سینٹ کا انتخاب اور طاقت کی جنگ۔۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

‎تحریک عدم اطمینان میں سینٹروں نے جو کچھ کیا ضمیر فروخت کرنے پر ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ اور انہیں پارٹی سے نکال دینا چاہیے اگر گزشتہ سینٹ الیکشن میں ہی تحریک انصاف کی طرح دوسری جماعتیں کارروائی کرتیں تو ایسی نوبت ہی نہ آتی۔ کیونکہ زرداری صاحب نے بندے پورے نہ ہونے کے باوجود پختونخوا  اسمبلی سے اپنے دو سینیٹر منتخب کروا لیے تھے۔ اور چوہدری سرور مقررہ تعداد مکمل نہ ہونے پر بھی سینٹر منتخب ہو گئے تھے۔ اگر تب بروقت کاروائی عمل میں لائی جاتی تو آج اپوزیشن کو عددی برتری ہونے کے باوجود ہزیمت نہ اٹھانی پڑتی۔

‎دو دن قبل جو کچھ ہوا غلط ہوا بالکل میں کہوں گا انتہائی غلط اور پاکستانی سیاست کو ’کھینچ کر 90 کے دور میں دوبارہ لے جانے کی مکروہ سازش کی گئی ہے۔ لیکن آپ جب قابلیت اور موزوں امیدوار کو چھوڑ کر ذاتی تعلقات اور اس چیز کو مدِنظر رکھتے ہوئے ٹکٹ جاری کریں گے کہ کون سینٹ میں زیادہ پیسہ بہا سکتا ہے کون جیتنے کے لیے تعداد پوری نہ ہونے کے باوجود خریدو فروخت میں کارآمد امیدوار ہوسکتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی شکست اور ذلت کا منہ تو یقیناً دیکھنا ہی پڑے گا۔

جو شخص لاکھوں کروڑوں لگا کر ایوانِ بالا کا رکن منتخب ہوتا ہے۔ وہ کیونکر فقط ضمیر کی مانتے ہوئے ضمیر فروشی سے پرہیز کرے گا۔ جبکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے اس بد پرہیز ی سے اُس کی صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑنا بلکہ ُاس کی تجوری کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ُاس کی خوشیوں نے دوبالا ہی ہونا ہے۔ شاید اِس سے صحت اور اچھی ہوجائے۔ اب سے بڑھ کر وہ پیسے  کا بے دریغ استعمال کرکے اس مقدس ایوان کا رکن ہی اسی لیے منتخب ہوا ہوتا ہے تاکہ وہ بھی چند مہینوں میں لوگوں کی طرح اپنی دولت ڈبل کرسکے جو ڈبل شاہ کے پاس رقم رکھوا کر اپنی رقم ڈبل ہونے کی مقررہ تاریخ کا انتظار کرتے گھڑیاں گنتے تھے۔ اس کھیل میں صرف ایک ڈبل شاہ نہیں ہوتا بلکہ یہاں ایک ہی مالک کے کئی ایک ڈبل شاہ غلام ہمہ جہت موجود ہیں۔ جو مالک کی طرف سے آنکھ کی جنبشِ سے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ مالک کیا چاہتا ہے اور اُس کے حکم کی تکمیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ڈبل شاہ کو پیسے سے کوئی غرض نہیں ہوتی بلکہ وہ تو مالک کے لیے پانی کی طرح پانی بہانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں انہیں صرف مالک کی خوشنودی چاہیے ہوتی ہے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے اگر مالک خوش ہے تو یہ اس ملک میں کچھ بھی کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اگر مالک ناراض ہے تو سات سمندر پار بھی انہیں سکون میسر نہیں آ سکتا۔ اس لیے یہ سارے ڈبل شاہ مالک سے بنا کر رکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اور حکم کی تعمیل میں ایک دوسرے سے پیش پیش ہوتے ہیں۔ یہ اُس رکن کو سونے میں تولنے کی صلاحیت رکھتے ہوتے ہیں۔ اس طرح منتخب رکن چند ماہ میں اپنا پیسہ ڈبل کرکے سائیڈ  پر ہوجاتا ہے اور دوبارہ سے اس طرح کے میچ پڑنے کا انتظار کرتا ہے تاکہ ایک بار پھر کوئی ڈبل شاہ آ کر اسے سونے میں تولے۔ ڈبل شاہ کو مالک کی آشیرباد میسر آ جاتی ہے۔ اور مالک عزیز ہم وطنوں کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ اس مالک کے اصل مالک وہی ہیں اور ان سے بنا کر رکھنے میں ہی سب کی عافیت ہے۔

یہ کھیل آگے بھی ایسے ہی بلکہ اس سے مزید ڈھٹائی سے کھیلا جاتا رہے گا۔ ساری ایسی جماعتوں کو باقاعدہ مل جل کر ایک بات پر متفق ہونا ہو گا۔ جو جو لوگ اس مکروہ اور قبیح عمل میں ملوث پائے جاتے ہیں سب کو پارٹی سے نکال باہر کیا جائے اور کوئی بھی جماعت دوبارہ ان سمیت ان کے خاندان کے کسی بھی شخص کو اپنی جماعت میں نہیں لے گی۔ تاکہ ان سمیت ،ان کی نسلوں کو بھی اس مکروہ کام پر نشانِ عبرت بنایا جاسکے۔ ٹکٹ صرف قابل اور اہل کو ہی جاری کیا جائے گا۔ تمام جماعتیں مل کر اس پر باقاعدہ قانون سازی کریں کہ سینیٹر منتخب کرنے کا عمل ووٹوں کی بجائے واضح عددی اکثریت سے کیا جائے گا۔ جس کے جتنے صوبائی اسمبلی میں تعداد کی بنیاد پر سینیٹر منتخب ہوتے ہیں۔ انہیں براہ راست اتنے سینیٹر منتخب کرنے کا حق ہو۔ اور چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب کا عمل خفیہ رائے شماری کے بجائے سامنے ہونا چاہیے۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *