ٹرمپ کا امریکی پالیسیوں پہ ممکنہ اثر 

ڈونلڈ ٹرمپ کا عہد صدارت کیسا ہوگا اور اس سے کیا توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں سب کے ذہنوں میں شائد یہی سوال گردش کررہا ہے۔ ٹرمپ کے بارے میں جنونی اور سنکی کا تاثر میڈیا کی طرف سے ابھارا گیا لیکن کیا وہ واقعی ایسا ہے؟ 

الیکشن مہم کے دوران دو بیانات قابل توجہ ہیں۔ ایک ٹرمپ کا جس میں اس نے روس کے بارے میں کہا کہ اس سے جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے کیا ہم اس سے میز پہ بیٹھ کے معاملات طے نہیں کرسکتے؟  دوسرا جو بائیڈن کا جس میں اس نے روس پہ “ہیکنگ کے ذریعے امریکی انتخابات میں مداخلت” کا الزام لگایا اور دھمکی دی کہ امریکہ اس کے جواب میں روس پہ حملہ بھی کرسکتا ہے۔ 

سنکی پن اور جنون کس جانب ہے؟ بتانے کی ضرورت نہیں  دلچسپ بات کہ مین سٹریم میڈیا نے دونوں کو چنداں اہمیت نہ دی۔  اس بنا پہ انتخابی نعروں اور اس کی سنجیدہ پالیسیوں کو الگ الگ رکھ کے دیکھنے کی ضرورت ہے۔  اس کا ایجنڈا دو اہم باتوں کے گرد گھومتا ہے۔ ایک تو یہ کہ امریکہ کی صنعتی بحالی کے لئے چین، میکسیکو و دیگر ممالک سے درآمدات پہ اونچی شرع محصول عائد کرنا اور دوسرا دنیا بھر میں پھیلی ہوئی امریکی افواج کو گھر واپس بلانا۔ بظاہر یہ دونوں الگ الگ چیزیں نظر آتی ہیں لیکن درحقیقت ان کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جس کو سمجھنے کے لئے ماضی پہ نظر دوڑانا ضروری ہے۔ 

یہ بل کلنٹن کا دور تھا جب ڈبلیو ٹی او کی صورت میں آزادانہ عالمی تجارت کا معاہدہ اور تنظیم وجود میں آئی۔ اس طرح ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی گلوبلائزیشن ڈیموکریٹ پارٹی کے لبرل ازم کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کے چلی۔ بعد میں بش کے نیوکونز کے دور میں امریکی فوجیں کسی نہ کسی حیلے سے دنیا بھر میں پھیلیں۔ ان کا گہرا تعلق تھا وال سٹریٹ کی سرمایہ کاری کا پلیٹ فارم اگر عالمی تھا تو پینٹاگون کی بھی اہم عالمی مقامات پہ موجودگی اس سرمایہ کاری کی حفاظت کے لئیے منطقی تھی۔ چاہے بظاہر دونوں الگ الگ تھے لیکن اگر لبرلازم گلوبلائزیشن کے پھیلاؤ میں مدد گار تھا تو نیوکونز اس کی حفاظت میں۔ اس لئے اس میں حیرانی کی بات نہیں کہ ہیلری کو بیک وقت نیوکونز اور لبرلز کی حمایت میسر تھی۔  اس تمام عمل کے فوائد بڑی کارپوریشنز نے سمیٹے اور امریکی ریاست کو اس میں سرمائے کا انخلا، صنعتی ویرانہ ، جنگی اخراجات کا خسارہ، بدنامی اور بیروزگاری ہی ملی۔ یہ وہ احساس تھا جو ٹرمپ کو ایوان صدر تک لے کر آیا یاد رہے کہ ٹرمپ نے اس وقت بھی عراق کی جنگ کی مخالفت کی تھی۔  جب وہ یہ کہتا ہے کہ افغان جنگ پہ ٹریلینز ڈالرز تو امریکہ نے خرچ کئے لیکن افغان معدنی وسائل سے چین فیضیاب ہورہا ہے اور امریکہ نہیں۔ تو وہ ستر کے عشرے کا منہ پھٹ صاف گو ریپبلکن سیاستدان محسوس ہوتا ہے شائد دوسرا ریگن۔ ابتد میں ریگن پہ بھی تنقید اسی نوعیت کی تھی۔ 

یہاں گلوبلائزیشن اور امریکی ریاست کے مفادات کا ٹکراؤ موجود ہے جس میں وہ واضح طور پہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس وجہ سے یہ تصور کرنا کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ، فوج اس کے خلاف ہوگی درست نہ ہے کیونکہ امریکی ریاستی اداروں کی بقا کا انحصار امریکی ریاست کی معاشی صحت پہ ہے نہ کہ گلوبلائزیشن کی طاقتوں کی معاشی فلاح پہ۔ یقیناً اسے اسٹیبلشمنٹ میں سے بھی حمایت مل سکتی ہے۔   یہ سوال کہ اس کا اثر عالمی سیاست کی کشمکش پہ کیا ہوگا، کا جواب ملا جلا ہے۔ ایک بات واضح ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ روس کے ساتھ میز پہ بیٹھ کے بات کیوں نہیں کی جاسکتی جنگ لڑنا ضروری کیوں ہے؟  جب سرد جنگ ختم ہوچکی، کوریا اور جاپان امیر ممالک ہیں تو وہاں فوجیں رکھ کے ان کے دفاع پہ خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ، جب معاہدہ وارسا ہی باقی نہیں تو نیٹو کی وجہ وجود کیا ہے؟  یہ تمام ممالک اپنے دفاع پہ خود خرچ کیوں نہ کریں۔ 

تو وہ عملاً کثیر قطبی دنیا کی موجودگی کا اعتراف کرتا ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے کی رائے دے رہا ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ لبرلز اور نیو کونز کے یک قطبی دنیا کے تصور سے باہر آ چکا ہے۔ وہ ایک عملیت پسند نظر آرہا ہے جو میز دوسری طاقتوں کے ساتھ ریاستی مفادات کی بنا پہ سٹریٹجک معاہدات کا قائل ہے۔ یہ صورت حال اس کی نسبت ہزار گنا پسندیدہ ہے کہ گلوبلائزیشن کی طاقتیں موہوم جوازات کی بنا پہ لامتناہی جنگوں کے بہانے تلاش کرتی رہیں۔  اگر بڑی طاقتوں کے معاملات اس زاویہ سے آگے بڑھائے جاتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ بڑی کارپوریشنوں کو ریاستی مفادات کے تابع ہونا پڑے گا نا کہ ریاستیں کارپوریشنوں کے مفادات کے تابع ہوں    اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ کتنا کامیاب ہوتا ہے۔ 

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایسی کوئی خوفزدگی کی وجہ نظر نہیں آتی یقیناً پاکستان انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں اب کوئی زیرو سم گیم کا عنصر موجود نہیں۔ پاکستان کثیر القطبی دنیا کی حامی طاقتوں کے ساتھ چل رہا ہے۔ ٹرمپ اگر مودی کے قریب آتا ہے یا انڈیا کو اسلحہ فروخت کرتا ہے تو ضرور کرے انڈیا نے کہیں سے تو اسلحہ ضرور خریدنا ہے۔ پاکستان کی دلچسپی کا محور مغربی سرحد ہے نا کہ مشرقی جہاں ایک بے سرو پا کشمکش موجود ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹرمپ افغانستان کو ریال پالیٹیک کی نظر سے دیکھتا ہے بلکہ برملا کہتا ہے کہ افغان جنگ پہ خرچہ امریکہ کا ہوا اور معاشی فوائد چین اٹھا رہا ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اس نے کسی دہشت گردی وغیرہ وغیرہ کی کہانیاں نہیں سنائیں بلکہ سیدھی سادی باٹم لائن پہ مفادات کی بات کی۔  جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ جو سٹریٹیجک ڈائیلاگ کیانی اور ہیلری کے درمیان ۲۰۰۹ میں ناکام ہوگئے تھے اب کامیاب ہو جائیں گے

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *