• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • غیر مسلم مشاہیر کی نظر میں امام حسین ؑ کا مقام ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

غیر مسلم مشاہیر کی نظر میں امام حسین ؑ کا مقام ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

ایک بہت مشہور شعر ہے کہ

ہر زباں ذکر مولا حسین ؑ کرے
ساری دنیا حسین ؑ حسین ؑ کرے

امام حسینؓ صرف ایک شخصیت کا نام نہیں ہے بلکہ ایک نظریہ کا نام ہے- ایک اصول اور ایک نظامِ حیات کا نام ہے۔ حسینیت امن و سلامتی اور حق کی علامت ہے۔ حسینیت دینِ فطرت اور انسانیت کی اساس ہے- حسینؓ ابن علی کا تعلق کسی خاص قوم یا کسی خاص فرقہ سے نہیں بلکہ آپ کا تعلق دنیائے انسانیت سے ہے۔ اسی لئے شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی فرماتے ہیں:

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؓ
چرخ نوع بشر کے تارے ہیں حسینؓ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

نواسۂ رسولؐ جگر گوشۂ بتول‘ فرزند مرتضیٰ, امام حسین ابن علیؓ کو صرف مسلمانوں کے لئے محدود کرنا حسینیت پر سراسر ظلم کے مترادف ہے کیونکہ حسینؓ کے سامنے نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ پوری انسانیت کی فلاح کا ہدف تھا۔ اسی لیے امام حسینؓ نے اپنے اصحابِ باوفا اور مخدراتِ عصمت وطہارت کی ہمراہی میں جو اصولوں کی جنگ لڑی اس کے اثرات پوری دنیا پر یکساں مرتب ہوئے۔ آپ کے اصول اور آپ کی قربانی جہاں اسلام کی بقا کی ضمانت ہیں وہاں بلاتفریقِ مذہب و ملت اور علاقہ و ملک عدل و انصاف کی فراہمی, آزادی کے حصول, حقوق کی جنگ, فرائض کی ادائیگی جذبۂ ایثار و قربانی, عزم وہمت اور جوش وولولہ کے جاودانی پیغام بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر طبقۂ فکر اور مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے مشاہیر آپ کی ذات اور کردار سے برملا عقیدت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف مذاہب کے پیشوا, دانشور, مفکر اور شعرا نے حسین ابن علیؓ کی بارگاہ میں جس عقیدت کا اظہار کیا ہے ان میں سے چند غیر مسلم معروف شاعروں, دانشوروں اور مفکروں کا اظہار عقیدت مختصراً پیش خدمت ہے:-

مصنف:غیور شاہ ترمذی

1- ہندو شاعر منشی دیشو پرشاد ماتھر لکھنوی کو اہل بیت اطہار بالخصوص حضرت سید الشہداء امام حسینؓ کی مدح سرائی کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل ہے- وہ کہتے ہیں:

انسانیت حسینؓ تیرے دم کے ساتھ ہے
ماتھر بھی اے حسینؓ تیرے غم کے ساتھ ہے-

یہی شاعر دوسری جگہ یوں اظہارِ خیال کرتے ہیں:

مسلمانوں کا منشاء عقیدت اور ہی کچھ ہے
مگر سبطِ نبیؐ سے میری نسبت اور ہی کچھ ہے-

ان کا ایک قطعہ عزاداریِ سید الشہداء کو کس طرح ایک فطری عمل قرار دیتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے

یہ آہ نہیں ہے بجلی ہے, یہ اشک نہیں موتی ہے
جو چیز ہے فطرت میں شامل وہ بھی کہیں بدعت ہوتی ہے
انساں کی اولادت اور قضا دونوں ہی میں غم ہے جلوہ نما
آتا ہے تو وہ خود روتا ہے, جاتا ہے تو دنیا روتی ہے

2- معروف مصنف تھامس کارلائل اپنی کتاب Heroes and Heroes Worship میں اپنا نقطہ نظر یوں بیان کرتا ہے:

“کربلا کے المیہ سے ہمیں سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ امام حسینؓ اور آپ کے ساتھیوں کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین تھا۔ آپ نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ حق اور باطل کی کشمکش میں تعداد کی برتری کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی  ہے اور بہادری کا جو سبق ہمیں تاریخ کربلا سے ملتا ہے وہ کسی اور تاریخ سے نہیں ملتا”۔

3- ایک اور عیسائی دانشور ڈاکٹر کرسٹوفر اپنی آرزو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:-

’’کاش دنیا امام حسینؓ کے پیغام‘ ان کی تعلیمات اور مقصد کو سمجھے اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی اصلاح کرے‘‘۔

4- حضرت امام حسینؓ کے حوالے سے عیسائی مبلغ ڈاکٹر ایچ ڈبلیو بی مورنیو نے یوں اظہار خیال کیا ہے:-

’’امام حسین صداقت کے اصول پر سختی کے ساتھ کاربند رہے اور زندگی کی آخری گھڑی تک مستقل مزاج اور اٹل رہے۔ انہوں نے ذلت پر موت کو ترجیح دی۔ ایسی روحیں کبھی فنا نہیں ہوسکتیں اور امام حسینؓ آج بھی انسانیت کے رہنماؤں میں بلند مقام رکھتے ہیں‘‘۔

5- جے اے سیمسن کہتے ہیں ’’حسینؓ کی قربانی نے قوموں کی بقاء اور جہاد زندگی کے لئے ایک ایسی مشعل روشن کی جو رہتی دنیا تک روشن رہے گی‘‘۔

6- جی بی ایڈورڈ کا کہنا ہے:

تاریخ اسلام میں ایک باکمال ہیرو کا نام نظر آتا ہے جس کو حسینؓ کہا جاتا ہے۔ یہ محمدؐ کا نواسہ, علیؓ و فاطمہؓ کا بیٹا, لاتعداد صفات و اوصاف کا مالک ہے جس کے عظیم و اعلیٰ کردار نے اسلام کو زندہ کیا اور دین خدا میں نئی روح ڈال دی۔ حق تو یہ ہے کہ اسلام کا یہ بہادر میدانِ کربلا میں شجاعت کے جوہر نہ دکھاتا اور ایک پلید و لعین حکمران کی اطاعت قبول کرلیتا تو آج محمدؐ کے دین کا نقشہ کچھ اور نظر آتا- وہ کبھی اس طرح کہ نہ تو قرآن ہوتا اور نہ اسلام ہوتا, نہ ایمان, نہ رحم و انصاف, نہ کرم و وفا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ انسانیت کا نشان تک دکھائی نہ دیتا۔ ہر جگہ وحشت و بربریت اور درندگی نظر آتی۔

7- مہاراج یوربندسر نٹور سنگھ کہتے ہیں:

قربانیوں ہی کے ذریعہ تہذیبوں کا ارتقا ہوتا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ایک قابلِ فخر کارنامہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے جان دے دی لیکن انسانیت کے رہنما اصولوں پر آنچ نہیں آنے دی۔ دنیا کی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی کے زیر قدم امن اور مسرت دوبارہ بنی نوع انسان کو حاصل ہوسکتی ہیں بشرطیکہ انسان ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرے۔

8- انڈین نیشنل کانگریس کے سابق صدر بابو راجندر پرشاد کا قول ہے:

کربلا کے شہیدوں کی کہانی انسانی تاریخ کی ان سچی کہانیوں میں سے ایک ہے جنہیں کبھی نہیں بھلایا جائے گا, نہ ان کی اثر آفرینی میں کوئی کمی آئے گی۔ دنیا میں لاکھوں کروڑوں مرد اور عورتیں اس سے متاثر ہیں اور رہیں گے۔ شہیدوں کی زندگیاں وہ مشعلیں ہیں جو صداقت اور حریت کی راہ میں آگے بڑھنے والوں کو راستہ دکھاتی ہیں, ان میں استقامت کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں۔

9- سوامی شنکر اچاریہ کہتے ہیں:-

“اگر حسینؓ نہ ہوتے تو دنیا سے اسلام ختم ہوجاتا اور دنیا ہمیشہ کے لئے نیک بندوں سے خالی ہوجاتی۔ حسینؓ سے بڑھ کر کوئی شہید نہیں‘‘۔

10- مشہورافسانہ نگار منشی پریم چند لکھتے ہیں:-

“معرکہ کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے اور شاید آخری بھی ہو جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور اس کی صدائے بازگشت آج تک فضائے عالم میں گونج رہی ہے‘‘۔

11- ڈاکٹر سہنا کا کہنا ہے ’’اس میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں کہ دنیا کے شہیدوں میں امام حسینؓ کو ایک ممتاز اور بلند حیثیت حاصل ہے‘‘۔

12- ایک سکھ لیڈر سردار کرتار سنگھ اپنے احساسات یوں بیان کرتے ہیں:-

’’محمدؐ نے جو انسانیت کے بہترین اصول پیش کیے  تھے, حسینؓ نے اپنی قربانی اور شہادت سے انہیں زندہ کردیا۔ ان پر ہدایت کی مہر لگادی۔ حسینؓ کا اصول اٹل ہے‘‘۔

13- مشہور جرمن فلاسفر نطشے بلاامتیاز مذہب و ملت ہر قوم کی نجات کو فلسفۂ حسینیت میں یوں تلاش کرتے ہیں:

“زہد و تقویٰ اور شجاعت کے سنگم میں خاکی انسان کے عروج کی انتہا ہے جن کو زوال کبھی نہیں آئے گا۔ اس کسوٹی کے اصول پر امام عالی مقام نے اپنی زندگی کی بامقصد اور عظیم الشان قربانی دے کر ایسی مثال پیش کی جو دنیا کی قوموں کی ہمیشہ رہنمائی کرتی رہے گی”۔

14- اردو ادب کے شہرہ آفاق نقاد اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر گوپی چند نارنگ اپنی کتاب ’’سانحۂ کربلا بطور شعری استعارہ‘‘ میں لکھتے ہیں :

“راہِ حق پر چلنے والے جانتے ہیں کہ صلوٰۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے اور سب سے سچی گواہی خون کی گواہی ہے۔ تاریخ کے حافظے سے بڑے سے بڑے شہنشاہوں کا جاہ و جلال, شکوہ و جبروت, شوکت و حشمت سب کچھ مٹ جاتا ہے لیکن شہید کے خون کی تابندگی کبھی ماند نہیں پڑتی۔ اسلام کی تاریخ میں کوئی قربانی اتنی عظیم, اتنی ارفع اور اتنی مکمل نہیں ہے جتنی حسینؓ ابن علیؓ کی شہادت۔ کربلا کی سرزمین ان کے خون سے لہولہان ہوئی تو درحقیقت وہ خون ریت پر نہیں گرا بلکہ سنتِ رسولؐ اور دین ابراہیمی کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے سینچ گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایک ایسے نور میں تبدیل ہوگیا جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے نہ نیزہ چھید سکتا ہے اور نہ زمانہ مٹا سکتا ہے۔ اس نے اسلام کو جس کی حیثیت اس وقت ایک نوخیز پودے کی سی تھی‘ استحکام بخشا اور وقت کی آندھیوں سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا۔

امام حسینؓ کے حوالے سے ان چند غیر مسلم مفکروں اور ادیبوں کے خیالات کے علاوہ ایسے ہی دیگر بے شمار غیر مسلم دانشوروں نے واقعہ کربلا میں امام حسینؓ کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے انسانی فلاح کا ضامن قرار دیا ہے۔ امام عالی مقام کی ذات ایک ایسی ذات ہے جن کے بارے میں بے شمار غیر مسلم شعرا نے سلام اور مرثیے بھی تخلیق کئے جن میں سے چند ایک نام یہ ہیں:-

پنڈٹ ایسری پرشاد, پنڈت دہلوی, حکیم چھنو مل نافذ دہلوی, مہاراجہ بلوان سنگھ راجہ, چھنو لال دلگیر, دلو رام کوثری, رائے سندھ ناتھ فراقی, نتھونی لال دھون وحشی, کنور سین مضظر, بشیشو پرشادمنور لکھنوی, نانک چند کھتری نانک, روپ کماری کنور, لبھو رام جوش ملسیانی, گوپی ناتھ امن, باوا کرشن گوپال مغموم, نرائن داس طالب دہلوی, دگمبر پرشاد جین گوہر دہلوی, کنور مہندر سنگھ بیدی سحر, وشوناتھ پرشاد ماتھر لکھنوی, چند بہاری لال ماتھر, صبا جے پوری, گورو سرن لال, ادیب, پنڈت رگھو ناتھ سہائے امید, امر چند قیس, راجندر ناتھ شیدا, رام پرکاش ساحر, مہرلال سونی ضیا فتح آبادی, جاوید و ششت, رائے بہادر بابو اتاردین اور درشن سنگھ دُگل وغیرہ۔

امام حسینؓ کے بارے میں ایک دانشور نے کچھ یوں کہا تھا کہ جب دنیا کی ہر قوم حسینؓ کی دعویدار بن جائے تو پھر اختلاف کس بات کا۔ لہٰذا علم و دانش اور عقل و آگہی کے اس روشن دور میں تمام عالم انسانیت کو چاہیے کہ وہ  صرف ’’ہمارے ہیں حسینؓ‘‘ کے دعوے تک محدود نہ رہے بلکہ فلسفۂ حسینؓ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ اس وقت مسلمانانِ عالم جن مصائب و آلام سے دوچار ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم بظاہر تو حسینی ہونے کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن حقیقت میں ہم حسینیت کی روح اور مفاہیم سے نابلد ہیں اور مسلمانوں کو حسینیت کے اصول و قواعد پر غور کرکے ان پر عمل کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی جتنی ضرورت اب ہے کبھی نہ تھی۔

پس تحریر نوٹ:
راقم نے اس تحریر کی تدوین کے لئے جناب محمد حسن حسرت آف سکردو ، بلتستان کے ایک مقالہ سے مدد لی ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”غیر مسلم مشاہیر کی نظر میں امام حسین ؑ کا مقام ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

  1. فضیلت حضرت علیؑ غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں
    تحریر: ایس ایم شاہ
    ………………………
    ایک سوال ہمیشہ سے میرے ذہن میں کھٹکتا رہتا تھا، جس سے میرا ذہن ہمیشہ اضطراب میں رہتا تھا، میری ہمیشہ سے کوشش یہ رہتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس مشکل کو حل کیے بغیر نہیں رہوں گا، اس سوال نے مجھے مختلف لائبریریوں تک پہنچا دیا، مختلف دانشوروں سے سوال کرنے پر مجبور کیا، مختلف شہروں میں پھرایا، آخر کار جب مجھے قانع کنندہ جواب ملا تب مجھے اطمینان محسوس ہوا، شاید یہ سوال آپ کے ذہن میں بھی موجزن ہو، وہ سوال تھا کہ جن بزرگان دین کو ہم اپناپیشوا مانتے ہیں، ان کی ستائش اور تعریف و تمجید کو ہم اپنا وطیرہ بنا رکھتے ہیں، کیا وہ حقیقت میں ہی ان مقامات عالیہ پر فائز ہیں یا ہمارے والدین کی تربیت کے باعث ہمارے ذہنوں میں ان کا ایک ایسا مقام بن گیا ہے؟ میں نے مختلف اسلامی کتابوں کا مطالعہ کیا، ہر جگہ ان ہستیوں کی فضیلتوں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے تھے، پھر بھی میں مطمئن نہیں ہوا، شاید دینی پیشوا ہونے کی بناپر مسلم تاریخ دانوں اور سیرت نگاروں نے حقیقت کو دیکھے بغیر اپنی ذاتی عقیدت کی بنا پر ایسا کیا ہو، اس کے بعد میرے ذہن میں ایک تدبیر آئی کہ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ میں غیرمسلموں کے آثار اور کتابوں کا ذرامطالعہ کرکے دیکھتا ہوں کہ وہ ان ہستیوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں، کیونکہ حقیقی فضیلت وہ ہوا کرتی ہے جس کی شہادت دشمن بھی دے، میں نے حضور اکرم (ص) کے حوالے سے دیکھا ، سبھی دوست و دشمن ان کے مداح پائے، حضرت زہرا ؑ کے حوالے سے میں نے تحقیق شروع کی۔ مسیحیوں اور دوسرے غیرمسلموں کی ان کی شان میں مستقل کتابوں اور مقالوں نے ان سے میری عقیدت میں پختگی کا سامان فراہم کیا، پھر میں تمام مسلمانوں کے پیشوا حضرت علیؑ کے حوالے سے دقت نظر سے تحقیق شروع کی، ان کے حوالے سےمختلف کتابوں کا میں نے مطالعہ کیا، غیرمسلم دانشوروں اور مستشرق افراد سے ان کے حوالے سے رائے لی، “ایک مسیحی پولس سلامہ (Poul Salama) کا کہنا ہے: ہاں میں ایک مسیحی ہوں، وسعت نظر ہوں، تنگ نظر نہیں ہوں، میں خود تو مسیحی ہوں لیکن ایک ایسی شخصیت کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں تمام مسلمانوں کا کہنا ہے کہ خدا ان سے راضی ہے، پاکیزگی اس کے ساتھ ہے، شاید خدا بھی ان کا احترام کرے، مسیحی اپنے اجتماعات میں ان کو موضوع سخن قرار دیتے ہیں اور ان کے فرامین کو اپنے لیے نمونہ عمل سمجھتے ہیں، ان کی دینداری کی پیروی کرتے ہیں، آئینہ تاریخ نے پاک و پاکیزہ اور اپنے نفس کو سرکوب کرنے والی بعض نمایاں ہستیوں کی واضح تصویر کشی کی ہے، ان میں علیؑ کو سب سے برتری حاصل ہے۔یتیموں اور فقراء کی حالت زار دیکھ کر غم سے نڈھال ہوکر آپ کی حالت ہی غیر ہوجاتی تھی۔ اے علیؑ آپ کی شخصیت کا مقام ستاروں کے مدار سے بھی بلند و برتر ہے۔ یہ نور کی خاصیت ہے کہ پاک و پاکیزہ باقی رہتا ہے اور اور گرد و نواح کے گرد و غبار اسے داغدار اور آلودہ نہیں کرسکتے۔وہ شخص جو شخصیت کے اعتبار سے آراستہ پیراستہ ہو وہ ہرگز فقیر نہیں ہوسکتا، آپ کی نجابت و شرافت دوسروں کے غم بانٹنے کے ذریعے پروان چڑھی تھی۔ دینداری اور ایمان کی حفاظت میں جام شہادت نوش کرنے والا مسکراہٹ اور رضامندی کے ساتھ درد و الم کو قبول کرتا ہے”۔ پھر میں نے فرانس کے میڈم ڈیلفو Madame Dyalfv)کو آپ کی خصوصیات یوں بیان کرتے پایا” حضرت علیؑ کااحترام شیعوں کے نزدیک بہت زیادہ ہےاور یہ بجا بھی ہے۔ کیونکہ اس عظیم ہستی نے اسلام کی ترویج کے لیے بہت ساری جنگوں میں اپنی فداکاری کا مظاہرہ کیا،ساتھ ہی علم، فضائل، عدالت اور دوسرے صفات حمیدہ میں بھی آپ بے نظیرتھے، آپ نے اپنے صلب سے ایک پاکیزہ نسل چھوڑی، آپ کے بچوں نے بھی آپ کی سیرت کو اپنایا، اسلام کی سربلندی کے لیے مظلومیت کے ساتھ وہ بھی جام شہادت نوش کرگئے،حضرت علیؑ وہ باعظمت ہستی ہیں جس نے ان تمام بتوں کو توڑ ڈالا جسے عرب یکتا خدا کے شریک ٹھہراتے تھے۔اس طرح آپ توحید پرستی اور یکتا پرستی کی تبلیغ کرتے تھے، آپ ہی وہ ہستی ہیں جس کا ہر عمل اور کام مسلمانوں کے ساتھ منصفانہ ہوا کرتا تھا، آپ ہی وہ ہستی ہیں جس کی خوشخبری اور دھمکی دونوں حتمی ہوا کرتی تھیں۔ اس کے بعدمادام دیالافوائے مسیحی اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوتا ہے: اے میری آنکھیں!آنسوبہالو اور میری آہ و بکاء میں اسے شامل کرلو اور اولاد پیغمبر کی جنہیں مظلومیت کے ساتھ شہید کیا گیا عزاداری کرو!ان غیر مسلموں کے کتابوں کا میں جتنا مطالعہ کرتا گیا، ان کی غیر جانبدارنہ اظہار عقیدت نے حضرت علیؑ سے میری عقیدت میں مزید اضافہ کرتا گیا۔ میرے مطالعے کا شوق بھی بڑھتا گیا۔ پھر مجھے ایک مشہور برطانوی مستشرق جرنل سرپرسی سایکس(Journal Sir Percy Sykes)کے اظہار عقیدت اور حقیقت بیانی کو پڑھنے کا موقع ملا، “حضرت علیؑ دوسرے خلفاء کے درمیان شرافت نفس، بزرگواری اور اپنے ماتحت افراد کا خیال رکھنے کے اعتبار سے بہت مشہور تھے۔ بڑے لوگوں کی سفارشات اور خطوط آپ کی کارکردگی پر اثرانداز نہیں ہوتےتھے اور نا ہی ان کے تحفے تحائف پر آپ ترتیب اثر دیتے تھے۔ آپ کےحریف، غدار اور داغدار چہرہ معاویہ سے آپ کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ تو اپنے ہدف کو پانے کے لیے بڑے بڑے جرائم کے ارتکاب سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔ساتھ ہی اپنے مقصد کو پانے کے لیے پست ترین چیزوں کا بھی سہارا لیتا تھا۔ امانتوں کے معاملے میں حضرت علیؑ کی بہت زیادہ باریک بینی اور آپ کی ایمانداری کے باعث لالچی عرب آپ سے نالاں تھے۔ جنھوں نے اتنی بڑی سلطنت کو غارت کررکھا تھا۔ سچائی، پاکیزہ عمل، کامل دوستی، حقیقی عبادت و ریاضت، اخلاص ، وارستگی اور بہت سارے صفات حمیدہ سے آراستہ ہونے کے باعث آپ کو ایک خاص حیثیت حاصل تھی۔ ایرانی جو ان کی ولایت کے قائل ہوگئے ہیں اور ان کو خدا کی طرفسے حقیقی امام اور مربی مانتے ہیں حقیقت میں بھی ان کا یہ اعتقاد بہت ہی قابل تحسین اور اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ حضرت علیؑ کا مقام و رتبہ اس سے کہیں بلند و بالا ہیں” حقائق کے دریچے کھلتے گئے، میرا اشتیاق بڑھتا گیا۔ایک فرانسوی پروفیسر اسٹانسیلاس (Professor Astansylas) کاایک منفصفانہ فیصلہ میری نظروں سے گزرا، ” معاویہ نے مختلف جہات سے اسلام کی مخالفت کی ہے۔ علی بن ابی طالب جو پیغمبر اسلام کے بعد سب سےباعظمت، سب سے دلیر، سب سے افضل اور عرب کے بہترین خطیب ہیں، معاویہ ان سے جنگ پر تلے آئے، اب مسیحی میخائیل نعیمہ(Makahial Naima) نے جو علیؑ کی شجاعت کی تصویر کشی تھی وہ مزید میری دلچسپی کا سبب بنی، “حضرت علیؑ کی پہلوانی صرف میدان کارزار تک محدود نہ تھی بلکہ آپ روشن فکری، پاکیزہ وجدان، فصیح بیان، انسانیت کی گہرائی اور کمال پر فائز ہونےکے علاوہ ایمان کی حرارت اور جذبہ ایمانی سے بھی سرشار تھے، آپ کے حوصلے بلنداور فکر وسیع تھی، آپ ظالم و جابر کے مقابلے میں ستمدیدہ اور مظلوموں کی مدد اور حمایت کرتے تھے۔ حق کے لیے آپ صاحب حق کے ساتھ فروتنی سے پیش آتے اور باطل کے خلاف آپ پہلوان ہوتے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی شخص جتنا بھی ذہین اور برجستہ شخصیت کے حامل اور نکتہ سنج ہی کیوں نہ ہواس کے لیے بھی ممکن نہیں کہ وہ1000 صفحات میں حضرت علیؑ کی کامل تصویر کشی کرسکے، نہ ہی آپ کی زندگی میں جو حالات رونما ہوئے ہیں ان سب کو مناسب انداز میں کوئ بیان کرسکتے ہیں۔ بنابریں علیؑ نے جن چیزوں کے بارے میں غور فکر کیا ہے وہ بھی بیان سے بالاتر ہے، اسی طرح عرب کے اس عظیم شخصیت نے اپنے اور اپنے خدا کے درمیان جو راز و نیاز کی باتیں کی ہیں اور جن چیزوں کو عملی جامہ پہنچایا ہے، یہ سب ایسے امور ہیں جسے نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے۔ جن چیزوں کو نوک قلم سے صفحہ قرطاس پر اتارا گیا یا زبان سے ظاہر ہواوہ سب ان امور کےشمارسے بہت ہی کم ہے”۔مجھے نہ تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی اور نہ ہی بھوک پیاس کا احساس تھا، فضیلتوں کے باغوں کی سیر نے دنیاومافیھا سے میری توجہ کو ہٹادیا تھا، بعدازاں جب میری نظر”گیبریل ڈانگیرے” (Gabriel Dangyry) کی تحریر پر پڑی تو مجھے ایسا لطف اور ایسا کیف محسوس ہورہا تھا کہ جس کے بیان کے لیے میرے پاس ذخیرہ الفاظ نہیں،” حضرت علی ؑ میں دو ایسی ممتاز اور برجستہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جو آج تک کسی بھی پہلوان میں جمع نہ ہوسکی۔ ایک تو یہ ہے کہ آپ ایک نامور پہلوان ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے امام و پیشوا بھی تھے۔ جہاں آپ میدان جنگ میں کبھی شکست سے دوچار نہ ہونے والے کمانڈر ہیں تو الہی علوم کے عالم اور صدر اسلام کے فصیح ترین خطیبوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے ۔ حضرت علیؑ کی دوسری منفرد خصوصیت یہ تھی کہ آپ کو اسلام کے تمام مکاتب فکر عزت و وقار کی نظر سے دیکھتے ہیں، ساتھ ہی آپ کی خواہش نہ ہوتے ہوئے بھی تمام اسلامی فرقے آپ کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں۔ جبکہ ہمارے نامور مذہبی پیشواؤں کو اگر ایک کلیسا والے مانتے ہیں تو دوسرے اس کے انکاری ہیں۔علیؑ ایک زبردست خطیب، بہترین قلمکار، بلندپایہ قاضی تھے اور مکاتب فکرکے موسسین میں آپ پہلے درجے پر فائز ہیں۔ جس مکتب کی بنیاد آپ پر پڑی، وہ واضح و روشن اور منطقی استحکام اور ترقی و جدت کے اعتبار سے ممتاز ہے۔ علیؑ شرافت و شجاعت میں بے مثل تھے۔ آپ کی بلاغت اس قدر اعلی درجے کی ہے کہ گویا سونے کے تاروں سے ان کو جوڑا گیا ہو”۔ میرے سامنےفضیلتوں کا ایسا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نمودار ہوا ،جن کی شمارش سے میں قاصر تھا ۔ میں نے جلدی جلدی بعض اہم شخصیات کے ایک ایک جملے کو اخذ کرنے کی کوشش کی۔” حضرت علی نے اپنی دانش سے ثابت کیا کہ وہ ایک عظیم ذہن رکھتے ہیں اوربہادری ان کے قدم چھوتی ہے۔(سکاڈش نقاد اور مصنف تھامس کارلائل (1795-1881) “حضرت علیؑ کی فصاحت تمام زمانوں سانس لیتی رہے گی، خطابت ہو یا تیغ زندی وہ یکتا تھے۔ برطانوی ماہر تاریخ ایڈوڈ گیبن(1737-1794)”حضرت علیؑ لڑائی میں بہادر اور تقریروں میں فصیح تھے، وہ دوستوں پر شفیق اور دشمنوں پر فراخ دل تھے۔ “(امریکی پروفیسرفلپ کے حتی1886-1978)”سادگی حضرت علیؑ کی پہچان تھی انھوں نے بچپن سے اپنا دل و جان رسول خدا کے نام کردیا تھا۔ سرویلیم مور (1905-1918)”حضرت علیؑ ہمیشہ مسلم دنیا میں شرافت اور دانشمندی میں مثال رہیں گے”۔ (برطانوی ماہر حرب جیرالڈ ڈی گورے 1897-1984)”حضرت علیؑ کا اسلام سے مخلصانہ پن اور معاف کرنے کی فراخدلی نے ہی ان کے دشمنوں کو شکست دی”۔معروف برطانوی ماہر تعلیم دلفرڈ میڈلنگ(1930-2013)”خوش نصیب ہے وہ قوم جس میں علیؑ جیسا عادل اور مرد شجاع پیدا ہوا۔ نبی اکرم (ص) سے انہیں وہی نسبت ہے جو حضرت موسی سے حضرت ہاروں کو تھی”۔معروف مورخ چارلس ملز(1788-1826)”خانہ خدا میں حضرت علیؑ کی ولادت ایک ایسا خاصہ ہے جو کسی اور کا مقدر نہیں”۔ برطانوی ماہر تعلیم سائمن اوکلے (1678-1720)”علیؑ ایسے صاحب فصاحت تھےعرب میں ان کی باتیں زبان زد عام ہیں،آپٖ ایسے غنی تھے مساکین کا ان کے گرد حلقہ رہتا تھا”۔ امریکی تاریخ دان واشنگٹن آئیورنگ(1783-1859)ٖ”میرے نزدیک علیؑ کو سمجھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے”۔بھارتی صحافی ڈی ایف کیرے(1911-1974)اس وقت میں دھنگ رہ گیا جب میں غیرمسلموں کے حضرت علیؑ سے اظہار عقیدت کو دیکھتے دیکھتے میری آنکھیں جواب دے گئیں، میرے ہاتھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا، میرے کانوں میں اب مزید فضائل برداشت کرنے کی طاقت نہ رہی۔ اب میں اس حقیقت تک جاپہنچا کہ اگر کائنات کی تمام درخت قلم، جن و انس لکھنے والے اور سارے سمندر سیاہی بھی بن جائےتب بھی حضرت علیؑ کی فٖضیلتوں کے سمندر کے کنارے بھی نہیں پہنچنا ممکن نہیں۔اب بھی اگر لوگ علی ؑ کو دوسرے غیر معصوموں سے فضیلت میں مقائسہ کرنے لگ جائیں تو سراسر ان کے ساتھ ناانصافی ہے، سمندر کو قطرے سے مشابہت دینے کی مانند ہے۔اب میرے سوال کا کماحقہ جواب مجھے مل گیا ہے۔ اب یہ میرے ایمان کا پختہ حصہ بن گیا ہے کہ کائنات میں حضور اکرمؐ کے بعد سب سے افضل ہستی امام علیؑ ہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *