خدارا ان کلیوں کو پامال ہونے سے بچا لیں ۔۔۔عامر عثمان عادل

میرا ہم جماعت برسوں بعد میرے سامنے بیٹھا تھا ۔ کالج کے بعد عملی زندگی کے تھپیڑوں نے سنبھلنے کا موقع ہی کہاں دیا ۔ میل ملاقاتیں رابطے سب موقوف ہوئے ۔ پتہ چلا وہ حصول رزق کی خاطر دیار غیر میں جا بسا تھا ۔ کبھی کبھار پاکستان آتا تو کسی بہانے ملاقات ہو جاتی۔ آج بھی یہ ملاقات کئی برس بعد ہوئی ۔ حال احوال پوچھنے کے بعد میرا سوال تھا سناؤ کام کاج کیسا جا رہا ہے ؟ واپسی کب تلک ہے۔

وہ ایک لمحے کو خاموش ہو گیا ۔ کچھ توقف کے بعد کہنے لگا میں سب کچھ چھوڑ کر وطن واپس آ گیا ہوں ۔

میں نے حیرت سے پوچھا کیوں  ؟

تو ،وہ خاموش تھا اور اس کی آنکھوں میں تیرتے اشک شکوہ کناں تھے ۔ میں دل ہی دل میں گمان کر رہا تھا کہ کوئی  گھریلو پریشانی لاحق ہو گی ۔ ہو سکتا ہے نوکری جاتی رہی ہو ۔ میرے کریدنے پر اس نے بمشکل آنسو پوچھے اور اپنی داستان الم کچھ یوں سنائی  ۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ۔ میری نوکری بہت اچھی جا رہی تھی ۔ اچانک ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے ہماری زندگی کے تار پود ہلا کر رکھ دئیے ۔ مجھے میری اہلیہ نے یہ بات بتائی  تو ایک پل بھی مجھ سے پردیس میں رہا نہ گیا ۔ ہمارا کچھ نہیں بچا سب پامال ہو گیا ۔

ہوا یہ کہ میری معصوم بچی جو ابھی تیسری جماعت کی طالبہ ہے سکول وین کے ڈرائیور کے دست ہوس کا نشانہ بن گئی ۔ جسمانی تکلیف تو ایک طرف وہ ذہنی طور پر صدمے کا شکار ہو چکی ہے۔

میرے دلاسہ دینے پر اس نے جو تفصیل بتائی ، وہ ہوش ربا ہی نہیں کلیجہ چیر دینے والی تھی ۔ میرا گمان یہی تھا کہ یہ قبیح حرکت کسی نو عمر ڈرائیور سے سرزد ہوئی  یا پھر کسی بدچلن جوان سے ۔ لیکن جونہی میرے دوست نے بتایا کہ میری بچی کو صدمہ دینے والا کوئی  لا ابالی لڑکا نہیں۔ ادھیڑ عمر کا باریش آدمی ہے جو کم از کم ساٹھ کے سن میں ہو گا ۔ میں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں ۔ اس سے زیادہ کچھ بھی سننے کی مجھ میں تاب نہ تھی ۔

جس بچی کی عمر ابھی گڑیا سے کھیلنے کی تھی وہ اس شخص کے ہاتھوں اعتبار گنوا بیٹھی جو اس کے باپ نہیں دادا کی عمر کا تھا ۔
اس شرمناک واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سکول وین کے اس ڈرائیور کی حرکات و سکنات پہلے بھی کچھ اچھی نہ تھیں ۔ جس بارے میں بچی نے ایک دو بار دبے لفظوں میں اپنی ماں کو اتنا ہی بتانے کی کوشش کی جتنی اسے سمجھ تھی ۔ لیکن ہوا وہی جو اس معاشرے کا چلن ہے۔ لوگوں کے ظاہری روپ پہ اندھا اعتبار ۔ خاص طور پر داڑھی والوں کا ۔ ماں نے ڈرتے ڈرتے گھر کی بڑی بوڑھیوں سے ذکر کیا تو اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا گیا کہ تم نے سوچا بھی کیسے ۔ وہ بندہ تو انتہائی  متقی، پرہیز گار اور بیبا ہے۔ توبہ توبہ یہ الزام لگاتے تمہیں ذرا بھی خیال نہیں آیا ۔ بی بی اللہ سے ڈرو ۔ ضرور بچی کو غلط فہمی ہوئی  ہے۔ اور یوں اجنبیوں پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کر لینے کی جہالت آگے چل کر بچی کو ایک دلخراش حادثے سے دوچار کر گئی ۔ افسوس گھر والے اپنی پھول سی بچی کے اضطراب کو اس کی آنکھوں میں پائے جانے والے سوالوں کو پڑھنے سے قاصر رہے۔ باہر کے بندے پر بھروسہ کر لیا اپنی بیٹی کی بات کا اعتبار نہیں کیا ۔

سکول میں بچوں کے پیپرز ہو رہے تھے ۔ اس روز ہمارے باقی بچوں کا پیپر نہیں تھا ۔ صرف بیٹی سکول گئی ۔ ڈرائیور نے بیٹی کو سکول سے لیا گاڑی میں بٹھایا اور دوسرے کسی سکول سے بچوں کو لینے چلا گیا ۔ گاڑی میں بچی اکیلی تھی ۔ اب ہوا یہ کہ دوسرے سکول کے بچوں کی چھٹی میں تاخیر تھی ۔ اس نے گاڑی کہیں سائیڈ پہ پارک کی۔ اور بس یہی وہ وقفہ تھا جب ساٹھ سال کے ایک بابے پر شیطان غالب آیا۔ اس نے اپنی بزرگی کا تو کیا خیال کرنا تھا اس بچی کی معصومیت پر بھی اسے ذرا ترس نہ آیا جس کی عمر کی اسکی پوتیاں یا نواسیاں ہوں گی۔ بس پھر کیا تھا زمین پھٹی نہ آسمان گرا ۔ ایک کومل سی کلی اعتبار اور بھروسے کے ہاتھوں پامال ہو گئی ۔ گھر پہنچنے پر اس ننھی جان کو اندازہ تھا کہ پچھلی بار جب بتایا تھا تو کب کسی نے مان کے دیا ؟ سو وہ بیچاری چپ رہی ۔ لیکن جب اس کے تن ناتواں نے درد کی شدت کو مزید سہنے سے انکار کر دیا اور  اس کا ضبط جواب دے گیا تو درد اشک بن کر بہنے لگا ،اسکی سسکیاں چیخوں میں ڈھل گئیں تب گھر والوں کو ہوش آیا ۔ اس نے سب کچھ اپنی ماں سے کہہ ڈالا ۔ بچی کی حالت دیکھ کر سب کے  ہاتھ پاؤ پھول  گئے ۔ اسے ہاسپٹل لے جایا گیا ۔ مجھے جونہی اطلاع ملی میں سب کچھ تج کر  وطن چلا آیا۔ بچی کو دیکھا تو دل مسوس کر رہ گیا ۔ وہ شدید جسمانی و ذہنی تکلیف کا شکار تھی ۔ کتنے دن اس کا بخار ہلکا نہ ہوا ۔ اب بھی رات کو سوتے میں ڈر کر اٹھ بیٹھتی ہے اور چیخنے لگتی ہے ۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس زیادتی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کروں گا ۔ قدم قدم پر مشکلات آڑے آئیں ۔ اپنے ہی سمجھانے لگے کہ اس میں ہماری ہی بدنامی ہے۔ ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ ایف آئی  آر درج کرانا چاہی تو سرکاری ہاسپٹل کی خاتون ڈاکٹر کا رویہ انتہائی  نامناسب تھا ۔ اس نے دانستہ طور پر تاخیری حربے اختیار کر کے بچی کے طبی معائنے اور رپورٹ جاری کرنے کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں ۔ ملزم گرفتار ہوا اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ۔ اس کے رشتہ داروں اور معاشرے کے نام نہاد معززین نے صلح کے لئے ہم پر دباو ڈالنا شروع کر دیا کہ جی بندے سے غلطی ہو گئی ۔ میرا جواب تھا کہ صلح کس بات کی ؟ میں اپنی بیٹی کی زندگی برباد کرنے والے کو کیسے معاف کر سکتا ہوں ؟ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ نظام مجھے کس حد تک سپورٹ کرتا ہے ۔ میں اپنی پامال عزت کا حساب چاہتا ہوں اور انصاف کا طلبگار ہوں ۔ اپنے حق کے لئے آخری حد تک لڑوں گا ۔ صرف اس لئے خاموش رہوں کہ بدنامی ہو گی ۔ میرے نزدیک ظلم سہنے اور ظالم سے سمجھوتہ کر لینے سے بڑی کوئی  بے غیرتی نہیں ۔

اس کی گفتگو کا سلسلہ رکا تو اشکوں سے تر اس کا دامن معاشرے کی بربادی پر نوحہ خواں تھا ۔
اس مقدمے کو درج ہوئے ایک سال ہونے کو آیا ۔ آج کیس کی پیش رفت بارے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ ملزم ضمانت پر رہا ہو چکا ہے ۔ تڑپ کر پوچھا اس کی ضمانت کیسے ہو گئی ۔ پتہ چلا کہ جج صاحب نے اس کی پیرانہ سالی کا فائدہ دیتے ہوئے اس کی ضمانت منظور کر لی ۔ ایک حرماں نصیب باپ اس بات پر حیران تھا کہ کیسا نظام عدل ہے، جسے ایک شیطان صفت کی بزرگی پر تو ترس آ گیا لیکن اس کومل کلی کی عمر کا خیال کیوں نہ آیا جو کم سنی میں ہی اس وحشی درندے کے دست ہوس سے پامال ہو گئی۔

کیس عدالت میں ہے دیکھیے کب اور کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

مجھے تو والدین سے ہاتھ باندھ کر یہ عرض کرنا ہے کہ خدارا اپنی اولادوں کو ان بھیڑیوں سے بچا کے رکھو۔ اجنبی تو اجنبی اب تو سگے رشتوں کا اعتبار نہیں ۔ اپنی زندگی کی قیمتی ترین متاع کو یوں ڈرائیوروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر کیسے آنکھیں بند کر لیتے ہو ۔ مت کرو کسی پہ اندھا اعتبار ۔ آئے روز کسی زینب کے لٹنے کی داستان سنتے ہو ۔ کتنے معصوم بچوں کی لاشیں کچرے کے ڈھیر سے ملتی ہیں۔ پھر بھی تمہاری نیندیں حرام نہیں ہوتیں ۔

تمہارے بچے جب باہر کی دنیا میں پیش آنے والے کسی انہونے واقعے کا ذکر کرتے ہیں ۔ کسی کی میلی نظروں کا ذکر کرتے ہیں ۔ تو ان کی بات کیوں نہیں سمجھتے ۔ اپنے ہی بچوں کی بات سنی ان سنی کیوں کر دیتے ہو ۔

سنو اولاد والو!
یہ دنیا تمہارے بچوں کے لئے ہر گز محفوظ نہیں رہی۔
سکول چھوڑنے اور واپس لانے سے قاصر ہو تو ڈرائیورز کو چیک کرتے رہا کرو ۔ ان کے ساتھ کسی بچے کو اکیلے آنے جانے کی ہر گز اجازت نہ دو۔
کسی کے پاس ٹیوشن پڑھنے بھیجتے ہو یا کوئی  ٹیوٹر پڑھانے گھر آتا ہے تو اہتمام کرو الگ کمرے میں بند ہو کر نہ بڑھائیں ۔
مولوی صاحب کے پاس سپارہ پڑھنے جاتے ہیں یا وہ گھر پڑھانے آتے ہیں تو کسی بچے کو اکیلے میں پڑھانے سے گریز کرو ۔
بچیوں کو سختی سے گلی محلے کی دوکانوں سے سودا لینے مت جانے دو۔
بچوں کو یہ اچھی طرح سمجھا دو کہ ان کا جسم ان کی پراپرٹی ہے جسے چھونے کا اختیار سوائے ماں باپ کے کسی کو حاصل نہیں ۔
بچوں کو اعتماد دو۔
کیونکہ
یہاں کس کا اعتبار بچا ہے ؟ جہاں لباس خضر میں راہزن پھرتے ہیں ۔ جبہ و دستار کے لبادے میں کتنے گھناؤنے وجود پائے جاتے ہیں ۔ کسی کے ظاہری روپ سے دھوکا مت کھاو ۔ دھوکا دیتے ہیں بازی گر یہ کھلا۔
بھیڑیوں کے چنگل سے بچا لو۔ اپنے جگنوؤں کو ۔ اپنی تتلیوں کو ۔

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *