دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

چھ اگست، دوستی کا عالمی دن جب ساری دنیا میں ہی دوست یہ دن منا کے اپنے دوستوں سے دوستی کا اظہار کرتے ہیں۔ زندگی کے میلے میں ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں جن سے مل کر ہمیں بہت اچھا لگتا ہے۔ کسی سے ہمارا ذہن ملتا ہے، تو کسی سے دل۔ بعض دفعہ کچھ لوگوں سے مل کر محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ہماری بہترین دوستی ہو سکتی ہے اور کبھی معاملہ بالکل ہی برعکس ہوتا ہے۔ کبھی ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جن سے ذہنی اختلاف ہونے کے باوجود دوستی ہو جاتی ہے۔ کئی بار غیر مذہب لوگ، ہم مذہب لوگوں سے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہم کو اچھے لگتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو ہم اچھے لگتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ کو پسند کرتے ہیں۔ دوستی بس اسی سب سے وجود میں آتی ہے۔
ایک چیز جو یاد رکھنے کی ہے کہ دوستی کے لیے سب سے اہم چیز اخلاص کا ہونا ہے۔ آپ ملنسار ہیں، ہنس مکھ ہیں، با اخلاق ہیں، یہ تمام خوبیاں آپ کو معاشرے کا ایک اچھا فرد بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں، آپ کی شخصیت کو نکھارتی ہیں اور لوگ آپ کو پسند بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کسی بھی انسان کے ساتھ پر خلوص ہو کر نہیں ملتے تو آپ کیسے کسی کے دوست بن سکتے ہیں؟ دوستی کی عمارت اخلاص کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ اب کسی انسان کے اخلاص کو کیسے پرکھا جائے؟ ایسے میں بقول شاعر،
کس قدر بدل جائے، بات سے مکر جائے
کچھ بھی کہہ سکتے نہیں، ہم کسی کے بارے میں
دوستی کوئی مادی یا ٹھوس شے نہیں جس کو ناپا یا تولا جا سکے۔ لیکن پھر بھی، جب آپ اپنی ذات کے بجائے اپنے دوست کے مفاد کے بارے میں سوچنا شروع کردیں، اس کی تکلیف آپ کی تکلیف، اور اس کی خوشی آپ کی خوشی بن جائے۔ تب یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کسی کے دوست ہیں۔
میں بہت کم اور بہت چن کر دوست بنانے کی قائل ہوں۔ کیونکہ میرے نزدیک میرا دوست وہ ہے جو میرے ہر غم، خوشی اور مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑا ہو اور میں اسکے ساتھ۔ اگر میں جلتی ریت پر ننگے پاؤں چلوں تو وہ بھی میرے ساتھ ننگے پاؤں چلے، صرف اس لئے کہ اس دوست سے میرا اکیلے جلنا نہ دیکھا جاتا ہو۔ اگر وہ مشکل میں ہو تو میں اسکی مدد کو فورا َََمیسر ہوں۔ ممکن ہے دوستی کے معیار کو پرکھنے کے لیے یہ ایک مشکل کسوٹی ہو۔ مگر میں دوست اسی کو کہتی ہوں جو مجھ سے لڑ لے، جھگڑ لے مگر کسی بھی حال میں میرا ساتھ نہ چھوڑے اور نا مجھے اپنا ساتھ چھوڑنے دے۔
زندگی میں ہم بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں، بچھڑتے ہیں۔ اختلافات ہوتے ہیں، ختم ہوتے ہیں۔ کسی سے ہنس کر ملنا، اخلاق سے پیش آنا آپ کے اچھے نہیں بہت اچھے انسان ہونے کا تو ثبوت ہو سکتا ہے۔ مگر یہ ساری خصوصیات آپ کو ایک مخلص دوست نہیں ثابت کر سکتیں۔ دوستی وقتی جذبہ یا موڈ نہیں جو جب جی چاہے بدل جائے۔ دوستی تو وہ سونا ہے جو مشکل وقت کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے، طوفان کے بعد بھی سروقد درخت بن کر رہے اور پتھریلی زمین میں سے بھی پودا بن کر نکل آئے۔ دوست کو آزمائش میں بھی مت ڈا لئیے، بے جا امیدیں بھی وابستہ نا کیجیے اور جلد بدگمانی سے بھی بچئیے۔ کیونکہ یہ سب ایسی دیمک ہیں جو دوستی کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
بقول احمد فراز
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *