• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط5

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط5

یووال ہراری اور انسانوں کا سماجی ارتقاء
میری یہ خوش بختی ہے کہ میرے بہت سے ادیب، شاعر اور دانشور دوست ہیں جن کی تخلیقات اور مشوروں سے میں استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ پچھلے دنوں میرے دوستوں نے مشورہ دیا کہ میں عہدَ حاضر کے ایک دانشور یووال ہراری YUVAL HARARI کی کتابوں کا مطالعہ کروں۔ چنانچہ میں نے ان کی دونوں کتابیں
SAPIENS: A BRIEF HISTORY OF HUMANKIND اور
HOMO DEUS: A BRIEF HISTORY OF TOMORROW
منگوائیں اور بڑے غور سے پڑھیں۔ ہراری اوکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے انسانی تاریخ اور ارتقا پر تحقیق کی ہے۔ چارلز ڈارون اور رچرڈ ڈاکنز نے تو انسانی ارتقا کے موضوع پر حیاتیاتی حوالے سے اور سگمنڈ فرائڈ نے نفسیاتی حوالے سے لکھا ہے جبکہ ہراری نے انسانی ارتقا کے سماجی اور ثقافتی پہلوؤں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے چند سو صفحوں میں چند ہزار بلکہ چند لاکھ سالوں کی تاریخ رقم کی ہے جو سمندر کو کوزے میں سمونے کی کوشش ہے۔ اب میں ان کی دو ضخیم کتابوں کی چند صفحوں میں مختصر ترین تلخیص پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو وہ کتابیں پڑھنے کی تحریک ہو۔ یہ مضمون ایک INTELLECTUAL APPETIZER ہے۔
ہراری کتاب کے آغاز میں ہمیں بتاتے ہیں کہ ہماری کائنات.7 13 بلین اور ہماری زمین 4.5 بلین سال قبل معرضِ وجود میں آئی۔ اس زمین پر زندگی 3.8 بلین سال پہلے پیدا ہوئی اور مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتی ہوئی انسان تک پہنچی۔۔
چند لاکھ سال پہلے کرہِ ارض پر کئی طرح کے انسان پائے جاتے تھے۔ سائنس کی زبان میں وہ سب HOMO کہلاتے تھے۔ ان انسانوں میں سے ہماری طرح کے انسان۔ ۔ ۔ WISE PEOPLE HOMO SAPIENS دانا لوگ کہلاتے تھے۔ باقی طرح کے انسان معدوم ہو گئے اور ہماری طرح کے انسان باقی رہ گئے۔ اسی لیے کتاب کا نام SAPIENS ہے۔ یہ انسان ایک طویل عرصے تک افریقہ میں رہتے تھے۔
آج سے 100000 سال پہلے انسانوں نے سفر وسیلہِ ظفر پر عمل کرتے ہوئے افریقہ کو خدا حافظ کہا۔ وہ کرہِ ارض کی ایک لمبی سیر کو نکل کھڑے ہوئے اور دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل گئے۔ اس سفر کے دوران انسان ارتقا کے کئی مراحل سے گزرے اور انہوں نے کئی انقلاب تخلیق کیے۔ ہراری نے اپنی کتابوں میں ان انقلابات کا تفصیلی ذکر کیا ہے میں یہاں اجمالی طور پر ان کو بیان کرتا ہوں۔
آج سے 70000 سال قبل پہلا انقلاب آیا۔ یہ انقلاب COGNITIVE REVOLUTION کا تھا۔ اس ذہنی انقلاب کی وجہ سے انسانوں نے زبان سیکھی اور دیومالائی کہانیاں تخلیق کیں۔ اس انقلاب میں آگ نے اہم کردار ادا کیا۔ جب انسانوں نے کھانا پکانا شروع کیا تو اسے پکے ہوئے کھانے کے لیے چھوٹے دانتوں اور چھوٹی آنتوں کی ضرورت تھی۔ جب آنتیں چھوٹی ہوئیں تو ان کے حصے کا خون دماغ کی طرف گیا اور دماغ کو بڑا ہونے کا موقع ملا۔ اس طرح ارتقا کے سفر میں آنتیں چھوٹی اور دماغ بڑے ہو گئے۔
آج سے 12000 سال پہلے دوسرا انقلاب آیا یہ AGRICULTURAL REVOLUTION تھا۔ اس انقلاب کے دوران انسانوں نے کھیتی باڑی کا کام شروع کیا اور ہل چلانا سیکھا۔ انسان کسان بن گئے اور اپنی خوراک کا انتظام کرنے لگے۔ اس طرح وہ گنجان آباد شہروں میں لاکھوں انسانوں اور اجاڑ بیابانوں کی فوجی بیرکوں میں ہزاروں فوجیوں کو اچھے کھانے کھلانے کے قابل ہوئے۔ بد قسمتی سے ان کھیتوں پر آہستہ آہستہ جاگیرداروں اور زمینداروں نے قبضہ کر لیا جو امیر سے امیر تر اور کسان اور مزدور غریب سے غریب تر ہوتے چلے گئے۔
کھیتی باڑی کا انسانوں کو فائدہ لیکن جانوروں کو نقصان ہوا۔ آزاد منش جانور اب کھیتوں میں رہنے لگے۔ مرغیاں اور مرغ، بھیڑ اور بکریاں انسانوں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے لگے۔ انسان جب چاہتے ان جانوروں کو ذبح کر کے اپنے شام کے کھانے کا انتظام کر لیتے۔
اس انقلاب کے دوران انسانوں میں مذاہب کا ظہور ہوا اور ایک خدا کا تصور آیا۔ اس ایک خدا کے تصور نے انسانیت میں وحدت پیدا کی اور سب انسان ایک آسمانی خدا کے بچے بن گئے۔
آج سے 500 سال پیشتر تیسرا انقلاب آیا جو SCIENTIFIC REVOLUTION تھا۔ اس انقلاب کے دوران منطقی طور پر سوچنا مقبول ہوا اور مختلف سائنسی شعبوں کے ماہرین نے اپنی تحقیق سے قوانینِ فطرت دریافت کیے۔ اس انقلاب میں بعض انسانوں نے خدا کو خدا حافظ کہنا شروع کیا کیونکہ ان کی رائے میں خدا منطق کی کسوٹی پر پورا نہ اتر سکا۔ اس طرح ساری دنیا میں خدا کو نہ ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ایسے لوگ یہ ماننے لگے کہ سب انسان ایک آسمانی باپ کے نہیں ایک دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
ہراری کا کہنا ہے کہ انسان کو خدا کو خدا حافظ کہہ کر کچھ فائدہ ہوا اور کچھ نقصان۔ فائدہ یہ کہ اس نے اپنے سماجی اور معاشرتی مسائل کا حل خود تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی بیماریوں کا دعا کی بجائے دوا سے علاج کرنا شروع کیا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ اس نے انسان کو ہی خدا بنا لیا۔ اسی لیے ہراری کی دوسری کتاب کا نام HOMO DEUS ہے جس کا مطلب ہے۔ جب انسان خدا بن بیٹھے۔ انسانوں نے سمجھنا شروع کر دیا کہ وہ سب مخلوقات سے بہتر ہیں۔ اس احساسِ برتری نے اسے نقصان پہنچایا اور اس نے جانوروں ،پرندوں اور مچھلیوں کی عزت کرنا چھوڑ دی بلکہ انہیں ظلم، ہوس اور حرص کا نشانہ بنانے لگا۔ اس کا نقصان ماحولیات کو ہوا۔
ہراری کا خیال ہے کہ سائنس کی ترقی کا بھی انسان کو فائدہ بھی ہوا ہے اور نقصان بھی۔ فائدہ یہ کہ اس نے ٹیکنالوجی سے بہت سی انسانی بیماریوں کی تشخیص اور علاج سیکھ لیا ہے۔ لیکن اب وہ خدا بن کر موت پر قابو پانا چاہتا ہے۔ عین ممکن ہے چند سو سال بعد انسان موت پر قابو پا لے لیکن کیا یہ طویل زندگی خوشحال بھی ہوگی یا نہیں؟ خطرہ یہ ہے کہ انسان سائنس اور ٹیکنالوجی سے خود بھی مشین بن جائے اور انسانیت کھو دے گا۔
انسانوں نے سائنس کی ترقی سے کائنات کو تسخیر کرنے اور چاند اور مریخ پر زندگی گزرنے کے خواب تو دیکھنے شروع کر دیے لیکن اس حقیقت سے بے حس ہو گئے کہ زمین پر لاکھوں غریب اور مظلوم انسانوں کے سنہرے دنوں کے خواب ڈراؤنے خواب بنتے جا رہے ہیں۔ احمد فرازؔ کا شعر ہے
؎ بستیاں چاند ستاروں پہ بسانے والو
کرہِ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ
ہراری کی دونوں کتابیں اہم ہیں۔ وہ ہمیں انسانیت کے بارے میں نئے انداز سے سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ وہ ہمارے اشرف المخلوقات ہونے کے تصور پر سوالیہ نشان لگاتی ہیں۔ وہ ہم سے پوچھتی ہیں کہ کیا انسان کی خدا بننے کی کوشش انسانیت کے لیے اچھا شگون ہے یا نہیں؟
ہراری کا کہنا ہے کہ مادی ترقی ذہنی خوشحالی کی ضامن نہیں ہے۔
ہراری کی دونوں کتابیں پڑھ کر میرا یہ خیال ہے کہ انسان کی خوشی اور سکون ایک پہیلی ہے ،ایک معمہ ہے ،ایک بجھارت ہے ،ایک گورکھ دھندا ہے۔ پچھلی کئی صدیوں میں بہت سے ماہرینِ نفسیات نے انسانی سکون کی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے وہ اسے جتنا سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ اتنی ہی الجھتی جاتی ہے۔ صدیوں کی تحقیق اور تجربے کے بعد بھی انسان پوری طرح نہیں جانتا کہ وہ ذہنی سکون کیسے حاصل کر سکتا ہے۔
ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اب تک ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ انسانی خوشی کا راز مادی چیزوں کی بجائے بامعنی زندگی میں ہے۔ وہ حرص کی بجائے قناعت میں ہے۔ اپنی ذات کو پہچاننے میں ہے۔ ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ انسان جو اپنی ذات کو پہچانتے ہیں، دوسرے انسانوں سے ہی نہیں جانوروں اور پرندوں سے بھی پیار کرتے ہیں اور خدمتِ خلق کرتے ہیں وہ ذہنی طور پر صحتمند ، خوشحال اور پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *