صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا۔محمد احسن سمیع

محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی یکم محرم سے یوم عاشور تک سانحہ کربلا کے حوالے سے “تاریخی حقائق” کی چھان بین کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد سے قبل اس قسم کے مباحثے عموماً کتب و رسائل کے ذریعے کیے جاتے تھے جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت ان سے لاعلم و لاتعلق رہتی تھی، اور ماحول میں تناؤ بھی نسبتاً کم ہوا کرتا تھا۔ جب سے عوام کے ہاتھ میں فیس بک اور ٹوئیٹر جیسے مہلک ہتھیار آگئے ہیں، دیگر دینی موضوعات کی طرح واقعہ کربلا بھی اب عوامی آراء کا تختہ مشق بن چکا ہے۔ لوگ بے دھڑک اپنے ایمان اور عاقبت کی پرواہ کیے بغیر مشاجرات صحابہ کرام ؓ کی اس آگ میں کود پڑتے ہیں جن سے بڑے بڑےعلماء کرام بھی سکوت کے ذریعے اپنا دامن بچا کر گزرتے ہیں۔ ایک طرف تو یزید کی آڑ لے کر بد باطنوں کا ٹولہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سال بھر کا سینے میں جمع کیا بغض نکالنے لگتا ہے، دوسری طرف رافضیت کے مقابلے کے نام پر کئی بد بخت سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلے پر یزید کے محاسن بیان کرنا شروع کردیتے ہیں۔

ایک جنگی ماحول بنادیا جاتا ہےجس میں اِس طرف یا اُس طرف کے علاوہ کوئی آپشن ہی موجود نہیں ہوتا۔ ایک گرو ہ یزید کی آڑ لے کر آپ کو اس وقت تک ظلم و غصب کا حامی قرارد دیتا رہے گا جب تک کہ آپ اپنے منہ میں ان کے الفاظ ڈال کر خود جماعت صحابہؓ پر تبراء نہ کردیں۔ اس کے مقابلے پر دوسرا گروہ آپ کو فوراً رافضیت زدہ قرار دے دے اگر آپ ان کے “امیرالمومنین” کو اپنی خلافت میں پیش آئے ہر واقعے سے بری الزمہ قرار دے کر عنداللہ مغفور و ماجور قرار نہ دے دیں۔ ناصبیت سے متاثرہ یہ گروہ تاویل یہ بیان کرتا ہے کہ یزید پر طعن کرنے سے خود صحابہ کرامؓ پر تنقید کا دروازہ کھل جاتا ہے، کیونکہ اس کو خلیفہ نامز د کرنے والے اور اس کی خلافت کی بیعت کرنے والے سب کے سب جلیل القدر صحابہ کرام ؓ تھے۔ میں کوئی عالم نہیں، ایک عامی ہوں اور دیگر دینی معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی کبار علماء اہلسنت کا متبع و مقلد ہوں۔ الحمداللہ دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی علمائے اہلسنت کا موقف افراط و تفریط کے بجائے اعتدال کی راہوں سے ہو کر گزرتا ہے۔

میری ذاتی رائے میں ناصبیت شاید رفض سے بڑھ کر ایمان کے لیے خطرناک ہے، کیوں کہ رافضیت کا گند تو اتنا بدبو دار ہے کہ اس کا تعفن دور سے ہی محسوس ہوجاتا ہے ، مگر ناصبیت عموماً حب صحابہؓ کے مخملی غلاف میں مستور ہوتی ہے، اور انسان اس کی سنگینی کا احساس کیے بغیر ایمان کی بربادی کے راستے پر میلوں دور نکل جاتا ہے۔ناصبیت سے متاثرہ لوگ ایک جانب تو آپ کو یزید پر طعن کرنے سے اس لیے روکتے ہیں کہ اس طرح جلیل القدر صحابہؓ پر تنقید کاراستہ ہموار ہوتا ہے،دوسری جانب ایک جلیل القدر صحابیؓ جنہیں شرف صحابیت کے علاہ دیگر فضائل بھی حاصل ہیں، جنہیں زبان نبوی ﷺ نے نام لے کر جنتی نوجوانوں کا سردار کہا تھا، کے مقابلے پر ایک متنازع “تابعی” کے محاسن بیان کرتے ہوئےخود یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی تابعی کسی صحابی ؓ کے قدموں کی خاک تک نہیں پہنچ سکتا۔ ؎

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب “حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق” میں خوب واضح کردیا ہے کہ یزید کی آڑ لے کر سیدنا معاویہ ؓ پر لعن طعن کرنا کسی طور جائز نہیں، نہ ہی وہ یزید کے ان اعمال کے جوابدہ ہیں جو اس نے خلافت حاصل کرنے بعد اس سے سرزد ہوئے ۔ یزید کی ولی عہدی سے متعلق انتہائی موزوں اور سیر حاصل گفتگو حضرت شیخ الاسلام کی کتاب میں موجود ہےجس سے تمام اہلسنت کو استفادہ کرنا چاہیے۔ حضرت والا آج کے ان نام نہاد مجتہدین و محققین سے اقدم بھی ہیں اور اعلم بھی، جو فیس بک پر آٹھ دس ہزار لوگوں کی فالوئنگ کے بعد خود کو عقل کل سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ کئی لوگ، جو عالم بھی ہیں اور جن کی میں بوجوہ قدر بھی کرتا ہوں، وہ بھی دفاع صحابہ کے نام پر یزید کے محاسن بیان کرتے ہوئے اپنے اکابر پر رافضیت سے متاثر ہونے کا الزام دھرتے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان بے چاروں نے محبت اہل بیت میں “تحقیق” کی ضرورت محسوس نہیں کی اور سنی سنائی بے سند باتوں پر اپنی کتب میں “حضرت امیر یزید” پر لعن طعن کر دیا یہ سوچے بغیر کہ اس طرح تو وہ روافض کو صحابہ کرامؓ کی گستاخی کی راہ دکھا رہے ہیں۔

بدظنی کی حد ہے! اکیسویں صدی کے یہ محققین تو عشق صحابہؓ میں اس قدر سرشار ہیں کہ فوراً تاریخ کا آپریشن شروع کردیتے ہیں تاکہ “امیریزید” کو امیر برحق ثابت کر کے ناموس صحابہؓ کے “دفاع” کا مقدس فریضۃ  سرانجام دے سکیں، مگر ان کے اکابرین میں کسی کو اس عشق صحابہؓ عشر عشیر بھی معاذاللہ نصیب نہ ہوا کہ وہ یہ مقدس کام کرتا ۔ طبری تو ایک طرف، امام تفسیر ابن کثیر ؒ بھی ان کے قلم کی آبداری سے محفوظ نہ رہ سکے۔ گویا جو کارنامہ روافض کے لیے مودودی صاحب خلافت و ملوکیت کی صورت سرانجام دیا، وہی یہ حضرات بھی کررہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مودودی صاحب کی تحریروں  کو رافضی اپنے حق میں بطور گواہی پیش کرتے ہیں، اور ان کی تحریروں   کو ہمارے خلاف!

اس سب سے بڑھ کر کام وہ موسمی عزادار خراب کرتے ہیں جو ویسے تو سارا سال سیکولرازم کا جھنڈا اٹھائے اسلام اور اسلامی احکام کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں مگر محرم کا چاند نظر آتے ہی “پکے حسینی” بن جاتے ہیں۔ کوئی توجہ دلائے کہ حضرت ابھی چند گھنٹے قبل تو آپ سیکولر ، بلکہ قریب قریب ملحد ہوا کرتے تھے، اب اچانک “حسینیت” کا جبہ کیونکر چڑھا لیا؟ تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ عشق حسینؓ بھلا کب کسی مذہب کا محتاج ہے، حسینؓ تو آفاقی ہیں، ظلم کے خلاف جد وجہد کا استعارہ ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ “حسینی ہونے کے لیے مسلمان ہونا نہیں، انسان ہونا ہی کافی ہے” وغیرہ ٹائپ کے شہرہ آفاق ڈائیلاگ بھی آپ کو انہی  کی والز پر ملیں گے۔ جناب عرض صرف یہ ہےکہ حسینؓ مظلوم ہیں اور یزید ظالم! حسینؓ برحق تھے اوریزید باطل۔یہ سب باتیں آپ کس اصول کے تحت بیان کرتے ہیں؟ اگر دنیاوی اصولوں کے حساب سے دیکھا جائے تو یزید تو اس وقت کے رواج کے مطابق ایک قانونی حکومت کا سربراہ تھا، جس کے خلاف اعلانیہ بغاوت (معاذاللہ ثم معاذاللہ ) سیدنا حسین ؓ اور ان کے رفقا نے کی تھی (ثم معاذاللہ، سیدنا حسینؓ ہی برحق تھے، یہ میرا عقیدہ ہے، بات صرف مثال دینے کے لئے کی ہے)۔

یہ تو اللہ کا دین ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ مظلوم کون تھا اور ظالم کون۔ حق پر کون تھا اور باطل کون! جس الحادی سیکولرازم کے آپ سارا سال گن گاتے ہیں اس کے مطابق تو یزید نے جو کیا وہ محض اپنی قانونی حکومت کے دفاع میں کیا۔ پس ثابت ہوا کہ یا تو سارا سال آپ لوگ سیکولر ازم کی آڑ میں تقیہ بازی کرتے ہیں، اور اندر سے رافضی ہی ہیں، اور یہ رفض محرم میں آپ سے چھپائے نہیں چھپتا، یاپھر آپ دانستہ طور پر ان دنوں میں محض فتنہ انگیزی کی خاطر ان موضوعات پر خامہ فرسائی شروع کرتے ہیں جن سے آپ کو دور کا بھی علاقہ نہیں۔وگرنہ برحق لوگوں کی امت محمدیہ میں کوئی کمی نہیں۔ نجانے آپ کو انسانیت پر کئی احسانات کرنے والے عمرفاروقؓ کیوں سارا سال یاد نہیں آتے جن کی خدمات کے غیر بھی معترف ہیں۔ آپ کو کبھی خلیفہ مظلوم عثمان غنیؓ کی یاد کیوں نہیں ستاتی جن پر مسلمانوں کے لئے ان کے اپنے ہی خریدے کنویں کا پانی بند کردیا گیا۔ جنہوں نے سرتو کٹا دیا، لیکن نہ تو ظالموں کے ہاتھوں میں اقتدار دیا، نہ ہی اپنی جان کی حفاظت کے لیے کسی منافق تک کا بھی خون بہانا گوارہ کیا!

یزید کون تھا، خوش کردار تھا یا بدکردار، لائق تھا یا نالائق، شرابی تھا یا پاکباز، اس بابت آخرت میں کوئی سوال نہیں ہے، ہاں مگر ناصبیت کے زیر اثر اگر ہم کسی صحابی رسولﷺ کے بارے دل میں ادنیٰ سا بھی بغض لیے دنیا سے گئے تو یہ بات جہنم تک لے جانے کو کافی ہے۔ یزید کے مبینہ فضائل میں تو جناب رسالت مآب، سرور کونین رسول اللہ ﷺ کی زبان ِ مبارک سے کوئی قول براہ راست ارشاد نہیں ہوا، زیادہ سے زیادہ جہاد قسطنطنیہ والی حدیث کے عموم میں اس کو داخل کیا جاسکتا ہے، اب یہ اس کا اس کے رب کا معاملہ ہے ۔ تاہم حضرات حسنین کریمینؓ کی بابت تو آپ ﷺ کی زبان مبارک سے کئی ارشادات صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں۔ بالفرض اسناد صحیح نہ بھی ہوتیں، تب بھی یزید کے حق میں آپ ﷺ کا کوئی براہ راست قول ضعیف سند سے بھی مروی نہیں۔ ایسے میں کس طرح نبی اکرم ﷺ کے لاڈلے نواسے جو شرف صحابیت بھی رکھتےہیں، جن کے اعلیٰ و ارفع کردار سے بھی دنیا واقف ہے، کے مقابلے پر ایک “تابعی” کو ادنیٰ سے ادنیٰ درجے میں بھی فوقیت دی جاسکتی ہے۔ ایک لمحے کو مان بھی لیں کہ یزید نےقتل حسینؓ کا حکم نہیں دیا ہوگا، مگر کیا آپ کے پاس اس بات کا کوئی جواب ہے کہ جب سیدنا فاروق اعظمؓ اپنی مملکت میں فرات کے کنارے پیاسے رہ جانے والے جانورں تک کے لئے خود کوجوابدہ تصور کرتے ہوں تو ایسے میں یزید اپنی سلطنت میں ہونے والے اس ظلم عظیم پر کیسے بارگاہ الٰہی میں جوابدہ نہیں ہوگا۔ آپ تو اسے خلیفہ برحق مانتے ہیں، خلیفہ تو اپنی مملکت میں کسی ادنیٰ سے ادنیٰ شخص کے جان و مال کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے، اور یہاں ظالمین خانوادہ رسولﷺ کو ہی تاراج کردیں اور اس سے بطور “خلیفہ” بازپرس نہ کی جائے؟ ایسی خوش گمانی آپ کو ہی مبارک۔

واقعہ کربلا ہو، یا سانحہ حراء۔ ان سب حوادث کے ذیل میں بیان کی جانے والی جزیات ایک طرف، مگر کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ مذکورہ تمام سانحات وقوع پذیر ہوئےتھے ۔ مان لیتے ہیں کہ مسجد نبوی ﷺ کی بے حرمتی کے واقعات جھوٹے ہیں، مگر مدینۃالنبیﷺ پر لشکر کشی کرنا ہی کیا کم جرم ہے ؟ اکابر نے اسی لیے ان معاملات میں سکوت کا حکم فرمایا ہے کہ ان کی جستجو میں پڑ کر محض اپنا ایمان خراب ہوتا ہے۔ جہاں بات ناموس صحابہؓ کی آئے گی تو ہاں ہم آگے بڑھ کر روافض کی دراز زبانوں کو لگام ڈالیں گے، مگر اس سے آگے بڑھ کر ناموس صحابہؓ کے نام پر ناصبیوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کریں گے کیونکہ سیدنا حیدار کرار علی المرتضیٰ ؓ او ر ان کا خانوادہ بھی جماعت صحابہؓ میں ہی شامل ہیں۔ یزید کے مقابلے پر سیدنا حسینؓ کے برحق ہونے کے ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ یزید کو خلیفہ برحق ثابت کرنے کے لئے طبری و ابن اثیر کا “تاریخی آپریشن” کرنا پڑتا ہے جب کہ حسینؓ کے محاسن احادیث مبارکہ سے چودھویں کے چاند کی طرح روشن و عیاں ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے،

افضل ہے کل جہاں سے گھرانہ حسینؓ کا
نبیوںؑ کا تاجدار ہے نانا ﷺ حسینؓ کا
بس ایک پل کی تھی حکومت یزید کی
صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا!

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *