• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سکندر اعظم بھی نقشہ جاری کر کے پوری دنیا فتح کر سکتا تھا۔۔صلاح الدین مغل

سکندر اعظم بھی نقشہ جاری کر کے پوری دنیا فتح کر سکتا تھا۔۔صلاح الدین مغل

۵ اگست کو پاکستان بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا گیا۔ چھوٹے بڑے تمام شہروں میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں اور اقوام عالم کو اس دیرینہ مسئلہ کے حل کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

ہمارے وزیراعظم نے بمعہ اپنی کابینہ کے شرکت کی اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب بھی کیا۔ یہ بھی کیا کم ہے کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے نڈھال قوم کیلئے ہر چند روز بعد ایک تماشا لگا کر ان کے دکھ میں کمی کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان تقریبات کا مقصد قوم کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ ان شعبدہ بازیوں سے ہم نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور بہت جلد مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوجیں سر پر پیر رکھ کر بھاگنے والی ہیں، اگر آپ کو ہماری باتوں پر یقین نہیں تو ہم ثبوت کے ذریعے بات کر لیتے ہیں۔

سکندر اعظم بے وقوف تھا جس نے ۳۲ سال گھوڑے کی پیٹھ پر گزار دیے لیکن صرف آدھی دنیا ہی فتح کر سکا، اگر آج وہ زندہ ہوتا تو ہمارے ‘اصلی’ اور ‘جعلی’ حکمرانوں کی دماغی صلاحیتوں پر ششدر رہ جاتا۔ اب یہی دیکھ لیں کہ ہمارے حکمرانوں نے صرف ایک نقشہ کے ذریعہ بغیر خون خرابے کے کشمیر آزاد کرا لیا ہے (سکندر اعظم بھی یہ کام کر کے پوری دنیا فتح کر سکتا تھا)۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید یہ کہ اگر بھارت سرکار اب بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئی تو آئی ایس پی آر کا تخلیق کردہ نغمہ سنا کر دہلی کے لال قلعے پر بھی اپنا سبز ہلالی پرچم لہرایا جا سکتا ہے۔

بھارت قطعی یہ نہ سمجھے کہ ہماری پٹاری میں مزید کچھ نہیں اور اگر وہ ایسا سوچتی ہے تو اسے پورے بھارت سے ہاتھ دھونے پڑسکتے ہیں کیونکہ ہماری ہر دل عزیز آئی ایس پی آر نے ایک ڈرامہ کا بھی بندوبست کیا ہوا ہے جس کے نشر ہوتے ہی بھارتی افواج کو اسی طرح ہتھیار پھینکنا ہوں گے جیسے اس نے ۱۹۷۱ میں پھینکے تھے۔ اس لئے اے میری پیاری قوم اپنے فرشتہ صفت وزیر اعظم جناب عمران خان دام برکارتہُ کے کہنے پر یقین رکھو کہ ‘آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے’ کیونکہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *