اور میں فلاح پاگیا۔۔۔۔خرم مشتاق/حصہ اول

یہی کوئی دن گذرے ہونگے کہ حالات کے جبر نے ننھیال جا پٹخا  ملکوال اس وقت ایک انتہائی پسماندہ چھوٹا سا گاوں تھا جو قصبہ کا درجہ حاصل کرنے کیلئے کوشاں تھا. ننھیال شیعہ اور سنی میں منقسم تھے . نانا , اور دو ماموں شیعہ اور سب سے چھوٹے ماموں کٹر بریلوی و راہ سلوک پہ چلنے کے خواہشمند. باقاعدہ چشتیہ سلسلہ میں بیعت اور سماع کا چسکا ان کی سنگت میں ہی پڑا. جوگیا رنگ کی چار کونوں والی ٹوپی جیسے فیصل مسجد کے مینار ایستادہ اور جوگیا پٹکا. سہاگن سوہی جو پیا من بھاگئی اور رنگ و شجرہ سب سے پہلے وہیں سنا . وہ جہاں بیعت تھے ان کے پیر صاحب کا نام نصیر الدین تھا اورتین زبانوں میں قدرت الکلام شاعر تھے.

قیامت خیز منظر ہے جفا کا
تغافل تیری چشم نیم وا کا

بتوں میں جاکے کچھ عرصہ گذاریں
پتہ چلتا ہے پھر جاکر خدا کا

صنم خانے میں سجادہ بچھا کر
بتوں کو میں سبق دیتا ہوں “لا” کا

یہ ان کی ایک غزل کے چند شعر جو یاداشت میں محفوظ ہیں.

دوسری جانب گھر سے نویں محرم کی رات علم برآمد ہوتا تھا. میرے ننھیال سید فیملی سے ہیں اور وہ حاجی سید شیخ احمد ولی کی اولاد ہیں دو گاوں کوٹ ولی خورد اور کوٹ ولی کلاں انہی کی اولاد ہیں اور ساری زمینیں موروثی ہیں. جو ایک روایت کے مطابق ایک ہندو راجہ نے انہیں تحفتاً  دی تھیں. وہ بابا فرید الدین گنج شکر کے ہم عصر اور کزن تھے. ہمارے یہاں ابھی بھی ہر بچے کی پیدائش پر بابا فرید کے نام کے درود بھرے جاتے ہیں جن  کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ پنجیری (ایک مقامی حلوہ )تیار کیا جاتا ہے اور اس پر بابا فرید کے نام کا ختم دلوایا جاتا ہے.
تو بات محرم کی ہورہی تھی, میرے زیادہ تر دوست شیعہ مکتبہ فکر سے تھے . مابغربت ان کی معیت میں نانے کے دین کی ترویج اور احیاء کیلئے آٹھویں, نویں اور عاشورے کو جوتے اتار کر گشت کرتا. محرم شدید گرمی میں آیا تو روٹین یہی رہی. زیادہ سے زیادہ پیاسے رہنا اور روزہ رکھنا. ساری رات جلوس کےساتھ. ہر گھر سے نیاز کھاتے ماتم داری کرتے چل سو چل حتی کے صبح ازان اکبری قدیمی امام بارگاہ پر جلوس کے اختتام پر ہوتی اور عاشورے کو زنجیر زنی ہوا کرتی تھی.

میری والدہ اہل بیعت سے خاص محبت رکھتی تھیں لیکن نماز روزہ سنیوں والا ہی ادا کرتیِں. میرے چھوٹے ماموں جو اس معاملے پر سخت پریشان تھے وہ مجھے شیعہ مذہب سے چھٹکارا دلانا چاہتے تھے جبکہ دوسرے ماموں اور نانا انہیں یزیدی قرار دیتے اور اکثر سب و شتم کرتے . ابوسفیان , معاویہ , مروان اور یزید پر تبرے معمول میں دن میں دوچار بار یونہی منہ کا.ذائقہ تبدیل کرنے کیلئے کردئیے جاتے.
میں انگریزی کے محاورے کے مطابق on the horns of dilemma کی کیفیت کی عملی تصویر تھا.
ایک طرف فنا فی الشیخ, فنا فی الرسول, فنا فی اللہ اور بقا بااللہ کی ترغیبات اور کشف المحجوب, حصن حصین, گیارہویں شریف کے فضائل, دوسری جانب مصائب, مناقب, خم غدیر سے جنگ جمل ,صفین اور سانحہ کربلا.

ابھی اس دو طرفہ مواد کا مطالعہ جاری تھا کہ کہیں سے امام محمد بن محمد بن محمد بن محمد الغزالی کی کیمیائے سعادت یا نسخہ کہ کیمیا مترجم یزدانی ہتھے چڑھ گئی. مولانا عبدالعزیز مہتمم و امام عبدالعزیز مسجد و مدرسہ دیوبند سے سلام دعا پیدا ہوگئی. پھر پروفیسر بشیر مہدی نے تذکرہ غوثیہ ,احوال و اقوال غوث علی قلندر پانی پتی از گل حسن نوش کرنے کو دی.

اس دوران ایک عزیز دوست  شہباز عمران  کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے. انتہائی رافضی قسم کا شیعہ واقع ہوا تھا اور اسے میری عاقبت کی اس قدر فکر تھی کے مجھے مکمل شیعہ کرنے کیلئے یہ اپنے محلے سے چل کر آتا مجھے گھر سے لیتا مغربین بازار میں موجود شیعہ مسجد میں پڑھواتا اور ایک مولوی اور ایک نیم مولوی عمران اور ضمیر پینٹر مجھے ورغلانے کیلئے وہاں موجود ہوتے. دونوںسنی شیعہ کا تقابلی جائزہ اور میرے سوالات و شبہات کا جواب دیتے.

وہیں پہ مجھے ایرانی تبلیغی ادروں کی چھپی اردو ترجمہ کتاب جس میں ایک۔ سنی کی داستان حیات کہ وہ کیسے اور کیونکر شیعہ ہوا درج تھی. اس کا نام تھا “اور میں فلاح پا گیا” .

اس سارے کنفیوزن سے تقلید کی بجائے تحقیق کا سودا سر میں سمایا اور میں نے سب سے پہلے unlearn کرنا شروع کیا .

جاری ہے ……………

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”اور میں فلاح پاگیا۔۔۔۔خرم مشتاق/حصہ اول

  1. اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    پیارے بھائی جان میں سید محسن رضا گیلانی اولاد شیخ سید احمد ولی رحمتہ اللّٰہ…..
    اپنے جد امجد پر تحقیقی مواد جمع کر رہا ہوں اور اس سلسلہ میں اگر آپ کے پاس شیخ سید احمد ولی رحمتہ اللّٰہ علیہ کے متعلق کوئی تاریخی مواد موجود ہے تو برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے تاکہ اس مواد کو محفوظ کر لیا جائے.
    رابطہ نمبر :
    03348202576

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *