اسلامی ہجری کیلنڈر۔۔۔عبداللہ ماحی

محرّم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہوتا ہے اور اس محرّم سے نیا اسلامی سن “1441 ہجری” شروع ہوا ہے۔

آج کی دنیا میں ماہ و سال کے حساب کے لئے دو قسم کے کیلنڈر رائج ہیں۔ ایک اسلامی ہجری کیلنڈر اور دوسرا شمسی کیلنڈر جسے ہمارے ہاں انگریزی کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے۔

اسلامی ہجری سال دراصل قمری سال ہے جو کہ چاند کے بارہ مرتبہ عروج و زوال سے پیدا ہوتا ہے۔ چاند زمین کے گرد بارہ مرتبہ چکر لگاتا ہے، لیکن چونکہ زمین بالکل گول نہیں بلکہ بیضوی شکل میں ہے اور چاند کا محور گول ہے، لہذا چاند زمین کے گرد اپنے محور میں گھومتے وقت کبھی زمین کے قریب ہوجاتا ہے اور کبھی زمین سے دور ہوجاتا ہے، اسی طرح چاند کی رفتار کہیں  تیز اور کہیں ہلکی ہوتی ہے، اس لئے زمین کے گرد چاند کا چکر کبھی 29 دن میں اور کبھی 30 دن میں پورا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی مہینہ کبھی 29 دن کا اور کبھی 30دن کا ہوتا ہے۔ زمین کے گرد چاند کے 12 چکروں کی کل مدت 354 دن، 48 منٹ اور 34 سیکنڈ ہوتی ہے۔ ہر قمری سال اتنی ہی مدت کا ہوتا ہے۔ اس مدت سے کم یا زیادہ نہیں ہوتا۔ اس مدت میں نیا چاند 12مرتبہ نظر آتا ہے۔ جب تک یہ مدت پوری نہ ہو کسی صورت میں بھی چاند تیرہویں مرتبہ افق پر نمودار نہیں ہوسکتا۔

ماہ و سال کے حساب کا دوسرا طریقہ شمسی سال ہے، شمسی سال سورج کے گرد زمین کی گردش سے پیدا ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے سورج اور چاند کی اس لگی بندھی گردش کو اپنی نعمتوں میں شمار کروایا ہے۔ اللہ تعالی کے کارخانۂ قدرت میں اس کی حقانیت کی یہ دو بہت بڑی نشانیاں ہیں۔ اگر سورج اور چاند کی اپنے اپنے محور یہ گردشیں نہ ہوتیں تو لوگ اپنے معاملات، کاروبار، ملازمتوں اور دیگر امور کا حساب کتاب کس طرح رکھتے؟
شمسی سال کے مقابلے میں قمری سال زیادہ محکم اور یقینی ہے کیونکہ چاند کے حساب میں کبھی کوئی فرق نہیں آتا۔ جبکہ شمسی سال کے حساب میں بار بار ترمیم ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ کبھی دن بڑھانے پڑتے ہیں اور کبھی مہینوں میں الٹ پھیر کر کے سال کو نئے نقطے سے شروع کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر چوتھے سال میں ماہِ فروری کے 28 دنوں میں ایک دن بڑھا کر فروری کا مہینہ 29دن کا کردیا جاتا ہے۔ جس سال فروری 29 دن کا ہوتا ہے وہ لیپ کا سال (Leap year) کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر چار سو سال بعد شمسی حساب میں موسم اور مہینے کا فرق پڑ جاتا ہے۔

قمری مہینے موسم کا ساتھ نہیں دیتے، اسی لئے آپ نے دیکھا ہوگا کہ رمضان کبھی گرمی میں اور کبھی سردی میں آتا ہے، اسی طرح محرم کا مہینہ کبھی ٹھنڈا اور کبھی گرم ہوتا ہے۔ موسم چونکہ سورج کے گرد زمین کی حرکت سے پیدا ہوتے ہیں اور یہی حرکت شمسی سال کی بنیاد ہے، اسی وجہ سے شمسی سال کے مہینوں میں ہر دفعہ موسم تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے مثلاً جون جولائی گرمی کے اور دسمبر، جنوری، فروری وغیرہ سردی کے مہینے ہوتے ہیں۔

شریعتِ اسلامی میں عبادات کے معاملے میں تو قمری حساب ہی متعین ہے جبکہ دیگر کاروبار وغیرہ کے معاملات میں قمری حساب کو پسند تو کیا ہے، لیکن لازمی قرار نہیں دیا۔
قمری سال شعائرِ اسلام میں سے ہے، لیکن آج آپ دیکھتے ہیں کہ ہم لوگوں کو اسلامی مہینوں کے نام بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوتے چہ جائیکہ  روزانہ کی اسلامی تاریخ ہمیں یاد ہو۔ اسلامی تاریخ اور مہینوں کے ساتھ یہ بے توجہی ایک شرعی مسئلے کے علاوہ ہماری قومی اور ملی غیرت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

چونکہ اسلامی احکام کا دارومدار قمری حساب پر ہے اس لئے فقہاء نے قمری حساب کو باقی اور یاد رکھنا مسلمانوں کے ذمے فرضِ کفایہ قرار دیا ہے تاکہ مسلمانوں کو معلوم رہے کہ رمضان کے روزے کب شروع ہوں گے اور حج کے ایام کب آئیں گے وغیرہ۔

اگر ہم اپنے معاملات میں اسلامی تاریخ کو زندہ کرنا چاہیں تو کوئی مشکل نہیں وہ اس طرح کہ  آپ اپنے کاغذات و دستاویزات میں دونوں تاریخیں لکھنے کا اہتمام کریں، اوپر اسلامی ہجری تاریخ لکھ دیں اور اس کے نیچے شمسی تاریخ لکھ دیں۔ اس طرح آپ کی شمسی تاریخ کی ضرورت بھی پوری ہوجائے گی اور اسلامی تاریخ لکھنے سے آپ کو فرضِ کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور ساتھ ساتھ اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔

شریعتِ اسلام میں قمری حساب کو اختیار کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ چاند کو ہر آنکھوں والا افق پر دیکھ کر تاریخ کا اندازہ لگا سکتا ہے، پڑھا لکھا، اَن پڑھ، شہری، دیہاتی، جزیروں اور پہاڑوں میں رہنے والے، غرض سب ہی کو یہ بات نظر آتی ہے کہ 30 یا 29 دنوں کے بعد چاند بہت باریک سا دکھائی دیتا ہے، اس کے بعد روز بروز بڑھتا رہتا ہے اور پورا چاند روشن ہو جاتا ہے، پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور چھوٹا ہوتے ہوتے گم ہو جاتا ہے، پھر دو تین راتوں کے بعد باریک سا نمودار ہوتا ہے۔ جب 12 مرتبہ اسی طرح چاند کا عروج و زوال ہو جاتا ہے تو یہ نظر آتا ہے کہ تقریباًوہی پچھلا موسم آجاتا ہے۔ اس حقیقت کی شناخت کے لئے نہ کسی فلکیاتی حساب کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی رصد گاہ کی۔

زمانۂ قدیم سے دنیا اسی قاعدے پر عمل کرتی رہی البتہ مہینوں کے شمار کے لیے کسی بڑے واقعے کو سال کا نقطۂ آغاز قرار دے کر حساب ہوتا رہا، کہیں کسی بڑے میلے ٹھیلے کو نقطۂ آغاز قرار دیا گیا اور کہیں کسی زلزلہ، سیلاب، جنگ یا کسی بادشاہ کی تخت نشینی کو۔

مسلمانوں کا ہجری سال نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے اس عظیم واقعے سے شروع ہوتا ہے جو اسلام کی ابتدائی کمزوری اور قوّت وغلبہ کے دور کے درمیان حدِ فاصل اور خطِ امتیاز کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بھی نیا اسلامی سال شروع ہوتا ہے تو وہ ہمیں ہجرت کے اس عظیم واقعے سے سبق لینے کی دعوت دیتا ہے کہ ہر طرح کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے، کس قدر اذیتوں اور تکالیف سے دوچار نہ کیا جائے، اپنی عزیز از جان پیاری اولاد اور قیمتی مال ومتاع سے ہاتھ کیوں نہ دھونا پڑے، اپنے عزیز وطن، مانوس ماحول، محبوب دوستوں، بچپن کی ہم جولیوں اور وطن سے وابستہ اپنی قیمتی یادوں کو کیوں نہ ترک کرنا پڑے، بہرصورت اپنے ایمان و عقیدے، اپنے بنیادی نظریات اور اصول و قواعد سے وابستہ رہنا ہے، کسی حال میں بھی کمزور نہیں پڑنا۔
آج اس عظیم واقعے کو چودہ سو چالیس/1440 سال گزر چکے ہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پاکیزہ اصحاب رضی اللہ عنہم کی اپنے مذہب اور عقیدے پر زبردست جماؤ کی یہ داستانِ عشق و وَفا آج بھی زندہ ہے۔
اللّٰہ تعالی ہمیں بھی پکا سچا اور باعمل مسلمان بنائے، آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *