درویشوں کا ڈیرہ۔۔۔۔تبصرہ محسن علی

کل میں  نے  228 صفحات پر مشتمل ایک کتاب پڑھی،جس کا نام ہے “درویشوں کا ڈیرہ”۔۔اس کتاب کو بہت خوبصورت طرز پر  لکھا گیا ہے۔ یہ خطوط پر مبنی ہے ،دو معززین جناب ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الرباء کے درمیان ہونے والا ایک خوبصورت مُکالمہ ہے۔ یہ مکالمہ ہے ایک درویش کا ایک ایسی لڑکی سے جو اپنے ہی ارد گرد کے ماحول میں قید ہے ۔ اسکی شروعات ایسے ہوتی ہے کہ دروشیوں کا ڈیرہ ایک خواب تھا جس کو پہلی تعبیر وجاہت مسعود نے “ہم سب” کے پلیٹ فارم سے دی ،شکریہ کے الفاظ ادا کرکے اسکی تعبیر کے رنگ کو کم نہیں کرینگے ۔ خواہش کرینگے ان کے ہر خواب کو یونہی خوبصورت تعبیر ملے ،یہ اسکے آغاز کے الفاظ ہیں ۔۔اس کے بعد رابعہ بصری کا ایک قول ہے” اے درویش یہ تُم اپنے شاگردوں سے کیا کہتے رہتے ہو، ہمت مت ہارو دروازہ کھٹکھٹاتے رہو ،اک دن دروازہ کُھل جائے گا ،دروازہ کب بند تھا؟

جو سائنسدان سچ کی تلاش میں سنجیدہ ہوتے ہیں وہ روایتی مذہب اور خُدا سے بہت آگے نکل جاتے ہیں، بعض روایتی لوگ انہیں دہریہ سمجھتے ہیں بعض درویش وہ نہیں جانتے ایسے سچے سائنسدان دہرئیے بھی ہوتے ہیں اور بیک وقت دریش بھی “البرٹ آسٹائن”۔۔۔

یہاں سے ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے ایک خوبصورت خطوط کا جس میں سے ایک پاکستان کے شہر لاہور سے تعلق رکھنے والی ادبی شخصیت رابعہ الرباء اور دوسرے کینیڈا میں بیٹھے سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر خالد سہیل  نے لکھا ہے۔

دوستی کی طرف پہلا قدم پہلا خط ہے کہ کس  طرح وہ رابعہ الرباء کے افسانے پڑھ کر رابعہ کو دوستی کا پیغام دیتے ہیں ۔ جس کو پڑھ کر وہ عجیب حیرت و خوشی کا اظہار کرتی ہیں ،جو اُن سے عُمر میں  سینئر ہوتے ہیں جن کو کالج و یونیورسٹی کی سیڑھیوں پر  بیٹھ کر پڑھا،اورعلم حاصل کیا ۔۔ وہی شخص انہیں دوستی کا پیغام بھیج رہا ہے۔۔دنیا کتنی سُکڑ چکی ہے ۔

اس کے بعد درویش   رابعہ کے نام پر اسلامی متھ کا ایک کردار جو بہت طاقتور  ہے،اُس کے بارے رابعہ کو  سمجھانے کی کوشش کرتا ہے پھر درویش و رابعہ کا خوبصورت مکالمہ جس میں درویش سچ کی تلاش میں نکلا ہوا مسافر جو مسافت کے لئے نکلا، وہ کس طریقے سے تجربہ حاصل کرتا ہے، تجزیہ کرتا ہے، اور زندگی کو پرکھتا ہے، پھر وہ بتاتا ہے اُس نے اپنے چار خواب پہلے کون سے دیکھے تھے، اُن خوابوں میں خواب تعبیر ہوا  پہلا، پھر اس کے بعد وہ معاشرت سے جُڑی بات بتاتا ہے کہ ہم کسی معاشرے میں جاتے ہیں تو ہیلو ، آداب ، سلام و نامستے وغیرہ کرتے ہیں پھر ان دونوں کے درمیان جو مکالمہ ہے  وہ دوستی کی جانب بڑھتا ہے اور دوستی کی خوشبوئیں بکھیرنے لگتا  ہے اپنے ارد گرد ۔ پھر درویش سمجھاتا ہے آسمانی باپ کی بیٹی اور دھرتی ماں کا بیٹا وہ تشبیہ دیتا ہے رابعہ آسمانی باپ کی بیٹی ہیں اور وہ درویش دھرتی ماں کا بیٹا ہے، اس میں عورت و مرد کی دوستی نہیں بلکہ دو انسانوں کی دوستی کو خوبصورت پیرائے میں بیان کیا گیا ہے، وہ لوگ خواب دیکھتے ہیں اور محبت کو تھکنے نہیں دیتے وہ اس سفر میں محبت کوساتھ لے کر چلتے ہیں دوستی کو تاریک راہوں سے بھی بچاتے ہیں اور چلے چلتے ہیں، وہ مختلف موضوع کو گفتگو کا حصہ بناتے ہیں، سیکس رومانس میں کیا فرق ہے ، محبت جنس و شادی ،ڈیٹ بھی جسمانی تبادلہء لطف و اضطراب ہے۔ مردوں کا کمپلیکس “ہور کمپلیکس اور میڈونا”، دوستوں کے درمیاں کہنا بھی مشکل، سہنا بھی مشکل ،اس کو بہترین طرز سے بتلایا گیا ہے ۔ دونوں ان تمام مراحل کو طے کرتے ہوئے مرد کا عمل و عورت کا رد ِ عمل اس طرز کی مختلف جہتوں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے انتہائی دلکش ترکیب سے لے کر چلتے ہیں ۔ ان تمام تر خطوط کے اندر جو سب سے خاص ترین بات ہے ،جس میں وہ بتارہے ہیں، عورتوں سے تخلیقی انسانی رشتہ ہونے کا اندازہ ہوسکے جس پر ایک نظم لکھتے ہیں ۔ خالد سہیل “درویش”
عورتیں وقت سے آن لڑیں
عورتیں خون کی ہولی کھیلیں
ہر مہینے جو حالات کی زد میں آئیں
اپنے جسموں میں پگھلتا ہوا لاوا پائیں
عورتیں زیست سے ہرماہ جونامہ لائیں
اپنی تقدیر کو یوں اس میں نوشہ پائیں
عورتیں اپنی حقیقت جانیں
عورتیں بچے جنیں  مائیں بنیں
اپنی آغوش بھریں
اور اس سے وہ انکار کریں
ایک دوراہے سے آواز سنیں
یا تو وہ بانجھ رہ جائیں
یاہرایک ماہ وہ خون کے آنسوروئیں
اپنے رستے ہوئے زخموں کی فضاء میں سوئیں
عورتیں درد کی تصویریں ہیں
عورتیں کرب کی تصویریں ہیں
عورتیں خون میں ڈوبی ہوئی تحریریں ہیں!

اس کو پڑھتے ہوئے خاص کرعرصہ پہلے غالب کے خطوط غالب لائبریری میں پڑھے تھے یا تیموریہ لائبریری میں اُسکے اندر جب خطوط پڑھے تب یہ خواہش جاگی تھی اور وہ پڑھ کر بہت حیرت ہوئی تھی کیا کمال لکھا گیا ،اُس وقت موبائل نہیں آیا تھا ہمارے ہاتھوں میں لیکن جب ایس ایم ایس آیا تو میرا گُمان یہی ہوتا تھا، تب   میں نے کہا  غالب نے اپنے دور کا جدید ترین میسج  اُس وقت کردیا تھا، جب قلم کتاب کا دور تھا اُنہوں نے خط کو نئی جہت دی ،وہ پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں ہوتا تھا ،میں بھی خط و کتابت ہو جو کتاب کی شکل ہو ،لاشعوری طور پر مگر یہ خطوط پڑھ کر محسوس ہوا جیسے پورا کردیا ہو ان دونوں نے اس مکالمہ سے ۔اگر آپ ایک ایک خط پڑھتے  ہیں ، اگر آپ لکھنے والے ، سوچنے والے ہیں یا زندگی کا کتھارسس کرنے والے ہیں یا آپ کو اس طرز کی کسی بھی چیز سے لگاؤ  ہے تو آپ کو لگے گا یہ پل آپ ہی کے تھے مگر شاید آپ کے پاس یہ الفاظ نہیں تھے ۔ رابعہ جو اپنے سماج و اردگرد میں قید ہیں لیکن اپنی سوچ میں مکمل آزاد اور اُس میں  علم و دانائی کی  ایک مُسافت طے کرتی ہیں ۔رابعہ الرباء نے جس طریقے سے بیان کیا مجھے میرے اپنے آپ سے ملوادیا ،کہیں اس کو جیسے جیسے آپ پڑھتے جائیں گے وہ لفظ آپ کو اپنے سحر میں جکڑتے جائیں گے آپ اُن کو محسوس کرنے لگیں گے ۔ اس میں الفاظ کا چناؤ  بہترین پیرائے میں کیا گیا، ناول کی طرح طول نہیں دیا گیا ۔ جبکہ یہ ایک لمبے عرصہ سے چل رہے تھے مگر اسکے باجود اس میں انکی خوبصورتی و چاشنی باقی رہی ہے ۔ یہ خطوط ایسے ہیں جیسے دو سمندر بہتے ہوئے دو جانب سے کسی بحیرہ میں گر رہے ہوں ۔ ہم جیسے چھوٹے لکھنے والے لوگ یا کم لکھنے والے لوگ ہم لوگ اصل میں جھیلیں ہیں یا ہم آبشار اور آبشار سے دریا اور سمندر میں اترنا اور سمندر سے پھر بحیرہ میں اُترنا سکھارہے ہیں ۔   اور میری ایک دوست شمائلہ حسین جو نہیں لکھ رہی تھیں، ان کا قلم خاموش تھا ان کو بھی یہ پڑھنے کے بعد لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی، بہت سے لوگوں کے قلم مختلف وجوہات کی بنیاد پر رک جاتے ہیں ۔یہ کتاب  پبلش ہوچکی ہے،آپ احباب اسے پڑھیں ،اور لُطف  اندوز ہوں

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *