باجوہ مزید تین سال، گلہ کیسا؟۔۔۔شاہد عباس کاظمی

فوج یقینی طور پر ایک اہم ادارہ ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس طرح نظام بوسیدہ ہو چکا ہے ان حالات میں منظم ترین ادارہ بھی ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ آنے والے جنرل، جانے والے جنرل سے قابلیت میں کسی صورت کم نہیں  ہوتا۔۔ لیکن ملکی حالات متقاضی ہوں تو آئینی طور پر موجودہ جنرل کو بطور آرمی چیف توسیع  مل سکتی ہے۔ اسی پہ تنقید کا بازار بھی گرم ہے۔
سیاست میں تنقید مکمل طور پر کھل کے کی جا سکتی ہے۔ جب کہ  اس کے برعکس فوج اور عدلیہ میں تنقید کا نہ تو جواب دیا جا سکتا ہے نہ ہی تنقید برائے تنقید کی جا سکتی ہے، کیوں کہ ان دونوں اداروں میں سیاسی معاموں  میں دخل اندازی کی بھی ممانعت ہے۔

بے شک فوج کا آنے والا جنرل قابلیت میں ہو سکتا ہے بہتر تھا لیکن پالیسی کے تسلسل کی وجہ سے توسیع دی گئی۔ ہر فیصلے کے اچھے اور بُرے پہلو موجود ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی فیصلے کو مکمل غلط یا مکمل درست قرار دیا جا سکے۔ فوائد کے ساتھ مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اور تنقید جہاں اصلاح کے لیے ہو وہاں یقینی طور پر یہ نظام کی بہتری کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن کیا واقعی پاکستان میں اس وقت تنقید بہتری کے لیے   کی جا رہی ہے؟ اگر سیاست دان فوج کو ہی مشقِ ستم بنائیں تو وہ یہی لہجہ اور معیار اپنے لیے کیوں نہیں رکھتے؟

کیا بلاول زرداری کے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگا کے پارٹی کی قیادت انہیں ہی لازمی سونپنا ضروری تھا؟ اعتزاز احسن، قمرزمان کائرہ، مخدوم احمد محمود، شہلا رضا، لطیف کھوسہ جیسے قد آور سیاسی لوگ اس پارٹی میں اگر موجود ہیں تو پھر قرعہ فال ایسے شخص کے نام ہی کیوں نکلا جس کی ابھی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی تھی؟ کیا باقی راہنماؤں کی سیاسی بصیرت پہ کوئی شک تھا؟ کیا پاکستان مسلم لیگ نواز میں شاہد خاقان عباسی، چوہدری نثار علی خان، امیر مقام، خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق، مشاہد اللہ خان، اور دیگر کئی ماہر سیاسی کھلاڑیوں کی سیاسی قابلیت میں کوئی شک ہے؟ کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ وہ سیاسی لحاظ سے اتنا مقام نہیں رکھتے؟ اگر آپ ایسا ماننا گوارا نہیں کر سکتے تو قیادت کا قرعہ ان میں سے کسی کے نام کیوں نہ نکل سکا اور نظرِ انتخاب مریم صفدر پہ ہی پڑی۔ ایسا کیوں؟ جمعیت علمائے اسلام (ف) میں اہم کردار کیا بیٹے اور بھائی کا ہی نہیں ہے؟ اگر تو ایسا ہے تو پھر کس برتے پہ ہم کہیں کہ آپ پارٹیوں میں خود کو توسیع  پہ توسیع  نہیں  دیے جا رہے؟ اے این پی کی مثال لیجیے، کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں پارٹیوں کے نام لیوا اپنے خاندان کے خاندان نوازتے نہیں جا رہے؟

فوج ایک ادارہ ہے۔ توسیع آئینی اختیار ہے وزیر اعظم پاکستان کا۔ انہوں نے یہ اختیار استعمال کیا ہے۔ یا  تو آئین سے یہ شق نکال دیجیے۔ یا وزیر اعطم کو ان کا اختیار استعمال کرنے دیجیے۔ آئینی طور پر درست قدم کو آپ کیسے تختہء مشق بنا سکتے ہیں۔ کس طرح آپ ایک ادارے کے نظم پہ سوال اٹھا سکتے ہیں۔ سول حکومت نے اپنا اختیار آئین کے تحت استعمال کیا تو پھر گلہ کیسا؟

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *