کیا ” زن مرید “ہونا کوئی عیب ہے ؟۔۔۔۔۔میاں جمشید

اگر میں روز شام کو کام سے آ کر یا کسی چھٹی والے دن اپنی بیوی کے پاؤں دباؤں ، اس کے سر پر مالش کروں ، سچی محبت کی نیت سے یا پھر اس خیال سےکہ وہ سارا دن گھر رہ کر بے شمار کام کرتی ہے ، فیملی میں سب کا خیال رکھتی ہے ، یا کہ وہ بھی جاب کرتی اور اس کے ساتھ ساتھ گھر بار پر بھی پوری توجہ دیتی ہے سو وہ بھی تھک جاتی ہے اس کا بھی من کرتا ہے کہ اس کی تھکی ٹانگوں و ہاتھوں کو دبایا جائے ، سر پر تیل لگے نرم ہاتھوں سے مالش کی جائے ۔ ۔ تو پھر مجھ جیسے شوہر کا ایسا کرنا غلط ہے؟ اتنا برا ہے کہ کوئی دیکھے تو فوری زن مرید کا خطاب دے ؟

یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ایسا کرتے نہیں دیکھا یا بہت کم نظر آیا کہ کسی نے اپنی بیوی کے جائز محبتانا نخرے اٹھائے ہوں ورنہ طبیعت میں سخت مزاجی ہی دیکھی ، سب کے سامنے شرارتیں کرنے یا ہنسنے کو عیب ہی سمجھا۔ تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ان کا ایسا رویہ رکھنا اچھا تھا ؟ بیوی کو اتنی حد میں رکھنا کہ ایسا سب کرنا گناہ لگے؟ نہیں جناب ۔ آپ کا نظریہ آپ کو مبارک ہو ۔ اگر پہلوں کو اور آجکل کے ایسے پسماندہ ذہنوں کو لگتا کہ بیوی کو صرف اچھے کپڑے ، کھانے ، زیور وغیرہ ہی کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ، سب کے سامنے پیار سےبات کرنا ، ہنسنا ، کھیلنا بری باتیں ہیں تو اس سوچ کو بہت پہلے ہی بدل لینا چاہیے تھا صاحب کہ “زمانے کے انداز بدلے گئے” ۔

مجھے ایک بات کا بھرپور یقین ہے کہ ایک بیوی بھرپور محبت مانگتی ہے ۔ صرف خاص لمحات کے علاوہ بھی وہ سراہے جانے والا لمس چاہتی ہے ۔ آپ کی قربت کا احساس صرف بند کمرے میں ہی نہیں بلکہ سب کے سامنے چاہتی ہے تاکہ وہ آپ کے ساتھ تعلق پر فخر کر سکے ۔ وہ چاہتی ہے کہ آپ سب کے سامنے اس کے ساتھ کھلکھلا کر ہنسیں ، شرارتیں کریں ، اس کا سر دبائیں ، پاؤں دبائیں ۔ اس کا ہرگز مطلب خود کو حاکم دکھانا نہیں ، بس محبت کی اس سرشاری کو محسوس کرنا ہوتا ہے، جو اس کے وجود میں بھری ہوتی ہے ۔

ہماری شادی چاہے اپنی ذاتی پسند سے ہو یا فیملی کی پسند کی ، میاں بیوی کا رشتہ آخر کار محبت میں بندھ ہی جاتا ہے ۔ جو پھر اظہار مانگتا ہے ،جس میں کسی وقت کی قید نہ ہو ، کسی کے سامنے ہونے کا ڈر نہ ہو ۔ میں اگر بیوی کے ساتھ مل کر سبزی بنواؤں ، کپڑے دھلواؤں ، بچوں کو فیڈر بنا کر دوں یا بیوی کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر چھپن چھپائی کھیلوں ، اس کو اپنے ہاتھوں میں اٹھاؤں ، یا اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاؤں ، پانی پلاؤں ، اس کے سر پر کنگھی کروں تو خدارا سمجھئے کہ میرا ایسا کرنا زن مریدی نہیں ہو سکتا ۔ اگر ہے بھی تو ٹھیک ہے جناب ، پھر ایسا ہی سہی ، آپکی مرضی جو آپ سوچیں اور سمجھیں ۔

تو صاحبو ، بس میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنی بیوی کے لیے فخر بنوں اسکا مان بنوں کہ اس کا شوہر اتنا پیار کرتا ہے کہ کسی کی پروا نہیں کرتا ۔ میں جب اپنی فیملی کے سامنے اپنی والدہ یا بہنوں کے لیے محبت سے کلام کر سکتا ان کو ساتھ بیٹھا کر ، لپٹا کر ، لاڈ سے چومتے ہوئے یہ کہہ سکتا کہ آپ مجھے بہت عزیز و پیاری ہو ، تو ٹھیک اسی طرح میں اپنی منکوحہ ، شرعی بیوی کی پیشانی پر بوسہ دینے اور یہ کہنے کو بالکل عار نہیں سمجھتا کہ تم میری خوبصورت و پیاری بیوی ہو ۔ آئی لو یو جان ۔ ۔ ۔ یقین مانیں نہ ہی یہ کوئی بے حیائی ہے نہ ہی زن مریدی ۔ ۔ ۔ آپکا کیا خیال ہے؟

اور اگر ہاں آپ کو لگتا ہے کہ میں زیادہ ہی فلمی ہو گیا ہوں تو بھی کیا فرق پڑتا ، یہی سب ہی آج کل کے ڈراموں ،فلموں ، گانوں میں دکھایا جا رہا ، افسانوں و کہانیوں میں لکھا جا رہا ۔ ۔ ۔ تو ان سب کا مجھ پر یا بیوی کے خیالات و جذبات پر اثر نہ ہو ؟ کیا سب واقعی غلط ہے ؟ کیا سب حقیقت سے دور ہے؟ شاید آپ کا جواب ناں ہی ہو مگر زن مرید کا لقب سننا آپ کو گوارا نہیں ، اس لیے چپ ہی بھلی ۔

میاں جمشید
میاں جمشید
اس تحریر کے لکھاری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مثبت طرز ِِِ زندگی کے موضوعات پر مضامین لکھتے اور ٹریننگ دیتے ہیں ۔ ان سے فیس بک آئی ڈی jamshades پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *