مکالمہ مبارک، عید مبارک۔۔ انعام رانا

ایک سال گزر گیا۔ مگر ایسے کہ مُکالمہ کو زندگی اور فطرت کا حصہ بنا گیا۔

جب “ہم سب” چھوڑنے پر بھائی مجاھد حسین نے کہا کہ آپ اپنی سائیٹ بنائیے تو پہلا خیال تھا، “بھلا میں کیسے بنا سکتا اور مجھے کیا ضرورت پڑی ہے”۔ نیا نیا دفتر تھا اور ضرورت تھی کہ میں مکمل توجہ بس اپنے کاروبار کو دیتا۔ میری والدہ اکثر کہتی ہیں کہ ضرور کسی وکیل دوست نے اس سے دشمنی کی ہے کہ مُکالمہ پر لگا دیا تاکہ یہ اس دھیان لگا رہے اور وکالت پر توجہ نا دے۔

مُکالمہ شروع ہوا تو ایک دوست سے لکھنے کو کہا۔ وہ خاموش رہا۔ جب کئی بار اصرار کیا تو اک دن بولا کہ “یار سن، تو نے ایک جذباتی قدم اٹھایا ہے۔ تو وکیل ہے اور یہ سائیٹ چلانا فل ٹائم کام۔ تیرا یہ جو غصہ ہے یہ دو چار ماہ میں اتر جانا ہے۔ تو میں جہاں لگا ہوں مجھے لگا رہنے دے، تو تو پھر بھی دوبارہ ہم سب پر ہی لکھ لے گا، میں تو واپس جانے جوگا بھی نہیں رہوں گا”۔ دوستو، سچ تو یہ ہے کہ بہت سے مخلص دوستوں کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ یہ اک جذباتی “راجپوتانہ قدم” ہے اور دو تین ماہ میں ہی “عقل ٹھکانے آ جائے گی”۔ بہت سے “فیس بک والے اور والیاں” خوش تھے کہ انکو مجھ سے بدلہ لینے کا موقع مل گیا اور اب مُکالمہ کو ناکام بنا کر وہ اپنا بدلہ مجھ سے پورا کریں گے۔ اللہ آج انکو صبر دے اور آگے بھی انکے شر سے پناہ میں رکھے۔

میں اپنے رب کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مُکالمہ کو شروع سے ہی مقبول کر دیا اور میرا نہیں رہنے دیا بلکہ آپ سب کا کر دیا۔ مُکالمہ کو جسطرح پہلے دن سے پزیرائی ملی، مجھے خود بھی حیرت ہوتی ہے۔ لوگوں نے جس والہانہ انداز سے مُکالمہ کا استقبال کیا، اس سے جڑے اور جڑے رہے، یہ سب واقعی حیرت انگیز ہے۔ میں اپنے تمام قارئین کا ممنون ہوں جنہوں نے خالہ بن کر مُکالمہ کا کاکا اپنے کندھے سے لگا لیا۔ میں اپنے تمام دوست لکھاریوں کا شکر گزار ہوں جو دائیں کے ہوں یا بائیں کے، مذہبی ہوں یا سیکیولر یا لادین، لبرل ہوں یا سوشلسٹ؛ مُکالمہ کو اپنا پلیٹ فارم سمجھ کر ایسا جڑے کہ اسے اک گلدستہ بنا دیا جس کی خوشبو سے یہ چمن مہک رہا ہے۔

موسیو یاروں کا یار ہے۔ میرے اک بار کہنے پر وہ مُکالمہ کے سرپرست بنے اور پھر کئی لوگوں کی ریشہ دوانیاں بھی انکے پائے استقلال میں لغزش تک نا لا سکیں۔ حافظ صفوان نے ایڈمنسٹریشن میں واحد ن لیگی ہونے کے باوجود حب مُکالمہ کو حب مریم پر اہمیت دی۔ احمد رضوان نے دوستی اور ایڈیٹری ایسے نبھائی ہے کہ جی کرتا ہے بلھا بن کر اس ارائیں کو مرشد مان لوں۔ طاہر بھائی موسیو کے بعد دوسرے پریکٹیکل صحافی ہیں اور علی سجاد کا ایسا قیمتی تحفہ جسکا طعنہ بھی دے تو برا نہیں لگتا۔ اسما جتنی محنت سچ بات ہے بہت کم لوگوں کو کرتے دیکھا، مُکالمہ کی خوبصورتی اور اچھوتے موضوعات میں اسما کی بہت زیادہ کنٹریبیوشن ہے۔ میں بطور مُکالمہ فیملی ممبر اور قاری ان سب کا ممنون ہوں۔

ہمارا فیس بک گروپ اب بیس ہزار کراس کر چکا۔ اتنے بڑے گروپ کو مینیج کرنا، لڑائی جھگڑے اور منافرت سے بچانا اور گروپ میں مُکالمہ کی روح کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل کام ہے۔ آپا زرقا کی سربراہی میں سعدیہ جیسی ڈاڈھی رن، اویس قرنی جیسا مدھم اور حمیرا جیسی مدبر ایک ٹیم بن کر گروپ کو مینیج کرتے ہیں۔ حمیرا تو ہماری سوشل میڈیا مینیجر بھی ہے جو ٹویٹر اور دیگر کمپینز کو مینیج کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسی فیملی ہے جو ہر وقت مستعد، اک دوجے کی مدد کو تیار اور اک دوجے کیلیے مرنے مارنے کو بیٹھی رہتی ہے۔ بطور فیملی ممبر میں انکا بھی ممنون ہوں۔

اس موقع پر ان ساتھیوں کا ذکر بھی لازمی ہے جو کسی وجہ سے ساتھ نا دے پائے مگر انکی محنت کے بنا مُکالمہ کا اس مقام پر آنا شائد ممکن نا ہو پاتا۔ محترم مجاہد حسین اور رابعہ درانی نے بطور بانی ایڈیٹر شدید محنت کی اور شروع کا مُکالمہ مضبوط کیا۔ عائشہ رانا، ثمینہ، فہیم، محمود، حبیبہ طلعت، میاں ارشد، عمیر اقبال اور صبا نے جس قدر محنت کی اور ایکٹویٹیز کیں، اسکے بنا مُکالمہ شاید اسقدر پاپولر اور اسکا گروپ اتنا مضبوط کبھی نا بن پاتا۔ محترم لالہ صحرائی، رضا آمنہ اور اسمارا مرتضی نے اپنے اپنے وقت پر مُکالمہ کو آگے بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ میں ادارہ مُکالمہ کی جانب سے ان سب کا انتہائی ممنون ہوں۔

میں لکھاریوں کا فردا شکریہ ادا نہیں کر سکتا کہ اک ایسی وسیع کہکشاں ہے جسکا احاطہ میرے لئیے ممکن ہی نہیں۔ مرشدی طفیل ہاشمی سے عارف خٹک اور ظفر ندیم داود سے ابن فاضل تک، ہر رنگ کا ہیرا ہے اور ہر ہیرا کوہ نور۔ میں ہر اس لکھاری کا ممنون ہوں جس نے مُکالمہ کیلیے ایک بھی مضمون لکھا۔ میں ہر اس قاری کا ابھاری ہوں جس نے مُکالمہ کی ایک سطر تک بھی پڑھی یا اسے لائک کیا یا اس پر قیمتی کمنٹ دیا۔ مُکالمہ اپ سب کے بنا نا تو بن پاتا اور نا ہی سالگرہ منا سکتا۔

یارو، کبھی بہت تھک جاوں، یا کسی مہینے پیسے زیادہ لگ جائیں تو تنگ ہو کر سوچتا ہوں کہ کس کام لگ گیا۔ کبھی مُکالمہ کی وجہ سے جڑے لوگوں کی بے وفائی سہوں یا دوستوں کو آپس میں جھگڑتے دیکھوں تو سوچتا ہوں کیا واقعی کوئی فائدہ ہوا؟ مگر پھر کسی نا کسی کا فقرہ یا تحریر نظر سے گزرتا ہے کہ مُکالمہ نے کیسے اسکی زندگی پر اثر ڈالا، اسکی سوچ بدلی یا انداز تحریر بہتر کیا، اور میری سب تھکن، سب ڈپریشن دور ہو جاتا ہے۔ ذاتی طور پر، دنیاوی نکتہ نظر سے میں نے ایک سال میں مُکالمہ کی وجہ سے کافی کچھ گنوایا ہے(پیسہ، وقت، کچھ ممکنہ رشتے اور کچھ دوست)۔ کون سا الزام اور دشنام ہے جو مجھے نہیں ملا۔ مگر اس کے بدلے میں وہ محبت پائی ہے جو بطور وکیل کبھی نا پاتا۔ مسلم ہو یا غیر مسلم، مذہبی ہو یا ملحد، سنی ہو یا شیعہ، لبرل ہو یا کامریڈ؛ مجھے سب ہی سے ایسی محبت اور عزت ملی جو بطور وکیل شاید ممکن نہیں تھا۔ اس لئیے مجھے فخر ہے کہ میں مُکالمہ فیملی کا حصہ ہوں۔

آج مُکالمہ اپنی منفرد شناخت کے ساتھ ایک بڑا گروپ بن چکا ہے۔ بین المذاہب، بین المسالک، بین النظریات، بین الصوبائی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مکالمے کو فروغ سے رہا ہے۔ ہر قسم کے تعصب سے پاک پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اردو اور انگلش میں شائع ہو رہا ہے، ویب ٹی وی ہے اور ایک بڑا فیس بک گروپ ہے۔ لاہور، کراچی، دبئی اور لندن میں کانفرنسز کر چکا ہے۔ گیارہ ہزار کے قریب بلاگ شائع ہو چکے، آٹھ سو کے قریب رائیٹر لکھ چکے۔ ایک رسالہ چھپ چکا۔ ستیہ پال آنند جی، اسد مفتی، خالد صوفی، عمار کاظمی,سید انور محمود اور ڈاکٹر اختر سید جیسے بڑے لوگ مُکالمہ کیلیے لکھ رہے ہیں۔ نئے رائیٹرز آ رہے ہیں، بہتر ہو رہے ہیں۔ الزام لگانے والے تھک کر خاموش ہو گئے، جلنے والے کوئلوں کی راکھ بن چکی۔ نا مُکالمہ اسلام یا پاکستان کے خلاف کوئی سازش نکلا نا میری نوٹ چھاپنے کی فیکٹری۔ نا ہم نے فنڈنگ لی اور نا سنسی خیزی اور فساد پیدا کیا، بلکہ ایک مکمل فیملی پلیٹ فارم بنے۔ مجھے ایسے میں یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ الحمداللہ مُکالمہ اپنی پہلی سالگرہ تک ایک کامیاب گروپ بن چکا ہے۔ ایسے میں ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمکو استقامت دے اور اپ کا ساتھ اور حمایت بھی ہمیشہ نصیب رہے۔ بقول ڈاکٹر عاصم اللہ بخش، ایسا دیا اگر ایک بھی گھر روشن کر دے تو بازی مات نہیں۔ آئیے ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں، مُکالمہ کو مزید مضبوط کریں، پروان چڑھائیں اور ایک ایسے معاشرہ کی بنیاد رکھیں جس میں رواداری ہو، برداشت ہو، محبت ہو، مُکالمہ ہو۔

 

مُکالمہ کا آغاز ایک مقدس دن، میری والدہ کی سالگرہ، یکم ستمبر، کو کیا تھا۔ آج ماشااللہ لندن اور دیار مغرب و عرب میں عید بھی ہے۔ سو ہیپی برتھ ڈے امی، سالگرہ مبارک مُکالمہ اور عید مبارک مُکالمہ فیملی۔

 

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مکالمہ مبارک، عید مبارک۔۔ انعام رانا

  1. ماں جی کو سالگرہ کی بہت بہت مبارک۔۔ اللہ تعالی انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی زندگی عطا کریں۔
    انعام رانا صاحب ۔۔۔ اس طویل اور انتھک سفر پر آپ کو بہت مبارک باد۔
    رضوان احمد کے لئے جو جملہ لکھا ہے۔۔۔ پڑھ کر بہت مزا آیا۔
    مکالمہ ٹیم میں شامل دیگر رفقا کو بھی بہت سارا سلام۔ میری دعا ہے آپ اور انعام رانا۔ ٹِچ بٹن کی طرح جڑیں رہیں۔ آمین
    مکالمہ گروپ کو سالگرہ مبارک ہو۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *