ہم جنسیت اور اسلام۔۔۔۔۔سلیم جاوید/قسط5

آج کی قسط میں گے (اور لیزبئن ) کی شرعی سزا بارے بات کریں گے- یہ بات نوٹ کرلیجیے کہ “گے”(لوطی) اسکو نہیں کہتے جس میں “ہم جنس پرستی ” کا فقط میلان ہو یا( کبھی ایک آدھ بار ایساجنسی فعل کرلیاہو) بلکہ لوطی وہ شخص کہلایا جائے گا جو ہم جنس پرستی “ہی” کرتا ہے-یعنی جس کو جنس مخالف سے کامل کراہت ہو اور صرف ہم جنس کی طرف رغبت وہی” گے ” کہلاتا ہے-(چاہے اسکو جنسی عمل کا موقع ملتا ہو یا نہیں)-

یہ تو ظاہر ہے کہ ایک “گے” یا”لسبئین ” اپنی ہی جنس کی طرف مائل ہوتا ہے مگریہ ضروری نہیں کہ وہ جنسی عمل کرتا ہو یا پھروہی “خاص جنسی عمل” کرتا ہو جسکی سزا فقہاء نے ذکرکی ہوئی  ہے-

شراب بارے اپنے مضمون میں ہم یہ عرض کرآئے ہیں کہ شریعت میں جرم وہ قرار پائے گا جسکی سزا قرآن میں مذکور ہو( یا قرآن میں اسکے بارے واضح حرمت مذکور ہو جیسا کہ خنزیرکا گوشت کھانا)-اگر ان دومیں سے ایک شرط بھی نہیں ہے توایسا فعل، گناہ یابرا تو کہلایا جاسکتا ہے مگراسے جرم نہیں کہہ سکتے – میں بار بار اس بات کو اس لیے دہراتا ہوں کہ مسلمان سوسائٹی کسی فعل کی شرعی حساسیت کو پوری طرح سمجھ لے اور پھراسی کے مطابق ری ایکٹ کرے توبہتر ہوگا-

ہمارے پاس دوایسے صحابیوں کا مبہم تذکرہ موجود ہے جو مخنث تھے- حضرت دلال اور حضرت حیت-جناب نبی کریم چونکہ کل انسانیت کیلئے رہبربن کرآئے تھے تو ہمہ الوان افراد کا ایک ایک” سیمپل” نبی کے ساتھ جوڑ کر، نبی کا حسن تعامل دکھایا گیا- اس وقت کی معلوم انسانیت کے سارے رنگ بھی حضور کو عطا کیے گئے تھے-مثلا” افریقہ سے بلال، یورپ سے صہیب، فارس سے سلمان، انڈیا سے شاہ چیرا، پشتونوں سے قیس عبدالرشید، کردوں سے جابان، حتی کے جزائرکومروس سے بھی دوصحابی مذکور ہیں- اس بنا پر انسانوں کی اس صنف کا بھی حضورکے زیرسایہ ہونا منطقی بات ہے-

ان میں سے ایک مخنث صحابی(حضرت ھیت) حضوراکرم کی زوجہ ام سلمی کی سہیلی تھا اور انکے گھرآمدورفت رکھتا تھا- چونکہ عربی میں “گے” کیلئے کوئی  الگ ٹرم نہیں تھی تو دونوں کومخنث بولا گیا ورنہ میرا گمان ہے کہ ایک ان میں سے فزیکل ابنارمل ہوگا اور دوسرا نفسیاتی ابنارمل-میرا یہی خیال ہے کہ یہ جناب ھیت، نفسیاتی طورپرعورت ہی ہونگے- رسول اکرم نے کافی عرصہ، ام سلمی کو منع نہیں کیا مگرپھررسول اکرم کو پتہ چلا کہ موصوف عورتوں کے اعضاء کی باتیں مردوں کی محفل میں کیا کرتے ہیں( اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتیں، اس مخنث کواپنی محفل میں بطور عورت ہی ڈیل کرتی تھیں کہ انکے وہ نشیب وفراز جو باہر کے مردوں سے اوجھل ریتے تھے، وہ انکے سامنے ظاہررہتے تھے)- چونکہ انہوں نے عورت کی پرائیویسی کوفاش کیا، اس لیے حضور نے ام سلمی کو منع فرمادیا- اس سے زیادہ کوئی  بات نہیں ہوئی – اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور نے خود انکو منع نہیں کیا یعنی اسکی عزت نفس کا خیال رکھا- ظاہر ہے کہ یہ صحابی کسی ہم جنسی فعل میں مبتلا نہیں ہوئے اور انکی جنسی ابنارملٹی کی بنا پررحمت للعالمین نے کوئی تعصب نہیں رکھا تھا-

ایسی کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ یہ دونوں مخنث صحابی، قبول اسلام سے قبل ہمجنسی عمل بھی کرتے تھے  یا نہیں؟( اسلام کے بعد تو سوچنا بھی مشکل ہے)- تاہم یہ کہ ہم جنسی اس زمانے میں بھی موجود تھی- غالی شیعہ راویوں نے حضرت عمرفاروق پربھی قبول اسلام سے پہلے “گے” ہونے کا الزام لگایا ہے- میں اپنے عقیدے کے تحت، اس الزام کو بغض عمر میں من گھڑت قرار دیتا ہوں مگر یہ کہ کہانی گھڑنے کیلئے بھی وہ بنیاد درکار ہوتی ہے جسے سماج قبول کرے- پہلی صدی کے آخر میں شیعہ لٹریچر ظہور میں آیا تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنسی اس سماج میں ایک جانا پہچانا عمل تھا-

ایسی روایات بھی ملتی ہیں  کہ حضور اکرم کے بعد صحابہ نے ایکبار “گیز” کی سزا بارے مشورہ کیا تھا مگر اس میں کچھ طے نہیں ہوسکا تھا- اگراس موضوع پر رسول اکرم کی کوئی ہدایت موجود ہوتی تو وہ بھلا کیوں مشورہ کرتے؟-

چنانچہ، خاکسار بصد معذرت عرض کرتا ہے کہ لوطی کے لیے ہمارے بعض فقہا کی تجویز کردہ سزا ( کہ ان کو پہاڑی سے گرا کر مار دیا جائے، یا سنگسارکرکے مارا جائے)، اسکا قرآن و حدیث سے کوئی  تعلق نہیں-یہ اسی مریض ذہنیت کا فتوی ہے جسکی زندہ مثال ،کراچی کا ایک میاں مٹھو “فقیہہ” ہے-موصوف نے اپنے مریدوں کو “مدنی تکیہ” کا پراڈکٹ متعارف کرایا ہے ، جسے دو موٹرسائیکل سوار، اپنے درمیان میں رکھ کر شیطانی حملوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں-

سوال تو اٹھتا ہے کہ جب قرآن وحدیث میں کوئی سزا مذکور نہیں توہمارے فقہاء نے کہاں سے یہ سزاتلاش کرلی؟- تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ یا توانہوں نے زنا کی سزا کوہم جنس پرستی پرلاگو کیا ہے یا پھرقوم لوط کے عذاب سے استنباط کیا ہے-

دونوں پہلو پر ایک مختصر تبصرہ کرلیتے ہیں-

فقہاء نے اگر ہم جنسی کی سزا، زنا کے جرم کے آیئنے میں لی ہے تو ہم اس سے متفق نہیں ہیں- زنا، اگر شادی شدہ نے کیا تو اس نے اپنے لیگل معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے- لیگل معاہدہ کی اصل غایت یہ تھی کہ اولاد کا نسب خراب نہ ہو-کنواروں کے زنا کیلئے سوکوڑے سزا بھی اس لئے ہے کہ اس میں ناجائزبچہ پیدا ہونے کااحتمال ہے اور اس سے بچے کی ربوبیت ووراثت کے بکھیڑے کھڑے ہوسکتے ہیں- ہم جنس پرستی میں تو اولاد ہونے کا کوئ امکان ہی نہیں- اس کیس کو زنا سے کیسے مماثل کیا جاسکتا ہے؟-(اور یہ کہ زنا میں بھی رجم کی سزابذات خود اختلافی مسئلہ ہے)-

یہ بھی مدنظر رہے کہ ہمارے فقہاء نے ہم جنسی پرستی کی سزا اس خاص انداز پرمقرر کی ہے کہ جب ایک مرد، دوسرے کی دبر میں مصروف عمل دیکھا جائے- اسکا مطلب تو یہ ہوا کہ لیزبئین کو کوئی  سزا نہیں ہوگی کیونکہ وہ ایسا کرہی نہیں سکتی- مزید یہ کہ اگر جنسی عمل میں دونوں کی شرمگاہ شامل نہ ہو تو پھر؟- آجکل شہوت پوری کرنے کے دیگر طریقے بھی متعارف ہیں جن میں منہ، ہاتھ ،یا انکو استعمال کئے بغیر بھی جنسی عمل کیاجاسکتا ہے-انگریزوں نے اسکی مزید تفریق “ہارڈ سیکس” اور” سافٹ سیکس” کے نام سے کی ہوئی  ہے-(کسی زمانے میں خاکسار کو فرصت اور ہمت میسر تھی تواس بارے کچھ لوگوں کی راہنمائی  کردیا کرتا تھا- ایک متدین “مفعول” نے اپنی ہسٹری بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ شریعت کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ”اینل سیکس” سے اجتناب فرماتے ہیں مگریہ کہ “اورل سیکس” بارے شریعت خاموش ہے)- مزید یہ کہ فقہاء نے اس سزا دینے بارے جو تفصیل بیان فرمائی ہے، اس میں “لیزبئین” توبری الذمہ ہوگئیں کیونکہ وہاں دخول وغیرہ کا چکر ہی نہیں ہے- چنانچہ، بصد ادب ہم اس سزا کو شرعی سزا قرار نہیں دے سکتے-

جن فقہاء نے ہم جنسی کی سزا قران میں مذکور، قوم لوط کے واقعہ سے لی ہے تو ہم اس سے بھی متفق نہیں ہیں-پہلی بات تو یہ کہ قرآن میں قوم لوط بارے فرمایا گیا کہ وہاں مرد، مردوں سے اپنی “شہوت پورا” کیا کرتے تھے- یہ تو کہیں واضح نہیں کہ عین اسی طریقے پر جنسی عمل کیا کرتے تھے جسکی بناپرفقہی سزا رکھی گئی ہے-

اگرچہ ہمارا موقف یہ ہے کہ قوم لوط کو ہم جنس پرستی پرعذاب نہیں دیا گیا مگرایسا مان لیا جائے تو بھی ہوموسیکشوئلز کو پتھر مارنے کی شرعی سزا قرآن سے ثابت نہیں کی جاسکتی- قوم لوط کے تذکرہ سے متصل بعد قوم شعیب کا تذکرہ ہے جس کے بارے بڑا واضح بیان ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنے پر انکو عذاب دیا گیا تھا-یہ عذاب فرشتے کی چیخ کی صورت میں تھا جس سے ساری قوم ہلاک ہوگئی- چاہیے کہ آجکل بھی جو دکاندار، ناپ تول میں کمی کرے، اسکے کان پر لاؤڈ سپیکر رکھ کراسکا کلیجہ شق کیا جائے تاکہ شرعی سزا کا”قرآنی عمل” پورا ہو-

قصص الانبیاء میں قوم لوط کو عذاب دینے کی چار وجوہات مذکور ہیں اور ان میں ایک یہ کہ وہ اجنبیوں پردھاک بٹھانے، انکا ریپ کیا کرتے تھے-یہ گویا قومی افتخار کی علامت تھی-

ریپ اور زنا بالکل الگ فعل ہیں – ریپ اکثر سزا یا تذلیل کیلئے کیا جاتا ہے، تاہم یہ تو طے ہے کہ ریپ میں کم ازکم ایک فریق کی کوئی  جنسی چاہت شامل نہیں ہوتی جبکہ زنا میں دونوں فریقین راضی ہوتے ہیں- پس ریپ زیادہ بڑا جرم ہے اور اسکی سزا ایک فریق کو یعنی صرف مجرم کو دی جائیگی-(ریپ کی شرعی سزا بارے خاکسار اپنےمضمون” سانحہ قصور ” میں معروضات پیش کرچکا ہے)-

خاکسار قرآن سے جو کچھ سمجھا ہے وہ پیش خدمت ہے- قرآن کہتا ہے کہ قوم لوط میں مرد مردوں سے شہوت پورا کرتے تھے- مگرعذاب تو ساری قوم پرآیا جس میں عورتیں بھی شامل تھیں- کہا جاسکتا ہے کہ عورتیں بھی لیزبئین تھیں مگرقرآن میں یہ مذکور نہیں ہے-(یوں اگر صرف گے اور لزبئین ہی اس بستی میں بستے تھے توپھر انکی اولاد کیسے چلتی تھی؟)- پس ہمارے خیال میں انکے مرد آپس میں ہم جنس پرستی ضرور کرتے ہونگے مگر یہ کہ آسمانی عذاب اس بات پرآیاکہ وہ اجنبیوں ، راہ گیروں، مہمانوں وغیرہ کا ریپ کیا کرتے تھے (اور بے شک یہ حد سے گذر جانے والی بات ہے)- اس جرم کا ثبوت مہیا کرنے فرشتے، لڑکوں کی شکل میں نبی لوط کے مہمان ہوئے تو لوگوں نے انکے گھرکی دیوار پھلانگنا شروع کردی تاکہ اپنی قبیح قومی رسم پوری کریں-ان مہمانوں کے انے کی خبرلوط نبی کی بیوی نے دی تھی- اسی سے معلوم ہوا کہ وہ عورتیں بھی “ریپ” کے جرم میں حصہ دار ہوتی تھیں (قومی رسم سمجھ کر) تبھی انکو بھی ساتھ ہی عذاب دیا گیا-

بہرحال، حملہ آوروں کو نبی لوط نے بہت منت سماجت کی مگروہ باز نہیں آئے- اس پر فرشتوں کا مکالمہ جس آیت میں ہے اسکے دوحصے ہیں- فرشتوں نے کہا کہ1- یہ لوگ ہمارا ریپ کرنا چاہتے ہیں اور 2- اس سے پہلے بھی یہ برے کام کرتے رہے ہیں- ( اس لئے اب انکو عذاب دیا جائیگا)-
فرشتوں نے موجودہ جرم کو الگ ذکرکیا جبکہ ہم جنس پرستی کوماقبل کی برائی  قراردیا یعنی وہ ایک الگ برائی تھی-مگر اس وقت ان پہ عذاب نہیں آیا بلکہ ریپ کے جرم کی بنا پرعذاب دیا جارہا ہے-

حضرت لوط ، جناب ابراہیم کے دور کے نبی تھے( ایک وقت میں کئی نبی آتے تھے) –کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے کزن تھے- قرآنی ٹیکسٹ سے اندازہ ہوتا ہے دونوں کا باہمی تعلق سینئر اور جونیئر نبی کا تھا (جیسا کہ حضرت ہارون، حضرت موسی کے جونیئر نبی تھے)- اسی لئے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم کو خبردینے گئے کہ قوم لوط کو عذاب دیا جائیگا-

حضرت ابراہیم نے مگراس قوم کو عذاب نہ دینے کی سفارش کی- اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں- ایک یہ کہ ابراہیم سینئر نبی تھے اس لئےقوم لوط کے احوال کی خبررکھتے تھے-(اگر احوال پتہ نہ ہوتے بغیربات کوجانے سمجھے بھلا کوئی  کیوں سفارش کرتا ہے؟)- دوسرے یہ کہ ہم جنس پرستی کی برائی  معلوم ہونے کے باوجود، ابراہیم نبی نے تو عذاب نہ دینے کی سفارش کی( نہ ہوئے ہمارےفقہاء ورنہ کہتے کہ تمہیں اب ہوش آئی ؟)- فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو اس قوم کی حد سے گزری حالت کاعملی نمونہ دکھانے(گویا انکو مطمئن کرنے) کیلئے ہی لڑکوں کا روپ دھارا اورپھر آگے بات چلی-

نکتے کی بات یہ ہے کہ جن فقہاء نے بھی قوم لوط کے تذکرے سے ہم جنسیت کی سزا رجم کرنا (سنگسار کرنا وغیرہ) تجویز کیا ہے، اس سے قطع نظر کہ انکا یہ استنباط درست ہے یا غلط مگر یہ انسانوں کی ہی سوچی گئی ایک قانونی شق ہے جسے خدائی  یا اسلامی یا شرعی سزا ہم نہیں مان سکتے-

ہم جنس پرستی ایک بیماری ہے ( جن کو برالگے وہ اسکو “ابنارملٹی” پڑھ لیں)- اپنی جنس کے ساتھ شہوت پورا کرنا اسلام میں گناہ کا کام ہے-مشرقی معاشروں میں یہ برا فعل ہے- جوبرائی  معاشرے کی قوت عمل کمزور کرے یا امن عامہ کو متاثر کرے، ایک سیکولرریاست کو حق ہے کہ اسے جرم قراردے اور اسکی سزا مقرر کرے مگر یہ کہ اس کی کوئی شرعی سزا اب تک متعین نہیں ہے-

جو کچھ خاکسار نے قرآن سے پیش کیا، آپکو حق ہے کہ اس سے اختلاف کریں- مگر بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ خواہ مخواہ کا زور لگا کربھی قوم لوط کے واقعہ سے ہم جنس پرستی کی سزا ثابت نہیں کی جاسکتی- یہ عادت اگر قوم لوط میں موجود تھی تو ظاہر ہے کہ باقی ادوار میں بھی موجود رہی ہوگی- ہمیں سنت رسول سے ایسا کوئ واقعہ میسر نہیں جس میں ہم جنس پرستی پرسزا دی گئی ہو-

آگے ہم سیم سییکس میرج اور گے رائٹس بارے بات کریں گے ان شاء اللہ-
(جاری ہے)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *