• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • وارث میر انڈر پاس ۔ چاپلوسی اورانتقام/لیاقت علی ایڈووکیٹ

وارث میر انڈر پاس ۔ چاپلوسی اورانتقام/لیاقت علی ایڈووکیٹ

کینال روڈ لاہور کی چند سال قبل جب توسیع اورری ماڈلنگ ہوئی توٹریفک کے بہاؤ اورروانی کو برقرار رکھنے کے لئے متعدد انڈر پاسز بنائے گئے تھے۔ان انڈر پاسزکو مختلف سیاسی، ادبی اور عدالتی شخصیات کے ناموں سے منسوب کیا گیا تھا،۔ ان میں سے بعض نام تو ایسے تھے جن کے بارے میں عام پنجابیوں کو ککھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کون ہیں اور اپنے شعبے میں ان کی کیاخدمات اور کارہائے نمایاں ہیں کیونکہ ان کے بارے میں ہمارے تعلیمی نصاب میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔مثال کے طورپرایک انڈر پاس چاکراعظم کے نام نامی سے منسوب کیا گیا ہے،۔ کتنے لوگوں کو یہ پتہ ہے کہ چاکر اعظم کون تھا اور اس کا ہمارے خطے بالخصوص بلوچستان کی تاریخ سے کیا تعلق ہے؟چند سیاسی کارکن تو شاید اس کی شخصیت اور جدوجہد بارے کچھ جانتے ہوں، عام پنجابیوں کو اس بارے میں کچھ علم نہیں ہےاور یہ بھی کم ہی لوگوں کو علم ہوگا کہ اس بلوچ سردار کی قبر پنجاب میں ہے،۔ اس کے علاوہ لیاقت علی خان، فیض احمد فیض، اے آر کارنیلس اوروارث شاہ کے ناموں سے  بھی انڈر پاسز منسوب کیے گئے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ناموں کے ساتھ ان مقامات کے پرانے نام مال روڈ انڈر پاس، ایف سی کالج انڈر پاس اور جیل روڈ انڈرپاس ، پنجاب یونیورسٹی کیمپس انڈر پاس اور مغل پورہ انڈر پاس وغیرہ بھی لکھے ہوئے ہیں اورلاہور کے شہری ان انڈر پاسز کو انھیں ان کے پرانے ناموں ہی سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی کمپس پر جو انڈر پاس بنایا گیا ہے اسے پنجاب یونیورسٹی کے استاد اور معروف صحافی حامد میر اور عامر میر کے والد پروفیسر وارث میر مرحوم کے نا م سے منسوب کیا گیا تھا،۔ پروفیسر وارث میر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے منسلک تھے۔ اپنے کیرئیر کے آغاز میں پروفیسر وارث میر مرحوم جماعت اسلامی کے متفقین میں تھے لیکن ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے ان کی نظریاتی وابستگی کو گہر ا دھچکا پہنچایا اور انھوں نے جماعت اسلامی سے نظریاتی علیحدگی اختیار کرلی۔ واقعہ یہ تھا کہ پنجاب یونیورسٹی جسے جماعت اسلامی اپنی سیاسی جاگیر سمجتھی ہے کے طلبا کے مابین جھگڑا ہوا اور ایک طالب علم قتل ہوگیا جس کے بارے میں اسلامی جمیعت طلبا کا دعویٰ تھا کہ یہ اس کا کارکن تھا۔ جمعیت نے جماعت اسلامی کی قیادت کی مدد اور تعاون سے پنجاب یونیورسٹی کے چند طلبا کے خلاف نامزد پرچہ درج کرادیا۔نامزد طلبا میں ایک طالب علم پروفیسر وارث میر کا بیٹا تھا۔ جنرل ضیا کا دور تھا جماعت اسلامی کی سرکار دربار میں شنوائی تھی پولیس نے نامزد طلبا کے خلاف کاروائی شروع کردی۔ پروفیسر وارث میر یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ جماعت اسلامی مقدمہ قتل میں ان کے بیٹے کو نامزد کرے گی انھوں نے مختلف طریقوں سے جماعت اسلامی کو اپروچ کیا اور اپنے بیٹے کی بے گناہی کا یقین دلایا لیکن جماعت اسلامی نہ مانی اور پروفیسر صاحب کے بیٹے کو عدالت میں مقدمہ قتل کا سامنا کرناپڑا۔ یہ واقعہ پروفیسر وارث میر کی نظریاتی زندگی کا  مین ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور انھوں نے جماعت اسلامی سے ہرقسم کے تعلقات منقطع کرلئے،۔جنرل ضیا کی اسلامائزیشن جاری و ساری تھی اور جماعت اسلامی اس اسلامائزیشن کا بھرپور حمایتی تھی۔ جنرل ضیا کی اسلامائزیشن کا بڑا ہدف عورتوں کے حقوق تھے جن کا انکار اس اسلامائزیشن کا مرکزی نکتہ تھا۔۔
پروفیسر وارث میر جو جماعت اسلامی سے قطع تعلق کرچکے تھے، نے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مضامین کا ایک سلسلہ لکھا جس میں انھوں نے ثابت کیا کہ عورت آدھی نہیں پوری ہوتی ہے۔ان کے مضامین کایہ سلسلہ بہت مقبول ہوا اور اسے ضیا مخالف حلقوں میں بہت پذیرائی ملی تھی۔
پروفیسر وارث میر اچانک 49 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔، کہا جاتا ہے کہ ا ن کے بیٹے کا مقدمہ قتل میں ملوث ہونا ان کے لئے بہت بڑا صدمہ ثابت ہوااوراس کی بناپرجو تناؤ اور پریشانی انھیں لاحق ہوئی تھی وہ ان کی موت کا سبب بنی تھی۔
پروفیسروارث میر کے مرنے کے بعد ماسوائے چند ترقی پسند حلقوں کے وہ کسی کو یاد بھی نہ رہے تھے لیکن جب ان کے دو بیٹے حامد میر اور عامرمیر صحافت کے میدان میں آئے اور حامد میر کی شہرت کا  ڈنکا بجنے لگا اور سرکار کے  دربار   تک انھیں رسائی حاصل ہوئی تو بہت سے لوگوں اوراداروں کو وارث میرمرحوم کا نام یاد آنے لگا ۔
جب کینال روڈ کی وسعت کے بعد انڈر پاسزکے نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو پنجاب کے وزیر اعلی شہبازشریف نے پنجاب یونیورسٹی کے انڈر پاس کووارث میر کے نام سے منسوب کر دیا ۔۔ شہباز شریف نے کام کی پس پشت وارث میرمرحوم سے عقیدت اوران کے انٹلیچوئل کام   کوخراج عقیدت پیش کرنا  نہیں      تھا بلکہ یہ تو ان کے بیٹےحامد میر کی چاپلوسی کرنااور خوشنودی حاصل کرنا تھا،۔ یہ وارث میر سے زیادہ حامد میر کی شہرت اورپاکستانی ریاستی بیانیہ کو پروموٹ کرنے کا معاوضہ تھا۔ ،اگروارث میر کی ہمارے حکمرانوں کے نزدیک کوئی اہمیت ہوتی تو وہ کئی دہائیاں قبل ان کی خدمات کوخراج تحسین پیش کرنے کے لئے کمیونیکیشن     سٹڈیزڈیپارٹمنٹ میں ان کے نام سے کوئی چیئر  قائم کرسکتی تھی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا حالانکہ میاں برادران گزشتہ تین دہائیوں سے پنجاب اورمرکز میں برسر اقتدارچلے آرہے تھے۔۔
اب راتوں رات تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وارث میرانڈرپاس کا نام بدل کر اس کو کشمیر انڈر پاس کا نام دے دیا ہے۔یہ انتہائی قابل نفرت اور قابل مذمت حرکت ہے اس کی وجہ اس کے سوا اورکچھ نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت وارث میر کے صحافی بیٹے حامد میر سے ناراض ہے اور نام کی یہ تبدیلی اس ناراضی کا اظہارہے۔ ن لیگ کی حکومت نے اس انڈر پاس کو وارث میر سے منسوب کرکے حامد میر کی خوشامد اور چاپلوسی کا اظہار کیا تھا اور تحریک انصاف کی حکومت نے اس کا نام بدل کر انتقام اوردشمنی پر مبنی رویے  کا اظہا ر کیا ہے ،نہ پہلا فیصلہ میرٹ پرتھا اورنہ ہی اس تبدیلی کے فیصلے کا کوئی جواز ہے۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *