ہٹلر۔۔۔قیس

20اپریل 1889 کو جرمنی کی سرحد کے قریب آسٹریا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک موچی کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا جسکا نام ایڈولف ہٹلر تھا۔ ،ہٹلر کی زندگی کے تقریباً تمام پہلوں پر کئی دہائیوں سے لکھا جا رہا ہے ۔ ہٹلر ایک محب وطن شخص تھا اسے اپنی قوم و وطن سے بہت زیادہ محبت تھی اور وہ جرمن قوم کو دنیا کی سب سے سپیرئیر قوم سمجھتا تھا۔ آج کی دنیا چونکہ یہودیت کے زیر اثر کام کر رہی ہے، اس لیے ہٹلر کو ایک سفاک اور ظالم ترین انسان کے طور پر پیش کیا جارہا ہے کیونکہ اسکا مقابلہ یہودیت سے تھا،۔ میں ہٹلر کے حوالے سے کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ آپ بھی اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کر سکیں ۔

ہٹلر نے پہلی جنگ عظیم میں بطور سپاہی اپنی خدمات سرانجام دیں ۔ اس جنگ میں جرمنی کو شکست ہوئی اور ہٹلر بالکل اسی طرح بلبلا کر رو رہا تھا جس طرح اپنی ماں کے مرنے پر رویا تھا برطانیہ اور فرانس نے جرمنی سے وہ علاقے چھین لیے تھے جو صدیوں سے اس میں شامل تھے  اور اسکے ساتھ ساتھ جرمنی کو مجبور کیا گیا تھا کہ فرانس سمیت اس جنگ میں جن عالمی طاقتوں کا جو نقصان ہو ا ہے اسکا ہرجانہ بھی ادا کرےاور ہرجانہ کی رقم 96،000ٹن سونے کے برابر تھی  اور یہ جرمن قوم کے لیے بڑی ذلت کی بات تھی  اور نازی پارٹی ان شرئط کے خلاف تھی ،اس لیے عوام میں بڑی مقبول تھی، ہٹلر نے اس نازی پارٹی میں شامل ہو کر 1921 میں سربراہ بن گیا، ۔ 1923 میں رہر پر فرانس اور بیلجیم نے قبضہ کر لیا اور جرمنی کے معاشی حالات اس حد تک خراب ہو گئے کہ ایک بریڈ کی قیمت 2 ارب مارک تک پہنچ گئی اور کرنسی دن بدن اس حد تک گر گئی کہ عوام کرنسی نوٹوں کو آگ جلانے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ ۔ان بدترین معاشی حالات میں محترم ایڈولف ہٹلر صاحب اسٹیٹس مین یا انقلابی بن کر ابھرے ۔ ،8 نومبر 1923 کو ہٹلر نےمیونخ شہر کے حال میں ایک مجمعے سے خطاب کیا اور شہر پر اپنی حکومت کے قبضے کا اعلان کیا لیکن جرمن پولیس نے اسے کامیاب نہ ہونے دیا اور ہٹلر کو نو ماہ کے لیے جیل کاٹنی پڑی۔ دوران قید ہٹلر نے ایک فیصلہ کیا کہ انقلاب بلٹس سے نہیں بلکہ بیلٹس سے لایا جا سکتا ہے اس لیے ہٹلر نے الیکشن جیتنے کو کوشش شروع کی اور 1928 کے الیکشن میں ہٹلر کو 628میں سے صرف 12نشستیں ملیں ۔صرف ایک سال بعد امریکہ کی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی اور امریکہ کیطرف سے جرمنی کو جو امداد ملتی تھی وہ بھی بند ہو گئی،اسکا فائدہ بھی ہٹلر  کوہوا ،اور اسکا ووٹ بینک بڑھ گیا ،کیونکہ معاشی بحران کی وجہ سے 61 لاکھ لوگ بے روزگارہوئےاور حکمران جماعت نے استعفی دے دیا  اور 1930 میں دوبارہ الیکشن ہوئے لیکن ہٹلر کامیاب نہیں ہو سکا۔۔ جولائی 1932 میں بھی نازی پارٹی 230 سیٹیں لیکر بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ نومبر کے الیکشن میں نازی پارٹی نے 196 سیٹس لیں لیکن ہٹلر چانسلر نہیں بن سکے اور آخر کار 30 جنوری 1933کو ایڈولف ہٹلر جرمنی کے چانسلر بن گئے۔ چانسلر بنتے ہی ایڈولف ہٹلر نے اپنے تمام سیاسی مخالفین اور جرمن قوم کے مخالفین کو چن چن کر مارنا شروع کر دیا ۔ اورایک محتاط اندازے کے مطابق ہٹلر پر  60 لاکھ یہودیوں کے قتل کا بھی الزم ہے۔۔

1933 سے پہلے کے جرمنی کی معاشی اور دفاعی حالت انتہائی نازک تھی ،بے روزگاری کی انتہا ، معاشی عدم استحکام ، مسلسل جنگ اور اپنے علاقے ہارنے کے بعد فوج کا بھی مورال بہت ڈاؤن، عوام میں بے یقینی کی فضا تھی، یہ کہنا درست ہو گا کہ جرمنی کی لولی لنگڑی حکومت، معشیت اور دفاع بالخصوص اور باقی تمام ادارے بالعموم وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لے رہے تھے۔ اس حالت میں جرمنی ہٹلر کو ملا اور صرف چھ سال کی کم ترین مدت میں ہٹلر نے قومی تنظیم نو اور عسکری   تربیت کا پروگرام شروع کیا  اور جرمنی کی فوجی اور معاشی  قوت کو دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کے ہم پلہ کر دیا  ۔ فوج کی تعداد پانچ گناہ بڑھا دی، یہودیوں کے خلاف قانون  سازی کی کہ کوئی یہودی جرمن سے شادی نہیں کر سکتا ۔ہٹلر نے تمام ہرجانہ ادائیگی کے معاہدے منسوخ کر دیے اور لیگ آف نیشن کی ممبر شپ بھی منسوخ کر دی۔ اب ہرجانے کی ادائیگی کی تمام رقم ہٹلر نے اپنی قوم پر خرچ کرنا شروع کی تو جرمنی میں یہودیوں کے علاوہ کوئی  بے روزگار نہیں بچا تھا۔ اور ہٹلر کی خارجہ پالیسی اتنی موثر تھی کہ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر آسٹریا کا الحاق جرمنی سے کر دیا ،پھر جب  برطانیہ اور فرانس روس سے مل کر جرمنی کا محاصرہ کرنا چاہ رہے تھے تو اس نے بغیر وقت ضائع کیے ایک اچھا فیصلہ کیا، خود پہل کی اور  روس کیساتھ ملکر پولینڈ کا بٹوارہ کر لیا۔،ہٹلر نے شکست کا بدلہ لیا اور 1940 میں فرانس ، بیلجیئم ، ناروے ، ہالینڈ وغیرہ کی سلطنتیں جرمنی کی مطیع ہو چکی تھیں۔

ہٹلر اپنے قلعہ میں اکثر کہتا تھا کہ مجھے چار ہفتے لوٹا دو، ان چار ہفتوں کی وجہ سے ہٹلر کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ جب ہٹلر نے سوویت پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اسے اس کے جرنیلوں نے بھی منع کیا حتی کہ دوسرے ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ گاندھی صاحب نے بھی اس حملے سے منع کیا لیکن ہٹلر نے کسی کی نہ مانی 1941 کے شروع میں ہٹلر کی فوجیں سوویت پر چڑھ دوڑنے کے لیے پوری طرح تیار تھیں۔ لیکن ہٹلر نے اپنے دوست  موسولینی کی مدد کے لیے یونان پر حملہ کر دیا اور یوں سوویت یونین پر حملہ چار ہفتوں کے لیے روک دیا گیا۔ 22 جون کی صبح 40 لاکھ جرمن فوجی سوویت پر چڑھ دوڑے اور اس آپریشن کا نام باربروسہ رکھا گیا۔ جرمن فوجیں ماسکو تک پہنچ گئیں تھیں لیکن ایک بڑی غلطی کہ جرمن فوجوں نے وہیں سے اسٹالین شہر پر بھی حملہ کر دیا اور کچھ دن کے لیے ماسکو میں جنگ رک گئی اس وجہ سے سوویت فوجوں کو وقت ملا اور انہوں نے اسکا بھرپور فائدہ اٹھایا سخت موسم کی وجہ سے جرمن سوویت کی فوجوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور ہتھیار ڈال دیے ۔

20 اپریل 1940 کو ہٹلر کی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے جرمن لوگوں نے یا تو خوف کی وجہ سے یا پھر عقیدت کی وجہ سے منائی ۔ 30 اپریل کو سوویت فوجیں ہٹلر کے قلعے کے بہت قریب پہنچ چکی تھیں تو ہٹلر نے اپنی محبوبہ ایوا جو پندرہ سال سے شادی کا انتظار کر رہی تھی سے شادی کی اور اسی دن ہٹلر نے فوجی وردی پہنی اور پہلی جنگ عظیم میں ملنے والا میڈل وردی پر سجایا اور اپنی نئی دلہن کیساتھ اسٹڈی روم میں گیا اور اپنی بیوی کو سائینائیٹ کیپسول کھلایا اور اپنے سر میں گولی مار دی۔ اور اس کی وصیت کے مطابق اسکے گارڈز نے اسکی لاش کو جلادیا تاکہ قابض فوجیں لاش کی بے حرمتی نہ کر سکیں۔

ایک شخص نے بارہ سال میں جرمنی کو پستی سے نکال کر دنیا کی سپر پاور بنا دیا  ۔ اور دنیا کو کولونیل ازم سے بھی آزاد کروا دیا۔ ہٹلر ایک محب وطن شخص تھا، اور اپنی قوم کا سچا راہنما تھا ، میرے خیال میں ہٹلر کا ظالم ، سفاک قاتل وغیرہ کے القابات سے نوازنا بالکل درست نہیں۔

قیصر حسین
قیصر حسین
Me Qaisar Hussain MSc (Pak Study) MA (IR)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *