نوین شاہ سے احمدپور شرقیہ تک

لئیق شاہ رسالپور کے رہائشی ہیں، یہ مچئی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں کنسٹرکشن اور پروجیکٹ منیجر ہیں. ان کا پانچ سالہ بیٹا نوین شاہ نرسری میں پڑھتا تھا، وہ روزانہ شام کو بچوں کے ساتھ گھر کے سامنے کھیلتا رہتا، نوین نے اپنے دوستو سے سنا تھا کہ پاکستان انڈیا کا فائنل میچ ہونے والا ہے، اس کے امی ابو نے پاکستان کے جیتنے کی دعائیں کیں تو نوین نے بھی ننھے ہاتھ دعا میں اٹھا دئیے. پھر انیس جون کا دن بھی آ گیا، گھر میں سب لوگ جمع تھے ہر نظر ٹی وی سکرین پر جمی ہوئی تھی، اشتہارات بھی دیکھے جا رہے تھے کہیں کوئی بال مس نہ ہو جائے، نوین نے بھی اس روز میچ دیکھا اور خوب دعائیں کیں، اسے نہیں پتا تھا اوور کیا ہوتے ہیں رنز کیا ہوتے ہیں کرکٹ کیسے کھیلتے ہیں وہ تو بس گھر والوں کو خوش دیکھ کر شور مچاتا تھا، پھر پاکستان جیت گیا تو نوین بھی ,جیت گئے بھئی جیت گئے اور مُنگہ میچ اوگٹلا کے نعرے لگاتا بچوں کے ساتھ باہر کھیلنے چلا گیا، آج وہ بہت خوش تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ کچھ جاہل بھی خوش تھے.

پاکستان میچ جیت گیا، اس خوشی میں ان جاہلوں نے ہوائی فائرنگ کی اور تیس افراد کو گولی مار دی، پانچ سالہ نوین شاہ بھی گولی کھا کر گرا اور پھر کبھی اٹھ نہ سکا، اس کے ماں باپ کو خبر ملی تو ان پر قیامت گزر گئی، بچے کو اٹھایا اور ہسپتال بھاگے لوکل ہسپتال نے جواب دے دیا اور انہیں پشاور لیڈی ریڈنگ اسپتال جانے کو کہا. باپ نے پھر سے ننھی سی جان کو اٹھایا اور پشاور بھاگا. نوین شاہ تین دن زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا رہا اور پھر ظالموں کی اس دنیا کو چھوڑ گیا.. لئیق شاہ صاحب میرے فیس بک فرینڈ ہیں، نوین کی تصاویر میں نے اپلوڈ ہوتے دیکھیں، باپ کی خوشیاں دیکھیں اور دعائیہ کلمات بھی ادا کرتا رہا. نوین کی ناگہانی موت پر آنسو بھی بہائے اور تحریر لکھتے بھی کئی بار آنکھیں بھگو چکا ہوں. یہ ایک نوین شاہ کی کہانی ہے، ایسی ایک کہانی میرے دوسرے دوست سعد کے چھوٹے بھائی کی ہے، اسے کراچی میں گولی مار دی گئی وہ بھی دنیا میں نہیں رہا. ہر شخص ایک داستان لیے ہوئے ہے.

میں جانتا ہوں کہ اگر بیس کروڑ پاکستانی بھی معذرت کریں، نادم ہوں، تعزیت کریں تو بھی لئیق بھائی کے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتے پھر بھی میں شاہ جی کی فیس بک پروفائل کا لنک اور فون نمبر دے رہا ہوں. آپ ان سے معافی مانگیں، معذرت کریں یا تعزیت کریں لیکن کچھ نہ کچھ ضرور کریں. ساتھ ساتھ یہ بھی عہد کریں کہ آئندہ ایسی کسی بھی ایکٹیویٹی کا حصہ نہیں بنیں گے اور حتی الوسع اسے روکنے کی کوشش کریں گے. ہم نے میچ جیتنے کی خوشی میں تیس افراد کو گولی مار دی دو بچے جاں بحق ہو گئے، ہم نے پارا چنار اور کوئٹہ میں دھماکے کیے جن میں سو افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے جن کی فہرست لگ چکی ے. ہم نے بہاولپور میں پیٹرول کا ٹینکر لوٹ لیا، اسی دوران آگ لگی اور سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے. یہ سب کیا ہے؟ اتنی جہالت اور خون خرابا کیوں ہے؟ ہم کیوں جہاد کے نام پر ایک دوسرے کو دھماکے سے اڑا رہے ہیں؟ گستاخی کے الزام پر کیوں جان سے مار دیا جاتا ہے؟

اظہار افسوس کرتے ہیں،تعزیت کے لئے تشریف لے گئے،سخت مذمت کرتے ہیں،خودکش حملے کرنے والے انسان نہیں ہو سکتے،ہمارا کوئی تعلق نہیں، وغیرہ وغیرہ محض بیانات جاری کرنے سے کچھ نہیں ہو گا. جو انسان نہیں ہو سکتے وہ مسلمان کیسے ہو سکتے ہیں. ہمیں چاہیے کہ تمام علماء ان پرائیویٹ جہادی تنظیموں کے کفر کا فتوٰی دیں، ہر مسجد کے ہر منبر سے، ہر سٹیج سے اس قتل عام کے خلاف آواز بلند کی جائے اور کم از کم پانچ سال تک کی جائے. افغان جہاد میں مجاہدین کی کھیپ تیار کی اب مجاہدین کی یہ فیکٹری بند کرنا پڑے گی ورنہ ہم ایک دوسرے کو ہی کاٹ کھائیں گے.

زندہ قومیں ایسے حادثات کی وجوہات تلاش کرتی ہیں، سانحات کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں، غلطیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے ان کا سدباب کیا جاتا ہے، عوام کو تعلیم دی جاتی ہے تاکہ دوبارہ کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے. آپ امریکہ کی مثال لیجیے، وہاں ایک 9/11 ہوا پھر دوسرا نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ امریکہ نے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو کنٹرول کیا، آپ انگلینڈ، جرمنی اور فرانس کی مثالیں بھی دے سکتے ہیں. کافروں کو چھوڑیں آپ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین کی پولیس دیکھ لیں، فائر بریگیڈ دیکھ لیں اور سیکھ لیں. لیکن ہم نے کسی سے کچھ نہ سیکھنے کی قسم کھائی ہے. نہ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کریں گے نہ دوسروں کی اچھائیوں سے سیکھیں گے.
وما علینا الا البلاغ

لئیق شاہ : 0346-9322275
فیس بک : https://www.facebook.com/laique.shah.92

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *