عمران خان کے ناقدین۔۔۔اسرار احمد

ماضی میں جب بھی نئی حکومت آتی تھی اپوزیشن کو تنقید کا جواز تلاش  کرنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آتی تھی، کیونکہ دونوں (حکومت اور اپوزیشن)کے پاس ایک دوسرے کی کرپشن کی داستانیں ہی کافی ہوتی تھی ،گزشتہ برس عمران خان نے حکومت سنبھالی تو پانچ سال خیبرپختونخوا میں حکومت کرنے کے باوجود اپوزیشن چاہ کر بھی عمران خان کو کرپٹ نہیں کہہ سکتی تھی ،تو اسکا یہ حل نکالا گیاکہ کرپٹ تو نہیں کہہ سکتے،نااہل تو کہہ سکتے ہیں۔۔ سادہ الفاظ میں کہ بیشک عمران خان ایماندار ہے لیکن حکومت کرنا اس کے بس سے باہر ہے۔یا پھر عمران خان ایماندار ہے تو کیا ہوا اسکا فلاں رشتہ دار یا دوست تو کرپٹ ہے،اس بیانیے کو پروان چڑھانے میں وہی صحافی پیش پیش تھے جن کی سیلفیاں سوشل میڈیا پر اسوقت وائرل ہوتی تھیں جب وہ نواز شریف کے ساتھ امریکہ یا برطانیہ کے دورے پر جاتے تھے۔

لیکن پہلے چند ماہ میں ہی خارجہ اور سفارتی  محاذ پر حاصل ہونے والی شاندار کامیابیوں نے جہاں اس بیانیے کی کمر توڑ کر رکھ دی ،وہاں اپوزیشن پر دوبارہ یہ مشکل آن پڑی کہ اب کیا تنقید کریں لیکن کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔۔ اس لیے اپنے تئیں اپوزیشن نے بڑا زیرک فیصلہ کیا اور اس سب کا کریڈٹ فوج کو دے دیا کہ عمران خان تو اس قابل نہیں کہ حکومت چلا سکے یہ سب فوج کا کیا دھرا ہے ۔لیکن یہ بیانیہ بھی زیادہ عرصہ تک نہ چل سکا  کیونکہ بقول عوام کے فوج کوئی غیر تھوڑی ہے اگر ملک کی بہتری کے لیے کچھ کر رہی ہے تو اس سے اچھی بات کیا ہوگی۔

اسی طرح جب  امن کی خاطر ابھیندن کو چھوڑا گیا تو اپوزیشن نے اس پر اپنی سیاست چمکانے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ دنیا میں اس بات پر بحث ہونے لگ گئی کہ امن کے نوبل پرائز کا حق دار ٹرمپ ہے یاعمران خان ؟

عمران خان کے مخالفین اس حوالے سے بڑے بد نصیب ہیں کہ شروع سے ہی ان پر تنقید کرنے کا کوئی ڈھنگ کا جواز ہی ہاتھ نہیں آیا۔

میڈیااور اپوزیشن کی حالت دیکھ کر مجھے ایک فلم کا  سین یاد آجاتا ہے جس میں کئی دنوں سے بھوکے دو غلاموں کے آگے کم و بیش دس آدمیوں کا کھانا رکھا جاتا ہے تو وہ بھوک سے بدحواس ہو کر اس پر جھپٹ پڑتے ہیں  اور سارا کھانا ضائع کر دیتے ہیں یہی حال انکا ہوتا ہے یہ عمران خان کے ہر چھوٹے یا بڑے عمل  حتٰی کہ چال ڈھال اور لباس پر اس طرح تنقید کرتے ہیں کہ شاید یہ موقع دوبارہ نہ ملے۔

کتنی مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ  ایک ملک کا میڈیا اور سیاستدان اپنے مخالف سیاستدان پر اس لیے تنقید کر رہے ہیں کہ وہ شادی کیوں کررہا ہے یا اسکی شادی کیوں ناکام ہوئی؟

کیا عمران خان لائیو ٹیلی تھون میں حصہ لیتے اور عوام فون کرکے اپنی رائے دیتے کہ شادی کس سے کرنی چاہیے  اور کرنی بھی چاہیے یا نہیں؟

میڈیا بھی آخر کیا کرے ،ان سے سابقہ حکومتوں کا سنہری دور بھلایا نہیں جاتا، جب اربوں روپے کے اشتہارات با آسانی مل جایا کرتے تھے اور ان کے سینئر تجزیہ نگاروں کو غیر ملکی دوروں پر  ساتھ لے جا کر عزت بخشی جاتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک لڑکا خود سے تیس چالیس سال بڑے ملک کے وزیر اعظم کو بے غیرت کہہ دے  تو ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی لیکن اگراس کی پارٹی کے حامی سوشل میڈیا پر تھوڑی سی سخت زبان استعمال کریں تو جیسے قیامت بپا ہو جاتی ہے کہ دیکھو عمران خان نے اپنے کارکنوں کی کیسی تربیت کی ہے۔

عمران خان جب سیاست میں آئے تو ورلڈ کپ فاتح اور دنیا کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال بنانے والے کے اوپر کرپشن کا الزام تو نہیں لگایا جا سکتا تھا۔کوئی انسان چاہے کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس کے کردار پر باآسانی کیچڑ اچھالا جاسکتا ہےکیونکہ اگر کسی ولی اللہ کے کردار پر بھی  انگلی اٹھائی جائے تو لوگ بیشک یقین نہ کریں لیکن ان کے دلوں میں شکوک وشبہات ضرور پیدا ہوجاتے ہیں اور عمران خان کا تعلق تو تھا ہی ایسے شعبے سے جہاں ایسے اسکینڈلز عام ہوتے ہیں۔اس لیے 1996 سے 2014  عمران خان پر تنقید کے تین جوازتھے ،سیتا وائٹ۔۔  انکی سابقہ اہلیہ کے خاندان کا مذہب  اور طالبان کے بارے میں انکا مؤقف یعنی طالبان خان۔۔۔

اس کے بعد 2014 میں عمران خان نے دھاندلی کے خلاف 126 دن کا دھرنا دیا ۔اس دوران حکومت نے چینی صدر کا دورہ ملتوی کرا کے اس کا سارا الزام عمران خان پر عائد کردیا حالانکہ عمران خان نے بار بار یقین دہانی کرائی کہ  وہ ان کے دورہ کی راہ میں حائل نہیں ہونگے۔۔۔۔ اگر تھوڑا سے ماضی میں جا کر دیکھیں تو بقول اس وقت کی حکومت کے دھرنے میں لوگ ہی کتنا تھے۔کیا چین جیسے جمہوری ملک کے صدر نے اس وجہ سے دورہ ملتوی کیا کہ  چند لوگ احتجاج کا جمہوری حق کیوں استعمال کررہے ہیں،اور اگر اس وجہ سے دورہ ملتوی ہونے کا  خدشہ تھا بھی تو اس وقت عدالتی کمیشن کا قیام عمل میں لا کر معاملہ سلجھایا جاسکتا تھا۔۔۔خیر  دورہ ملتوی ہونے کے جو بھی محرکات ہوں مخالفین کے  ہاتھ تنقید کا ایک اور جواز آگیا تھا۔

عمران خان کی اس سے بڑی  کامیابی اور کیا ہوگی کہ پانچ سال تک کے پی کے اور اب ایک سال وفاق میں حکومت کے بعد بھی مخالفین کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے جواب میں بس یہی سننے کو ملتا ہے کہ عمران خان نے سیتا وائٹ کے ساتھ بہت برا کیا،عمران خان یہودی ایجنٹ ہے،اور وہی یہودی ایجنٹ طالبان خان بھی  ہے۔دھرنے میں بجلی کا بل جلایا تھا،چین کا صدر گاڑی لے کے آرہا تھا کہ عمران خان نے راستہ روک لیا اور وہ واپس چلا گیا۔اور اب تازہ ترین الزام کہ  کشمیر کا سودا کردیا، اس جگہ کا سودا جس پر آج تک ہمارا قبضہ نہیں ہوسکا ۔۔۔اور اگر سودا کردیاہے تو پھر سلامتی کونسل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر پر اجلاس کیوں ہو رہا ہے؟عمران  خان سے  اپنا حصہ لینے کے لیے؟

یہ سچ ہے کہ  ملکی   معاشی صورتحال بہت بری ہے لیکن کیا اسکی ذمہ دار یہ حکومت ہے؟

یہ حکومت اس وقت ذمہ دار ہوگی جب اگلے  پانچ سال بعد بھی صورتحال ایسی ہی ہوئی

اس سب کے بیان کرنے کا مقصد  عمران خان کو فرشتہ ثابت کرنا نہیں، یقیناً زندگی میں ان سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہونگی،اور مزید بھی ہونگی جو  کہ ہر انسان سے ہوتی ہیں۔لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ صحیح سمت میں کام کر رہے ہیں یا نہیں۔۔۔

انسان خطا کا پتلا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ ہے جو اپنی غلطی کو تسلیم کرے اور اسے دور کرے لیکن اس بہترین عمل کو یو ٹرن کانام دے کر مذاق اڑایا جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *