کیوں ؟۔۔۔ڈاکٹر شاکرہ نندنی

کیوں ہمارے ملک میں بجلی نہیں بنائی جا رہی ؟ جو شہر کچھ ڈیویلپڈ ہیں ان میں ہی مشکل سے 15 ، 16 گھنٹے بجلی ہوتی ہے ۔جو اوسط درجے کے شہر ہیں وہاں تو 10 سے 12 گھنٹے مشکل اور جو دیہات ہے وہاں تو تقریباً ندارد ۔اتنا کوئلہ ،اتنا پانی، ریت یہ سب ہونے کے باوجود کیوں بجلی نہیں بنائی جا رہی؟
کیوں ہم اپنے وسائل استعمال نہیں کر رہے ؟ چلیں نہیں بنائی جا رہی، جو بجلی ہے اس کی چوری پر ہی اگر قابو پا لیا جائے تو اس کو ہی اچھے طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیوں ہمارے ملک میں سینکڑوں اسکولز بند ہیں اور جن کا اسٹاف تنخواہیں بھی لیتا ہے مگر پڑھانے اسکول نہیں جاتا؟
کیوں ہماری 50% سے بھی زیادہ عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ؟ کیوں آج بھی دیہات میں لوگ زمانہ جاہلیت والی زندگی گزار رہے ہیں ؟

کیوں ہمارے نوجوان تعلیم حاصل کر کے بہتر وسائل کے لئے ملک سے باہر جانے پر مجبور ہیں؟ اور جن کو تعلیم حاصل کرنے کے  لیے وسائل نہیں  میسر ،وہ مدرسوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں غلط اسلام کی تشریح سکھا کر مسلکوں میں بانٹا جاتا ہے یا خود کش حملے کرنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ ہم جن مدرسوں میں بڑے شوق سے ثواب کی غرض سے خیرات دیتے ہیں دیگیں پکوا کر بھیجتے ہیں۔ کیا ہم جانتے ہیں کہ کتنے لوگوں کو مفت کی کھلا کر ہم اپاہج بنا رہے ہیں؟ جن کے بچے لاؤڈ اسپیکر اٹھا کر گلیوں گلیوں ۔۔ بسوں اور ویگنوں میں فنڈ کے نام پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ کیا سکھا رہے ہیں ہم انہیں؟ اسلام یا بھیک مانگنا ؟۔۔

نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں اور جتنا ریشو نوجوانوں کا ہمارے ملک میں ہے آئیڈیل ریشو کہلاتا ہے۔ ہم اس سرمائے کا کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟

کیوں ہمارے پورے ملک کے بچے ایک ہی نصاب نہیں پڑھ رہے؟

کیوں گورنمنٹ اسکولز میں تعلیم کا معیار گرا ہوا ہے؟

کیوں پرایئویٹ اسکولز اتنی بھاری فیس لے کر بھی بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت نہیں کر رہے؟ میری پاکستانی کزن جو کہ مسلمان ہے وہ خود ایک تعلیمی ادارے سے 5 سال منسلک رہی ہے، جہاں 1800 ماہانہ فیس دینے والا بچہ، میٹرک میں آ کر بھی نہ صحیح اردو لکھ پاتا ہے نہ انگلش۔ جنرل نالج دینا تو دور کی بات ہے، یہاں کورس کی کتابیں بھی ٹھیک سے نہیں پڑھائی جاتیں۔ صرف چند اسکولز جو بہتر تعلیم دے رہے ہیں اس کی فیس 5000 ماہانہ ہے جومتوسط طبقے کی پہنچ سے کوسوں دورہے۔

امریکہ میں صدر اوبامہ کا بچہ اور عام آدمی کا بچہ ایک ہی نصاب پڑھ رہے ہوتے ہیں ( پھر آپ کہیں گے کہ میں ان سے اپنا موازنہ کر رہی ہوں ۔۔جب تک موازنہ نہیں کیا جائے گا ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ ہمارے اندر کیا کمزوریاں ہیں ؟ )

کیوں اتنا صوبائی تعصب پایا جاتا ہے یہاں؟

کیوں ہماری قوم کو منظم کرنے کے بجائے منتشر کیا جاتا ہے ؟

کیوں ہماری عوام رشوت لینے اور دینے پر مجبور ہے؟

کیوں بجلی چوری کرنے پر مجبور ہے؟ ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے یا تباہی کی؟ اس طرح کے اور ہزاروں سوالوں کے جواب کس سے طلب کیے جائیں؟ کون ہے ذمہ دار اس کا؟

ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی
ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں۔شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایک ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *