تتھاگت نظم۔۔۔ 4(جسم کا یُدھ ہارنے والی استری)

پیش لفظ
کہا بدھ نے خود سے : مجھ کو۔ دن رہتے، شام پڑتے، سورج چھپتے، گاؤں گاؤں یاترا، ویاکھیان، اور آگے ، اور آگے۔ بھارت دیش بہت بڑا ہے، جیون بہت چھوٹا ہے، لیکن اگر ایک ہزار گاؤں میں بھی پہنچ پاؤں تو سمجھوں گا، میں سپھل ہو گیا۔ ایک گاؤں میں ایک سو لوگ بھی میری باتیں سن لیں تو میں ایک لاکھ لوگوں تک پہنچ سکوں گا۔ یہی اب میرا کام ہے ،فرض ہے ، زندگی بھر کا کرتویہ ہے۔ یہ تھا کپل وستو کے شہزادے، گوتم کا پہلا وعدہ … خود سے …اور دنیا سے۔ وہ جب اس راستے پر چلا تو چلتا ہی گیا۔اس کے ساتھ اس کا پہلا چیلا بھی تھا، جس کا نام آنند تھا۔ آنند نام کا یہ خوبرو نوجوان سانچی کے ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ تھا، لیکن جب یہ زرد لباس پہن کر بدھ کا چیلا ہو گیا تو اپنی ساری زندگی اس نے بدھ کے دستِ راست کی طرح کاٹ دی۔ یہی آنند میرا ، یعنی ستیہ پال آنند کے خاندانی نام ’’آنند‘‘ کی بیخ وبُن کی ، ابویت کی، پہلی سیڑھی کا ذوی القربیٰ تھا۔ اسی کی نسب خویشی سے میرے جسم کا ہر ذرہ عبارت ہے۔ مکالمہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان نظموں کے اردو تراجم اس میں بالاقساط شائع ہو رہے ہیں۔ اردو کے غیر آگاہ قاری کے لیے یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ ’’تتھا گت‘‘، عرفِ عام میں، مہاتما بدھ کا ہی لقب تھا۔ یہ پالی زبان کا لفظ ہے جو نیپال اور ہندوستان کے درمیان ترائی کے علاقے کی بولی ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ ’’ابھی آئے اور ابھی گئے‘‘۔ مہاتما بدھ گاؤں گاؤں گھوم کر اپنے ویا کھیان دیتے تھے۔ بولتے بولتے ایک گاؤں سے دوسرے کی طرف چلنے لگتے اور لوگوں کی بھیڑ ان کے عقب میں چلنے لگتی۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ جب کچھ دیر سے کسی گاؤں پہنچتے تو پوچھتے کہ وہ کہاں ہیں، تو لوگ جواب دیتے۔ ’’تتھا گت‘‘، یعنی ابھی آئے تھے اور ابھی چلے گئے‘‘۔ یہی لقب ان کی ذات کے ساتھ منسوب ہو گیا۔ میں نے ’’لوک بولی‘‘ سے مستعار یہی نام اپنی نظموں کے لیے منتخب کیا۔ ستیہ پال آنند –

تتھاگت نظم ..4
جسم کا یُدھ ہارنے والی استری
……………………………
آنندؔ نے کشیَپ کی جانب
اور کشیَپ نے ذرا ترچھی نظر سے اس کی جانب دیکھ کر
کچھ ہچکچاہٹ سے تتھا گت سے بہت کچھ کہنا چاہا
رُک گیا، تو بُدھّ بولے
’’کیا تردّد ہے تمہیں،بھکشو؟ کہو تو ….‘‘

’’کچھ نہیں، سوامی، اکیلا میں نہیں ، دونوں کو ہی کچھ پوچھنا ہے
آپ کے جیون کے بارے میں ہے استفسار…‘‘

’’بولو، مت ڈرو، پوچھو، مرا جیون تو اک پستک ہے جس کے
سارے صفحے بھکشوؤں کے واسطے کھلے ہیں!‘‘

’’در گذر کر دیں، تتھا گت، کچھ غلط پوچھوں اگر میں
یہ بتائیں
کیا تضادِ باہمی اس میں ہے، سوامی
ایک خاوند جس کو بچپن سے ہی خواہش تھی
کہ وہ سب راز کھولے زندگی کے
ایک شہزادہ جو اپنی جنس کے منہ زور گھوڑے بس میں کر کے
آتما کی شانتی ہے واسطے
چپکے سے اپنی نوجواں بیوی کو سوتا چھوڑ کر، اور
ازدواجی زندگی کو تیاگ کر …اور
بنباس لے کر جنگلوں میں جا بسے؟
اور … (پچھتانا تو شاید دور کی ہے بات!) سوچا تک نہیں اس
نوجواں پتنی کے بارے میں جو اک بچے کی ماں تھی
صرف سترہ یا اٹھارہ سال کی تھی
ذہن کی کچی تھی، جو
اک نوجوں پتنی کہ جس کی زندگی کا کل اثاثہ
ایک خاوند ہی تھا، وہ بھی …
اپنی خود غرضی کا مارا ….‘‘

بند تھیں آنکھیں تتھا گت کی ، مگر
کشیپ کے جملوں سے ٹپکتے
تلخ، تیزابی معانی
ان کے کانوں میں سرایت کر رہے تھے!‘‘

’’میں، تتھا گت، کیا بتاؤں…‘‘
اب کے خود آنند بولا
’’بھکشوؤں کے واسطے ممنوع ہیں باتیں
جو دیگر بھکشوؤں کی زندگی
یا ذات، یا کنبے کے بارے میں ہوں، اور پھر
آپ کے بارے میں…؟ لیکن
آپ سے یہ پوچھنا از حد ضروری ہو گیا ہے!

وہ ہمہ تن گوش تھے، خاموش تھے، لیکن
وہ دُبدھا میں نہیں تھے
وسوسہ، تکرار، ڈانواں ڈول ہونے
کا کوئی امکاں نظر آتا نہیں تھا!

اب کے کشیُپ کھل کے بولا
’’آپ جب پتنی کو سوتا چھوڑ کر کمرے سے نکلے تھے
تو کیا یہ آپ نے سوچا نہیں تھا
ایک ابلا، ناتواں، کمزور ، سیدھی سادی عورت کو بتانا
گیان پانے کے لیے گھر سے نکلنا…اور اُس سے اذن لینا
اور یہ کہنا …’یشودھا…تم تو اک ناری ہو
اتنا لمبا جیون یوں اکیلے کاٹنا شاید کٹھن ہو
میں تمہیں آزاد کرتا ہوں، کہ میں اب
خود بھی تو آزاد ہو ں اس قید سے
…دیکھو، یشودھا
اُس بچھونے کے لیے جس پر ہمارا ساتھ تھا
تم اک مناسب شخص چن سکتی ہو اپنے واسطے
آزاد ہو تم !‘‘

بدھّ اک لمحے کو شاید رک گئے کچھ کہتے کہتے
پھر کہا ہولے سے، زیر لب
’’تمہاری بات میں سچائی کا عنصر تو ہے، پر
یہ اکیلا ’’آدھا‘‘ سچ ہے
ایسے اک منطق کا ۔۔۔ جو از خود غلط ہے
عین ممکن ہے کوئی آدھا ادھورا، نا مکمل سچ ہی خود سے منسلک
اک دوسرے آدھے ادھورے سچ کو جھٹلائے ..
کہ منطق ایک دوہری دھار ہے ..
دونوں طرف سے کاٹتی ہے!‘‘

اور تب آنند نے، کشیپ نے جیسے یک زباں ہو کر کہا
’’کیسے، تتھاگت؟‘‘

’’یہ قیاس آرائی، بھکشو، نا روا ہے
سر بسر بے جا ہے، ایسا سوچنا بھی
سانحہ یا حادثہ بالکل نہیں تھا
میرا پتنی اور بچے کو یکایک چھوڑ دینا!‘‘

چپ رہے کچھ پل تتھا گت ..اور پھر گویا ہوئے یوں
’’مجھ کو تو یہ فیصلہ کرنے میں شاید
ایک قمری ماہ کا عرصہ لگا تھا
یہ فقط اس رات کا قصہ نہیں تھا!
بھولی بھالی تھی یشودھا
رات بھر آرام کرتی، سوتی رہتی
اور میں لیٹا ہوا، بیٹھا ہو، کمرے کے اندر
اِس طرف سے اُس طرف چلتا ہوا
یہ سوچتا رہتا کہ اُس معصوم، بچوں جیسی پتنی کو کہوں بھی
تو بھلا کیسے کہوں…..اک سیدھی سادی نار جس کی
ساری تربیت یہی تھی، گھر گرہستی، بال بچے
اور پتی پرمیشور کی ٹہل، سیوا!‘‘

’’اس میں کیا مشکل تھی، سوامی؟‘‘

’’رونا دھونا، سینہ کوبی، شور ، ہنگامہ …
نہیں بھکشو، مرا چپکے سے ہی باہر نکلنا ایک اچھا فیصلہ تھا!‘‘

اور تب
(کچھ دیر رک کر، پھر تاسف سے بھرے لہجے میں بولے)
’’اور اُس کو دوسرے دن یہ پتہ تو چل گیا تھا
اور اُس نے بھی اِسے
تقدیر کا اپنا نوشتہ جان کر اس پر قناعت کر ہی لی تھی
ایک عورت کا پتی مر جائے ، یا پھر
اس کو خاوند چھوڑ دے تو دوسری شادی بھی کر سکتی ہے عورت
ہندوؤں کی دھارمک نیتی میں تو یہ جائز قدم ہے۔‘‘

پھر رُکے، جیسے انہیں الفاظ کے چُننے میں دقّت ہو رہی ہو
اور پھر بولے
’’محل میں نندؔ تھا، میرا چھوٹا بھائی، مجھ سے دس برس چھوٹا … یہی تو
شاہی کنبوں کی روایت بھی رہی ہے
تخت کا ورث اگر مر جائے
وِدھوا کا لگن بھائی سے جائز ہے ، روا ہے!‘‘

پھر رُکے، اپنے کہے پر جیسے نادم ہوں، کہا
’’جب پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہوں
تو یقیناً سوچتا ہوں
میرا بھائی نندؔ تو بچہ تھا، بالکل
دس برس مجھ سے بھی چھوٹا
اس لیے ممکن نہیں تھا یہ لگن …!
دیکھو، عزیزو، میرے شاگردو، سمجھ لو
لوٹ جانا میرا تو ممکن نہیں تھا …اور وہ یہ جانتی تھی
جنس کی تکمیل کی خاطر کوئی بھی ڈھونڈ لیتی
اور منڈپ میں لگن اک رسم ہی ہے !‘‘

چونک اٹھے دونوں بھِکشو
کاشیَپ کے لفظ تو دھیمے تھے، ہاں، آنند کے لہجے میں جیسے
بجلیاں سی بھر گئی ہوں
’’جِنس کی تکمیل کی خاطر، تتھاگت؟ آپ نے یہ کیا کہا ہے؟‘‘

’’ہاں، یہی تو کہہ رہا ہوں، ‘‘ بُدھّ بولے
’’اور تمہارے لفظ بھی شاید یہی تھے
’اس بچھونے کے لیے جس پر ہمارا ساتھ تھا
تم اک مناسب شخص چُن سکتی ہو
تم آزاد ہو‘. …. یہ نہیں تھے کیا تمہارے لفظ، بھکشو؟‘‘

چپ رہے کچھ دیر، پھر دھیرے سے بولے
’’دیکھتا ہوں، کیا کہیں اخلاق کی رُو سے یہ قوّت
مجھ میں باقی ہے کہ میں یہ چند جملے کہہ سکوں اب!
جانتا ہوں
زندگی کے اس مہا بھارت میں
کیا اک جنس کی خواہش کی قربانی سے میں نے
آتما کو شُدھّ رکھنے کی جزا پائی ہے، بھکشو
وہ دوامی کیفیت جو صرف مٹّی، آگ، پانی یا ہوا سے ہی عبارت
ایک ڈھانچے سے کہیں بہتر ہے، لیکن
اس عمل میں
میں نے اک معصوم عورت کو بھری دنیا میں تنہا چھوڑ کر
اپنی انانیت کی ہی تکمیل کی تھی
جسم یا پھر جنس کی اس جنگ میں یہ جیت میری
اب مکمل ہو چکی ہے
پھر بھی میں اُس کا یقیناً عمر بھر مجرم رہوں گا!
…………………………………………

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *