ایک بار پھر زرداری سنجرانی کے کام آگئے۔۔۔سید عارف مصطفٰی

SHOPPING

ساری اپوزیشن ہار گئی اور ایک اکیلا زرداری جیت گیا ۔۔۔ بظاہر دکھائی تو یہی دیتا ہے کہ حراست میں ہونے کے باوجود انہی کی مدد سے اور انکی خدمت پہ امور دو ذاتی خدمت گاروں کے ذریعے اہلخانہ اور پھر متعلقہ افراد تک مسلسل رابطوں اور پیغام رسانی کے بل پہ درون خانہ نقب لگوائی گئی اور یوں 9 پی پی پی کے اور 3 مسلم لیگ نون کے سینیٹرز کو توڑ کر صادق سنجرانی کے حق میں ووٹ ڈلوائے گئے جبکہ دیگر 2 پہ الگ سے براہ راست کام ہوا – اگر کسی کو یاد نہ ہو تو پھر یاد دلادیتا ہوں کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی موصوف نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پہ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی اپوزیشن کی قرارداد کے حوالے سے ایک اخبار نویس کے پوچھے گئے سوال پہ یہ جواب دیا تھا کہ نہ ہم اسے لائے تھے نہ ہٹا رہے ہیں ۔۔۔
بات سیدھی سی ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ مفاہمت کے بادشاہ کہلانے والے آصف زرداری اس بار زندگی میں پہلی بار خود کو بری طرح پھنسا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور کسی نہ کسی طرح دوسرے این آر او کے ذریعے اپنی سیاسی بحالی کے لیے بری طرح تڑپ رہے ہیں کیونکہ اس مرتبہ انہیں دوران نظر بندی وہ “خصوصی سہولتیں” میسر نہیں ہیں کہ جو انہیں ڈاکٹر عاصم کے ضیاءالدین ہسپتال کے تیسرے فلور پہ طویل قیام اور مبینہ قید کے دوران سجا سجایا شبستان میسر آنے کی صورت میں فراہم تھیں اور جہاں وہ عشوہ طراز ماڈلوں و حسیناؤں کے جلوؤں اور کاجو پستے و بادام کے حلوں سے شاد کام ہوتے تھے اور پھر اس ‘حسن کارکردگی’ کے صلے میں انہوں نے اپنے اس خدمتگار ڈاکٹر عاصم کا منہ پیٹرولیم کی وزارت جیسے موتیوں سے بھردیا کہ جہاں وہ قومی خزانے کو کئی سو ارب روپے کا ٹیکہ لگانے میں کامیاب رہے –

SHOPPING

حسب روایت ‘انبارِ مکاری’ المعروف مسٹر زرداری دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنے کی حکمت عملی پہ عمل پیرا ہیں اور اس بار بھی انہوں نے بیک وقت گرم اور ٹھنڈی پھونکیں مارکے ہر قیمت پہ اسپیس حاصل کرنے کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے اور گرم پھونکوں کی ذمہ داری اپنے سپوت بلاول کو سونپ رکھی ہے اور ٹھنڈی پھونکوں کا بار اپنے کاندھوں پہ لیا ہوا ہے ۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے  کہ اس ‘گرانقدر خدمت ‘ کا صلہ انہیں اب کی بار کس شکل میں ملتا ہے۔۔۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *