سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط16

مشرقی حلب کے کھنڈرات سے جنم لینے والے  کردار اور کہانیاں رقیہ الحاجی اور علی النصر کی داستان الم۔۔

یہ کیسے دن ہیں؟ بے حد عجیب سے۔ جذبات و احساسات کی مختلف سمتوں میں متحرک۔ کہیں اُداسیوں کے کہرے میں لپٹے، کہیں سلگتی آنچ میں دھیر ے دھیرے جلتے، کہیں موت جیسے سناٹے میں ڈوبے اور کہیں چیختی چلاّتی آوازوں میں بمشکل سانس لیتے۔
میں اِن دنوں اپنے گھر اپنے شہر لاہور میں ضرور ہوں۔ مگر کیسے؟ بظاہر وجود تو یہاں ہے مگر روح حلب کے اُن کوچہ وبازاروں میں ہے جہاں 2008ء کی گرم سی دوپہروں اور میٹھی سی خنکی میں لُتھڑی شاموں اور صبحوں میں اس کے خوبصورت نظاروں سے آنکھیں اور دل سیراب کرتی تھی۔
سچی بات ہے حلب میں گزرے ہوئے ہر دن پر مجھے خواب کا سا گمان گزرا تھا۔ میں نے اسے جی بھر کر دیکھا ہے۔ اوپر والے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نہ تھکتی تھی۔
آج میں ملول ہوں۔ دل گرفتہ ہوں۔ حلب جل رہا ہے۔ کھنڈر بن رہا ہے۔ ڈاکٹر ہدا مجھے وہ تصاویر دکھا رہی ہے جو خوفناک ہی نہیں حیات کے دکھوں اور المیوں سے لبالب بھری ہیں۔
اُس کی اِس میل نے تو عجیب سے اضطراب اور دُکھ میں دھکیل دیا ہے۔ بہت پرانی کہاوتیں یاد آئی ہیں۔ سیانے لوگوں کی باتوں اور اُن کے تجربات کی سچائیو ں کی ہمہ گیریت کا ایک دفعہ پھر قائل ہونا پڑا ہے۔
واقعی غربت سے بڑا کوئی روگ نہیں اور روٹی سے بڑا کوئی مذہب نہیں۔
لکھتی ہیں۔
رقیہ الحاجی کو میں نے برج الحماد کے علاقے میں دیکھا تھا۔ اپنے دو بچوں کے ساتھ۔ وہ علی اناجیلی چرچ آف گاڈ کے سامنے دیوار کے سائے میں فرش پر بیٹھی تھی۔ ایک لاغر سا بچہ گود میں لیے، ویران آنکھوں میں ایسا خوفناک سناٹا تھا کہ جس نے مجھے لرزا کر رکھ دیا تھا۔ میری ساتھی ڈاکٹرحنانیا اُسے پہچان کر اس کی طرف لپکی تھی۔ رقیہ کی چھوٹی بہن حنانیا کے گھر کام کرتی رہی تھی۔
ہم دو نوں اس کے پاس بیٹھ گئیں۔ زردیوں میں نہاتا اس کا چہرہ، زندگی سے بیزار اِس پر بکھرے رنگوں کے سائے لبنان میں بھاگ کر آنے والے لوگوں ہی کی طرح نظر آتے تھے۔
گود میں سوتا بچہ بیمار تھا۔ دوائی کے لیے پیسے نہیں تھے۔ شوہر کے پاس کام نہیں تھا۔ مہاجر کیمپوں میں کوئی پر سان حال نہیں۔
ہم نے عیسائی بننے کے لیے درخواست دی ہے۔ میں پتہ کرنے آئی تھی کہ ہماری درخواست کو پذیرائی کب ملے گی؟ راشن بھی لینا ہے۔ اس کی آواز شکستہ مدھم اور گہرے دکھ کی غماز تھی۔
آنکھو ں میں تیرتے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے وہ کہتی ہے۔ چلو بندہ خود تو بھوک ننگ برداشت کر ہی لیتا ہے مگر یہ چھوٹے چھوٹے بچے۔ انہیں تو روٹی کے لُقمے چاہئیں نا۔
اپنے تین بچوں میں سے بڑے بارہ سالہ بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے   ہمیں بتاتی ہے کہ اس نے حج کیا ہوا ہے۔ مگر اب کیا کریں؟ مر جائیں۔ بپتسمہ لے کر وہ پناہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جانے کی درخواست دے گی۔
پھر یا س بھرے لہجے میں کہتی ہے۔
وہ اپنے خون کے اُن رشتوں کے لیے بھی پریشان ہے جنہیں وہ شام میں چھوڑ آئی ہے۔ اُ س کی ماں باپ بہنیں بھائی وہ سب جن کے بغیر زندگی بڑی ادھوری ہے۔ کل اُن کا ردعمل کیا ہوگا؟ کیا وہ ہمیں اپنائیں گے؟ ہمیں اِس نئے مذہب کے ساتھ قبول کریں گے؟ یا دھتکار دیں گے؟
علی النصر کی کہانی بھی اِس سے کم دردانگیز نہیں۔ النصر پرانے حلب میں میرے بھائی کے محلے میں رہتا تھا۔ بھائی کے مطابق وہ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والا اُدھیڑ عمر کا صحت مند آدمی تھا۔ چھ بچوں کا باپ جس کے سب بچے تعلیم کے مختلف مدارج میں زیر تعلیم تھے۔ جنگ سے کاروبار تباہ ہو گیا۔ روٹی کے لالے پڑے تو بچوں کو حلب کے مضافاتی گاؤں میں بوڑھے والدین کے پاس چھوڑ کر لبنان آگیا۔
غریب آدمی جانتا ہی نہ تھا کہ آسمان سے گرے گا تو سیدھا کھجور کی شاخوں میں جا اٹکے گا۔ لبنان اس کے لیے ایسے دکھ لیے کھڑا ہوگا کہ جو کہیں اس کے گمان میں بھی نہ تھے۔
ڈاکٹر ہدا لکھتی ہیں کہ دراصل میرے بھائی اپنے ایک عزیز سے ملنے اشبیلہ کے علاقے میں گئے تھے جو مرکزی بیروت سے کوئی چار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ وہیں النصر انہیں ملا۔ پریشان خستہ حال۔ انہیں دیکھتے ہی پھوٹ پڑا۔
میرے ساتھ کیا ہوا؟ پورے دو سال ایک ادارے میں چپڑاسی کا کام کرتا رہا۔ تنخواہ مالک کے پاس جمع کرواتا رہا۔ سوچا تھا کہ چلو اکٹھی رقم ملے گی تو مستقبل کی کچھ منصوبہ بندی کروں گا۔ مگر دو سال بعد جب میں نے مالک سے اپنی رقم مانگی تو وہ منکر ہو گیا۔ میرے سر پر تو جیسے ایک بار پھر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ روتا رہا۔ بلکتا رہا۔ روٹی کو محتاج، پیچھے بیوی بچے بوڑھے والدین۔ کیا بتاؤں انہیں؟ کس کے پاس جاؤں۔ کسے سناؤں۔ کون داد رسی کرے گا؟
ہم نے اپنے وطن شام میں کبھی یہ نہیں سنا تھا کہ کسی نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کی ہے۔ ہاں البتہ یہ ضرور کبھی، کہیں سننے میں آتا تھا کہ کوئی عیسائی اپنے مذہب سے منحرف ہوگیا ہے۔ چرچ ہماری روز مرہ زندگی میں کہیں آتے، کسی راہ، راستے میں کسی مسجد، کسی شینی گاگ کی طرح نظر آنے والی ایک مذہبی عمارت کے ایک منظر کی حد تک تو محفوظ تھا۔ مگر اس کے اندر کیا ہوتا ہے اِس سے تو کبھی آگاہی نہ تھی۔
ہاں مگر جب آپ کی محنت سے جوڑی ہوئی پونجی دن دیہاڑے لُٹ جائے اور کہیں کوئی شنوائی نہ ہو۔ زندگی آپ کا جینا دوبھر کر دے۔ تب پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے آپ چرچ سے بٹتا راشن لینے جاتے ہیں اور ترغیب کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
بپتسمہ آپ پر روٹی اور باہر جانے کے دروازے کھولتا ہے۔تاہم موم بتیوں کے مخصوص بوزدہ ماحول میں سانس لیتے، لکڑی کی سستی سی بنچوں پر بیٹھ کر مذہبی گیت پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔
یہ سب کتنا عجیب اور اجنبی اجنبی سا ہے۔ اِن سب کے لیے نہ کوئی جاذبیت، کوئی مانوسیت، کوئی جذبہ، کوئی لگاؤ، کوئی للک کچھ بھی تو نہ تھا۔ کانوں میں ایک آواز گونجتی ہے۔
”حی علی الفلاح، حی علی الفلاح“۔ ہمارے کان تو اِن رسیلے بولوں سے مانوس تھے۔
پریشا ن سا میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا ہے۔ گھبراہٹ، بے چینی، کرب، دکھ اور درد جیسے جذبات اور کیفیات کی ایک اُتھل پتھل سی تھی۔ میری طرح وہ سب بھی ایسے ہی جذبات ومحسوسات کا شکار تھے جنہوں نے علی اناجیل چرچ آف گاڈ میں بپتسمہ لیا تھا۔
میرے ہم وطن شامی جو امن کے لیے ترسے ہوئے ٹھوکریں کھاتے یہاں آئے تھے۔ اور بیروت کی اُن مضافاتی غریب بستیوں میں رہنے پر مجبور ہوئے۔ اچھی ملازمتوں کے دروازے ہم پر بند ہیں۔ کہ لبنانی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ رتّی برابر ہمدردی نہیں انہیں ہم سے۔ یہ ہمارے ہمسائے جن کے لیے کہا جاتا ہے ماں جائے ہیں جس کی آدھی آبادی ہماری ہم مذہب ہے۔ کہیں اُن کا صدر بیان دیتا ہے کہ لبنان اب مزید مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کہیں لوگوں کا واویلا ہے۔
اب سچی بات ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لیے کچھ بھی کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ چرچ میں جا کر گڑگڑاتے ہیں کہ ہمیں عیسائی بنا لو۔ ہمیں بپتسمہ دے دو۔ ہمیں باہر جانے کے لیے ویزہ دلا دو۔
مگر ایک تلخ امتحان بھی سامنے کھڑا ہے کہ اُن کے وہ رشتے جو شام میں رہ گئے ہیں ان کا کیا بنے گا؟ کیا وہ ہمیں قبول کریں گے؟ نہیں ہرگز نہیں کریں گے تو پھر مستقبل کیا ہوگا؟ کتنا بھیانک سوال ہے جو منہ کھولے کھڑا ہے۔
تبدیلی مذہب ایک ایسا گھمبیر مسئلہ ہے جو مشرق وسطیٰ میں نئے خطرات اور مشکلات کو جنم دے گا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *