وطنِ عزیز کو دعا۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔محمد عماد عاشق

سنہ 2004 کی بات ہے۔ میں تب بارہ یا تیرہ برس کا تھا۔ اس دور میں مجھے شعر و سخن سے ذرا رغبت نہ تھی، بلکہ شاعری سے شدید نفرت تھی۔ میں شعراء کو بہت برا سمجھتا تھا۔ تاہم اخبار بینی کی عادت تب تک بہت پختہ ہو چکی تھی۔ گھر میں نوائے وقت آتا تھا، جو کہ زبان و بیان کے اعتبار سے ایک بہت عمدہ جریدہ ہے۔ ایک روز ایک فیچر نظر سے گزرا، جس میں درج تھا کہ طارق عزیز صاحب اپنا پروگرام پی ٹی وی پر دوبارہ شروع کر رہے ہیں اور اس مرتبہ شو کا نام “بزمِ طارق عزیز” ہوگا۔ اسی فیچر میں طارق صاحب کا انٹرویو بھی موجود تھا۔ میں وہ پڑھنے لگا۔ اس میں طارق صاحب نے لکھا کہ بزمِ طارق عزیز میں بیت بازی کا مرحلہ بھی رکھا گیا ہے، تاکہ نئی نسل کو شعر و سخن سے روشناسی ہو۔ میں یہ پڑھ کر بہت ہنسا اور دل ہی دل میں کہا کہ طارق صاحب، اب ایسا ہونے سے رہا۔ اب وہ دن گئے جب نئی نسل شعر کو پسند کرے۔ یہ فضول کام آپ کو ہی مبارک۔ لیکن شاید، طارق صاحب نے غلط نہیں کہا تھا۔

پروگرام شروع ہوا اور ساتھ ہی بیت بازی بھی۔ ابا جی کو شو بہت پسند تھا لہذا شو باقاعدگی سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک روز بیت بازی سنتے ہوئے بشیر بدر کا ایک شعر سنا، جس کے بعد مجھے شعر و سخن میں دلچسپی پیدا ہوئی اور پھر اس پروگرام کے توسط سے نہ جانے کتنے اشعار یاد کیے۔ نہ صرف یہ، بلکہ اماں ہمیشہ مجھے یہی ترغیب دیتیں کہ جب بھی شو لگے تو کاغذ قلم لے کر بیٹھا کرو اور زیادہ سے زیادہ سوالات اور ان کے جوابات لکھا کرو۔ یہ پروگرام دیکھتے دیکھتے اتنے جوان ہوئے کہ بعد ازاں پروگرام میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات ہمیں پہلے سے ہی معلوم ہوتے۔ اس پروگرام نے ذرّوں کو آفتاب کیا! ایک پوری نسل اس کو دیکھ کر سرو قامت ہوئی اور اس کا بہت بڑا اعزاز صرف اور صرف طارق عزیز صاحب کو جاتا ہے۔

طارق عزیز بھی رخصت ہوئے۔ میاں عبدالعزیز کے بیٹے تھے۔ وہی میاں عبدالعزیز جس نے اپنے نام کے ساتھ اس وقت “پاکستانی” کا لاحقہ لگا کر اپنا نام میاں عبدالعزیز پاکستانی کیا، جب ابھی پاکستان کا قیام وجود میں نہ آیا تھا۔ شاید اسی تخم کی وجہ سے طارق عزیز میں پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

طارق صاحب کے بہت سے انٹرویوز سننے کا اتفاق ہوا، جن میں کچھ باتیں انتہائی دلچسپ ہیں۔ پیشِ خدمت ہیں:

طارق صاحب ساہیوال سے تعلق رکھتے تھے، لیکن اپنے شہر کو ہمیشہ منٹگمری کے نام سے یاد کرتے۔ کہتے یہ ساہیوال تو آپ کے دور میں ہوا ہے۔ میرا تو منٹگمری تھا۔ کہتے کہ جب میں لاہور آیا تو نہایت عُسرت کا عالم تھا۔ ایک کمرے میں ایک دوست کے ساتھ کرائے پر رہتا تھا۔ اس کمرے میں فقط ایک چارپائی کی گنجائش تھی۔ جس رات میں اپنے دوست سے پہلے واپس آتا، اس رات میں چارپائی پر سوتا اور میرا دوست چارپائی کے نیچے۔ جس رات وہ پہلے آتا، وہ چارپائی کے اوپر اور میں نیچے۔ ایسی عُسرت بھی دیکھی اور پھر اسی شہر میں بہت سی راحتیں بھی نصیب ہوئیں۔

ایک اور جگہ طارق صاحب کہتے کہ میں جب پی ٹی وی گیا تو مجھ سے اسلم اظہر مرحوم (یہ بھی ایک عہد ساز شخصیت ہوئی ہے) نے پوچھا کہ تنخواہ کتنی لوگے؟ میں نے کہا 151 روپے۔ پوچھا گیا وہ کیوں۔ کہتے میں نے جواب دیا کہ ریڈیو پر روزانہ 5 روپے ملتے ہیں۔ اگر پورا ماہ کام ملے تو ماہوار 150 روپے بنتے ہیں۔ ترقی پسند شخص ہوں۔ ایک روپیہ زیادہ مانگتا ہوں۔ کہتے کہ میری اس بات سے خوش ہو کر اسلم اظہر نے میری تنخواہ 500 روپے ماہوار مقرر کی۔

طارق عزیز ایک انسان نہیں، ایک عہد کا نام ہے۔ بچپن کی حسین ترین یادوں میں سے ایک یاد “نیلام گھر” ہے، جسے میں نے اپنے بچپن میں “طارق عزیز شو” کے نام سے دیکھا۔ بعد ازاں اس کا نام “بزمِ طارق عزیز” رکھ دیا گیا۔ قحط الرجالی کا یہ عالم ہے کہ اب ایسا میزبان اور اس قدر اعلیٰ معیار کا شو اب ڈھونڈے نہیں ملتا۔ اس شو کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ جب اس شو کو شروع کرنے کا خیال جس شخص کے ذہن میں آیا ، اس نے میزبان کے انتخاب کے لیے ایک عجیب و غریب شرط رکھی۔ اس نے کہا کہ مجھے اس شو کے میزبان کے لیے کسی ڈاکٹر، پروفیسر، سکالر، عالمِ دین ، انجینئر یا بیوروکریٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ان سب سے بات کر سکے! اور پھر نگاہِ انتخاب طارق عزیز پر ٹھہری۔ اور وقت نے اس انتخاب کو بالکل درست ثابت کیا۔ یہی پروگرام ان کی پہچان بنا۔ وہ ایک ہاتھ میں مائیک اور دوسرے ہاتھ میں کارڈز تھامے، مائیک والا ہاتھ ہوا میں بلند کر کے بھاگتے ہوئے آنا اور حاضرین کی داد کا جواب دینا۔۔۔ “ابتداء ہے ربِ جلیل کے با برکت نام سے ، جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔۔ دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے۔ آنے والے معزز محترم مہمانوں کو خوش آمدید” سے پروگرام کا آغاز کرنا اور “خواتین و حضرات اس کے ساتھ ہی آج کا پروگرام ختم ہوا۔ اگلے ہفتے ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوگی۔ جب تک کے لیے اجازت دیں۔ وطنِ عزیز کو دعا۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد!” سے اختتام کرنے والا طارق عزیز راہیِ عدم ہوا!

لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *