شادی کا نوحہ۔۔۔محمد افضل حیدر

میرا جگری دوست اسد آج کل اپنے خانگی حالات کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔ وہ مجھ سے اپنی ہر بات شیئر کرتا ہے اس لیے مجھے اس کی نجی زندگی سے لیکر پیشہ ورانہ وارداتوں تک ہر چیز کی خبر ہوتی ہے۔ ہم ایک ہی ادارے میں آٹھ سال سے اکٹھے نوکری کر رہے ہیں۔ وہ عمر میں مجھ سے دو سال اور شادی شدہ زندگی میں چار سال بڑا ہے۔ ہمارے درمیان بس درپیش حالات و واقعات کی جزیات اور پس منظر کا فرق ہے۔ میں نے آٹھ سالہ رفاقت میں اسے اتنا غمزدہ پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔۔۔جتنا آج دیکھا۔
آج کالج میں بریک کے دوران دنیا و مافیہا سے بے خبر اسے ایک کونے میں سر جھکائے کسی گہری سوچ میں غرق دیکھا تو اس کے پاس گیا اور شانہ دبایا۔ اس نے نگاہ اٹھا کر میری جانب دیکھا اور پھر سر جھکا لیا۔مجھے محسوس ہوا ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔اس سے بار بار پوچھا مگر اس نے اس اضطراری کیفیت کی وجہ نہیں بتائی۔میں نے زبردستی اسے وہاں سے اٹھایا اور کالج کے ایڈمن بلاک کے عقب میں واقع سکھ چین کے پیڑ کے نیچے پڑے لکڑی کے بنچ پر جا بیٹھایا۔ ہم فراغت کے لمحات میں کینٹین سے سموسہ بوتل لیکر اکثر یہیں آکر سکھ چین لیتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ سامنے سے گزرنے والے اپنے ایک شاگرد کو کچھ پیسے دیے اور کینٹین سے سموسہ بوتل منگوا لی۔ میں زور دے کر اس سے آج کی غمناکی کی وجہ دریافت کی تو وہ پھٹ پڑا۔۔ “میری زندگی میں اب تک دو ہی منحوس گھڑیاں ہیں سب سے پہلی وہ ,جب میں پیدا ہوا اور دوسری جس دن میری شادی ہوئی۔
“میں نے اسے ٹوکا پگلے ایسا نہیں بولتے۔”تم دنیا میں نہ آتے تو مجھے اتنا اچھا دوست اور میری بھابھی کو اتنا اچھا شوہر کیسے ملتا”
” لعنت بھیج اپنے اس دوست اور اس کے شوہر پر”
“خیر! تم بھیجو نہ بھیجو وہ اکثر بھیجتی رہتی ہے۔”
“یار خدا کے لئے ایسی باتیں مت کرو اور سب سچ سچ بتاؤ آخر ہوا کیا ہے؟”
“کیا ہونا ہے یار! وہی روز کی بک بک۔۔ توُ توُ۔۔ میں میں۔۔ آج پھر جم کر لڑائی ہوئی شمائلہ کے ساتھ۔۔ خدا کی قسم یار! اس عورت نے میری ہنسی چھین لی ہے میری جنت جیسی زندگی جہنم بنا دی ہے۔”
” آج کس بات پہ لڑے ہو آپ دونوں؟”

” وہی روز کا رونا۔۔ وہی آٹھ سال کا سیاپا۔ تم نے میرے اور بچوں کے لیے کیا ہی کیا ہے۔۔ تم کنجوس ہو۔۔ بے حس ہو۔۔ ہمیں دینے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہیں ہے۔قسم سے آج کل اکثر میرا جی چاہتا ہے میں اس زندگی کا خاتمہ کرلوں ,اس روز کی بک بک سے تو جان چھوٹے گی۔
میں اس دن کو شدت کے ساتھ کوستا ہوں جس دن میں نے شادی کا فیصلہ کیا تھا۔ میری بیوی میرے لئے غلط انتخاب ثابت ہو رہی ہے۔وہ کسی قیمت پر بھی مجھ سے خوش نہیں ہوتی۔ ہمیشہ مجھے بھوکا ننگا ہونے کا طعنہ دیتی ہے۔ میں اپنے محدود وسائل کے باوجود اس کی ہر جائز خواہش اور ضرورت پوری کرتا ہوں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں کبھی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔ پھر بھی وہ ہر وقت ناک بھوں چڑھائے رکھتی ہے۔کہتی ہے میری بڑی بہن کا میاں اپنے بیوی اور بچوں کا بہت خیال رکھتا ہے۔ ان کے کپڑے, جوتے,وضع قطع,مجھ سے اور میرے بچوں سے مختلف اور خاص ہوتی ہے۔ میرا بہنوئی اپنی فیملی کو ہمیشہ بڑے بڑے شاپنگ پلازوں پر خریداری کے لئے لے جاتا ہے۔وہ لوگ بڑے بڑے برینڈ کی چیزیں خریدتے ہیں۔ہفتے میں ایک دن کسی نا کسی بڑے ریستوران پر جا کر کھانا کھاتے ہیں۔ ان کے پاس خوبصورت گھر اور نئے ماڈل کی گاڑی ہے۔ان کے بچے شہر کے مہنگے سکول میں جاتے ہیں۔ان کا فریج ہر وقت کھانے کی طرح طرح کی چیزوں سے بھرا رہتا ہے۔ ہر کمرے میں اے سی اور پچاس انچ کی ایل ای ڈی لگی ہوئی ہے۔پھر زیادہ جذباتی ہوکر کہتی ہے” میرے نصیب میں یہ سب کچھ کیوں نہیں۔میں تمہاری وجہ سے گھٹ گھٹ کر کیوں مروں,میں اپنے حق کو لینے کے لیے ہرگز چپ نہیں رہوں گی بلکہ کھل کر آواز بلند کروں گی۔ دم گھٹتا ہے میرا اس چھوٹے سے اندھیرے گھر میں۔”
“میں انتہائی دبے ہوئے لہجے میں ہمیشہ اسے کہتا ہوں کہ کسی کے محل کو دیکھ کر اپنی جھونپڑی تھوڑی گراتے ہیں۔ ان کے اور ہمارے مالی رتبے میں بہت فرق ہے وہ ایسی زندگی کی استطاعت رکھتے ہیں ہم نہیں”
” وہ آگے سے کہتی ہے یہ ایک ناکام اور ہارے ہوئے شخص کی باتیں ہیں۔ جوکہ میں سن سن کر تنگ آچکی ہوں, اگر کچھ کر نہیں سکتے تو میری جان چھوڑ دو”
میں نے اس کی باتیں سننے کے بعد کہا کہ” بات اگر اس حد تک جا چکی ہے تو پھر تمہارا پریشان ہونا فطری امر ہے۔خیر میری کچھ تجاویز ہیں اگر ان پر عمل کرلو گے تو ہو سکتا ہے حالات تبدیل ہو جائیں۔سب سے پہلے تم اپنے ذرائع آمدن بڑھاؤ, تنخواہ کے علاوہ بھی کچھ کرکے دیکھو, کوئی چھوٹا سا کاروبار کرلو, بھابھی پڑھی لکھی ہے تو ان کی جاب کروا لو, اور نہیں تو ٹیوشن ہی پڑھا لو جب گھر میں اضافی پیسے جائیں گے تو ہو سکتا ہے ان کا شکوہ ختم ہوجائے۔”
یار! میں اپنی استعداد سے بھی بڑھ کر محنت کر رہا ہوں۔ چالیس ہزار کی ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ایک دو گھروں میں جاکر بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتا ہوں۔کاروبار کے لئے فراغت درکار ہے کالج سے واپسی پر وقت ہی کہاں بچتا ہے کام کے لیے, اور سب سے بڑھ کر کسی بھی کام کو کرنے کے لئے سرمایہ درکار ہوتا ہے جوکہ مکان کا کرایہ,بجلی اور گیس کا بل, بچوں کے سکول کی فیس,گھر چلانے کے لئے راشن,بچوں کے جوتے کپڑے,موٹر سائیکل کے پٹرول کے اخراجات کے بعد کہاں بچتا ہے۔رہی بات شمائلہ کی جاب کی تو اشعر ابھی محض آٹھ ماہ کا ہے وہ اسے گھر چھوڑ کر کیسے جاب پہ جا سکتی ہے۔چالیس پینتالیس ہزار کی ماہانہ آمدنی کے باوجود مہینے کے آخری دنوں میں مالی حالت انتہائی پتلی ہوجاتی ہے۔ بہت سارے معاملات ادھار پر چل رہے ہوتے ہیں۔سب کچھ اس کے سامنے ہو رہا ہے۔ اسے یہ بھی پتہ ہے مجھے کوئی بھی بُری لت نہیں۔ سگریٹ, بیڑی, پان کسی بھی چیز کی عادت نہیں۔میں گھر سے باہر بھی بہت کم جاتا ہوں۔ اگر کبھی جاؤں بھی تو کسی ضروری کام کی غرض سے ورنہ نہیں جاتا۔ تمہارے علاوہ میرا کوئی دوست بھی نہیں ہے۔اپنے زمانہ طالب علمی کے علاوہ کہیں سیر و تفریح پر بھی نہیں گیا۔ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کچھ پیسے فیملی کے لئے بچا لوں۔اپنے ذاتی اور شوق کے کاموں کے لئے کنجوسی کر لیتا ہوں مگر گھر اور بچوں کے لئے اپنی طاقت سے بڑھ کر بھی خرچ کر لیتا ہوں۔ دو سال ہو چلے ہیں میں نے اپنے لئے کوئی جوتا اور نئے کپڑے نہیں خریدے مگر شمائلہ اور بچوں کو ہر خاص موقع پر ان کی طلب کے مطابق چیزیں لے دیتا ہوں۔مگر پھر بھی کوئی نا کوئی گلہ اور شکوہ میرا منتظر ہوتا ہے۔تمہیں پتہ ہے یہ میری اپنی پسند اور محبت کی شادی ہے,میں شادی سے پہلے سوچتا تھا شمائلہ ہر اچھے بُرے وقت میں میرا ساتھ نبھائے گی, میری ہر مجبوری کو سمجھے گی,کڑے سے کڑے وقت میں چٹان کی طرح میرے ساتھ کھڑی ہوگی۔ مگر اس کو پہچاننے میں شاید کوئی بڑی بھول ہو گئی مجھ سے۔ میں نے اس کے لئے اپنی فیملی چھوڑی,والدین کی مرضی پوچھنا بھی صائب نا سمجھا ,اپنی محبت کے لئے ہر طرح کی قربانی دی مگر افسوس اس نے محبت تو دور کی بات شادی کا مقدس بندھن بھی نہ نبھایا۔ اس کے بڑھتے تقاضے میری جان نکالتے ہیں۔ میرا جی چاہتا میں خود کو کہیں گروی رکھ کر یا بیچ کر اسے وہ سب کچھ لا دوں جس کی وہ خواہش رکھتی ہے۔ کبھی کبھی یہ بھی سوچتا ہوں جسے میری پرواہ نہیں اس کے ساتھ یہ نام نہاد رشتہ ہی کیوں نبھاؤں۔۔مگر چھوٹے چھوٹے تین معصوم بچے میرے پاؤں کی بیڑی بن جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں اسے چھوڑا میرے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی زندگیاں بھی برباد ہو جائیں گی,میں اسے ترک و ایثار کا پیکر دیکھنے کا متمنی ہوں مگر اس کی خواہشات دن بدن بے لگام ہوتی جا رہی ہیں”
“خدا کا خوف کرو یار! چھوڑنے کی بات کرکے تم واقعی خود کو ایک ہارا ہوا قنوطی شخص ثابت کر رہے ہو۔ حوصلہ رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میرے نزدیک بھابھی کے کچھ مطالبات درست بھی ہیں۔ بہت ساری چیزیں تم آسانی کے ساتھ ٹھیک کر سکتے ہو۔ اس کے لئے صرف قوتِ ارادی کی ضرورت ہے۔ تم اپنی کل آمدنی میں سے کچھ مخصوص پیسے بچانا شروع کر دو۔یا پھر کہیں پر چھوٹی سی کمیٹی ڈال لو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمہارے پاس مخصوص پیسوں کے بجائے اضافی پیسے آنا شروع ہو جائیں گے جس سے تم گھر کے لیے اپنی بیوی کی خواہش کے مطابق سامان خریدنے کی پوزیشن میں آجاؤ گے جیسا کہ اے سی,ایل ای ڈی وغیرہ۔۔ اور تم معمولی سی کوشش کے ساتھ اپنی فیملی کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی مہیا کر سکتے ہو۔ جیسا کہ سیر و تفریح کے لیے انہیں کسی قریبی پارک میں لے جانا۔ کبھی کسی ٹھیلے والے سے فروٹ چاٹ یا گول گپے کھلانا وغیرہ۔ اور نہیں تو کسی اچھے ہوٹل سے مہینے میں ایک آدھ بار کھانا بھی کھلایا جا سکتا ہے۔اور ہاں اگر وہ کھانا اچھا بنائیں تو ان کی تعریف کردیا کرو یا پھر کسی شام ان کے لئے کوئی پیارا سا گفٹ لے جایا کرو تاکہ وہ تم سے خوش اور مطمئن ہو سکیں۔۔اور کبھی کبھار اگر دل نہ بھی ہو ان کی خوبصورتی اور سلیقہ شعاری کی تعریف کردیا کرو۔میرے نزدیک بیوی کو کچھ ملے نہ ملے محض پیار اور توجہ بھی ملنا شروع ہو جائے تو وہ سر شار ہو سکتی ہے۔ وہ ایک مرد کے لئے اپنے بہن بھائی ماں باپ اپنے بچپن اور جوانی کا گھر چھوڑ کر آتی ہے اگر اس کا اور اس کی ضروریات کا خیال نہ کیا جائے تو یہ ظلم اور زیادتی ہے۔ میرے نزدیک ان تمام باتوں میں سے آدھی پر بھی عمل کرلو تو تمہارا مسئلہ حل ہو سکتا ہے”۔
“تم نے جتنے بھی مشورے دیے ہیں سب بہت اچھے اور معقول ہیں مگر بدقسمتی سے میں تمام کے تمام اس پر آزما چکا ہوں۔ہر بار نتیجہ صفر ہی نکلتا ہے۔ وہ ہر چیز میں سے کوئی نہ کوئی منفی پہلو نکال لیتی ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ایک پارک میں کسی ٹھیلے والے سے اسے کچھ کھلانے کی کوشش کی تو کہنے لگی ایسی گھٹیا ریڑھیوں سے تم جیسا کنجوس اور غریب آدمی ہی کوئی چیز خرید کر کھا سکتا ہے۔ مجھے کوئی شوق نہیں بیمار پڑنے کا۔”
“یار وہ میرے ٹائپ کی تھی ہی نہیں میں نے اسے پہچاننے میں بہت غلطی کی۔ اتنے اونچے معیارات رکھنے والی لڑکی مجھ جیسے سفید پوش کے ساتھ کیسے خوش رہ سکتی ہے۔”
“یہ سب تو شادی سے پہلے سوچنا تھا میرے غریب دوست۔۔ تم مردم شناسی میں مار کھا گئے۔ بھابھی کے مزاج کا عاشقی معشوقی کے دنوں میں ہی پتہ چلا لیتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔۔کہتے ہیں نا کہ محبت اندھی ہوتی ہے تم بس اسی آندھی محبت کی میٹھی گولی کے ہاتھوں مارے گئے”
“ہاں۔۔! بس کہہ سکتے ہو۔ شاید مجھ سے کہیں نا کہیں جلد بازی ہوئی اسی کا نتیجہ بھگت رہا ہوں۔ مگر سچ پوچھو تو شمائلہ ان دنوں ایسی ہر گز نہ تھی۔ یونیورسٹی کی کینٹین پر میرے ساتھ سڑا ہوا برگر کھا کر بھی خوش رہتی تھی۔کبھی اس کی باتوں سے یہ نہیں لگا کہ اس کے سٹینڈرڈ اتنے ہائی ہیں۔ مین لائبریری کے سامنے والے لان میں میرے ساتھ گھاس پر بیٹھ کر بھنے ہوئے چنے کھا کر کہتی تھی تمہارے ساتھ رہتے ہوئے ہمیشہ یہ چنے بھی کھانے پڑجائیں تو میں گزارا کرلوں گی۔ مگر اب گوشت پر بھی خوش نہیں ہوتی۔۔”
“اچھا ایک سوال کا جواب دو۔۔ ”
“ہاں پوچھو۔۔”
“بھابھی کے پاس موبائل ہے؟”
“ہاں ہے۔ کیوں؟”
“وہ زیادہ تر اس پر کس سے بات کرتی ہیں؟”
“وہ بولا:اپنی بڑی بہن اور ایک سہیلی رمشا سے”
“تم ان دونوں خواتین کے ساتھ ان کی گفتگو کو کنٹرول کرو۔ اگر نہیں ہوتی تو اپنی ساس سے بات کرو۔ میرے نزدیک وہ دونوں عورتیں تمہاری بیوی کو خراب کر رہی ہیں۔ وہ انہیں اپنی آسودہ زندگی کی سچی جھوٹی کہانیاں سنا کر ان کو تم سے متنفر کر رہی ہیں۔ فون کے بعد جب وہ تقابل کرتی ہیں تو بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ”
“میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں,مگر میں ابھی بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ اس کا بھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوگا اس میں تبدیلی کے جراثیم ہیں ہی نہیں میں کبھی کبھی سخت حیران ہوتا ہوں کہ میرے اور اس کے آٹھ سال اکٹھے کیسے گزر گئے”
کچھ دیر کے توقف کے بعد اس نے ایک سرد آہ بھری اور کہنے لگا۔ “اس شادی شدہ زندگی کا اپنے کنوارے پن کی آزاد اور بے فکر زندگی کے ساتھ تقابل کرتا ہوں تو قسم سے وہ زندگی مجھے جنت اور یہ جہنم معلوم ہوتی ہے۔ اٹھنے سونے, آنے جانے, پہننے کھانے ہر چیز کی آزادی کاش !پہلے کوئی بتا دیتا کہ شادی کے بعد والی زندگی کوئی زندگی نہیں بلکہ ایک غلامی اور جبر مسلسل ہے تو میں کبھی شادی نہ کرتا”
میں نے کاغذ کی پلیٹ میں پڑے ٹھنڈے سموسے کو ایک کونے سے توڑا,منہ میں دبا کر گرم کوکا کولہ کا ایک گھونٹ حلق میں اتارنے کے بعد ایک بیہودہ سی ڈکار لی اور کہا:
“اس معاملے میں میرے بھی خیالات تم سے بہت ملتےجلتے ہیں۔۔!!

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”شادی کا نوحہ۔۔۔محمد افضل حیدر

Leave a Reply to Ghulam Rasool Faheem جواب منسوخ کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *