• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کچھ قصے شہر ٹورانٹو کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔……روبینہ فیصل

کچھ قصے شہر ٹورانٹو کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔……روبینہ فیصل

ہم جتنا چاہیں اتنا ہنس سکتے ہیں اپنی اخلاقی تنزلی پر،اپنے چھوٹے پن پر،اپنی جھوٹی اناؤں پر اور اپنے اوپر چڑھائے خولوں پر،مگر جب دن کا اختتام ہوگا تو ہمیں ایک دفعہ جی بھر کر رونا پڑے گا کہ ایسے رویے اینڈ آف دی ڈے آنسوؤں پر ہی جا کر ختم ہوتے ہیں۔

پرائیویسی اور عوام میں انتشار کے خوف سے نام صغیہ راز رکھوں یا فرضی ناموں سے قصے بیان کروں؟۔۔۔۔ یہ میں نے حسب ِ معمول اپنی انگلیوں کی روانی پر چھوڑ دیا، قلم کی روانی اس لئے نہیں کہہ سکتی کہ سالوں سے لیپ ٹاپ پر ڈائریکٹ اردو ٹائپ کی عادت پڑ چکی ہے، قلم کو ہاتھ لگا لوں تو اس کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور میری بھی۔۔۔ تو بات ہو رہی تھی ان فر ضی کرداروں کی جو ہر گز فرضی نہیں ہے لیکن مصلحتا انہیں فر ض کیا جا رہا ہے۔۔

ٹورنٹو، وہ شہر ہے جس نے مجھے بے شمار محبتیں،عزت اور نام دیا اور جب اوپر بیٹھی ذات ایسی انمول چیزیں دیتی ہے تو ساتھ بلاوجہ کی نفرتیں اور دشمنیاں بھی آپ کے کاسے کے سکّے بنتے ہیں۔۔اس لئے احتیاط ضروری ہے کسی بھی وقفے کی طرح۔۔۔۔

تو سُنیے۔۔ایک دوست ہیں دل کے سادہ مزاج ہیں، لمبے چوڑے ہونے کی وجہ سے دیکھنے میں اپنے “بچے جیسے دل” کے برعکس تاثر دیتے ہیں۔۔ چونکہ ہماری ان سے سالہا سال کی دوستی ہے اور ایک معمول ہے کہ جب بھی ان کے دل پر کوئی چوٹ لگتی ہے تو ان کا ایک میسج آتا ہے “کین آئی کال یو ناؤ۔”۔ تو مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ شہر ِ ٹورنٹو میں کچھ ہونے والا ہے یا ہوچکا ہے، ایک دن ان کی ایسی ہی ایک کال آئی۔۔ شہر کی ایک معزز خاتون ہیں،ان کی بیٹی یا بیٹے کی شادی تھی۔۔ تو ہمارے معصوم دوست بھی وہاں انوائٹڈ تھے، بیگم سمیت گئے۔۔ خوشی خوشی شادی اٹینڈ کر کے آئے بلکہ جانے سے پہلے مجھ سے پو چھا کہ آپ کو دعوت ہے، میں نے خوشی سے لبریز آواز میں بتایا کہ الحمد اللہ میں انوائٹڈ نہیں ہوں (خوشی، ایویں نہیں تھی، کیونکہ مجھے ان خاتون کے ہاتھ پہلے ہی لگ چکے تھے اور میں نہ بلائے جانے پر مسرور تھی۔۔ بلا لی جاتی توبہانے کرنے پڑتے جس سے طبیعت بلاوجہ بوجھل رہتی )۔۔خیر ہمارے دوست نے مجھ سے اظہار ِ افسوس کیا جیسے میں شہر کی اہم تقریب میں شرکت سے محروم ہو گئی ہوں،میں نے اپنی خوشی پھر بھی چھپائے رکھی۔اور ان کے افسوس کو قبول کیا۔

میری خوشی اور دوست کے شاک کی سمجھ اس قصے کو سننے کے بعد آئے گی،آپ بھی انہی کی زبانی سنیں تڑپیں یا ہنسیں یا روئیں آپکی صوابدید پر چھوڑ دیا۔۔

“میں اور بیگم۔۔۔کی بیٹی کی شادی پر گئے۔۔(ڈیش،اپنی اپنی سمجھ کے مطابق فل کر لیجیے  گا ،پو را قصہ پڑھنے کے بعد)۔۔اٹینڈ کر کے خیر خیریت سے گھر آگئے، گھر آکر سوئے، صبح اٹھے، ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ میسج کی ٹرنگ بولی، دیکھا،اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، اُسی۔۔ محترمہ کا تھا: آپ اور آپ کی بیگم صاحبہ میری بیٹی کی شادی پر تشریف لائے، بہت شکریہ، آپ آئے، آپ نے کھانا بھی کھا یا لیکن آپ کی طرف سے نہ دلہن نہ دلہا کو سلامی دی گئی۔ کیونکہ جتنے سلامیوں والے لفافے نکلے ہیں ان میں آپ کے نام کا ایک بھی نہیں ہے۔ یہ میسج پڑھتے ہی میں نے انہیں میسج لکھا کہ میں نے سو ڈالر (عام ریٹ ہے) کا لفافہ ایک محترمہ پھر رہی تھیں جن کے ہاتھ میں کچھ لفافے تھے تو انہی کو دے کر واپس آگیا ہوں بی بی۔۔ پھر جواب آیا:نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں آپ اور آپ کی بیگم آئے،آپ نے کھانا کھایا اور بغیر سلامی دئیے آگئے، آپ کا یہ رویہ مناسب نہیں ہے۔ جب وہاں سلامیوں والا ڈبہ پڑا تھا تو آپ کو کسی اور کے ہاتھ میں لفافہ دینے کی کیا ضرورت تھی جب کہ وہ کوئی اور نہ میں تھی نہ میرا شوہر نہ میرا کو ئی بچہ۔
روبینہ! یہ پڑھتے ہی غصے سے میرے ہاتھ پاؤں کانپنے لگ گئے میں نے اسی وقت اس کو سو کی بجائے دو سو ڈالرز ای میل ٹرانسفر کیے، گو اس کے بعد بیوی سے درگت بنی، مگر تم دیکھو نا۔۔ حد ہی نہیں ہو گئی۔۔۔۔۔ “؟

فون پر یہ سب سناتے سناتے بے عزتی کا احساس ان کے ایک ایک جملے سے عیاں تھا۔۔۔میں نے ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہونے کی کوشش کی مگر میری ہنسی نکل گئی۔ لمبے چوڑے انسان کی مسکین سی شکل تصور میں آئے تو یہ تو ہونا ہی تھا۔ وہ برہم ہو گئے۔۔ تم ہنس رہی ہو؟۔ میں نے کہا جی بالکل کیونکہ آپ کا یہ دکھ ایسا ہے جس پر جتنا بھی ہنسا جائے اتنا ہی کم ہے۔ اس کے جواب میں کئی اور باتیں ہوئیں لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ قارئین اس واقعے کو کیسے لیتے ہیں۔۔ ہنسی، دکھ یا مقام ِ ماتم؟ کیونکہ میرا تو اب یہ حال ہو گیا ہے کہ دُکھ کی باتوں پر بھی ہنسی آنے لگی ہے۔

یہ واقعہ ادبی تھا، دوسرا واقعہ ذرا سیاسی ہے۔۔۔۔
اس دن سے پہلے مجھے بلاول کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔۔
کسی محفل میں بیٹھے تھے، اس امید کے ساتھ کہ بولنے کا حق سب کا برابر ہو تا ہے۔ اپنی اپنی رائے رکھنے کا حق بھی انسان کی پیدائش کیساتھ ہی باقی حواس ِ خمسہ کی طرح ساتھ ہی دے دیا جاتا ہے۔۔ لیکن جیسے کچھ انسان پیدائشی معذور بھی ہو سکتے ہیں اسی طرح کچھ گھر، کچھ معاشرے کچھ شہر کچھ ملک ذہنی معذوری کا شکار ہو تے ہیں اس لئے خود سے سوچنے اور بولنے کا حق، وہاں پیدا ہونے والے انسانوں کا نصیب نہیں ہو تا۔خیر ایسی جگہوں پر بھی ہم جیسے بدھو لنگڑا لنگڑا کر چلنے کی کوشش میں بھاگنے والوں سے دھکے کھا کھا کر گرتے سنبھلتے اوراٹھتے رہتے ہیں۔۔ تو اسی مان سے وہ جو میری ہم زاد ہے بولی، یہ جب بلاول بولتا ہے تو میرا دل کرتا ہے کہ یا خود کو مار لوں یا اس کے سر پر کچھ دے ماروں۔ وہاں بیٹھے، وہاں سے مراد کینیڈا جیسے ملک کے اندر،ایک جوان بولا۔۔آپ جانتی بھی ہیں بلاول کون ہے؟ جس کا باپ صدر ِ پاکستان رہ چکا ہے، جس کی ماں وزیر ِ اعظم پاکستان رہ چکی ہے، جس کا نانا،صدر اور وزیر ِ اعظم پاکستان رہ چکا ہے جس کا پڑنانا قبل از تقسیم ہندوستان کی کیبنٹ کا وزیر رہ چکا ہے۔۔اس کی باتوں پر تم لوگوں کو غصہ آتا ہے، اسے لیڈر بنے تم لوگ نہیں دیکھ سکتے۔جس کی وارثت میں لیڈری ملی ہے اور اس کلرک کے بیٹے عمران خان پر پیار آتا ہے؟ وہ ہے کیا؟ وہ لیڈر ہے؟”جمہوریت کی بقا “کا اس سے زیادہ قائل کر دینے والا زور دار نقطہ میں نے آج تک نہیں سنا تھا اپنی کم علمی پر بس میں شرمندہ سی سہم سی گئی۔۔

آج ایک اور قصہ بہت زور شور سے یاد آرہا ہے۔شہر ٹورنٹو کی ایک حسین و جمیل اورمعروف خاتون، بہت عرصہ منظر سے غائب رہنے کے بعد ایک دن کسی محفل میں مجھے ملیں، میرے استفسار پر بتایا کہ میں ڈائگنوزز میں ہی مصروف تھی تو اب فائنلی پتہ چل گیا ہے کہ مجھے گلے کا سرطان ہے۔۔ میری نمانی سی روح کانپ اٹھی۔ میں نے ان کی نشیلی آنکھوں میں غم کی پر چھائیں ڈھونڈتے ہو ئے حیرت سے کہا: ہیں؟ بولیں: ہاں نا۔ مارے دکھ کے” ہیں ” کے علاوہ میرے منہ سے کچھ نہ نکل پا یا۔ بہت راتوں تک میں ان کے لئے دعائیں کر تی رہی اور دکھی رہی۔دن گزرتے گئے پھر ایک جگہ کسی پروگرام میں بہت سرگرم نظر آئیں۔۔ شاید ہوسٹ تھیں ۔ میں نے دل ہی دل میں ان کی ہمت اور عزم کی داد دی اور موقع ملتے ہی ان  سے ان کا حال چال پو چھا ،پہلے تو حیرت سے مجھے دیکھا۔۔ پھر کہنے لگیں اوہ اچھا وہ کینسر۔ وہ تو میرا موکل کب کالے گیا ہے۔۔میں نے کہا موکل؟۔۔مجھے لگا شاید کیمو تھراپی کا نام موکل رکھا ہوا ہے۔۔ہاں نا وہ میرے پاس آتے ہیں نا۔ موکل یعنی وہ جو جن ہوتے ہیں؟۔۔۔ وہ بولیں۔۔ ہاں نا۔۔۔مجھے ان کے موکل پر اعتراض نہیں نہ ان کے ہاتھوں کینسر والی جھوٹی خبر صرف مجھے ہی سنانے پر کیونکہ بعد میں ان کے قریبی لوگوں سے اس کینسر کا حال پوچھنا چاہا تو کسی کو بھی علم نہیں تھا۔۔اپنے پاگل بنائے جانے پر صدمہ سا لگا،بلکہ غصے کے مارے آگ سی لگ گئی۔۔ آپ ہنستے ہیں یا میرے ساتھ دکھی ہو تے ہیں؟

یہ سب قصے ہمارے ہیں۔۔ ہم ان کے امین، ہم ان کے لکھاری ہیں۔۔ آنے والی نسلوں تک اس کا اثر تو جائے گا ہی تووہ کیا کریں گے؟وہ کیا پوچھیں گے؟
“وہ جو ہم سے پہلے تھے۔۔ وراثت میں ہمیں جھوٹ، بغض،تنگ نظری اور غلامانہ سوچ کا تحفہ دے کر گئے ہیں۔۔ ان کی وراثت کے امین بنیں یا کو ئی نیا راستہ ڈھونڈیں؟

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *