خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

تنگدستی اگر نہ ہو غالب
تندرستی ہزار نعمت ہے !
میں اگرچہ اس سے پہلے بھی اس حقیقت کی دل و جان سے قائل تھی، مگر گزشتہ ماہ کی مسلسل علالت اور بعدازاں (اَلْحَمْدُلِلّه )تندرست ہونےکے یہ حقیقت مجھ پر روزِ روشن سے بھی زیادہ عیاں ہو گئی ہے۔ خیر یہ تو محض اپنی لمبی غیر حاضری کی وضاحت کے لئے چند تمہیدی جملے تھے اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب، اس عرصے میں دو بڑے واقعات ہوئے ،جنہوں نے حقیقتاً مجھ سمیت ہر درد مند دل رکھنے والے انسان کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ان میں سے ایک ریحان کے ساتھ روا رکھا گیا بہیمانہ تشدد اور اس کے نتیجے میں اس کی بے وقت موت ہے۔

ریحان کا نوحہ گزشتہ کئی دن سے لکھا جا رہا ہے اور یہ نوحہ اس وقت تک لکھا جانا چاہیے، جب تک کہ اس کے قاتل کیفرکردار تک نہ پہنچ جائیں اور اس کے مظلوم والدین کو انصاف میسر نہ آ جائے۔ لیکن کیا آپ کو اس کیس میں انصاف کی فراہمی کا یقین ہے ؟ مجھے تو ہرگز نہیں ہے، کیوں نہیں ہے ؟؟ جواب نوشتہ دیوار ہے ہمارا پولیس کا نظام اور عدالتی نظام اگر قابل بھروسہ ہوتے تو مجھے امید ہے کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات شاید وقوع پذیر ہی نہ ہوتے۔

کیا اس حقیقت میں کوئی دو رائے ہے کہ ہمارے ہاں کوئی بھی شخص جو کسی ظلم کا نشانہ بنے ,چاہے اس کا گھرلُٹ جائے یا خدانخواستہ عزت ، اوّل تو تھانے جانے سے گھبراتا ہے اور اگر شومئی قسمت کسی کو جانا ہی پڑ جائےتو وہاں کس قسم کے حالات پیش آتے ہیں، آپ سبھی واقف ہیں۔

ہمارے ہاں کچھ عرصے سے جرائم پیشہ افراد پرعوامی تشدداور بعض اوقات بہیمانہ تشدد کے بعد قتل تک کے واقعات کی شرح میں بہت اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، یہ عمل کسی بھی صورت میں نہ تو قابل قبول ہے اور نہ ہی کوئی اس عمل ِ قبیح کو کسی بھی قسم کا جواز مہیا کر سکتا ہے۔ تاہم میری ناقص رائے میں اس طرح کے واقعات کی ایک بڑی وجہ ہمارے نظامِ  انصاف پر عوام الناس کا عدم اعتماد ہے۔ ایک علاقے میں فرض کریں دس لوگ مختلف وارداتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کسی کے گھر چوری ہوتی ہے یا نقب زنی کی جاتی ہے اور اسے بیٹی کے جہیز کے لئے اکٹھی کی گئی اشیاء سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ کسی سے موبائل فون اور نقدی چھین لی جاتی ہے، کسی کی جیب کاٹ کر اس کی مہینے بھر کی کمائی اس سے چھین لی جاتی ہے، کسی کی موٹرسائیکل چھن جاتی ہے، کسی کی کار چوری ہوجاتی ہے خدا گواہ ہے کہ میں نے آج تک کی اپنی زندگی میں، اپنے ارد گرد، اس طرح کے کسی بھی جرم کے شکار فرد کو انصاف ملتے یا مال مسروقہ برآمد ہوتے نہیں دیکھا۔ اب ہوتا یہ ہے کہ بیشک اس علاقے میں سب وارداتیں 5،6 مختلف افراد یا گروہوں نے کی ہوں، لیکن بدقسمتی سے ان پانچ چھ میں سے کوئی ایک یا کوئی اور ہی ساتواں چور یا ڈاکو یا جیب کترا عوام کے ہتھے چڑھ گیا تو ان سب کے سب لوگوں کو اپنے اپنے اندر کی آگ، جو ان کے اندر اپنے نقصان اٹھانے کے بعد مسلسل سُلگ رہی ہوتی ہےاسے نکالنے کا ایک راستہ مل جاتا ہے یوں Mob lynching جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

سیالکوٹ کے منیب اور مغیث کو کون بھلا سکا ہوگا ایسا بہیمانہ تشدد کہ  دیکھ کر  رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سبھی نے ان دونوں بھائیوں کا بےحد ماتم کیا اور کرنا بنتا بھی تھا۔ جو دراصل ان بھائیوں کا ماتم تو تھا ہی معاشرتی زوال کا نوحہ بھی تھا۔ لیکن بعد ازاں انکشاف ہوا کہ یہ دونوں بھائی مبینہ طور پر ڈاکو تھے اور بے شمار وارداتیں کر چکے تھے۔ اپنے قتل سے چند روز پہلے انہوں نے ڈکیتی مزاحمت پر ایک نوجوان اور ایک گیارہ سالہ بچے کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

“ہجوم کے انصاف” کو کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جاسکتا، یہ کسی بھی معاشرے کی پستی کا ارزل ترین درجہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا اس طرح کے واقعات کی جتنی ذمہ داری مجرمان پر عائد ہوتی ہے کیا اتنا ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ ذمہ دار ہمارا نظام انصاف اور ہمارے حکمران نہیں؟؟ کیامعاشرے سے عمومی طور پر اپنے نظام انصاف پر موجود عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنا اور عوام کو یہ یقین دلانا کہ  انصاف ہر ایک کوگھر کی دہلیز پر ملے گا، ہمارے حکمرانوں اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں؟” تبدیلی سرکار” جو اب محض “گزشتہ موقف میں تبدیلی سرکار” بن کے رہ گئی ہے، کہاں ہیں ان کے انصاف کے دعوے اور وعدے؟؟ سانحہ ساہیوال سے لے کر اب تک کتنے سانحات کے ملزمان کو قرار واقعی سزا دی گئی؟۔ عوام کے دلوں سے نظام انصاف پر موجود عدم اعتماد کو ختم کرنا، معاشرے میں پھیلی معاشرتی ناہمواریوں کا خاتمہ، انصاف کی فراہمی میں امیر اور غریب کا فرق ختم کرنا یہ سب ہمارے اداروں اور حکمرانوں کے فرائض منصبی کا حصہ ہے۔ اور عوام الناس کے لئے محض اتنا کہوں گی کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
جب تک ہم بطور معاشرہ تہذیب و شائستگی، رواداری، عدم تشدد، ایمانداری، دیانت، صداقت، قانون پسندی اور قانون پر دل و جان سے عمل درآمد جیسی عادات کو اپنے اجتماعی معاشرتی شعور کا حصہ نہیں بنائیں گے اور ساتھ ہی بدتہذیبی، بےایمانی، ملاوٹ، شدت پسندی، کذب بیانی، قانون شکنی اقتدار اور دولت ملتے ہی فرعون بننےکےبد خصائل کو بحیثیت مجموعی معاشرے سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب نہیں ہوتے، ہماری کوئی کل سیدھی ہے اور نہ ہی سیدھی ہو سکتی ہے۔ ہم یوں ہی روز کسی نہ کسی زینب یا کسی نہ کسی ریحان کی تشدد زدہ لاشیں اٹھاتے رہیں گے چند دن تک خوب واویلا مچائیں گے اور پھر خواب غفلت میں جا پڑیں گے ہمیں من حیث القوم بدلنے کی ضرورت ہے، ہمیں بدلنا ہوگا ورنہ یاد رکھیے۔۔
فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
نہیں کرتی مگر ملت کے گناہوں کو معاف!

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *