گولدہ مور کی یاد میں۔۔۔ ڈاکٹر آغا وقار ہاشمی

ہر سال 25 نومبر کی رات یوکرائن کے باسی اپنی کھڑکیوں میں موم بتیاں جلاتے ہیں اور اسکے ساتھ بریڈ یا کوئی کھانے کی چیز رکھتے ہیں،
یہ لوگ ایسا سن 1932 اور 1933 میں روس کے صدر سٹالن کی طرف سے یوکرائن پر مسلط کئے جانے والے خواراک کے قحط کے نتیجے میں بھوک سے مرنے والے 7 سے 12 ملین معصوم لوگوں کی یاد میں کرتے ہیں،
اس دن کو ‘گولدہ مور’ یعنی بھوک کا عذاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،
بھوک سے ٹوٹتے، پھوٹتے ، بلکتے، اور تڑپ تڑپ کر آہستہ آہستہ مرنے والوں کی یاد میں موم بتی اور بریڈ کھڑکیوں کے قریب رکھی جاتی ہیں، کہ شاید آج سے 85 سال پہلے انہی گلیوں محلوں علاقوں میں بھوک سے مرنے والوں کی روحیں یہ دیکھ کر کچھ سکون پا سکیں،
مجھے اپنے یوکرائن میں قیام کے دوران کچھ ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جو اس زمانے میں زندہ تھے اور انہیں اس دور میں بھوک کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا،
ان میں سے ایک خاتون جن کا نام ‘والیا ولادیمیروونا شائکنا’ تھا, انہوں نے اس دور کے حالات بیان کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ خوراک بالکل ختم کی جاچکی تھی، یوکرائن کا گھیراؤ کئے سٹالن کی فوج اس بات کو یقینی بناتی کہ کہیں سے بھی خوراک کی کسی قسم کی ترسیل یا امداد ملک میں داخل نہ ہو،
پہلے سال میں تو پہلے لوگوں کا اپنا کھانے کا ذخیرہ ختم ہوا، مارکیٹیں خالی ہوئیں، پالتو جانور کھائے جانے لگے، پھر آہستہ آہستہ گزارا صرف درختوں پہ لگے پھل فروٹ، گھریلو اُگائی سبزیوں تک محدود رہ گیا، حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور پھر سردیوں کا موسم موت کا موسم بن کر آیا اور برفباری ہونے سے ہر طرف سفید برف تو جیسے تم مسلمانوں میں کفن ہوتا ہے، ویسی لپٹی نظر آنے لگی،
اب نہ سبزیاں رہیں نہ پھل فروٹ، اب تو نہ کھائے جانے والے جانور بھی شاذونادر ہی کہیں نظر آتے،
جب کچھ عرصے بعد لوگوں کے مرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو روازانہ ہر علاقے میں لوگ درجنوں کے حساب سے مرنے لگے،
اور آہستہ آہستہ زندوں کی حالت بھی ایسی ہوتی جا رہی تھی کہ جیسے وہ موت کو ہی آفیت سمجھتے ہوں، کتنے ہی بچے والدین کے ہاتھوں میں تڑپتے دم توڑ گئے، کتنے ہی لوگوں نے اپنے پیاروں کو اپنے سامنے ایڑھیاں رگڑتے مرتے ہوئے دیکھا لیکن وہ کچھ نہ کر سکے،
کچھ نے تو بھوک کی تکلیف سے بچنے کے لئے خودکشی بھی کی،
ایک سال گزرنے کے بعد حالات ایسے ہو گئے کہ لاشوں کو دفنانے کی سکت بھی لوگوں میں نہ رہی تو اس صورتحال میں روسی فوج نے اعلان کیا کہ جو ایک لاش کو لا کر فوج کو دے گا اسکو آدھی بریڈ ملا کرے گی، لیکن اس میں شرط یہ بھی تھی کہ ایسا نہ ہو کہ خود سے مارا گیا ہو،کیونکہ ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملے کہ لوگ آدھی بریڈ کے لئے ایک دوسرے کو مارنے لگے،
یہ سب بتاتے ہوئے انہوں نے ایک بات یہ بھی کہی کہ انسان کی خصلتوں، اچھائیوں، برائیوں اور زندگی کی حقیقتوں کو جتنا صرف ان دو سال (1932-1933) کے دوران میں سمجھ سکی ہوں اتنا میں نے اپنی باقی کی 95 سالہ زندگی میں بھی نہیں سیکھا ہو گا،

میں نے ان خاتون سے پوچھا کہ آپ کے ارد گرد اتنے لوگ بھوک سے مرے ایسے میں آپ نے کیسے خود کو سنبھالا اور بچ گئیں؟ تو انہوں نے کہا کہ
‘ویسے تو میں نے جلدی سیکھ لیا تھا کہ کون کون سی گھاس اور جھاڑیاں، جڑی بوٹیاں اور پودے کھائے جا سکتے ہیں اور کون سے نہیں، مجھے تو یہ بھی معلوم تھا کہ کونسی مزیدار ہے اور کونسی بد مزا، کونسی زہریلی ہے اور کونسی طاقت دیتی ہے،
لیکن جس چیز نے مجھے زندہ رکھا، وہ یہ جھوٹ تھا جو میں نے خود سے بولا اور اس پر اپنا یقین پختہ کیا یا خود کو کسی حد تک یہ سمجھا لیا کہ یہی سچ ہے،
اور وہ جھوٹ یہ تھا کہ انسان کو کھانے پینے کے لئے یہ گھاس پوس، میسر پھل فروٹ، سبزی اور ایسی جڑی بوٹیاں ہی کافی ہیں، اور دنیا میں باقی کھانے کی چیزیں تو جیسے کبھی وجود رکھتی ہی نہیں تھیں’
وہ بولیں کہ مجھے تو ان دو سال کےبعد بہت سی کھانے کی چیزوں کے ذائقے اور یہاں تک کہ نام بھی بھول چکے تھے.
یہ سب بتاتے ہوئے انکے چہرے پر بیتے وقت کی سلوٹوں میں وہ پتھرائی ہوئی آنکھیں اور آواز کی وہ گہرائی کہ جیسے بہت اندر سے نکل رہی ہو، مجھے آج بھی یاد ہے.

آج یمن بھی سعودیہ اور اسکے اتحادیوں کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ اور خوراک کے برے ترین قحط سے گزر رہا ہے، وہاں بھی لاکھوں مارے جا چکے اور کتنے ہی مرنے کے قریب ہیں، دنیا کا ہر بڑا اخبار وہاں پر بچوں کی حالت زار پر خبریں چھاپتا رہتا ہے، لیکن اسکے باوجود دنیا میں اس دور کے سب سے خوفناک خوراک کے قحط پر اک سکوت ہے اک سناٹا سا ہے،
ھماری آنکھیں تو نہیں لیکن شاید دل پتھرا چکے ہیں اور آواز کہیں بہت گہرائی میں دب چکی ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *