عالم کون ہے؟۔۔۔۔آصف وڑائچ

میرے دوست بھولا نے ایک معصومانہ سوال رکھا ہے کہ کیا پورے قرآن مجید کو زبانی حفظ کرنا لازم ہے؟ اور کیا حافظِ قرآن کو عالم سمجھا جائے گا؟
بھولا کے اس سوال پر میری چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔
سب سے پہلے تو میری عاجزانہ گزارش یہ ہے کہ اب تک زندگی میں جو بهی پڑها، سیکھا یا مشاہدہ کیا وه اپنی ذات کو سمجھنے کے لئے ہی کیا اور اب بھی میں اپنی ذات کی نوک پلک سنوارنے میں ہی لگا ہوں۔ اس موضوع پر میری رائے درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی، لیکن علم و تحقیق کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا ،البتہ ہم جو کچھ سیکھتے اور پرکھتے ہیں اس کا کوئی پُرمغز نتیجہ ضرور نکلنا چاہیے۔
میں کہتا ہوں کہ کسی بھی قوم کیلئے محض اس کے مذہبی صحائف کو زبانی کلامی یاد رکھنے سے وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس قوم کے لوگ کارہائے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی حاصل کرنے کی سعی نہ کریں۔۔۔ قرآن حفظ کر لیا یا الفاظ عربی لغت کے عین مطابق ادا کر لیے، داڑھی رکھ لی، سر پہ عمامہ سجا لیا، سو ڈیڑھ سو احادیث کے الفاظ ذہن نشین کر لیے، شعلہ بیان تقاریر کر لیں تو آپ عالم بن گئے؟ یا معاشرے کے کار آمد فرد بن گئے؟۔۔ نہیں صاحب۔۔ نہ آپ عالم بنے ہیں اور نہ ہی آپ نے ابھی ایسا کوئی پہاڑ توڑا ہے جس سے نسلِ انسانی کی فلاح و بہبود کے چشمے بہہ نکلیں گے۔
قرونِ اولی میں جب کوئی شخص قرآن و حدیث کا ایک معقول ذخیرہ زبانی یاد کر لیتا تھا تو اسے ‘حافظ’ تو کہا جاتا تھا لیکن ‘عالم’ وہ تب بھی نہیں کہلاتا تھا۔ الفاظ کو صرف پڑھتے جانا پڑھتےجانا، بار بار دہراتے جانا کوئی شے نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس صحیفے یا کتاب کے الفاظ کو یاداشت کی پٹاری میں قید کیا گیا ہے کیا اس کی اصل روح بھی دل میں اتری ہے یا نہیں؟ خصوصاً جب زبان بھی اجنبی ہو اور انسان ان کے لفظی معانی تک سے نابلد ہو تو وہ روحِ معانی کیا سمجھے گا؟
سورۃ الحشر آیت ٢١ میں بیان ہوا ہے۔
“اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ اللہ کے خوف سے دب کر پھٹ جاتا، اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں” (ترجمہ تمام شُد)
اس آیت کا کیا مفہوم بنتا ہے؟
میری حقیر فہم کے مطابق یہ کہ قرآن کو انسان کے بجائے کسی پہاڑ پر اتارا جائے تو اس کلام کی تاثیر سے بے جان اور سخت پہاڑ کے اندر بھی فہم و ادراک کی صلاحیت بیدار ہو جائے حالانکہ یہ صلاحیت قدرت نے انسان کے اندر رکھی ہے اگر وہ واقعی غور و فکر کرنا چاہے تو۔ یعنی قرآن میں فصاحت و بلاغت، قوتِ استدلال اور تزکیہ و نصیحت کے ایسے پہلو رکھے گئے ہیں جنہیں سمجھ کر پہاڑ بھی باوجود اپنی سختی اور وسعت کے غور و فکر کرنے پہ مجبور ہو جائے۔ اب سوال بنتا ہے کہ کیا محض قرآن حفظ کرنے والوں کے اندر ایسی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں؟
قرآن میں جہاں کہیں علم کا ذکر آیا ہے اس سے مراد کائنات کو مسخر کرنے اور نسلِ انسانی کو دائمی فوائد پہنچانے کے معنوں میں آیا ہے۔ قرآن فرقوں میں بٹے ہوئے مُلاؤں کو علماء نہیں کہتا، اس کے برعکس انہیں الاحبار، الرھبان اور طاغوت وغیرہ کہتا ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کی مذہبی شخصیات رٹی رٹائی تقریریں کرنے کے علاوہ کوئی خاص لیاقت نہیں رکھتیں۔ جذباتی نعرے بازی اور لفاظی کے ذریعے جہلا کو اپنے پیچھے لگانے والے اپنے اپنے فرقوں کے ‘برینڈڈ مذہبی یونیفارمز’ میں ملبوس سرغنوں کو ہمارے ہاں ‘علماء’ کہا جاتا ہے۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟
ہمارے عہد کے اکثر ‘علماء’ کو لت لگی ہے کہ کسی نہ کسی منطق سے مخالف کو غلط ثابت کر کے نیچا دکھانا اور عقیدت مندوں کا ہجوم اکٹھا کرنا حالانکہ قرونِ اولی میں ایسے صاحبِ فکر و بصیرت بھی ہو گزرے ہیں جن کا مقصد علم اور کردار کو اجاگر کرنا تھا نہ کہ اپنے شاگردوں کو محض رٹا لگوانا یا مخالف فرقے کی ٹوہ میں لگائے رکھنا۔
یہ نکتہ بھی غور طلب ہے کہ ہمارے مدرسوں اور تعلیمی اداروں میں طلباء کی ذہانت کا نہیں یاداشت کا امتحان لیا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ جس طرح کا خام مال ہو گا پروڈکشن بھی ویسی ہی نکلے گی۔
یہاں کسی مذہبی مناظرے کے دوران طرفین کے بہترین تیار شدہ دماغ جب میدان میں اترتے ہیں تو سب سے دلچسپ بات یہ ہوتی ہے کہ ان ‘علما’ کی ہار جیت کا فیصلہ وہ طلباء یا عامۃ الناس کر رہے ہوتے ہیں جو خود تو عِلمی اعتبار سے ان ‘علما’ کے ہم پلہ نہیں ہوتے لیکن اپنے ‘علما’ کی عقل و دانش کو یہ کم علم لوگ نہ صرف تول رہے ہوتے ہیں بلکہ کامیابی کی سند بھی عطا کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی مضحکہ خیز بات ہو سکتی ہے؟
سمجھنا چاہیے کہ علم کا فہم تا ابد ایک ارتقائی سلسلہ ہے۔ حقیقی علم کا متلاشی کسی مقام کو اپنی حتمی منزل نہیں سمجھتا نہ ہی وہ اپنے فہم و ادراک کو حرفِ آخر گردانتا ہے وہ علم کے شعوری ارتقا کو فروغ دیتا ہے اور آفاقی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے اندر انا اور خود نمائی نہیں ہوتی بلکہ عجز و انکسار ہوتا ہے وہ بات سننے سے پہلے ہی جواب نہیں گھڑتا، وہ کم ظرف نہیں ہوتا، جاہل کو بھی عزت سے مخاطب کرتا ہے، اپنا مدعا بیان کرنے میں نرم خُو ہوتا ہے، وہ محض جذباتی تسکین کے حصول کے لئے مناظ رے نہیں کرتا پھرتا بلکہ علم و آگہی کے حصول کے لئے مکالمہ کرتا ہے، وہ کسی کی سوچ پر پہرے نہیں بٹھاتا اور نہ سب کو اپنے جیسا بنانے پر مُصر ہوتا ہے، وہ انسانوں میں نفاق پیدا نہیں کرتا بلکہ دِلوں کو جوڑتا ہے، وہ انسانوں اور تہذیبوں میں تصادم نہیں چاہتا، وہ تعصب اور گروہ بندیوں سے بلند ہوتا ہے۔ وہ کسی مخصوص فرقے کیلئے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لئے سوچتا ہے۔ اس کی مسرت بحث و مباحثے کو فتح کرنے میں نہیں ہوتی بلکہ اس کا مطمع نظر علم کی جستجو ہوتی ہے۔ وہ فطری شعور اور میلان کے سفر کو پرکھتا اور پسند کرتا ہے۔ وہ قوانینِ فطرت کو چیلنج نہیں کرتا بلکہ کائنات کے سر بستہ رازوں کو جاننے کی سعی کرتا ہے۔ وہ پوجا پاٹ، پرستش، مخصوص الفاظ کو بار بار دہرانے یا رسومات کا پرچار کرنے کی بجائےقدرت کے بنائے شہ پاروں، نظاروں اور نعمتوں پر تحقیق کرتا ہے۔ وہ معاشرے میں انصاف اور مساوات کا نظام قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس کے حصول میں مدد فراہم کرتا ہے، ظالم کا ہاتھ روکتا ہے بھلے وہ ہاتھ حاکمِ وقت کا ہی کیوں نہ ہو۔
قرآن میں کہیں بھی پورے قرآن کو زبانی حِفظ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی ‘حافظ’ کے خاص مرتبہ و مقام پر بحث کی گئی ہے۔ قرآن کو زبانی رٹ کر فوائد حاصل کرنے کی سوچ ہمارے بزرگوں نے خود پروان چڑھائی ہے۔ سات پشتوں کو بخشوانے اور عربی گھوڑے پہ بیٹھ کر جنت کا من پسند رقبہ حاصل کرنے وغیرہ جیسی روایات ضعیف اور خلافِ عقل ہیں۔ البتہ قرآن کی سینہ بہ سینہ ترغیب کی وجوہات مخصوص زمانے کے متعلق ہو سکتی ہیں کہ جب اسکی ضرورت تھی مثلاً جنگوں میں اکثر حفاظ کا شہید ہونا یا کسی علاقے میں کتابی نسخے کا مناسب بندوبست نہ ہونا وغیرہ۔ یہ بھی یاد رہے کہ جو قرآن اتارنے کا مکلف و مالک ہے وہ اسکی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہے اور اس کے لئے یقیناً وہ کسی مخلوق کا محتاج نہیں۔
واضح رہے کہ جدید کاغذ سازی کی صنعت چین میں تو 150 صدی عیسوی میں شروع ہو گئی تھی جو 751 عیسوی (ھ134) میں ثمرقند، بخارا اور گلگت بلتستان تک پہنچ چکی تھی۔ ابنِ خلدون کے مطابق عباسی خلافت نے کاغذ سازی کو آٹھویں صدی عیسوی میں بغداد، شام اور مصر تک پہنچا دیا تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ جدید کاغذ سازی سے پہلے بھی کاغذ موجود تھا جو کہ جانوروں کی کھال کے چمڑے (parchment) سے بنایا جاتا تھا اور اس کی تاریخ قبل از مسیح سے شروع ہوتی ہے۔
قرآن کے مکمل نسخے خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی کے عہد سے ہی موجود تھے اور تقریباً تمام مسلمان علاقوں تک پہنچا دیئے گئے تھے۔ آج یہ نسخے کھربوں کی تعداد میں پوری دنیا میں دستیاب ہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جس کے گھر قرآن کی کم از کم ایک جلد موجود نہ ہو۔ بلکہ اب تو انٹرنیٹ اور موبائل فون نے قرآن سمیت ہر قسم کی کتب اور مواد کا حصول ایسا آسان بنا دیا ہے کہ ہر شے سیکنڈوں میں آپکی انگلی کی ہلکی سی جنبش پر سرِ تسلیم خم کیے پڑی ہے، اب تو اگر کوئی کسی کتاب کے ورق یا مسودے کی تحریر میں ایک حرف کی بھی تبدیلی کرے تو دنیا کو پتا چل جاتا ہے تو پھر آج کے جدید دور میں بچوں کو الفاظ کے حفظ پر لگا کر انہیں ذہنی آزمائش میں ڈالنا چہ معنی دارد؟
بچہ اپنی زندگی کا انتہائی قیمتی وقت چیزیں زبانی یاد کرنے اور مذہبی رسومات کو پڑھنے میں لگا دیتا ہے جبکہ انسانیت کی فکر اور فلاح کی پریکٹیکل تعلیم سے محروم رہتا ہے۔ جب تک وہ اپنے ارد گرد کے ماحول میں عملی طور پر بھلائی اور امن نہیں دیکھے گا وہ اس پر عمل پیرا بھی نہیں ہو سکے گا۔ اسے اچھی باتیں پڑھائی تو جاتی ہیں مگر عمل اس کے برعکس کیا جاتا ہے۔ عملی طور پر اس کے سامنے نفرت، بغض اور جھگڑے ہو رہے ہوتے ہیں جن سے بچہ ساری عمر باہر نہیں نکل پاتا۔ جب بچے کے ذہن میں شروع سے ہی تعصب اور فرقہ وارانہ تفاخر بٹھا دیا جائے گا تو بڑا ہو کر وہ مختلف مذاہب یا نظریات کے لوگوں کو کبھی بھی اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھے گا۔ بچہ محض باتوں سے نہیں سیکھ سکتا۔ وہ نماز روزے کی حد تک ایک اچھا مذہبی مسلمان تو بن سکتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں انسانیت کا علمبردار نہیں۔
ہمارے ہاں ہوتا کیا ہے کہ باپ دادا ساری عمر دین و عبادات وغیرہ سے راہِ فرار میں زندگی گزارتے ہیں۔ پچھلی عمر میں جب باقاعدہ مسجد وغیرہ جانے لگتے ہیں تو مولویوں سے حفظِ قرآن کی پُر کیف فضیلتیں سنتے ہوئے انہیں جنت میں دخول کا شارٹ کٹ رستہ نظر آنے لگتا ہے لہذا اپنے بیٹے یا پوتے کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے اسکول سے اٹھا کر حفظ میں لگا دیتے ہیں۔ جس بچے کے اندر ایک پروفیسر، اکاؤنٹنٹ، ڈاکٹر، انجینئر، آرٹسٹ، ایگریکلچرسٹ یا سائنٹسٹ چھپا ہوتا ہے باپ دادا کے مذہبی چسکے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اس معصوم کو ایسی راہ میں ڈال دیا جاتا ہے جس میں نہ صرف اس کا مستقبل داؤ پہ لگ جاتا ہے بلکہ مذہبی شدت پسندی، تفرقے بازی اور انتہا پسندی کا شکار ہونے کا بھی قوی احتمال ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پچاس فیصد حفاظ درمیان میں ہی بھگوڑے ہو جاتے ہیں اور نفسیاتی کردار بن جاتے ہیں۔
میڈیکل سائنس اور نفسیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں میں فرق ہوتا ہے۔ بعض لوگ زیادہ پڑھنے سے گھبراتے ہیں مگر اچھے سامع واقع ہوتے ہیں جو بھی سنتے ہیں ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ جن افراد میں سن کر سمجھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے وہ مطالعہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جن کی بصری (visual) صلاحیت زیادہ ہوتی ہے وہ پڑھنے یا سننے کے بجائے چیزوں کو دیکھ کر بہتر سمجھتے ہیں۔ اگر میں اپنی صلاحیت کو جانچوں تو مجھے لگتا ہے کہ کوئی فلم یا ڈرامہ دیکھنے کے اگلے دن ہی میرے ذہن سے فلم واش ہو جاتی ہے موٹی موٹی چیزوں کے علاوہ مجھے کچھ یاد نہیں رہتا۔ میں سامع بھی اچھا نہیں مگر جو چیز میں ایک بار پڑھ لیتا ہوں مجھے حرف بہ حرف یاد رہتی ہے۔ میں نے ایسے بھی دوست دیکھے ہیں جنہیں دس بار پڑھنے کے بعد بھی یاد نہیں رہتا کہ کیا پڑھا تھا لیکن فلم کا ایک ایک سین اور ڈائیلاگ انہیں ذہن نشین ہوتا ہے۔ وہ فلم کے ایسے مناظر کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جو میں دیکھنے کے باوجود بھلا چکا تھا لہذا ثابت ہوا کہ ہر انسان پڑھ کر حفظ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ہر انسان کا آئی کیو لیول بھی یکساں نہیں ہوتا تو اس میں اس شخص کا قصور نہیں بلکہ پیدا کرنے والے خالق کی مشیت ہے۔
اگر کوئی مسلمان قرآن سے واقعی قلبی شغف رکھتا ہے اور اسے سمجھنا چاہتا ہے تو قرآن کو طوطے کی طرح رٹنے سے بہتر ہے کہ اس پر غور و فکر کرے اور غوروفکر کا تقاضا ہے کہ انسان عاقل و بالغ ہو، تعلیم یافتہ ہو اور دنیا میں موجود دیگر مذاہب کے تقابلی علم کو سمجھتا ہو اور دنیاوی علوم کا ایک معقول ذخیرہ بھی اس کی ذہنی دسترس میں ہو۔
میری گزارش ہے کہ مجھ پر فتوے لگانے سے پہلے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیے اور مشاہدہ کیجیے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی چیزیں رائج ہیں جن کا براہِ راست کوئی دینی حکم نہیں لیکن عوام الناس میں ان کو دین کی بنیاد مشہور کر دیا گیا ہے۔ برائے مہربانی ذرا سوچیے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply