شارٹ میموری لاس۔۔۔۔عارف خٹک

انسان کی نفسیات یںں سب سے بڑا عمل  دخل اردگرد کے  ماحول کا ہوتا ہے۔ اگر آپ حد درجہ مثبت ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے والدین خوش و خرم رہنے والا ایک ذمہ دار جوڑا ہیں۔

مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میں اب چیزیں بھولنے لگا ہوں۔ قریبی لوگ جن کیساتھ برسوں کا ساتھ ہیں۔ان کے نام بھول جاتا ہوں۔ قریبی دوستوں کو اگر کسی اجنبی مقام پر دیکھ لوں تو ان کو پہچان نہیں پاتا۔ کوئی بات یا واقعہ جس کو تین چار گھنٹے گزر جائیں، میری  یاداشت سے محو ہوجاتا ہے۔ بیس سال پرانے معاشقے تک بھول چکا ہوں۔
شارٹ میموری لاس بیماری کے کافی سارے وجوہات ہوتے  ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق  میں بتایا جاتا ہے کہ دماغی چوٹ، یا کینسر جیسے علاج معالجہ کے بعد لیزر کے اثرات، دماغ کو آکسیجن کی کم فراہمی، یا کوئی ایسا صدمہ جو مسلسل حواسوں پر حاوی ہو۔ آپ کی  قلیل مدتی یاداشت کو متاثر کردیتا ہے۔
کلینکل سائیکالوجی میں شارٹ میموری لاس کی وجوہات اور بیان کی جاتی  ہیں۔ جیسے دماغ میں موجود نیورانز جو ڈس آرڈر ہوکر ہیپو کمپس کو متاثر کردیتا ہے۔ جن کا تعلق اپ کی یاداشت سے ہوتا ہے۔ مگر کوئی سائنسی تحقیق نہ ہونے کیوجہ  سے آپ اسے مقالہ کہہ سکتے ہیں مگر ریسرچ کی بنیاد نہیں بنا سکتے۔ ۔
سوشل سائیکالوجی میں یہ خطرناک بیماری سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ پچاس سال کے بعد انسان اپنے حواسوں میں نہیں رہتا۔ ،اس کے کافی سارے عوامل ہوتے ہیں۔ جس میں ناہموار زندگی، خراب ماحول میں مسلسل غیر یقینی کی کیفیت اور مستقل خدشات اور غیر یقینی صورتحال  ،بالآخر انسان نڈھال ہوکر اپنے ذہن کو آزاد چھوڑ دیتا ہے اور لاشعوری طور پر   جان بوجھ کر چیزیں یاد رکھنے میں دلچسپی لینا  چھوڑ دیتا ہے۔کیونکہ وہ مسلسل ڈر کی کیفیت میں  رہتا ہے اور فرار کی راہ اپنانے کی طرف  ہر وقت گامزن رہتا ہے۔۔
اس بیماری کا ابھی تک کوئی باضابطہ حل دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ مگر تحقیق کار اس بات پر متفق ہیں کہ  پزل گیم یا تصویری پاک گیمز آپ کو ریکور کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
مردوں کے مقابلے   میں خواتین  آسانی سے اس مرض کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کیونکہ خواتین کی قوت ارادہ مرد کی  نسبت زیادہ کمزور ہوتی ہے۔۔

میری پریشانی بیماری سے ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ میں شاید انسانوں کے اس قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں جو اپنے ارد گرد منفی ماحول کو مثبت بنانے میں بالکل بھی نہیں ہچکچاتے بلکہ ماحول کو اپنے انداز سے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں منتظر ہوں کہ کب اپنی بیوی کو دیکھ کر کہوں گا “باجی آپ ہمارے گھر کیا کررہی ہیں؟” اور ساس کو کس کر گلے لگا کر کہوں “ڈارلنگ آج بہت سیکسی لگ رہی ہو۔۔۔۔”

اس دن شاید میں خود کو یقین دلانے میں کامیاب ہو سکوں کہ۔میرا شادی کا ارادہ غلط تھا اور میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *