• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ا ٓکہ! شبِ آشوب میں گریہ تازہ کریں۔۔۔۔۔ رابعہ رحمن

ا ٓکہ! شبِ آشوب میں گریہ تازہ کریں۔۔۔۔۔ رابعہ رحمن

محترم،قابلِ قدر، گوہر نایاب صوفی، فقیر، مجذوب، ذاکر، میرے روحانی مرشد اور روحانی رہنما علامہ ضیا حسین ضیا صاحب کل رات مجھ سے اللہ کے حضور پیش ہونے کے طریقے پہ گفتگو کر رہے تھے اور آج وہ اللہ سے ملاقات کے لیے اس کے دربار میں جا بیٹھے۔وہ اپنے خوشبوئے بدن سے روح پہ زعفرانی فضائل لکھتے،انکی آنکھیں نوری علم بیان کرتیں، انکی گردن کی پھولی رگیں روحانیت کا چشمہ جاری کرتیں۔ کہاں ملیں گے ان جیسے اندر باہر سے حسین لوگ،ہم نے ان کوالوداع نہیں کہنا!۔۔۔بس انہوں نے تھوڑی سی رخصت لی ہے جلد ملاقات کے وعدے پر۔
علامہ ضیاء حسین ضیاء معروف شاعر، ادیب، محقق دانشور اور زرنگار کے مدیر بھی تھے۔
ہم مسافر بنے قافلہ تم رہو
اپنے آشوب کا آبلہ تم رہو
ریگ ِصحرا دل کی چمک اوڑھ کر
فیصلہ ہم بنیں، سلسلہ تم رہو
آسمانِ محبت کا روشن ستارہ،زمینِ تصوف کا چمکتا ماہتاب، فیض رساں علامہ ضیاء حسین ضیاء صرف تقسیم کرنا جانتے تھے،علم کی ذخیرہ اندوزی کو ناقابل تلافی جرم سمجھتے تھے، ضیاؤں کے امین تتلیاں بھی روشن کرنے کا ہنر جانتے تھے، کسی کی بھی فون کال پر اپنی تھکاوٹ اور آرام کو پس پشت ڈال کر توانا ہوجایاکرتے، پاتال کے معنی سے فلک تک کے تمام اشاروں، کنایوں،
استعاروں، تمثیلوں،دلیلوں،تاویلوں اورتعبیروں پہ بے تھکان گفتگو یوں کرتے کہ لفظوں میں سے معنویت جھرنوں کی طرح بہنے لگتی،گرانقدر معلم اور ذاکر ہونے کے ساتھ جلال وجمال کے زاویوں پہ مدلل گفتگو کرتے، درویش صفت ہونے کے ساتھ قلم کی تلوار سے لفظوں کے شدمد کاٹ کر نیا لہجہ، نئے معنی تخلیق کرتے، بات نفس پہ ہوتی تو نفس کو مارنے کی بجائے تذکیہ نفس پہ ایسی زمین باندھتے کہ سننے والا محوِحیرت ہوجاتا، سینے میں ابلتا ہوا علم کا چشمہ کنارِ وجود سے باہر اچھال دیتے، ریت کی پیاس بجھتی،دریاکنارے گُل بوٹے پھوٹنے لگتے جو پیاسا ہوتا پیاس بجھاتا جو بنجر ہوتا وہ گل بوٹے اپنے ساتھ لے جاتا۔

علامہ ضیاء حسین ضیاء

نماز کی سجدہ گاہ کی مٹی کو چومتے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے اور کہتے اے اللہ گواہ رہنا۔جگرکاٹوں،پلٹوں،کھنگالوں یا اس کی پرتیں کھولوں، ان کا چہرہِ پُرنورنظرآتاہے۔ آنکھوں کی تتلیوں پہ ساقط منظر معلق کرنے والے علامہ ضیاء حسین ضیاء علم کو ہمیشہ عمل سے تعبیر کرتے، انہیں کھلی راہداریوں میں چلتے پھرتے ہنستے کھیلتے لوگ پسند تھے، ہمیشہ بہترین دعاؤں سے نوازتے،سلامتی کے سفر پہ گامزن کرتے اور کہتے معیشت ایزدی، صبر،استقامت،تقویٰ، اخلاق اور صدق ہمیشہ آپ کے رفیق رہیں۔ اب اتنی جامع دعا دینے والے میرے اورہم سب کے علامہ ضیاء حسین ضیاء اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان سے فیض لینے والے جان لیں کہ نیک روحوں کا تعلق کہکشاں بن جایاکرتاہے۔ وہ ہم سب کی روحوں میں اسی تعلق سے چمکتے رہیں گے، وہ خاموشی کو زندگی کا استعارہ سمجھتے تھے۔ اپنی بے خودی میں کبھی مست ہوکر ایسے مراقبے میں بیٹھتے کہ بولنا محال ہوجاتا، اسی کیفیت میں کہتے کہ آج ہڈیوں نے گوشت چھوڑ دیاہے، اب انہیں یکجان کرنے میں تھوڑی دیر لگے۔ایسی محبتیں بچھڑ بھی جائیں توپھر بھی محبت جوہر کی صورت، کبھی علمی وابستگی کی شکل میں، کبھی دوستی کی شکل میں اور کبھی قلبی وابستگی کی صورت میں موجود رہتی ہے۔دکھ تو زندگی بھر ملتے رہتے ہیں مگر کچھ ایسے جان سے چمٹتے ہیں کہ گھاؤ کی صورت اندرہی اندر رستا ہوا خون چھوڑ جاتے ہیں۔علامہ ضیاء حسین ضیاء کی جدائی بھی ایسا ہی ایک گھاؤہے۔انسانی روح میں ایک ٹکڑا ایسی زمین جیسا بھی ہوتاہے جسے ہروقت پانی کی ضرورت ہوتی ہے، علامہ ضیاء حسین ضیاء وہی پانی تھے جو بے شمار قلم کاروں کو سیراب کرتے تھے، زندگی کا نام گردباد ہے جس سے گھبرا کے ہم اپنے قدم سے زمین اٹھا لیتے ہیں مگر علامہ ضیاء حسین ضیاء اپنی روحانی طاقت سے استعمال سے اس گھبراہٹ اور خوف کو دور کردیاکرتے ہیں۔وہ توجہ اور محبت کے بہت عمدہ کاشتکار تھے، بیج بھی اعلیٰ استعمال کرتے اور آبیاری بھی کمال کی، وہ جس کو اختیار کرتے مکمل ذمہ داری میں لے لیتے، گھر کی لطافت میں محبت کا امرت گھولنے والے علامہ ضیاء حسین ضیاء آئینہِ زیست پہ اپنے ایسے نقوش چھوڑ گئے ہیں جوکبھی مدہم بھی نہ ہوپائیں گے۔خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے چہرے نصاب سے باہر دیئے گئے سوال کی طرح نہیں ہوتے جنہیں طالبعلم قبول ہی نہیں کرتے، بلکہ محراب اور مسجد کا توفیق یافتہ تاثرلئے ہوتے ہیں ان سے ہمیشہ علمی اور روحانی مکالمہ کرکے طمانیت محسوس ہوتی تھی۔وہ دھوپ میں چھاؤں جیسا، دکھ میں ماؤں جیسا، راہنمائی میں خضرِ ثانی اور دعاؤں میں پیرکامل تھے۔ زندگی کی تپتی دوپہروں میں ان کا وجود چاندنی کی ٹھنڈک جیسا تھا۔اسے مت کہو کہ وہ مرگیا اس نے تو بس اس عالم سے دوسرے عالم میں ہجرت کی ہے جلد ملاقات کے وعدے پر۔

ا ٓکہ! شبِ آشوب میں گریہ, تازہ کریں
لہو بہائیں اور دل کو پھر سے دریا کریں
مندمل ہو گئے ہیں جو ان زخموں کو زندہ کریں
ڈھلتا سورج بجھ رہا ہے
آ کہ!شامِ غم کے جشن کا اعادہ کریں
چاند چہروں کو چوم لیں
بنجر زمیں پہ خواہشِ برگ و بار بوئیں
آشفتہ سری کچھ اور زیادہ کریں
جنوں کو سر پہ چڑھنے دیں
جسم اپنا کٹنے دیں
پوروں سے ٹپکتے لفظوں سے
آ کہ تختی ِدل پہ لکھیں
جدائی کا سانحہ!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *