگر کام کے اوقات اور معاشی و گھریلو مصروفیات کے باعث یہ لوگ سفارت خانے سے براہ راست تعلق نہیں بنا پاتے ۔یورپ میں تعینات ایک سفارتی عہدیدار نے بتایا کہ ہمارے پاکستانی جب یہاں آتے ہیں تو سفارت خانے میں اپنی رجسٹریشن تک نہیں کراتے۔ جس کی وجہ سے اب پاکستان کو اپنے شہریوں کے درست اعداد و شمار جاننے میں دشواری کا سامنا ہے۔یعنی اگر حکومتوں کی غلطیاں ہیں تو شہریوں کی بھی غلطیاں ہیں۔ لیکن آخری تجزیے میں یہ حکومتوں ہی کی ذمہ دارہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا تحفظ کرے، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔

میرے سامنے دو مثالیں ہیں۔ ملائیشیا میں موجودتحصیل کلر سیداں کے 23سالہ جوان فرخ شہزاد بٹ کی طبیعت خراب ہوئی تو مقامی ہسپتال نے غیر ملکی کہہ کر زیادہ توجہ نہ دی۔ پاکستانی شہری کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو مشیر امور اوور سیز پاکستانی زلفی بخاری کی ہدایت پر پاکستانی سفارتخانہ کے ڈاکٹر ملائیشیا میں نوجوان کےفلیٹ پر گئے،اس کے خون کے نمونے لیبارٹری ارسال کیے اور اسے ” قرنطینہ” کیا۔الحمد اللہ کہ نوجوان کا کرونا ٹیسٹ منفی آگیا۔اور اس کی طبیعت اب بحال ہے۔دوسری مثال اٹلی سے ہے، جہاں سے میرے ذرائع کا کہنا ہے کہ میلان میں قونصل جنرل پاکستان کی جانب سے پاکستانی کمیونٹی،خاص طور پر پاکستانی طلبا کو گھر گھر راشن پہنچایا جا رہا ہے۔مزید معلومات کے لیے نمبر گھمائے تو پتا چلا کہ مشیر امور اوور سیز پاکستانیز کی خصوصی ہدایت پر اٹلی کے دارالحکومت روم میں پاکستانی ایمبسی اور میلان میں قونصلیٹ مل کر تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی اور پاکستانی طلبا کے ساتھ رابطے میں ہیں،قونصلیٹ نے طلبا کو بڑی تعداد میں فوڈ پیکجز بھجوائے ہیں۔ طلبا، بالخصوص طالبات کو اشیائے خوردو نوش کی خریداری میں مشکلات کا سامناتھا۔ایسے میں قونصلیٹ کی جانب سے اپنے شہریوں کی خبر گیری قابل ستائش عمل ہے۔کیونکہ اٹلی اور سپین کروناوائرس سےیورپ کے سب سے متاثرہ ممالک ہیں۔قونصلیٹ نے یہ کام اپریل کے دوسرے ہفتے میں شروع کیا۔

دوسری جانب بے شمار شکایات بھی ہیں جن کا ازالہ کرنا حکومت کا فرض اول ہے۔خاص طور پر عرب ممالک میں محنت مزدوری کے لیے گئے ہوئے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں۔کئی ایک اموات بھی ہو چکی ہیں جن کی میتیں لانے کے لیے حکومت کو کارگو فلائیٹس کا بندوبست کرنا چاہیے۔سپین سے یہ اطلاع ہے کہ سپین اور پیرس کے مردہ خانے میں بھی کئی پاکستانیوں کی لاشیں پڑی ہیں جنھیں وطن واپس لانے کے لیے حکومت پاکستان کو اقدام اٹھانا چاہیے۔
ابھی تک امریکہ،برطانیہ و اٹلی سمیت بیرون ملک کتنے پاکستانی کورونا وائرس سے جاں بحق ہوئے؟ وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ چند دن پہلے ایک خبر وائرل ہوئی کہ نیویارک میں ہونے والی ہلاکتوں میں 100 سے زائد پاکستانی شہری بھی شامل ہیں مگر اگلے ہی روز امریکہ میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے اس کی تردید کر دی تھی۔گزشتہ سے پیوستہ روز مشیر خصوصی اوورسیز پاکستانیز نے متحدہ عرب امارات میں پھنسے پاکستانیوں کو اپنے پیغام میں کہا کہ دبئی میں کرفیو کے باعث مشکل وقت ہے، جبکہ ابوظہبی میں حالات بہتر ہیں۔انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس گھر ہیں وہ فی الحال اپنے گھروں میں ہی رہیں جبکہ جو لوگ ویزے کی مدت ختم ہونے،یا نوکریاں ختم ہو جانے کے باعث مشکل میں ہیں انھیں ایک فلائٹ 18 اپریل کو لے کر پاکستان آئے گی، جبکہ اس کے بعد مزید فلائیٹس کا شیڈول جاری کریں گے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صلاحیت ایک ہفتہ میں 2000 پاکستانی واپس لانے کی ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخار ی نے ایک بار پھر اوورسیز پاکستانیوں کے نام پیغام میں کہا کہ بیرون ملک کورونا وائرس کے باعث انتقال کرنے والے پاکستانیوں کے لواحقین سے اظہار افسوس کرتے ہیں، انتقال کرنے والے پاکستانیوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں
ان کا مزید کہنا تھا کورونا کے باعث انتقال کر جانے والوں کی میتوں کو پاکستان نہ لانے کی وجہ عالمی سطح پر ائیرپورٹس کی بندش ہے لیکن میتوں کو پاکستان لانے کے لیے انتظامات شروع کر رہے ہیں۔
معاون خصوصی وزیر اعظم زلفی بخاری نے کہا کہ امریکا، سعودی عرب اور یو اے ای سے پاکستانیوں کی میتوں کی واپسی کے لیے قطر ائیر لائن سے بات چیت جاری ہے، قومی ائیر لائن کو بھی میتوں کو واپس لانے کے لیے بیرون ملک بھیجیں گے۔یہ یاد رہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں ہی وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے سفارت خانوں میں تعینات پبلک ویلفیئر اتاشیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پاکستانی سفارتخانوں اور سول ایوی ایشن سے پاکستانیوں کے متعلق معلومات حاصل کریں۔اس میں دوسری رائے نہیں کہ اس وقت پاکستان مشکل حالات میں ہے۔ کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد گزشتہ تین چار روز سے تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے جبکہ بیرون ملک پھنسے پاکستانی بھی اپنی ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہر ملک، اپنے وسائل ،خارجہ پالیسی اور سیاسی تدبر سے ہنگامی حالات سے نمٹتا ہے۔

زلفی بخاری میں لاکھ خامیاں ہوں گی۔وزیر اعظم کی ٹیم میں بہت سے بے تدبیروزرا ہوں گے لیکن یہ وقت جارحانہ اور بے مقصد تنقید کی بجائے ریاست کی رہنمائی کرنے کا ہے۔ جیسا کہ 9 اپریل کو ریاست نے لندن میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے ریسکیو آپریشن کیا تھا۔ مگر عام پاکستانیوں کے ریسکیو کے نام پر کیے جانے والے آپریشن کی ترجیحات میں وفاقی وزرا کی فیملیز،رشتہ داروں، بزنس مینوں کے خاندان رہے اور آخری وقت میں سفارت خانے کی ترتیب دی ہوئی لسٹ میں تبدیلی کرائی گئی۔400 پاکستانی اس وقت بھی برطانیہ میں پھنسے ہوئے ہیں،جن کے پاس نہ کھانا ہے نہ ٹھکانا ہے۔حکومت ترجیح بنیادوں پر ان پاکستانیوں کو واپس لائے جن کے ویزے اور روزگار ختم ہو گئے ہیں۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *