ہندوستانی مسلمانوں کے نام۔۔نذر حافی

ہندوستان میں دو سو ملین سے کچھ زیادہ مسلمان رہتے ہیں، یعنی انڈونیشیا کے بعد سب سے زیادہ مسلمان یہاں پر آباد ہیں، یہ ہندوستان کی آبادی کا مجموعاً 20 فی صد حصہ ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے ہندومت کے بعد اسلام ہندوستان کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور جماعت اسلامی سمیت مسلمانوں کی کچھ سیاسی و دینی تنظیمیں بھی وہاں پر موجود ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد تہتر سالہ تاریخ میں ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے آپ کو ہندی ثابت کرنے میں صرف کر دی ہے۔ ان میں سے جو بھی اپنے آپ کو بڑا ہندوستانی ثابت کرنا چاہتا ہے، اس کیلئے آسان طریقہ یہ ہے کہ بانیان پاکستان، قیام پاکستان اور ملت پاکستان کو ناسزا کہے۔ اس مشن میں ہمیشہ سے ہندوستانی ذرائع ابلاغ، مسلمانوں کے بعض دینی مدارس اور فلم انڈسٹری پیش پیش رہی ہے۔ دور دراز کے مسائل کو رہنے دیجئے، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی ہندوستان کے اغلب مسلمان ہندی کہلانے کے زعم میں ہمیشہ ہندوستان کی غاصب افواج کے ساتھ ایک پیج پر رہے۔ انہوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ وطنیت کے رشتے کو کو تو نبھایا، لیکن کشمیریوں کے ساتھ دین کے رشتے کو نہ نبھا سکے۔ کشمیر کے بارے میں ان کی اکثریت یہی کہتی تھی کہ کشمیر میں پاکستان لوگوں کو ابھار رہا ہے، پاکستان پروپیگنڈہ کر رہا ہے اور پاکستان کشمیری عوام کو شہ دے رہا ہے۔ یوں وہ مسئلہ کشمیر کو مسئلہ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں تھے۔

بہت سارے امن پسند ہندی سنی مسلمان ہمیں کہتے تھے کہ ہندوستان سے اقلیتوں کا تحفظ سیکھیں، دارالعلوم دیوبند ہندوستان میں ہے، لیکن وہاں کوئی سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، طالبان اور القاعدہ نہیں ہے۔ ہندوستان کے شیعہ کہتے تھے کہ ہمارے ساتھ ہندو مل کر محرم مناتے ہیں، زنجیریں مارتے ہیں، سبیلیں لگاتے ہیں اور ہماری مجالس میں شرکت کرتے ہیں۔ ہمیں مکمل مذہبی آزادی ہے۔ ہم پاکستان سے محبت کیوں کریں، وہاں تو شیعوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا غلط فہمیوں کی بنا پر ہندی مسلمانوں نے اسلامی تہذیب و تمدن اور سیاسی فلسفے کو بھی شدت پسندی سمجھ لیا۔ ہندی مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت، تاریخی تمدن اور دینی و سیاسی نظریات سے کس قدر دور ہوتے چلے گئے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مسلمانوں کے تہواروں، مذہبی رسومات، عبادات، ملنے جلنے، بود و باش، اٹھنے بیٹھنے، ہنسنے ہنسانے، لباس پہننے، تزئین و آرائش، بات چیت کرنے اور سوچنے کے انداز پر خالصتاً ہندی کلچر کس قدر غالب ہے، اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے، جس کا اہلِ ہند سے اٹھنا بیٹھنا ہے۔

جب ہندی مسلمانوں کو فکری طور پر احساس کمتری میں مبتلا اور ان کے تمدن و کلچر کو ریت کے گھروندے میں تبدیل کر دیا گیا تو اب ان سے ان کی ہندی ہونے کی شناخت بھی چھینی جا رہی ہے۔ گذشتہ سال دسمبر سے بھارت میں شہریت بل کا جو شور شرابا ہو رہا ہے، اس میں واضح طور پر متعصب ہندو جماعتیں حکومت کے ساتھ ہمکاری کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ صرف اسی ہفتے میں نیو دہلی کے اندر جو خوفناک فسادات ہوئے ہیں، ان میں حکومتی اداروں نے بھرپور طریقے سے غیر مسلم بلوائیوں کی سرپرستی کی ہے۔ بھارتی اپوزیشن کی جماعتیں صرف زبانی کلامی جمع خرچ تک محدود ہیں اور مسلمانوں کو سفاکیت کے ساتھ بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ ہندی مسلمان جو پاکستانیوں کو طالبان، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے طعنے دیتے تھے، آج طالبان، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سے ہزار گنا بدتر آر ایس ایس کے روبرو نہتے کھڑے ہیں۔

آج الحمدللہ! پاکستان نے شدت پسندی کے عفریت پر قابو پا لیا ہے، پاکستان چونکہ ایک نظریاتی اسلامی ملک ہے اور اس کی تشکیل میں سارے مذاہب و مسالک کی قربانیاں ہیں، پاکستان کی زندگی ہی رواداری پر منحصر ہے۔ اگر کہیں پر حکمران مذہبی شدت پسندی کا سہارا لیتے بھی ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ وہ بے نقاب بھی ہوتے ہیں اور انہیں یہ پالیسیاں تبدیل بھی کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن ہندوستان کی بقا مذہبی رواداری پر نہیں بلکہ مذہبی اجارہ داری پر منحصر ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جس کا کوئی بھی ہندی انکار نہیں کرسکتا کہ آج ہندوستان اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جو مسٹر گاندھی کے نظریات کے صرف مخالف ہی نہیں بلکہ قاتل بھی ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں آر ایس ایس تنہا نہیں ہے، بلکہ یہ وہ نام ہے جسے باقی ناموں کو چھپانے کیلئے مشہور کر دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ مسلمانوں کے خلاف نفرت، اسلحے کی تقسیم اور دہشت گردی کی ٹریننگ کا سلسلہ جاری ہے۔

آج کے ہندوستانی مسلمان اس وقت کشمیریوں کے دکھ اور درد کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں، کشمیریوں نے آج سے تہتر سال پہلے ہندوستان کی جمہوریت اور رواداری کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، جبکہ ہندی مسلمانوں نے اب اس حقیقت کو جانا ہے۔ ہندوستانیوں کی طرح اب ساری دنیا پر یہ واضح ہو جانا چاہیئے کہ کشمیر کی تحریک آزادی پاکستان کی ایما پر نہیں چل رہی بلکہ یہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی تحریک ہے، یہ کشمیریوں کی شناخت اور بقاء کا مسئلہ ہے، یہ ظلم، جبر، استبداد اور ناانصافی کے خلاف مظلوموں، مجبوروں اور عقل و شعور رکھنے والوں کی آواز ہے۔ “سب سے پہلے ہندوستان” کے زعم میں مبتلا ہندی مسلمانوں کیلئے اہلیانِ کشمیر بصیرت اور صبر و استقامت کی بہترین مثال ہیں، اگر ہندی مسلمان اب بھی چاہیں تو تاریخ کشمیر کے گذشتہ تہتر سالوں سے ہی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ مسلمانانِ ہند، مفتیانِ دین، علماءِ کرام، داعیان ِحق، ارباب فکر، اصحابِ قلم اور ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں سے ہماری گزارش ہے کہ دنیا کے ہر باشعور انسان اور خصوصاً ہر پاکستانی کا دل جس طرح فلسطین اور کشمیر کے ساتھ ہے، اسی طرح آپ کے ساتھ بھی ہے۔ خداوندِ عالم اس مشکل وقت میں آپ سب کی حفاظت فرمائے اور آپ کو استقامت عطا کرے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *