• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ھیفاءالمنصور، پہلی سعودی فلمساز خاتون، اور ان کی فلموں کا ریویو۔۔منصور ندیم

ھیفاءالمنصور، پہلی سعودی فلمساز خاتون، اور ان کی فلموں کا ریویو۔۔منصور ندیم

سنہء 2020 جنوری 9 تاریخ کی چمکیلی صبح میں ہزاروں لڑکیاں جدہ شہر میں اپنی اپنی سائیکلوں کے ساتھ اس سائیکل ریس کے منعقدہ پروگرام میں حصہ لے رہی تھیں، نہ صرف جدہ بلکہ سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض اور ضلع شرقی کے مرکزی شہر دمام میں بھی ان مقابلوں کا انعقاد ہورہا تھا ، یہ تاریخی فیصلہ یقینا ًموجود سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030 اصلاح کے سر جاتا تھا۔

مگر کسے پتہ تھا کہ سعودی عرب جہاں قوانین کے اعتبار سے خواتین کے لئے ایک انتہائی رجعت پسند اقدار (Conservative Idealogy) رکھنے والے ملک میں یہ خواب دکھانی والی ھیفاء المنصور تھی، جب سعودی عرب میں فلم بنانا ایک خواب تھا، 2011 میں ھیفاء المنصور نے فلم ’ودجدا‘ Wadjda کے نام سے ایک فلم بنانے کا سوچا، اور 2013 میں اس خواب کو عملی شکل میں پیش کیا، اس فلم کا مرکزی خیال ان کی اپنی ہی لکھی ایک کتاب The Green Bycycle پر تھا، اس فلم کی کہانی سائیکل چلانے کی خواہش رکھنے والی ایک لڑکی کے گرد گھومتی ہے لیکن وہاں قانون اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اس فلم کے منظر پر آنے کے بعد سعودی عرب میں خواتین کے سائیکلنگ کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی تھی بلکہ یہ فلم عرب دنیا کی بہترین فلم کا ایوارڈ بھی جیت چکی ہے۔

ھیفاءالمنصور :

بلا شبہ آہنی ارادوں والی ھیفاء المنصور سعودی عرب کی تاریخ کی پہلی فلمساز خاتون ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں، سعودی عرب کے ضلع وسط کے دارلحکومت ریاض کے قریبی شیر بریدہ کے قریبی قصبے “الزلفی” میں مقامی مشہور شاعر عبد الرحمن منصور کے گھر 10 اگست سنہء 1974 کو پیدا ہونے والی ھیفا منصور اپنے 12 بھائی بہنوں میں بالترتیب آٹھویں نمبر کی صاحبزادی تھی، ان کا بچپن ضلع شرقی کے تاریخی شہر الحساء میں گزرا، ھیفا النصور کے والد نے اپنی بیٹی کے شوق کی مدنظر ان کی تعلیمی رحجان کے مطابق انہیں تعلیم دلوانے میں بھرپور ساتھ دیا، ھیفا المنصور نے اپنا گریجویشن مصر, قاہرہ (Cairo), میں امریکن یونیورسٹی (American University) سے تقابلی ادب (comparative literature) میں کیا، مزید اپنے شوق کو جاری رکھتے ہوئے ماسٹرز کی ڈگری فلمسازی (Film Studies) میں آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی (University of Sydney) سے حاصل کی۔

ھیفاء المنصور نے فلمسازی کے عملی کیریئر کا آغاز محدود دورانیے کی فلموں سے کیا۔ ان کی اب تک آنے والی فلموں کا تعارف یہ ہے۔

1-  من ترجمہ ” کون” (Who)۔

ھیفاءالمنصور نے اپنی سب سے پہلی فلم سنہء 1997 میں “من؟” ترجمہ ” کون” (Who) کے نام سے بنائی۔ یہ ایک محدود دورانیے کی فلم تھی، اور یہ معاشرتی موضوع پر بنائی جانے والی فلم تھی۔ اس فلم کی کہانی خواتین کے عبایا پہننے پر اس کی معاشرتی شناخت   کے وقت اور اس سے پیدا ہونے والے موضوعات اور معاشرتی کنفیوژن کو دکھایا گیا، ھیفاءالمنصور کی یہ پہلی فلم ہی سعودی عرب کے روایت پسند معاشرے میں شدید متنازع بن کر ابھری۔

2-  الرحيل_المر (The Bitter Journey)۔

سنہء 2000 میں بحیثیت فلمساز ھیفاء المنصور نے اپنی پہلی دستاویزی فلم “الرحيل المر” (The Bitter Journey) کے نام سے بنائی۔

3-  أناوالآخر (The Only Way Out).

سنہء 2001 میں تیسری کاوش “أنا والآخر” کے نام سے محدود دورانیے کی موضوعاتی فلم تھی۔

4-  نساء بلا الظل (Women Without Shadows)

سنہء 2005 میں بننے والی دستاویزی فلم تھی، جسے ھیفاءالمنصور نے ہی فلمایا تھا، عورت کی زندگی کے مسائل اور Taboos کو سعودی معاشرت میں دکھانے کی کوشش کی گئی، یقیناً  یہ فلم بھی اسوقت خاصی تنازعات کا باعث بنی۔ جہاں سعودی عرب میں اس فلم پر کچھ حلقوں سے شدید اعتراضات سامنے آئے وہیں سوسائٹی کے کچھ لوگوں نے ان موضوعات پر بات کرنے پر ستائش بھی کی۔
یہ فلم دنیا کے 17 انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں دکھائی گئی۔ مسقط فلم فیسٹول میں اسے بہترین دستاویزی فلم کا انعام دیا گیا۔

5-  وجدة۔ (Wadjda)

یہ سعودی عرب میں سنہء 2012 فلمائی جانے والی پہلی موضوعاتی فلم ہے، جو مکمل طور پر سعودی عرب میں فلمائی گئی تھی، اس فلم کی مرکزی کردار ایک دس سالہ بچی ہے، ’وجدہ‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے آس پاس موجود لڑکوں کو سائیکل چلاتے ہوئے دیکھتی ہے، اور اس کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی سائیکل چلائے، ایک دکان پر وہ ایک سبز رنگ کی سائیکل دیکھتی ہے اور اب وہ یہ سبز رنگ کی سائیکل خریدنا چاہتی ہے۔ لیکن لڑکی ہونے کی وجہ سے اسے سائيکل خریدنے کے لیے نہ تو اجازت ملتی ہے اور نہ ہی پیسے، پھر وہ خود پیسے جمع کرتی ہے، سائیکل کی قیمت 800 ریال ہے، وہ بمشکل 87 ریال جمع کر پاتی ہے، اور اس کا اظہار وہ مسلسل اپنی ماں سے کرتی ہے، اور اس کی ماں اسے اس خواہش سے ہمیشہ منع کرتی ہے، اس فلم میں یہی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح یہ لڑکی سائیکل خریدنے کے لیے پیسے جمع کرتی ہے۔ بالآخر اس کے سکول میں تلاوت قرآن کا مقابلہ ہوتا ہے ، جس میں وہ شرکت کرتی ہے اور جیت کر انعام میں ملنے والی رقم سے سائیکل خریدتی ہے لیکن لڑکیوں کے گلی کوچوں پر سائیکل چلانے پر پابندی اسے سائیکل فروخت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

فلم کی کہانی خود ھیفاءالمنصور کی تصنیف کردہ کتاب پر مبنی ہے۔
عربی زبان میں ’واجدہ‘ کا مطلب “کسی چیز کو حاصل کرنے کی چاہ رکھنے والی” ہے۔ اسے وینس فلم ایوارڈ دیا گیا، علاوہ ازیں یہ پہلی سعودی فلم تھی جو آسکر ایوارڈ کے مقابلے کے لئے 2013 میں منتخب ہوئی تھی۔ اس فلم کو Rotana Media Group یہ تعاون سے بنی جو جو سعودی عرب کے معروف شہزادہ الولید بن طلال کی ملکیت ہے۔

6- انگریزی فلم #Marry_Shelley

اس کے علاوہ ھیفاء المنصور نے 2014 میں ایک انگریزی فلم Marry Shelley جو ایک رومانٹک ڈرامہ فلم تھی، Emma Jenson کی تحریر کردہ یہ فلم ھیفاء المنصور نے ہی فلمائی ہے جو Marry Shelley کی زندگی کے رومانس پر مبنی ہے ، جو مشہور شاعر Percy Bysshe کے ساتھ محبت کی کہانی کو فلمایا گیا ہے۔

7- انگریزی فلم #Nappily_Ever_After

سنہء 2018 میں ایک اور امریکن کامیڈی فلم Nappily Ever After کی فلم سازی کی تھی, اس فلم کی کہانی Adam Brooks کی لکھی ہوئی ہے جو،Trisha R. Thomas کے ناول سے ماخوذ تھی۔

8-المرشحة المثالیة    (The Perfect Candidate)

سنہء 2018 میں سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر طابندی اور سینما کے آغاز کے بعد ھیفاءالمنصور کی یہ پہلی فلم ہے، اس فلم کی کہانی ھیفاءالمنصور اور ان کے شوہر براڈ نیمان نے تحریر کی ہے۔ اس فلم کی تمام عکسبندی سعودی عرب میں ہی کی گئی ہے۔ عربی زبان میں تیار ہونے والی 101منٹ کی اس فلم میں سعودی عرب کے معاشرے میں عورت کے مسائل پر مبنی معاملات کو ہی اجاگر کیا گیا ہے، اس فلم میں مریم کے مرکزی کردار کو نبھانے والی میلا الزہرانی ہیں۔
فلم کی کہانی کے مطابق “مریم ایک نوجوان سعودی لیڈی ڈاکٹر ہے جو ایک ہسپتال میں مردوں کی نگرانی میں کام کرتی ہے ، اس وقت وہ ایک سخت صورتحال کا سامنا کرتی ہے جب ایک بوڑھا شخص ہسپتال میں زخمی ہو کر آتا ہے اور ایک خاتون ڈاکٹر کو دیکھ کر چلاتا ہے کہ میں اس سے علاج نہیں کرواؤں گا میرے لیے کسی مرد ڈاکٹر کا انتظام کیا جائے، مزید یہ دکھایا گیا کہ وہ بہنوں کے ساتھ جس گھر میں رہتی ہے، وہاں یہ سب بہنیں اپنے والد کے لیے پریشان ہیں ان کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، ان کی مائیں گلوکارہ تھیں اور اس کے انتقال کے بعد ان کے والد نے شادی نہیں کی اور وہ اپنی بیوی کے یادوں کے سہارے زندگی گزار رہا ہے، ایک دن والد کو کسی کام سے ملک سے باہر جانا پڑا بڑا اسی دوران مریم کو بھی ایک میڈیکل میٹنگ کانفرنس کے لیے دبئی جانا ہوا، بد قسمتی سے وہ اپنے والد سے ملک سے باہر جانے کا پرمیشن لیٹر نہ لے سکی، اور اسے وہ ساری ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جو اسے ایئرپورٹ پر سہنی پڑی، کیونکہ پرمیشن نہ ہونے کی وجہ سے اسے اجازت نہ مل سکی اور اسے واپس لوٹنا پڑا، اس فلم کے ائیرپورٹ والے سین اور سہیل براغی کی ایرانی فلم Permission (2018 میں بنی حقیقی کہانی سے ماخوذ) میں خاصی مماثلت ہے، جو ایران کی فٹ بالر خاتون کو ٹکٹ لینے کے باوجود اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر ہوئی تھی ۔ ان واقعات کے بعد مریم سعودی خواتین کے بااختیار ہونے کے حوالے سے معاشرتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے انتخابات لڑتی ہے۔

المرشحة المثالیة The perfect candidate کو ایک مکمل سماجی اور سعودی معاشرت میں خواتین کے مسائل سے جڑی فلم کہہ سکتے ہیں۔

سنہء 2019 میں World Economic Forum’s نے 2019 میں Davos میں ھیفاءالمنصور عرب معاشرے میں کلچرل ٹرانسفارمیشن کی صلاحتیوں کی بنیاد پر Crystal Awardبھی دیا گیا۔

سعودی عرب نے آئندہ آسکر فلمی میلے میں فارن کیٹگری میں ھیفاء المنصور کی فلم ’دی پرفیکٹ کینڈیڈیٹ‘ (The Perfect Candidate) کی نامزدگی کردی ہے۔ ھیفاءالمنصور کی اس فلم کا انتخاب بین الاقوامی فلمی میلے میں شرکت کے بعد کیا گیا ہے۔ اس نے ستمبر میں وینس کے بین الاقوامی فلمی میلے میں ’گولڈن لائن ایوارڈ ‘ کے لیے مقابلہ کیا ہے جو سعودی سینما کی تاریخ میں ایک مثال ہے۔
ھیفا المنصور اس سے قبل 2013ءمیں فلم ’وجدا‘ کے ساتھ آسکر کے مقابلے میں حصہ لے چکی ہیں جبکہ 2017 میں بھی سعودی عرب کی نمائندگی کرچکی ہیں۔انٹرنیشنل وینس فلمی میلے نے سعودی فلم ’المرشحہ المثالیہ (مثالی امیدوار)‘ کو 76ویں مقابلے میں ’گولڈن لائن لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کر لیا ہے۔

سعودی وزارت ثقافت نے حال ہی میں گیارہ نئے ثقافتی ادارے قائم کیے تھے ان میں فلم اتھارٹی شامل ہے۔ یہ ادارہ سعودی عرب میں فلمی صنعت کو فروغ دے گا۔ سعودی فلم اتھارٹی مختلف حوالوں سے فلمی صنعت کو منظم کرے گی اور اسے جدید خطوط پر استوار کرے گی۔ فلموں کی جامع حکمت عملی ترتیب دے گی۔ اعلی معیار کی سعودی فلمیں تیار کرنے والا ماحول بنائے گی۔
سعودی فن کاروں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دے گی۔ فلمسازوں اور اداکاروں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا کردارادا کرے گی۔ فلموں کے کاپی رائٹ کے تحفظ کے لیے قوانین بھی بنوائے گی۔

سعودی عرب کی فلمی صنعت کی تاریخ ھیفاءالمنصور کے کردار کو کبھی نہیں بھلا سکے گی،ھیفاء المنصور کے شوہر ڈپلومیٹ امریکن ہیں، اور آج کل ھیفا المنصور کی سکونت بحرین میں ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *