میں مَر جاتی ہوں۔۔۔۔۔رابعہ الربا

میں زندگی کی طرف پلٹ تو سکتی ہوں
مجھے زندگی کو چھونے تو دو
محبت سے اک بار
باہوں میں زیست کو لینے تو دو
میں زندگی کی طرف
پلٹ تو سکتی ہوں …
مجھے اس کے خواب
اس کے سراب
عبور کر نے کی تمنا ہے
اور
تمنا کو اک
لا حاصلی کا خمار مد ہوش
رکھتا ہے
کیو نکہ
تمہیں میرے ہوش گوارا نہیں
تو پھر
کیوں خواہش کرتے ہو
میرے جینے کی خواہش
تمہیں اس اندھیر نگری میں
پژمردہ جھیل آنکھوں والی لڑکی ہی بھلی لگتی ہے
تو پھر
بس یونہی دیکھتے رہو
مجھے جینے کا نہ  کہو۔۔
میں مر جاتی ہوں
میں مر جاتی ہوں
تمہاری اس خواہش پہ ۔۔
مجھے پلٹ کر کیا کرناہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *