خیبرپختونخوا، صحت اورانصافی حکومت۔۔۔۔عامر کاکازئی

پچھلے دس سال سے میڈیا ہر وقت تھر کے بچوں کا رونا رو رہا ہوتا ہے کہ ادھر کچھ بچے اپنی جان سے گئے ۔ سندھ کے صحت کے محکمے کے مطابق 2018 میں 476 بچے ناکافی میڈیکل سہولیات کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے بھی اس کا فورا ً نوٹس لیا اور سندھ حکومت کو خوب کوسا۔
اب ذکر کرتے ہیں اس صوبے کا ,جس کی وجہ سے عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم بنے اور پچھلے چھ سال سے ان کی اس صوبے میں حکومت ہے۔

تھر میں اس پورے سال میں 386 نومولود جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں صرف تین ماہ میں 3000۔۔

پختون خوا میں 16009 بچے سرکاری ہسپتال میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہی جاں بحق ہو گئے ۔ صحت کے محکمے کے مطابق ہر روز پختون خوا کے سرکاری ہسپتال میں  ناکافی سہولیات کی وجہ سے  43 بچے مر جاتے ہیں۔ چارسدہ میں 6811 بچے سرکاری ہسپتال میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے مر گئے  ،1689 بنوں میں، 602 ڈیرہ میں، 384 ایبٹ آباد میں ، 364 ہری پور میں، 808 سوات میں، 235 کوہاٹ میں ، 130 صوابی میں، 99 مانسہرہ میں 85 چترال میں، 115 ملاکنڈ میں 55 بونیر میں، 74 لوئر دیر میں 29 نوشہرہ کے سرکاری ہسپتال میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے جاں سے گئے ۔

مصنف:عامر کاکازئی

رپورٹ کے مطابق 394 عورتیں سرکاری ہسپتال میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے مر گئیں۔
اوپر ساری فگرز 2017 کی ہیں۔

نومبر 2018 میں PMA کے صدر ڈاکٹرحسین احمد ہارون نے ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی کہ پختون خوا کے سرکاری ہسپتال میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے ہر روز 22 بچے اور ایک حاملہ عورت مر جاتی ہے ۔انھوں نے یہ کہا کہ جب سے یہ حکومت آئی  ہے، تب سے پختون خوا کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہت بری ہو گئی  ہے۔
2018 کے پہلے 180 دن کی رپورٹ یہ ہے۔ 3979 بچے اور 178 حاملہ عورتوں سرکاری ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے مر گئیں۔ 2259 بچے جن کی عمر یں صرف ایک مہینہ تھی، 1720 پیدا ہوتے ہی مر گئے ۔ 560 بچے بنوں، 506 ہری پور، 226 سوات، 110 کوہاٹ کے بچے تھے۔ حاملہ عورتوں میں سے 31 نوشہرہ 15 ایبٹ آباد، ٢٠ مانسہرہ، 21 ڈیرہ میں مر گئیں،
پختون خوا کے کسی بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ICU وینٹی لیٹر نہیں ہے۔ بہت سے مریض آپریشن کے دوران مر گئے کیوں کہ ICU وینٹی لیٹر نہیں تھا۔ یاد رہے کہ ICU وینٹی لیٹر کے بغیر قانونی طور پر آپریشن نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی یاد رہے کہ بہت کم نجی ہسپتالوں میں ICU وینٹی لیٹر ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ تھر سمیت پاکستان کا ہر بچہ ہمارا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ذکر صرف تھر والوں کا کیوں؟ اور خیبر پختونخوا میں غذائی قلت سے جاں بحق بچوں کے تذکرے کو ہر ہیڈلائن یا سوشل میڈیا پوسٹ کا حصہ کیوں نہیں بنایا جاتا۔

اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ چونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے تو میڈیا اور انصافی ادھر کا شور مچاتے ہیں ، جبکہ ہمارے پختون خوا میں ان کے لاڈلوں کی حکومت ہے تو میڈیا کو اور عدالتوں کو اجازت نہیں ہے کہ ہماری حالت زار پر توجہ دیں۔

کیا اس سوال کا جواب مل سکے گا کہ میڈیا نے خیبرپختونخوا کے بچوں کی لاشوں کو چھپا کر تھر کے بچوں کی لاشیں اس لیے لہرائیں کہ عمران خان کو الیکشن میں کامیاب بنایا جا سکے؟

 

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *