سکرین شاٹ۔۔سلیم مرزا

ضیائی دور ِ جہالت میں جن سینماؤں میں “ٹوٹے”چلتے , ان کے پوسٹرز کے نام بھی عجیب ہوا کرتے تھے، اچھی بھلی “میڈم باوری “فلم کا نام “پیاسی جاسوس “ہوجاتاتھا ۔
چنانچہ پہلی بار جب “تینوں کیہہ “کے نام سے کمنٹ آیا تو مجھے یوں لگا کہ میں اس سے پہلے مل چکا ہوں ۔
مگر کہاں ۔۔۔۔
زنکو پیلس گجرانوالے
شیش محل شیخوپورے
یا مون لائٹ لاہور؟
بعد میں پتہ چلا کہ یہ کوئی فلمی نہیں، قلمی نام ہے جیسے قلمی آم ہوتا ہے ۔ لیکن یہ جعفر حسین امب نہیں تھا ۔ایک بہت پیارا سا پیار کرنے والا نوجوان ہے ۔
بس ایک بار ایک دوست کے ساتھ بس میں ملتان جارہا تھا ۔دوست کو ایک لڑکی بس اڈے پہ نظر آئی ۔دوست نے ٹہوکا دیا ۔
جعفر حسین نے دیکھی اور کہنے لگا “بس، میں نہیں ہے، مینوں کیہہ ”
دوست نے پوچھا “کہ اگر بس میں ہو تو”؟
“تے فیر تینوں کیہہ  “یہیں سے اس کا نام “تینوں کیہہ” پڑگیا۔

میرا خیال تھا کہ محبت میں سائنس نہیں ہوتی، لیکن جعفر حسین نے میٹرک سائنس میں کیا ہے ۔
ایک دن میسنجر پہ اس کا میسج آیا، مجھے کہنے لگا،
” گوگل کے خانیوال جنکشن میں خرابی ہوگئی ہے ۔جس کی وجہ سے فیس بک میانچنوں سے کوئی فرینڈ ریکوئسٹ نہیں اٹھا رہی ،آپ مجھے ریکوئسٹ بھیج دیں گے ”
میں ٹھہرا سدا کا سیدھا سادا، ورنہ ریکوئسٹ بھیجنے سے پہلے پوچھتا
“بھائی اگر گوگل کا سرچ انجن خانیوال ڈاؤن ہوگیا ہے تو میسنجر ،میانچنوں سے پسنجر کندھوں پہ اٹھا کر کامونکی لایا ہے”؟
فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے کے آدھے گھنٹے بعد “تینوں کیہہ “نے مجھے اس کا سکرین شاٹ بھیج کر میرے بلب شارٹ کر دیے ۔لکھا تھا ۔
“میں کباڑیا ہوں ۔پرانے لوگ اور ان سے وابستہ چیزیں سنبھال کر رکھتا ہوں ۔میرے پاس قائم علی شاہ کا پیمپر بھی ہے اور مارلن منرو کی بنیان بھی ”

میں نے جب اس کی بات پہ یقین نہیں کیا تو اس نے پینتالیس سائز کی بنیان کی تصویر بھیج دی ۔
اب میں اتنا بھی پاگل نہیں کہ مارلن منرو اور امریکی مشیر اطلاعات و نشریات کے کپڑوں میں فرق نہ کر سکوں؟

میانچنوں زرعی آلات کے حوالے سے ہمیشہ آلہ کار رہا ہے ۔

“تینوں کیہہ ” نے بھی مکئی کے بھٹے سے دانے اتارنے والی مشین ایجاد کی ہے ۔مکئی سے دانے ایسے اترتے ہیں جیسے کملی کملی والے گانے میں کترینہ کے کپڑے ۔

میں نے پوچھا ایسی ایجاد کا خیال کیسے آیا؟
کہنے لگا
“اسٹرپٹیز “فلم سے۔

پچھلے دنوں ایک اور بلاک سائیٹ سے “چھلیاں “کاشت کرنے کا طریقہ بھی سیکھ رہا تھا ۔مگر اسے پی ٹی اے نے بلاک کردیا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستانی مکئی کا دانہ پاپ کارن  بناتے وقت امریکی دانے سے زیادہ اچھلتا ۔

جعفر حسین تازہ شادی شدہ ہے ۔چار ماہ بعد ہی موٹر سائیکل کی ٹینکی خالی لگتی بھی تھی اور رہتی بھی تھی ۔سال بھر دوستوں نے طعنے دیے تو اب ایک بچے کو اس پہ بٹھائے بلکہ اُڑائے پھرتا ہے ۔
کوئی سمجھائے کہ بچہ ابھی چھوٹاہے تو فورا ً کہتا ہے ۔۔میرا بچہ ہے۔’تینوں کیہہ ”

فیس بک اور دوستوں کا ہِلا ہوا تھا ۔ایک دن بچے کا پیمپر بدل کر کمرے میں ہی پڑا رہنے دیا ۔بیگم نے ایک دوبار کہا تو کہنے لگا “تینوں کیہہ ”

اس نے وہی پیمپر اٹھا کر دے مارا، کنپٹی پیلی اور بنیان تک گیلی ہوگئی، اس کے بعد اس نے نام بدل لیا ۔اب یہ جعفر حسین ہے ۔

مجھے آج پتہ نہیں تینوں کیہہ  کی سالگرہ ہے یا جعفر حسین کی ۔
جس کی بھی ہو
“مینوں کیہہ ”

میری طرف سے صحت و تندرستی کی ہزاروں دعائیں، خوشحال زندگی کے ساتھ ۔پروردگار اسے اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے !آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *